جلسے اور دھرنے کے بعد حکومتی سرشاریاں

Ata ullah wadood

2 نومبر کا جلسہ گزر چکا ہے مختلف افراد کی آراء کے مطابق جلسے کے شرکاء کی تعداد دس لاکھ سے خاصی کم تھی آزاد ذرائع کے مطابق ایک سے ڈیڑھ لاکھ شرکاء جلسہ گاہ میں موجود تھے محتاط اندازے کے مطابق تعداد پچاس ہزار کے لگ بھگ تھی اور سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پندرہ سے بیس ہزار شرکاء جلسہ گاہ میں موجو د تھے اب چاہے جس بھی حاضری کو درست شمارکیا جائے بہرحال دس لاکھ کے فیگر کو چھونے میں تحریک انصاف ناکام رہی ہے ، پی ٹی آئی کے لئے انتہائی فکر کا مقام ہے اور اسے اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کی اشد ضرورت ہے ۔
2نومبرکے دھرنے اور اسلام آباد لاک ڈاؤن کو مؤخر کرنے کے بعد اسے یوم تشکر کے طور پر منانے کا اعلان کیاعمران خان کی جانب سے کیا گیا تھا ، اس اعلان کے ساتھ ہی دو طرح کی آراء سامنے آئیں پہلی قسم کے افراد کے مطابق عمران خان کا فیصلہ عقل سے عاری ہے اور وہ کس بات کا یوم تشکر منانا چاہتے ہیں ؟کیا اپنے دو کارکنان کے شہید ہونے کے باوجود وہ یوم تشکر منائیں گے ؟ دوسری قسم کے افراد کی رائے تھی کہ عمران خان کا فیصلہ دانشمندی پر مبنی ہے ،عمران خان کے دھرنہ دینے کے محض دو مقاصد تھے 1۔نواز شریف مستعفی ہوجائیں 2۔نواز شریف تلاشی دیں ، اب جب کہ سپریم کورٹ نے پانامہ لیکس کے حوالے سے کیس کی باضابطہ سماعت کا آغاز کر دیا ہے تو واقعۃ عمران خان کے پاس دھرنے کو مؤخر کرنے کے علاوہ کوئی اور آپشن موجود نہیں تھا ۔
طاہر القادری اور شیخ رشید کی دھرنہ مؤخر کرنے پر ناراضگی کو سمجھا جا سکتا ہے اور کسی حد تک وہ اس تمام معاملے میں حق بجانب بھی ہیں خاص طور پر علامہ طاہر القادری کے ذہن میں ضرور زرداری دور میں ان کی جماعت کی طرف سے دئیے گئے دھرنے کی نا خوشگوار یادیں تازہ ہو گئی ہوں گی جب دھرنے کا اختتام تمام معاملے کا سپریم کورٹ کے نوٹس لینے پر ہوا تھا اور علامہ نے بھی عمران خان کی طرح اپنے حامیوں کو فتح کی نوید سناتے ہوئے دھرنہ سمیٹنے کا اعلان کرتے ہوئے احتساب کی جنگ کو قانونی طریقے سے لڑنے کا اعلان کیا تھا اور سپریم کورٹ پہنچتے ہی ان کے ساتھ جو تضحیک آمیز سلوک کیا گیا اس سلوک پر عام آدمی بھی انگشت بدنداں ہوا اور علامہ صاحب خائب و خاسر واپس اپنے دیس کینیڈا لو ٹ گئے اس دفعہ عمران خان کا قانونی جنگ لڑنے کا فیصلہ ان کے لئے ضرور بالضرور حیرت و استعجاب کا موجب ہوگا اور ان کی ناراضگی اور خفگی کوئی ایسا امر نہیں ہے جو سمجھ میں نہ آ سکے لیکن انتہائی حیرت کا مقام ہے کہ ن لیگی مولا جٹ سیاستدان نوازشریف کے نادان دوست بن کر اب بھی حماقتوں پر مبنی بیانات دینے سے رتی برابر بھی گریز نہیں کر رہے ، مشاہد اللہ جن کو ان کے نادانی پر مبنی بیانات نے ہی یہ دن دکھلایا کہ نیپال سے ہنگامی طور پر بلوا کر ان سے وفاقی وزارت سے استعفٰی لیا گیا اور پارٹی کی وفاق میں حکومت ہونے کے باوجود ریٹائرڈ سیاستدان والی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اگر وہ دوبارہ فعال سیاست کا حصہ بننا چاہتے ہیں تو ضرور انھیں اپنے طرز عمل پر نظر ثانی کرنا ہو گا ۔
ساتھ ساتھ اہل عقل حکومتی عہدیداران کو اس بات کا جائزہ لینا ہوگا کہ حکومتی مؤقف جب وزراء ٹاک شو وغیرہ میں پیش کریں تو اس میں دانشمندی کا عنصر نمایاں ہونا چاہئیے اور لفظوں کا چناؤ ایسا ہو جس سے بعد میں کسی پشیمانی کا سامنا کرنا پڑے نہ ہی ایسا مؤقف پیش کیا جائے جس سے اپوزیشن جماعتوں کو اشتعال دلا یا جائے ، کیونکہ ہڑتالوں ،جلسوں یا دھرنوں کی صورت میں سب سے زیادہ نقصان حکومت ہی کا ہوتا ہے ۔
عاجز کی رائے کے مطابق عمران خان نے سپریم کورٹ میں پانامہ لیکس کے حوالے سے کیس کی سماعت شروع ہو جانے کے بعد دھرنے کو مؤخر کر کے سیاسی طور پر با شعور ہونے کا ثبوت دیا ہے اور ان پر جو الزامات لگائے جا رہے تھے کہ تحریک احتساب شروع کرنے کا مقصد شائد وزیر اعظم بننے کی بے چینی ہے اور وہ کسی غیر آئینی ذریعے سے اقتتدار اعلیٰ کی غلام گردشوں میں قدم رکھنے کے خواہشمند ہیں عمران خان کے فیصلے نے ان منفی تاثر کی انتہائی شدت سے نفی کی ہے ۔ اب باگیند عدالت عظمیٰ کے کورٹ میں ہے کہ وہ کس طرح سے صاف اور شفاف تحقیقا ت کو یقینی بناتے ہوئے اس اہم ترین کیس کا جلد از جلد فیصلہ کرتی ہے کیونکہ غیر ضروری تاخیر اور معاملے کو طول دینے سے خیرکا پہلو ہر گز ہر گز برآمد ہونے کی قطعا ذرہ برابر بھی کوئی امید نہیں ہے ، اس کیس کا اب جو بھی نتیجہ نکلے اس امر میں اب کسی بھی قسم کا شک و شبہ باقی نہیں رہا کہ حکومت کے لئے بقایا وقت انتہائی کٹھن اور دشوار گزار ثابت ہونے کی توقع ہے ہاں اگر عدالت عظمیٰ کی طرف سے نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کو کلین چٹ دے دی گئی تو یہ صورتحال تحریک انصاف کے لئے انتہائی پیچیدہ ہو جائی گی اور عین ممکن ہے کہ انھیں 2018میں بھی اپوزیشن کے فرائض ہی ادا ء کر نے پڑیں اس دفعہ تو پی ٹی آئی اپوزیشن میں ہونے کے باوجود ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے سے کسی نہ کسی حد تک بچ گئی ہے لیکن شائد اگلی دفعہ اپوزیشن میں ہونے کی صورت میں خود کو بچا نہ سکیں اور ق لیگ والے انجام سے دوچار ہو جائے ۔ دھرنے کے مؤ خر ہو نے کے اعلان کے ساتھ ہی ڈاکٹر عاصم ،رؤف صدیقی ،وسیم اختر اور انیس قائم خانی کی ضمانت منظور ہونے کی اطلاع سامنے آئی ہے ، ماڈل ایان علی کی ضمانت کے بعد یہ اس سال کا دوسرا بڑا لالی پاپ ہے جو اپوزیشن پارٹیوں کو تحریک انصاف کے خلاف متحد کرنے کے لئے حکومت کی طرف سے دیا گیا ہے کہیں متحدہ اپوزیشن کی بجائے متحدہ حکومت بنانے کی تیاریا ں تو نہیں ہو رہیں ؟؟؟

loading...

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *