ووٹ کا حق اور جان نثاری حملے

muhammad-waqas

یوں تو دنیا ، تعلیم کے کئی مصرف  اور مقاصد دریافت کر چکی ہے   لیکن وطن عزیز میں پڑھے لکھے طبقے نےاس کا ایک ایسا استعمال دریافت کر لیا ہے جو کسی اور ملک کے باشندوں کے وہم و گمان میں بھی کبھی نہیں آیا ہوگا-  ہم کہنے کو تو تعلیم ، تہذیبِ نفس ، اچھا انسان بننے ، اچھا روز گار حاصل کرنےیا پھر ایک مفید شہری بن کر ملک کی خدمت کرنے کے لئے حاصل کرتے ہیں لیکن ہم تعلیم سے  کوئی اور کام لیں یا نہ      لیں ہم اسے کم  پڑھے لکھے یا ان پڑھ لوگوں  کو مرعوب کرنے اور بقول یوسقی صاحب ان کا دف مارنے کے لئے استعمال کرتے ہیں-   ہم میں سے ہر بزعمِ خود دانشور اپنی ڈگریوں سے اپنی نام نہاد دانش ماپ کر ان پڑھ لوگوں کو دوسرے  درجے کا شہری قرار دینے پر تلا ہوا ہے - اسی بات کو بنیاد بنا کر ہمارے کچھ دانشور حضرات جن میں حسن نثار اور اوریامقبول جان سرفہرست ہیں جمہوریت پر بظاہر ایک منطقی اعتراض کرتے ہیں کہ بالغ رائے دہی میں چونکہ گدھے  گھوڑے برابر کر دیئے جاتے ہیں  اور چونکہ یہ ان پڑھ اور جاہل لوگ ابھی شعور کی اس سطح پر نہیں پہنچ سکے جس پر ہمارے نام نہاد پڑھے لکھے لوگ پہنچ گئے ہیں  اس لئے  ووٹ کا حق صرف  اور صرف خاص سطح تک  کے تعلیم یافتہ لوگوں کو حاصل ہونا چاہئے- حسن نثار صاحب تو کسی لگی لپٹی کے بغیر متعدد بار یہ فرما چکے ہیں کہ یہ کیسا نظام ہے جس میں میرا ووٹ بھی ایک للو پنجو سڑک چھاپ جاہل کے برابر ہےاور اگر ان بندروں کے ہاتھ میں بندوق دے دی تو اپنا ستیاناس کر دیں گے- اسی طرح کےزہریلے ارشادات اوریا مقبول جان صاحب بھی کئی مقامات پر فرما چکے ہیں-      چونکہ یہ حضرات ایک خاص قسم کی اشرافیہ کی نمائندگی کرتے ہیں اس لئے یہ بہت مقبول بھی ہیں- ان کے بے پیاں تفاخر میں یہ بات  پوشیدہ نہیں بلکہ عیاں ہے کہ وہ حقیقت میں ان پڑھ لوگوں کو دوسرے درجے کا شہری  سمجھتے ہیں اور انہیں اس قابل نہیں سمجھتے کہ انہیں ووٹ ڈالنے کا حق دیا جائے-  لیکن انہیں یہ امتیاز صرف ووٹ کا حق چھینتے وقت ہی یاد آتا ہے- یہ دانشور کبھی یہ نہیں کہیں گے کہ ان پڑھ لوگوں کو سزاوں میں رعایت ہونی چاہئے کیونکہ وہ بےچارے ان پڑھ جوہوئے-یا یہ کہ ایک ان پڑھ قاتل کے لئے قتل کی سزا قتل نہیں بلکہ پانچ یا  دس سال ہونی چاہئے یا وہ اگر سگنل توڑے تو اسے جرمانہ نہیں ہونا چاہئے، یا اسے ٹیکس میں چھوٹ ملنی چاہیے اور اس سے واجب ٹیکس کا عشرِعشیر لینا چاہئے- اور تو اور مذہب میں بھی ایک ان پڑھ انسان خدا کے سامنے جو منصفِ اعلیٰ ہےاسی طرح جواب دہ ہے جیسے ایک پڑھا لکھا شخص- وہی نماز، برابر کی زکوٰۃ، وہی حج- سب فرائض اس پر بھی  اسی طرح عائد ہوتے ہیں  اور اس بیچارے کو کوئی  رعائت حاصل نہیں-

 اس جھوٹے احساسِ برتری کے نشے میں یہ دانشور یہ بھول جاتے ہیں کہ  ایک ان پڑھ انسان ، انسان ہونے کی حیثیت سے وہی حاصہ ٔ اخلاقی  رکھتا ہے جو ہر انسان میں اللہ نے ودیعت کردیا ہے- و ہ بھی خدا کا اسی طرح نائب ہے جیسے کوئی ایم اے ، ایل ایل بی-  اسی وجہ سے وہ اس دنیا میں ان تمام حقوق کا حقدار ہے جوزندگی گزارنے کے لئے ضروری ہیں-وہ جرائم کی صورت میں برابر کا جواب دہ ہے، وہ سب کے مساوی محصول ادا کرتاہے، وہ اپنے معاہدات میں اسی طرح پابند ہے جیسے دوسرے لوگ، وہ شادی کر سکتا ہے، وہ  بچوں کی کفالت کی ذمہ داری اٹھاتا ہے، اس کے لئے نکاح و طلاق ، فوجداری اور دیوانی ، ملکی و بین الاقوامی غرض تمام قوانین وہی ہیں،   قانون اس کے لئے بھی وہی ہے جو باقی لوگوں کے لئے،  نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج سب فرائض اس پر بھی اسی طرح فرض ہیں جیسے باقی اعلیٰ و عرفیٰ دانشوروں پر- لیکن یہ دانشور اس سے وہ ایک حق اس سے چھیننا چاہتے ہیں جس میں وہ ایک برابر شہری کے طور پر اپنا حکمران منتخب کرسکے   -   یہ ملک ۱۹۴۶ کے انتخابات کے نتیجے میں وجود پزیر ہوا- یہی ان پڑھ عوام اس وقت  اتنے سمجھدار تھے کہ قائد اعظم  کی قیادت میں ایک پرامن تحریک چلا کر آزادی حاصل کرسکیں آج وہ اپنے ہی ملک میں اتنے کم تر سمجھے جاتے ہیں کہ ہر وہ شخص جو انگریزی کے چار لفظ پڑھنے کے قابل ہوجائے ان کے ووٹ کے حق کے درپے ہوجاتا ہے-

تقریباً اسی طرح کے دلاِئل ماضی میں عورتوں اور سیاہ فام لوگوں کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے کے لئے دیئے گئے-  ۱۸۶۵ میں امریکہ میں سیاہ فاموں کو ووٹ کا حق  آئین کی سطح پر تو مل گیا لیکن قریباً  ایک سو سالوں تک کبھی جائیدار  کی شرط لگا کر اور کبھی تعلیمی  استعداد کے ساتھ مشروط کر کے سیاہ فاموں کو اس حق سے محروم کیا جاتارہا   جبکہ سفید فام ایسی شرائط سے مستثنیٰ تھے اور بالآ خر مارٹن لوتھر نے سیاہ فاموں کو بالغ رائے دہی کا حق دلوایا-

 عورتوں اور سیاہ فاموں کونمائندگی کا حق ملنے کے بعد ان کی فلاح و بہبود کے لئے قانون سازی کا عمل شروع ہوا- آج ہم سیاہ فاموں اورعورتوں  کے حقوق میں جو  بہتری دیکھتے ہیں وہ اسی بالغ رائے دہی کی وجہ سے ممکن ہوئی- پاکستان میں بھی چونکہ مساوی تعلیمی مواقع نچلے طبقے کو حاصل نہیں اس لئے  انہیں تعلیم کی بنیاد پر ووٹ کے حق سے محروم کرنے کا مطلب ہے کہ انہیں نمائندگی کے حق سے محروم کردیا جائے اور انہیں اپنے ہی ملک میں دوسرے درجے کا شہری بنا دیا جائے- جب انہیں نمائندگی حاصل نہیں ہو گی تو ان کے حقوق کی آواز  جو ابھی نحیف ہے مکمل ناپید ہو جائے گی-    تعلیم کی بنیاد پر ووٹ کا حق اس طبقاتی تقسیم کو اور  وسیع کرے گا-

شعور خدا کی ایک  نعمت ہے اور یہ کوئی ڈگری پاس کرنے سے نہیں بلکہ خدا کی دی ہوئی عقل استعمال کرنے سے عطا  ہوتی ہے-   جہالت کا تعلق پڑھے لکھے ہونے یا ان پڑھ ہونے سے نہیں بلکہ اس حاصۂ اخلاقی کے مردہ ہوجانے سے ہے جسے ہم ضمیر کہتے ہیں- یہ دانشور جو تعلیم کی شرط لگا کر لوگوںکو ان کے شہری حقوق سے محروم کرنا چاہتے ہیں انہیں چاہئے کہ وہ لوگوں کی اس آزادی پر کڑھنے کی بجائے ان کی اخلاقی تربیت کا اہتمام کریں-  جو اخلاقی مسائل اس وقت ہماری عوام کو درپیش ہیں ان میں تعلیم یافتہ طبقہ شائد اخلاقی طور پر زیادہ پستی کا شکار ہے- اگر یقین نہ آئے تو سوشل میڈیا  میں ان نام نہاد پڑھے لکھے لوگوں کا اخلاقی رویہ دیکھا جاسکتا ہے- عورتوں کو انٹرنیٹ پر ہراساں کرنا، اختلاف کا جواب گالی گلوچ سے دینا، جھوٹا پراپیگنڈا کرنا اور ان کا وطیرہ ہے –  بد عنوانی میں یہ طبقہ بھی پیش پیش ہے- امتحان میں نقل سے لے کر، رشوت ستانی تک اخلاقی پستی میں یہی لوگ سب سے آگے ہیں- ہمارے نوجوان ماسٹرز کر کے بھی قطار بنانا نہ سیکھیں توتعلیم میں کہیں نہ کہیں تو مسائل ضرور ہوں گے- یہ اپنے لیڈروں کی اسی طرح اندھی تقلید کرتے ہیں جیسے کوئی ضیف العقیدہ لوگ اپنے پیر  کی کرتے  ہے-  یہ طبقہ اپنی لاعلمی سے بھی لاعلم ہے- اصل بات یہ ہے کہ   صرف درسی تعلیم ہی تعلیم نہیں بلکہ زندگی بھی بہت کچھ سکھا دیتی ہے- تعلیم کوئی نئی صلاحیت پیدا نہیں کرسکتی بلکہ پہلے سے موجود صلاحیتوں کو اجاگر کرتی ہے- تعلیم کوئی ایسا عمل نہیں جس کی تکمیل ہو سکے- جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ تعلیم ایک عمل ہے جو ڈگری کے حصول کے سا  تھ ختم ہو جاتا ہے  وہ شاید تعلیم کے معنیٰ ہی نہیں جانتے-  سقراط  نے کہا تھا کہ میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ میں کچھ نہیں جانتا -  اسی طرح آئین سٹائین نے جب کہا کہ میں جتنا پڑھتا گیا مجھے اپنی لاعلمی کا علم ہوا تو وہ اسی بات کی دہائی دے رہاتھا کہ اے نظام کہنہ کے دانشورو ان کاغذ کے ٹکڑوں کو لے کرتم  اپنے آپ کو عقلِ کل سمجھ بیٹھو اور لوگوں کو دوسرے درجے کے شہری بنانے پرتل جاؤ  تو بہتر ہے کہ اپنی ڈگریوں کو آگ لگا دو کہ یہ وقت تم نے ضائع ہی کیا ہے-

 اب  جبکہ حق بالغ رائے دہی دنیا میں ایک بنیادی حق مانا جاچکا ہے اس لئے وہ دانشور جو عوام کی جہالت پرہر وقت کڑھتے رہتے ہیں ان سے گزارش ہے کہ عوام سے ووٹ کا حق چھیننے کی بجائے ان کی تعلیم و تربیت کے لئےمکمل طور پر اپنے آپ کو وقف کر دیں   کیونکہ حقیقی تبدیلی اسی وقت پھوٹتی ہے جب اس کی ابتداء معاشرے  کے خارج کی بجائے اس کے داخل سے ہو-

loading...

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *