’’ لِفٹ‘‘

nasir malik final

آجکل سڑک پہ کھڑے کسی اجنبی کو ’’ لفٹ‘‘ دینا اتنا محفوظ نہیں رہا۔کئی دفعہ سننے میں آیا ہے کہ کسی کو لفٹ دینے والا بعد میں خود ’ لفٹ ‘ لے کر گھر پہنچتاہے ۔اسی بنا پرمیں عموماً اس سے اعراض کرتا ہوں۔لیکن جب کوئی پولیس کا باوردی اہل کار ’’ لفٹ ‘‘ کے لیے اشارہ کرے تو فوری طور پر میرا پاؤں فوراً بریک پر جاتا ہے اور میں اسے گاڑی میں بٹھا لیتا ہوں۔اُس دن بھی ایسے ہی ہوا ! اتوار کا روز تھا اور دوپہر کا عمل ! میں کسی کا م کے لیے شہر کی جانب جا رہا تھا، مجھے دور سے ایک صاحب سڑک کنارے کھڑے نظر آئے جو پولیس کی وردی میں تھے اورٹوپی لہراتے ہوئے ، لوگوں سے لفٹ مانگ ر ہے تھے۔اُس روز سورج کی تپش قدرے زیادہ تھی۔ متذکرہ اہلکار بھی اس حدّت سے پریشان دکھائی دے رہا تھا اوراُس کا اضطراب اُس کے انداز سے واضح ہو رہا تھا۔قریب پہنچنے پر مجھے بھی اُس نے لفٹ کے لئے اشارہ کیا۔میں نے حسبِ عادت گاڑی روکی اور اسے بیٹھنے کو کہا۔وہ صاحب گاڑی میں بیٹھ گئے بلکہ دھم سے گر پڑے۔انداز بڑا تمکنت بھرا تھا۔بیٹھتے ہی سب سے پہلے تو ا نہوں نے اُن لوگوں کی کلاس لی جنہوں نے انہیں لفٹ نہیں دی تھی ۔فرما رہے تھے، ’ بد لحاظ‘‘ یہ بھی نہیں سمجھتے کہ پولیس ان کے لئے کیا کر رہی ہے۔اُن کی ’’ شان‘‘ میں جو الفاظ وہ استعمال کر رہے تھے اُن کو احاطہ تحریرمیں لانا قدرے مُشکل ہے۔ اس کے بعد اُنہوں نے گاڑی کا اندرونی جائزہ لیا !’’A C‘‘کی جالیوں کا رُخ اپنی طرف کیا ، سیٹ Adjust کی۔ان صاحب کا تعلّق اُس قبیل سے تھا جو ’’ لفٹ ‘‘ بھی ’’مالکانہ حقوق ‘‘ کی بُنیاد ‘ پر لیتے ہیں۔( جلد ہی مجھے اُن ’’ بد لحاظوں ‘‘ کا عمل قابلِ تحسینِ لگنے لگا تھا جنہوں نے موصوف کو لفٹ نہیں دی تھی) ۔اس کے بعد موصوف اپنا تعارف کرانے لگے ! نواز نام تھا ،اور جاننے والے انہیں ’’ بھاء نواز‘‘ کہہ کر بلاتے تھے۔ محکمہ پولیس میں بطور کانسٹیبل آئے اور پچھلے پندرہ سالوں سے کانسٹیل ہی تھے ۔میں نے پوچھا ترقّی کیوں نہیں کی ؟ کہنے لگے، ’’ بھائی جی ! کانسٹیبل بہترین ’’رینک ‘‘ہے۔آگے تو نِرے ’’ پھڈّے ‘‘ ہیں۔جتنا بڑا رینک اُتنے بڑے ’ سیاپے ‘ ! ! سب سے بڑ ی بات کہ دوسرے رینکوں میں اکثرتنزّلی ہوجا تی ہے ! ہم نے انسپکٹروں کو ہیڈکانسٹیبل بنتے دیکھا ہے۔لیکن کانسٹیبل ایسا’ شہزاد ہ ‘ ر ینک ہے کہ کوئی ’’ ٹِل ‘‘ ما ر لے تنزّلی نہیں کر سکتا۔لہذا ترقّی کو طبیعت نہیں مانتی ! یہیں بڑے مزے میں ہوں۔۔بس ! ’ صرف ‘ چوبیس گھنٹے ڈیوٹی ۔۔ اور سکون ‘‘۔ ’’ تو کیا چوبیس گھنٹے ڈیوٹی کے بعد آرام مل جاتا ہے ‘‘۔؟ ’’نابھائی جی! اگلے دن پھر ڈیوٹی ہوتی ہے، اور اسی میں ہی سکون ہے‘‘۔ بھاء نوازصاحب مسلسل بول رہے تھا۔ کہنے لگے ،’’ آپ نے اپنے بارے میں کچھ نہیں بتایا‘‘۔عرض کی ، ’’ آپ موقع دیں تو ‘‘۔اس پر انہوں نے ایک زوردار قہقہہ لگایا اور پھراپنی بات وہیں سے شروع کردی۔
جس تھانے میں نواز صاحب نے جانا تھا ’’ سوئے اتّفاق‘‘ سے وہ میرے راستے میں پڑتا تھا۔فاصلہ بھی زیادہ تھا لیکن میں "Commit" کر چکا تھا۔ چنانچہ اُن کی ’’ سپاہیانہ‘‘ گفتگو جاری تھی ۔دنیا کا شاید ہی کوئی موضوع ہو جس پر آپ نے اس محدود سے وقت میں ( جو میرے لئے لا محدود ہو گیا تھا۔) ’روشنی‘ نہ ڈالی ہو۔ میرے پڑوس میں گویا کئی ’ ٹاک شوز‘ ہو رہے تھے۔خود ہی سوال ،خود ہی جواب۔۔اور خود ہی فائنل تجزیہ، (جس کا سوال ،جواب سے کوئی تعلق نہ ہوتا۔) اُن کی گفتگوسے معلوم ہوا نجانے کتنے ہی معروف لوگوں اور مشہور شخصیات سے آپ کے ذاتی مراسم تھے۔کسی سے بہت ہی زیادہ قربت ظاہر کرنا ہوتی تو میری مثال دیتے۔کہ ’’ فُلاں کے ساتھ تو یوں تعلق ہے جیسے آپ کے ساتھ‘‘ ( گویا ! کوئی تعلّق نہ ہوا )۔ یا ’’ فُلاں تو میرے ساتھ یوں ہیں جیسے آپ بیٹھے ہیں ‘‘۔ گفتگو کا سب سے ناقابلِ یقین حصّہ وہ تھا جس میں وہ فرما رہے تھے کہ تھے کہ شہر میں پچھلے دس سال میں جو بھی نامی گرامی بدمعاش یا اشتہاری وغیرہ پکڑا یا مقابلے میں مارا گیا ہے ، اُ س میں بلا واسطہ یا بالواسطہ آپ کے ’ بھاء نواز ‘ کا ’’ ہاتھ ‘‘ ہے۔ وہ گذشتہ دہائی کے اہم پولیس ریڈز میں خود شامل تھے یا اُن کی مخبری پر ہوئے تھے۔فرما رہے تھے کہ میں پانچ منٹ کسی سے بات کر لوں تو بتا سکتا کہ وہ کیا ہے، کون ہے ہے، کیسا ہے وغیرہ ۔۔نواز کا تکیہ کلام تھا، ’’ بس بھائی جی! جو اُچکّا بدمعاش مجھے دیکھ لے اُس کی تو’’ بوکی ‘‘ گر جاتی ہے ‘‘۔
تھانے کے قریب پہنچے تو انہوں نے مجھے اپنا کارڈ عنایت کیا اور کہا کہنے لگے ’’ اس تھانے کے ’ ایس ایچ او‘ صاحب سے اُن کے بڑے قریبی مراسم ہیں، کوئی بھی کام ہو توآپ نے ’’ بھاء نواز ‘‘ کو ضرور یاد کرنا ہے۔ کام ہو جائے گا۔‘‘ میں نے شکریے کے ساتھ کارڈ رکھ لیا۔۔’’ ایس ایچ او ‘ صاحب اتّفاق سے تھانے کے گیٹ کے باہر ہی کھڑے کسی کے ساتھ باتیں کر رہے تھے۔نواز صاحب کی نظر پڑی تو قدرے گھبرا گئے۔ کہنے لگا ’’ مجھے ادھر ہی اُتار دیں، میں آگے واک کر لیتا ہوں۔ ‘‘ لیکن میں نے گاڑی SHO صاحب کے پاس ہی جا کر روکی اور باہر نکل آیا۔SHO صاحب مجھے جانتے تھے۔وہ جلدی سے میرے پاس آئے، مجھے سلام کیا اور پھر بڑے پُر تپاک انداز میں اپنے ساتھ کھڑے دوست کو میرا تعارف کروایا، ’’ ملک صاحب ڈی ایس پی ہیں۔‘‘ SHO صاحب مجھے اپنے کمرے کی طرف لیکر جا رہے تھے۔جاتے ہوئے میری نظر پیچھے کھڑے نواز پر پڑی۔۔مجھے لگا جیسے ’’ بھاء نواز ‘‘کی ’’ بوکی ‘‘ گر گئی تھی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *