گمنام

inspecter-kay-qalam-say

حسن کو ہم جب بھی کہتے کہ بچے باہر گلی میں کھیلنے جا رہے ہیں۔ تم بھی جاؤ اور بچوں کا خیال رکھو تو جس ناگواری کے تاثرات اس کے چہرے پر چھا جاتے وہ سارا دن کوئی او ر کام کرتے ہوئے اس کے چہرے پر نہیں آتے۔ وہ تیرہ چودہ برس کا تھا نہ عمر کے اُس حصے میں کہ بچوں کے ساتھ کھیل سکے اور نہ اس عمر کا کہ جس میں اُس میں بچوں کے ساتھ کھیلنے کی خواہش ختم ہو جائے۔ وہ جھنگ سے ہم نے سودا سلف وغیرہ لانے کے لئے رکھا ہوا تھا اور اس کے اچھے ہونے کی ضمانت محلے میں کسی پڑوسی نے دی تھی۔ اس لئے کبھی اسکے والد اور والدہ یا خاندان کے کسی اور فرد سے ملاقات کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی تھی مہینے کی پہلی تاریخ کو وہ تنخواہ لے کر گھر جاتا اور وقت مقررہ پر واپس آ جاتا۔ اس کا دل بھی اپنے گھر میں شائد نہیں لگتا تھا۔ یا ہو سکتا ہے کہ مناسب تنکواہ ہونے کی وجہ سے گھر والے ہی اسے زیادہ دیر ٹھہرنے نہ دیتے ہوں کہ کہیں "مالک" (نعوذ باللہ) ناراض نہ ہو جائیں۔ پھر وہ گلی میں دل لگانے لگا اس کی  شنا سائی اپنی عمر کے لڑکوں سے بڑھی اب وہ بچوں کا دھیان بھی کرتا اور خود بھی گپ شپ لگانے لگا۔ اب بچے گھر واپس آتے اور حسن کو پانچ منٹ زیادہ لگ جاتے تو میری بیوی اس بات پر بھی ناراض ہو جاتی کہ گھر میں اتنے کام بقایا ہیں اور حسن کو گپ شپ سے فرصت نہیں ملتی۔ یعنی مسئلہ یہ تھا کہ ہم دل سے چاہتے تھے کہ حسن حالت کام میں ہی رہے۔ مفت کی روٹی نہ توڑے۔ بچوں کے کھیلنے کے وقت جائے تو گھر میں کام کی خیر ہے ہو جائے گا۔ بچوں کے علاوہ ایک منٹ بھی اسے فرصت نہیں ہونی چاہئیے پچھلے کئی دن پاکستان خصوصاً پنجاب میں بچوں کے اغوا کا ایک ڈرامہ چلتا رہا۔ ایمرجنسی فون نمبر 15 مسلسل بجتا رہا۔ خبریں تھیں کہ ایک بوڑھا آدمی جس کی سفید داڑھی ہے اس نے سینے سے ایک پانچ چھ سال کا بچہ لگایا ہوا ہے۔ وہ کماد کی فصل میں چھپتا چھپاتا چلا جا رہا ہے اور گاؤں کے لوگ اس کے پیچھے ہیں۔ یہ خبر اور اس جیسی اور خبریں سن کر پولیس کی دوڑیں لگتی رہیں۔ موقعہ پر کبھی پولیس کو سفید داڑھی والا شخص نہیں ملا۔ ہاں پورے کا پورا گاؤں ضرور وہاں مل جاتا رہا اور پورے "گاؤں" کے ساتھ اس خبر کا مزا لینے کے لئے پورے "گاؤں" کے بچے بھہ وہیں مل جاتے رہے ہیں ۔ اس مجمعے کو اکٹھے دیکھ کر تھانیدار بھی سکھ کا سانس لیتے تھے کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ اب انہیں کسی بردہ فروش کا پیچھا نہیں کرنا بلکہ اس گاؤں کے بچے گننے ہیں اور مجمعے میں آئے لوگوں کو گن کر واپس کرنے ہیں یعنی فوری معطلی کا کوئی ڈر نہیں بلکہ صرف مشقت ہے کیوں کہ گاؤں کے بچے تو پورے ہو ہی جاتے ہیں کیونکہ کون سا کوئی اغوا ہوا ہوگا۔

Image result for pakistani old man with kid

جس گاؤں کے لوگ ایک اعلان سے اگر یوں اکٹھے ہو سکتے ہوں تو کون سا ایسا پردہ فروش ہے جس کا داؤ ایسے گاؤں میں لگ سکے۔ لیکن تھانیدار سوچ میں پڑ جاتے تھے کہ یا اللہ اتنے بچے وہ گنیں گے کیسے ۔ ان کی نظریں شکوے سے گاؤں کے مردوں کی طرف ضرور اٹھتیں کہ بھائی لوگو جتنے ان گنت بچے یہاں کھڑے ہیں اگر سارے تمہارے ہی ہیں ۔ تم اپنے بچوں کو نہیں گن سکتے تو میں کیسے گن کر تمہارے حوالے کروں۔ یہ سوال تو کرنا وہاں بہت ہی غیر ضروری ہوتا تھا کہ بچے پیدا کرنے کے علاوہ تم کوئی کام نہیں کرتے کیونکہ تھانیدار کو صاف نظر آ رہا ہوتا تھا کہ دفتر ٹائم یا کوئی اور کام کرنے کے وقت اگر گاؤں کے سارے مکین یہیں پانچ منٹ میں اکٹھے ہو گئے ہیں تو گھروں میں ہی ہوں گے اور گھروں میں کچھ اور نہ بھی کر رہے ہوں گے تو یہ کام تو ضرور کر رہے ہوں گے۔ وہاں حسن کی عمر کے لڑکوں کی بہتات نظر آتی تھی چھوٹے بچے بھی ہوتے تھے تو آخر یہ جم غفیر کیا کبھی اپنے بچوں کو گھر سے گن کر آیا تھا کیا انہیں معلوم ہوتا تھا کہ ان کے اپنے بچے اس وقت مٹی کھا رہے ہیں۔ قمیض سے ناک صاف کر رہے ہیں یا واقعی انہیں کوئی اٹھا کر لے گیا ہے اور اگر سارے گاؤں یا محلے کے بچے پورے ہیں تو پھر لوگ ہتھیار اٹھائے کسے قتل کرنے جا رہے ہیں کیا وہ سفید داڑھی والا بردہ فروش جس پانچ چھ سال کے بچے کو سینے سے لگا کر جا رہا ہے وہ بچہ کیا اس کا نواسہ یا پوتا تو نہیں ہے۔ پچھلے دنوں میں ایسے "بردہ فروش" صرف اللہ کی مدد سے ہی بچ پائے ہیں ۔ کیا حیرانگی نہیں ہوتی کہ آج کل بچے اغوا کیوں نہیں ہو رہے ہیں؟ کیا پولیس نے اس جرم پر قابو پا لیا ہے یا عوام کو اس کھیل میں مزا آنا بند ہو گیا ہے۔ عوام کو کھیل تماشا چاہئیے کس نے بعد میں اس بات کا جائزہ لینا ہے کہ پولیس کو اس طرح مصروف کرنے سے کتنے لوگ قتل ہوئے کتنی ڈکیتیاں رک سکتی تھیں ۔ کتنے جرائم کا مقابلہ کیا جا سکتا تھا تو کیا میرے گھر میں کام کرنے والا حسن گاؤں کے ان ویلے دوسرے حسن نما لڑکوں سے اچھے حالات میں نہیں تھا۔ اگر وہ میرے بچوں کی حفاظت کے لئے گھر سے باہر جاتا تھا اور ہم اس کے بارے میں فکرمند نہ بھی ہوں۔ اپنے بچوں کے صدقے ہی سہی اس کو ڈانٹنے کے لئے ہی سہی۔ کم از کم اس کے گھر لوٹنے کے منتظر تو تھے۔ سوچا تو ہم نے بھی کبھی نہیں تھا کہ حسن کے ساتھ بھی کچھ ہو سکتا ہے۔ اس حسن کی گارنٹی تھی۔ کچھ ایسے حسن نما بچوں کی گارنٹی مدرسوں میں جانے سے پہلے بڑی کڑی لی جاتی ہے۔ امام ضامن باندھ کر ماں باپ چھوڑ جاتے ہیں ۔ جن پر آئندہ ایچی سن کالج جیسی سختی ہوتی ہے یعنی وہاں انتظامیہ کی مرضی سے بچوں کو ملا جا سکتا ہے۔ لیکن سختی ماں باپ کی خود ساختہ ہوتی ہے۔ وہ شائد دوبارہ واپس اس لئے نہیں آتے کہ کہیں سر ہلاتے بچوں کی تعلیم میں خلل نہ پڑ جائے یا انتظامیہ اس سے کچھ مانگ ہی نہ لے۔ کیونکہ ایچی سن میں تو ہر طرح کے اخراجات کے بل ماں باپ ہی ادا کرتے ہیں اور پھر بھی انہیں اپنے بچوں سے ملنے میں سختی برداشت کرنا پڑتی ہے مدرسوں میں ماں باپ بچوں کو چھوڑ کر ہی اس لئے جاتے ہیں کیوں کہ یا تو وہ ان کے اخراجات برداشت ہی نہیں کر سکتے یا ادا کرنا نہیں چاہتے۔ یہ بچے تو اللہ کے حوالے کر دئیے جاتے ہیں یا پھر اتنی متبرک جگہوں پر اگر انہیں انسانی ڈھال بھی بننا پڑے تو کیا مضائقہ ہے جانا تو سیدھا جنت میں ہی ہے ناں!

ان بچوں میں سے کئی کا نام حسن ہو گا۔ کیا فرق پڑتا ہے بات ہے ان کو فراموش کر دینے کی۔ میں تو سمجھتا ہوں میرے گھر والا حسن اچھا تھا تنخؤاہ لے کر مہینے بعد اپنے ماں باپ سے مل تو آتا تھا۔ وہ بھی اس کی عزت کرنے لگے تھے حسن کی وجہ سے نہیں شائد اس کی تنخؤاہ کی وجہ سے۔ وہ کبھی دیر سے نہیں ہمیشہ وقت سے پہلے آتا تھا۔ لیکن اتنا خیال کرنے کے بعد "اتنی گارنٹی لینے کے بعد" بھی حسن میرے گھر سے چلا گیا۔ اسے ایک سڑک کے کنارے بڑے ہوٹل میں نوکری مل گئی تھی اور تنخواہ بھی میرے گھر سے اسے زیادہ ملنے والی تھی۔ وہ چلا گیا تھا لیکن واپس آ رہا تھا۔ میرے بچے کیونکہ اس سے مانوس تھے ۔ اس لئے اس کے واپس آنے سے بہت خوش تھے۔ میں نے بھی گارنٹی دینے والے سے جھوٹ موٹ ناراضگی ظاہر کی۔ ڈھابے سے اتنی جلدی حسن کی واپسی کا بھی مجھے معلوم ہو گیا تھا۔ ڈھابے پر موجود دوسرے حسن وہاں کے موحول کے عادی ہو چکے تھے۔ حسن نے کسی بات پر "انکار" کر دیا ہو گا۔ نہیں بنی میرے گھر رہ کر اچھا برا کچھ تو سیکھ ہی گیا ہوگا۔ حسن خوش قسمت تھا کسی شریف گھر میں نوکر ہونا اس کی زندگی کی معراج تھی۔ جو اتنے خوش قسمت نہیں ہیں ان کے اغوا پر بھی کیا ہمیں یہ حق ہے کہ بطور ماں باپ واویلا کرتے پھریں۔ان ماں باپ کے لئے یہ بچے تو پہلے ہی اغوا ہو چکے ہوتے ہیں۔ اگر بردہ فروش  بھی کچھ روپے ان کے گھر بھجواتے رہیں تو ان ماں باپ کو فرق نہیں پڑنا چاہئیے صرف گارنٹی کی تو کمی ہوتی ہے۔ گارنٹی تو حسن ڈھابے پر کام کرے ، حسن کو بردہ فروش لے جائے، حسن کو مدرسہ میں جمع کروا دیا جائے یا حسن کو سیدھا "جنت" بھجوا دیا جائے کیا فرق پڑتا ہے۔ اور اگر جنت ہی جانا ہے تو حسن کو بھی چاہئیے کہ کسی ڈھابے پر کوئی غلط بات بھی ماننی پڑے تو ایک آدھ گناہ سے کیا فرق پڑتا ہے جانا تو جنت میں ہی ہے اور ویسے بھی ان گنت بچوں سے کچھ کم بھی ہو جائیں تو بندہ گنتی پوری کر ہی لیتا ہے۔ اتنے بچوں کے نام حسن تو نہیں ہو سکتے۔ کچھ نام ہوں گے تو کچھ بے نام ہوں گے اور کچھ "گمنام" بھی ہو نگے۔

loading...

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *