بے بسی یا سیاست

faheem-akhter-uk

کلکتہ اور ہندوستان کے تمام اخباروں میں تین طلاق اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے اجلاس کے حوالے سے روزانہ کچھ نہ کچھ خبریں شائع ہو رہی ہیں۔لیکن اس سے زیادہ پریشان کن بات تو تب ہوئی جب آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی استقبالیہ کمیٹی کو بنگال حکومت نے اجلاس کرنے کے لئے ان مقامات کی درخواست کو ملتوی کردیا جس کا انتخاب کیا گیا تھا۔حیرانی کی بات یہ ہے کہ اس استقبالیہ کمیٹی کے زیادہ تر ممبران کا تعلق کلکتے سے ہے۔پھر کیا تھا اس کے بعدآل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے ایک کے بعد ایک کلکتہ شہر میں میٹنگ کر ڈالی ہے اور مسلمانوں میں اس معاملے کو لے کر کافی غصہّ بھی پایا جارہا ہے۔
چونکہ میرا تعلق بھی کلکتہ سے ہے اور الحمداللہ بذاتِ خود مسلمان ہونے کے ناطے میں بھی ان تمام باتوں سے غافل نہیں رہ پایا۔ لیکن مجھے تکلیف تو اس وقت پہونچی جب سوشل میڈیا پر تین طلاق کی حمایت میں بات لکھی گئی اور ان صاحب نے فیس بُک پر صاف طور پر مولانا اور علماء کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ’ ہم تین طلاق کے معاملے میں حکومتِ ہند کی مداخلت کو برداشت نہیں کرینگے‘۔
جس کے جواب میں میں نے لکھا کہ بھائی کیا تین بار طلاق کہہ کر عورتوں کو چھوڑ دینا کہا تک درست ہے اور جہاں تک مجھے علم ہے یہ طریقہ شرعی طور پر غلط ہے۔ پھر کیا تھا اس کے جواب میں دو لوگوں نے مجھے لکھا کہ ’کیا تم مسلمان ہو‘۔سچ پوچھئے آنکھوں میں آنسو آگئے ایسا لگا جیسے میں آر ایس ایس یاکسی سیاسی پارٹی کا ترجمان ہوںیا دین سے غافل ہوں؟ کئی روز تک عجیب و غریب کیفیت رہی۔ اپنی باتوں کو بار بار سوچتا اور اپنی ذات پر غصہّ بھی ہوتا کہ کیا ہم مسلمانوں کی حالت یہ ہوگئی ہے کہ ہم اچھے اور بُرے کی تمیز بھول بیٹھیں ہیں۔ بار بار ذہن میں یہی جملہ آرہا تھا کہ ’کیا تم مسلمان ہو‘ ۔
آخر میں نے غلط کیا کہا ہے صرف یہی تو کہا کہ ’ مسلمان مردوں کو تین طلاق کہہ کر عورتوں کو چھوڑ دینے کی بات غلط ہے‘۔تو یہ بات اتنی غلط تھی کہ مجھ سے یہ پوچھا جائے کہ ’کیا تم مسلمان ہو‘؟اس بات سے مجھے تکلیف تو ضرور ہوئی لیکن اس بات کا بھی اندازہ ہوا کہ کس طرح مفاد پرست اسلام د شمنوں نے ہماری مذہبی لا علمی کا فائدہ اٹھا کر ہمارے ذہن میں زہر گھو ل دیا ہے جس کا اندازہ موجودہ صورتِ حال سے لگ رہا ہے۔
لیکن میں ان احمقوں کی باتوں سے نہ ہی تو افسردہ ہواور نہ ہی خوف زدہ کیونکہ اگر ہم اور آپ لوگوں کی غلط فہمیوں کو دور نہ کرینگے اور ان کو دین کی سچّی بات سے آگاہ نہیں کرینگے تو پھر ہمارا کالم لکھنا اور مولانا اور علماء کا تبلیغ کرنا بے معنی ہے۔یہی نہیں اگر ہمارے مذہب کی باتوں کو توڑ موڑ کر پیش کیا جائے اور ہم تماشائی بنے دیکھتے رہے تو ہم اپنی ذمہ داریوں سے بھی غافل ہیں۔
ظاہر ہے ہندوستان میں آل اندیا مسلم پرسنل لاء بورڈ مسلمانوں کا یک ایسا ادارہ ہے جو مسلمانوں کے شرعی معاملات پر مشورہ دیتی ہے اور مسلمان کو اپنے دینی حساب سے مسئلے کا حل ڈھونڈنے کاراہ بتاتی ہے جسے میں ایک اہم اور کا آمد طریقہ مانتا ہوں۔ اسی لئے آج ہم نے یہ ضروری سمجھا کہ ہم آپ کو یہ بات بتائے کہ آخر مسئلہ کیا ہے اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کو اس مسئلے پر کیا کرنا چاہئے۔
آئیے آپ کو آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے بارے میں مختصر طور پر بتاتے ہیں۔17؍ اپریل1973کو حیدرآباد میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی تشکیل عمل میں آئی ۔حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب بورڈ کے پہلے صدر اور حضرت مولانا سید منت ا للہ رحمانی صاحب بورڈ کے پہلے جنرل سکریٹری مقرر ہوئے۔آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کا قیام ایک ایسے وقت میں ہوا جب کہ حکومتی سطح سے متوازی قانون سازی کے ذریعہ شرعی قوانین کو بے اثر کرنے کی کوشش کی جارہی تھی۔ پارلیمنٹ میں لے پالک بل پاس کیا جا چکا تھااور اس وقت کے وزیر قانون مسٹر ایچ آر گوکھلے نے اس کو یونیفارم سول کوڈ کی تدوین کی طرف پہلا قدم قرار دیا تھا۔
آج کے دور میں اسلام مذہب کے خلاف جس طرح سے پروپگنڈہ کیا جا رہا ہے اس سے زیادہ تر مسلمان واقف ہیں ۔افسوس ناک بات یہ ہے کہ طلاق کے طریقہ کار کو مذاق بنا دیا گیا ہے لیکن دُکھ اس بات کی ہے کہ اسلام مذہب کے متعلق جس طرح باتوں کو توڑ موڑ کر پیش کیا جا رہا ہے اس سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ ان تمام باتوں کے پیچھے ایک خاص گر وپ سر گرم ہیں ۔جو کسی نہ کسی بہانے اسلامی احکامات اور اس سے منسلک باتوں کو اس طرح پیش کر رہاہے جس سے خواہ مخواہ لوگوں کے جذبات کوٹھیس پہونچے ۔
ہندوستان میں مسلمان سب سے بڑا اقلیتی طبقہ ہے جس کی آبادی لگ بھگ 15.5 کروڑہے اور ان کی شادیاں اور طلاق مسلم پرسنل لاء کے زیر سایہ ہوتا ہے جس کی بنیاد شرعیہ ہے جسے اسلامی قانون بھی کہتے ہیں۔اگرچہ تین بار طلاق کہنے کا رواج کئی برسوں سے استعمال کیا جارہا ہے لیکن یہ طریقہ قرآن اور شرعیہ میں کہیں نہیں پایا جاتا ہے۔اسلامی اسکالر کا کہنا ہے کہ قرآن نے طلاق دینے کے قوائد کو صاف طور پر واضع کیا ہے اور اس میں میاں اور بیوی کو تین ماہ کا وقت دیا جاتا ہے تا کہ طلاق کے متعلق وہ عکاسی اور مفاہمت کر سکیں۔
اسلام میں علیحدگی کے چار طریقے کار ہیں۔ شوہر جب بیوی سے علیحدگی حاصل کرنا چاہے تو اسے’ طلاق ‘کہتے ہیں۔ بیوی اگر اپنی مرضی سے علیحدہ ہو تو اسے’ خلع ‘کہتے ہیں۔ جب شادی تحلیل ہو جائے تو اسے ’فسخ نکاح‘ کہتے ہیں اور طلاق کے اختیار کو اگر مرد اپنی بیوی کے سپرد کر دے تو اس کا یہ فعل’ طلاق تفویض‘ کہلائے گا۔
اسلام میں شادی اور طلاق کے متعلق بہت ہی صاف ستھری بات بتائی گئی ہے۔ لیکن ہندوستان میں تین بار طلاق کہنے کی رسم کو اس طرح الجھایا جارہا ہے جس سے اس معاملے کا حل کم اور سیاست زیادہ دکھِ رہا ہے۔ یوں بھی طلاق کے معاملے میں زیادہ تر مسلمانوں کو بہت کم علم ہے جس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ طلاق ایک بدنام ممنوع مانا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر طلاق کی کاروائی غلط طریقے سے ہوتی ہے۔
اس کے باوجود یہ عمل اثر انداز تو ہوتا ہے لیکن اس کے اثر ات طلاق شدہ خاندان اور ان کے رشتہ داروں پر تباہ کن ہوتا ہے۔اس کے علاوہ درست طریقے سے طلاق نہ ہونے کی وجہ سے مفاہمت، عکاسی اور مہر جیسی چیزیں عمل در عمل نہیں ہو پاتے ہیں جو کہ اسلامی شرعیہ کے مطابق
ضروری ہے۔
میں یہ تمام باتیں مئی 2016کی ڈائری ’طلاق طلاق طلاق ‘میں لکھ چکا ہوں لیکن اس کا دوبارہ تحریر کرنا یہاں اس لئے ضروری ہے کیونکہ پڑھنے والوں کو مسئلے کی حقیقت کو جاننے میں کوئی جھجھک نہ ہو۔ اس کے علاوہ جس بات پر اتنا بڑا ہنگامہ ہو رہا ہے اس پر دھیان دیا جائے اور اس کا فوری حل نکالا جائے ۔ دریں اثناء حکومتِ ہند کو بھی مسلمانوں کے مذہبی اقدار کا احترام کرنا چاہئے جس کا ذکر ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 15اور آرٹیکل 25میں کیا گیا ہے کہ مذہب کی آزادی ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔
میں یہاں اس بات کی بھی یاد دہانی کراتا چلوں کہ سائرہ بانو جیسا کیس 1985 میں بھی ہوا تھا جس میں شاہ بانو نے اپنے شوہر کے خلاف سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹ کھٹایا تھا۔ جس میں شاہ بانو نے اپنے شوہر پر الزام لگایا تھا کہ اس کے شوہر نے طلاق لفظ کا غلط طور پر استعمال کر کے اسے پیسہ دینے سے انکار کر دیا تھا۔ اس وقت بھی اس معا ملے کو ہندوستان میں اسلام دشمنوں نے ہوا دینے کی کوشش کی تھی اور یونیفارم سول کوڈ لاگو کرنے کی مانگ کی تھی۔
تو اب معاملہ کیا ہے ، سائرہ بانو کا کیس جس میں اس نے اپنے شوہر پر الزام لگایا ہے کہ اس نے اسے تین بار طلاق کہہ کر فرار ہوگیا ہے یا حکومتِ ہند جو اس معاملے کی آڑ میں یونیفارم سول کوڈ کو لاگو کرنے کی بات کہہ رہی ہے۔مجھے دونوں ہی معاملات اہم نظر آرہے ہیں۔ لیکن لوگوں میں غلط فہمیاں کیوں پیدا ہوگئی ہے۔ کیوں زیادہ تر لوگ تین بار طلاق کو روکنے کے لئے حکومتِ ہند پر انگلی اٹھا رہے ہیں؟ کیوں نہیں اس مسئلہ کا حل نکالا جارہا ہے؟کون لوگ ہیں جو ایسی غلط فہمیاں پھیلا رہے ہیں؟ایسے بہت سارے سوالات ہیں جس کا جواب ہم سب آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ سے جاننا چاہتے ہیں۔
میں نے پہلے بھی کہا تھا اور اب بھی کہہ رہا ہوں کہ ہندوستان میں تین بار طلاق کہہ کر پلّو جھاڑ لینے کی روایت پر پابندی لگانا چاہئے کیونکہ اس کا بہت سارے مسلم مرد غلط استعمال کر رہے ہیں اور اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کو اس سلسلے میں اپنا موقف صاف کرناچاہئے۔ اب رہا حکومتِ ہند کے یونیفارم سول کوڈ کا جس پر میں بھی احتجاج کرتا ہوں کیونکہ یہ ایک نا قابلِ قبول بات ہے اور اس سے مسلمان اپنی شرعی قوانین سے بھٹک جائینگے جو کہ ایک خطرناک بات ہے۔میں چاہونگا کہ اس معاملے میں علماء قائدین،مسلم تنظیموں،اور جماعتوں کی کوشش یہ ہوناچاہئے کہ مسلمانِ ہند میں احساس اور دین کے علم میں اضافہ کریں اور اگر ان کوششوں کا مقابلہ پوری ملت اسلامیہ اتحاد و اتفاق کے ساتھ نہ کرپایا تو شریعت کے قوانین کو ختم کرنے کی سازش کامیاب ہو جائے گی۔
میں یہی چاہونگا کہ اس معاملے کا حل مسلمان سمجھ بوجھ کر نکالے اور اسلام دشمن کے بہکاوے میں ہر گز نہ آئیں۔ رہا سوال اجلاس کے جگہ کا تو اس کے لئے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اپنے قانونی صلاح کار کے ذریعہ اس کا حل نکالے، نہ کے حکومت سے بھیک مانگ کر کیونکہ اگر حکومت اجلاس کو اس کے طئے شدہ مقام پر کرنے سے روکتی ہے تو اس سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت امتیازی سلوک کا مظاہرہ کر رہی ہے جوکہ ایک شرمناک بات ہے۔

loading...

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *