صدارتی انتخاب کے ساتھ امریکا میں دہشت گردی کا خطرہ بھی منڈلانے لگا

ٹرمپ، ہیلری

امریکہ کے صدارتی انتخابات کے سلسلے میں اب جبکہ انتخابی جائزے یہ بتا رہے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو حمایت حاصل ہو رہی ہے ہلیری کلنٹن ان ریاستوں میں ریلیاں کر رہی ہیں جو کہ ڈیموکریٹک امیدوار کے لیے محفوظ تصور کی جاتی ہیں۔ ذرائع کے مطابق دونوں امیدواروں کی ٹیم اب ووٹروں کو اپنی جانب راغب کرنے کے بجائے زیادہ سے زیادہ اپنے حامی ووٹروں کو ووٹ ڈالنے کی ترغیب دے رہی ہیں۔ خیال رہے کہ امریکہ میں تین کروڑ 30 لاکھ افراد پہلے ہی اپنا ووٹ ڈال چکے ہیں۔

دوسری جانب امریکہ کے تفتیشی ادارے ایف بی آئی اور نیو یارک پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ان اطلاعات کا جائزہ لے رہے ہیں جس کے مطابق القاعدہ امریکہ میں الیکشن سے ایک روز قبل دہشت گرد کارروائی کر سکتا ہے۔ حکام کا کہ انسداد دہشت گردی کے تفتیشی افسران ان اطلاعات کا جائزہ لے رہے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ الیکشن سے ایک روز قبل نیو یارک، ٹیکسس اور ورجینیا کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ بات واضح نہیں ہے کہ یہ اطلاع حکام کو کس طرح ملی۔

ایف بی آئی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر اس کی تفتیش پر کام کر رہے ہیں اور تمام انٹیلیجنس رپورٹس شیئر کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ آٹھ نومبر کو امریکہ میں صدارتی انتخاب ہے اور رپبلیکن جماعت کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اور ڈیموکریٹ جماعت کی صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن دونوں ہی نیو یارک میں ہوں گے۔ شدت پسند کارروائی کے خطرے کے حوالے سے سب سے پہلے خبر سی بی ایس نیوز نے چلائی۔امریکہ

دوسری جانب دونوں صدارتی امیدوار مہم کے آحری مراحل میں ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ہلیری کلنٹن صدر منتخب ہوتی ہیں تو وہ دہشت گردی کے لیے دروازے کھول دیں گی۔ نیو ہیمپشائر میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا ہلیری چاہتی ہیں کہ امریکہ میں آنے والے شامی پناہ گزینوں کی تعداد میں 550 فیصد اضافہ ہو۔

'ہلیری کے منصوبے کا مطلب ہے کہ دہشت گردی، انتہا پسندی ہمارے سکولوں اور کمیونٹیز میں پھیلے۔' انھوں نے کہا کہ بطور صدر وہ شامی پناہ گزینوں کے پروگرام کو معطل کر دیں گے۔ دوسری جانب فوکس نیوز نے تازہ پول جاری کیا ہے جس میں ہلیری کلنٹن کو ڈونلڈ ٹرمپ پر دو پوائنٹس کی سبقت حاصل ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل فوکس نیوز کی جانب سے کیے جانے والے پول میں ہلیری کو تین پوائنٹس کی سبقت حاصل تھی :-

loading...

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *