اُف یہ موبائل فون

akhtar saeed madan.

مجھے اکثر کاروباری سلسلے میں بٹ خیلہ کا سفر کرنا پڑتا ہے ۔یہ سفر کوئی ساڑھے سات آٹھ گھنٹے کا ہوتا ہے ۔اس دوران میں کئی مسافر ایسے ہوتے ہیں جو سارا وقت موبائل پر گفت گو کر کے سفر بتاتے ہیں۔پھر گفت گو بھی کچھ اتنی اونچی آواز میں کرتے ہیں کہ ساری بس سنتی ہے ۔گذشتہ دنوں مردان سے ایک مسافر سوار ہوئے ،موبائل پر اُن کی ہونے والی گفت گو سننے کا اتفاق ہوا۔اس کی چند جھلکیاں پیش کررہا ہوں۔ موبائل کی گھنٹی بڑی کرخت ٓواز میں بجی،پتہ نہیں کیوں ٓپ نے ٹیون ہی کچھ ایسی لگائی ہوئی تھی کہ سوئے ہوئے مردے بھی جاگ جائیں۔ مردوں کو جگانے والی یہ بیل اُس وقت تک بجتی رہی جب تک کہ سارے مسافر اُن کی طرف متوجہ نہیں ہو گئے اور کال کرنے والے کو ناٹ ریسپونڈنٹ کا میسج ملنے والا نہیں ہو گیا۔آپ نے موبائل کان سے لگایا اور بیل سے بھی زیادہ کرخت آواز میں گلا پھاڑا
:ہے ۔۔لو ،گزالہ ۔۔ہاں ہاں میں ابھی بس میں سوار ہوا ہوں۔لاہور پہنچتے پہنچتے کوئی پانچ ساڑھے ،پانچ گھنٹے لگ جائیں گے ۔۔۔۔۔کیا کہا لڑکی والے عزیر کو دیکھنے آرہے ہیں۔۔۔ہاں تو اُن کو پانچ گھنٹے بعد کا ٹائم دے دو۔۔۔میں انشااللہ اُس وقت تک پہنچ جاؤں گا۔۔۔۔۔نہیں نہیں وہ بیچارے لندن سے آئے ہیں۔۔۔۔وقت تو نکالنا ہی پڑے گا۔۔۔۔اچھا ٹھہرو ۔۔۔میں خود بات کرتا ہوں اُن سے ۔
دوسری کال :ہے ۔۔لو۔جی باجی میں عزیر کا ابو بول رہا ہوں ۔۔۔اس کے ساتھ ہی موصوف کا فلک شگاف قہقہہ بس میں گونجا ۔آواز اس قدر بلند تھی کہ محسوس ہوا بس کی چھت اُڑ گئی ہے۔یہاں تک کہ ڈرائیور نے بھی پیچھے مڑ کر دیکھا۔آپ نے اپنا قہقہہ یکدم روک کر کہا: نہیں نہیں ۔۔۔۔آپ اپنا پروگرام ملتوی نہ کیجئے ۔آپ کوتو علم ہی ہے ۔میں ایک کاروباری آدمی ہوں ۔میں اکثر سفر میں ہی ہوتا ہوں ۔آج یہاں تو کل وہاں۔۔۔آپ کا اپنا گھر ہے،آ جایئے۔آپ پروگرام منسوخ نہ کیجئے!میری کیا ہے۔میں بھی تین، چار بجے تک پہنچ ہی جاؤں گا۔۔۔گھر میں عزیر ہے ،چھوٹا ہے ،نزہت ہے اور سب سے اہم آپ کو کمپنی دینے والی اُن کی ماماگزالہ ہے۔ ۔۔بھائی صاحب کا فون نہیں آیا تھا لندن سے ۔۔۔؟آپ کا پھر فلک شکاف قہقہہ گونجا:بھائی صاحب تو دونوں ہاتھوں سے انگریزوں کو لوٹ رہے ہیں۔۔۔ہاں ہاں میں پہنچ جاؤں گا،آپ بے فکر ہو کر آئیے۔
تیسری کال: ہے لو ۔۔۔گزالہ ! میری باجی عذرا سے بات ہو گئی ہے ۔وہ تین بجے تک پہنچ جائیں گے۔گزالہ !تم اس طرح کرو ۔عزیر کو بھیج کر یا خود جا کر قیمہ اور مٹن لے آؤ ۔تھوڑا سا مرغی کا بون لیس اور ونگز بھی منگوا لو ۔مسالہ وغیرہ لگا کر فرائی کر لینا، میں آتی دفعہ بروسٹ لیتے آؤں گا۔چھوٹے سے آئس کریم بھی منگوا کر رکھ لو،ساتھ میں بیکری سے نگٹس ،گولا کباب،ریشمی بوٹی اور مٹھائی بھی منگوا لینا۔۔۔اور سنو سوپ اور گاجر کھیر مکس بھی بنانی ہے ۔نکڑ والے حلوائی کی دکان سے دودھ اور کھویا بھی منگوا لینا۔میں اُن سے کہہ دیتا ہوں۔
چوتھی کال :ہائے لو۔ جی چاچا علم دین ۔۔۔چاچا جی میں عزیر کا والد بول رہا ہوں۔ابھی چھوٹا آئے گا،اُسے چار گڑوی ایک نمبر دودھ دے دیجئے گا۔ہاں ہاں ۔۔ایک نمبر دیجئے گا۔پچھلی دفعہ آپ نے تین ،ایک والا دودھ دے دیا تھا۔۔۔پیسوں کی فکر کون بے ایمان کرتا ہے ۔ساتھ میں آدھا کلو کھویا بھی دیجئے گا۔۔۔۔وہ دراصل انگلینڈ سے مہمان آ رہے ہیں کچھ ۔۔۔بس جی اللہ کا خاص کرم ہے جی ۔۔۔ہاں ہاں عزیر کو دیکھنے کے لئے۔
پانچویں کال :ہائے لو۔۔۔یار شیدے میں عزیر کا والد بات کر رہا ہوں۔پہلے تم ایک شکایت سن لو۔ ۔یار خدا کا خوف کھاؤ ۔پچھلی بار تمہارا گوشت بالکل نہیں گلا ۔تمہاری بھابھی بہت غصے ہوئیں۔ہڈیاں بھی بہت زیادہ تھیں۔یار شیدے کچھ تو بچپن کے دوستوں کاخیال کیا کرو۔آج میں گھر پر نہیں ہوں ۔عزیر یا تمہاری بھابھی آئے گی ۔ذرا خیال کرنا ۔ویسے تو کسی قسائی کو یہ کہنا ہی نہیں چاہئے کہ دید لحاظ کرے ،لیکن پھر بھی میں کہہ رہا ہوں۔ذرا ہاتھ ہولا رکھنا، عزیر کو دیکھنے آ رہے ہیں ناں انگلینڈ سے۔۔۔
چھٹی کال :ہے لو۔۔۔فیاض! میں عزیر کا والد بول رہا ہوں ۔ابھی تھوڑی دیر میں تمہاری بھابھی آئے گی۔عزیر کو دیکھنے اُس کے سسرال والے آ رہے ہیں لندن سے ۔۔۔تم ذرا اپنی بھابھی کو فریش چیزیں دینا ۔نگٹس ،گولا کباب ،ریشمی بوٹی اور ویگز تازہ ہیں ناں۔۔۔تو اور کون سی چیز تازہ ہے؟چلو چپلی کباب ،کوفتے اور سیخ کباب بھی دے دینا۔۔۔۔بس تازہ ہوں۔انگلینڈ سے آ رہے ہیں ناں۔۔۔ہاں ہاں خیر مبارک۔۔!
ساتویں کال :(موبائل کی بیل دیر تک بجتی رہی )ہائے لو۔۔۔عزیر ! جاگ گئے ہو کہ ابھی تک سو رہے ہو۔۔۔؟جلدی سے اٹھ جاؤ اور سنو تمہارے سسرال والے آ رہے ہیں ،تمہیں دیکھنے ۔ذرا اپنی ماما سے پوچھو کیا کیا لانا ہے بازار سے ۔۔۔؟میرا خیال ہے دس بارہ دن ہو گئے ہیں تمہیں شیو کئے ہوئے ۔پتہ نہیں عجیب سا فیشن آ گیا ہے آج کے نوجوانوں میں ، لگتا ہے جیسے ابھی جیل سے چھوٹ کر آ رہے ہوں۔ تمہاری مہربانی شیو بنوا لو اور یہ لا نگ نیکر اتار کر کوئی ڈھنگ کے کپڑے پہن لو۔میری مانو تو تم پارلر سے بھی ہو آؤ۔چہرے پر سے میل اتروا آنا ،آنکھوں کی گدیں بھی صاف کر لو۔۔۔۔ہونہہ کا بچہ کیا!مجھے بھی پتہ ہے ،اُنہوں نے تمہیں دیکھا ہوا ہے ۔۔۔اُلو کا پٹھا۔(یہ آخری بات اُنہوں نے بالکل ٹھیک کہی تھی۔)
آٹھویں کال:ہائے لو۔۔۔گزالہ میری بات ہو گئی ہے ۔فیاض اور چاچا علم دین سے۔۔۔میں نے شیدے قسائی کو بھی فون کر دیا ہے اور عزیر سے بھی بات ہو گئی ہے۔اسے کہو اپنے برمودے سے باہر آ جائے۔انسانوں جیسی شکل بنا لے ۔آخر انہوں نے اپنی بیٹی دینی ہے اُسے ۔۔۔کل کلاں اس اُلو کے پٹھے کوبھی انگلینڈ جانا ہے ۔انگریز کا پتر تو وہ نہیں ہے مگر انگریزوں جیسی شکل توبنا لے ۔۔۔اچھا میں نے پوچھنا تھا۔ چھوٹے کو بھیج دیا ہے دودھ کے لئے ۔۔؟ نہ تو کب بھیجوگی؟بہت سست اور کاہل ہو گئی ہو۔کیا کہا۔۔۔؟ چھوٹا کرکٹ کھیلنے گیا ہوا ہے۔ یار اُسے فون کرو ۔۔۔اچھا ٹھہرو میں کرتا ہوں۔
نویں کال:ہائے لو۔۔۔چھوٹے تمہیں چھٹی کے دن سوائے کرکٹ کے اور کوئی کام نہیں ہوتا۔۔۔باری کا بچہ،چھوڑو باری کو ۔۔۔فوراً گھر پہنچو ،تمہارے بڑے بھائی عزیر کے سسرال والے آ رہے ہیں انگلینڈ سے۔کچھ سامان وغیرہ لانا ہے مہمانوں کے لئے۔۔۔جلدی ۔۔کوئیک۔۔۔
دسویں کال :گزالہ میرا خیال ہے ۔چھوٹا تو مشکل سے ہی آئے گا۔کہہ رہا ہے ،بڑی مشکل سے اُس کی بیٹنگ کی باری آئی ہے۔اُلو کا کن کہہ رہا ہے ،آج اُس کی سینچری ضرور بنے گی۔۔۔یار تم اس طرح کرو حلوائی کی دکان سے بھی خود ہی ہو آنا۔ساتھ کام والی موسی کو لیتی جاؤ۔اتنی زیادہ چیزیں اکیلی کیسے اُٹھاؤ گی۔۔۔۔کیا کہا ،موسی آج چھٹی پر ہے ۔چلو گھبراؤ نہیں ۔ہمسائیوں کی منی کو ساتھ لے جاؤ،وہ بھی تو تمہیں ساتھ بازار لے جاتے ہیں ناں۔۔۔کب کیا ۔۔۔!تمہیں یاد نہیں جب اُن کا بچہ سیڑھیوں سے گر پڑا تھا!۔۔۔یار وہ ایمرجینسی تھی تو آج ہمیں بھی ایمر جینسی ہے۔۔۔ٹھیک ہے ،ٹھیک ہے۔مجھے اچھی طرح پتہ ہے تم میری ببر شیرنی ہو۔اکیلی ہی کافی ہو۔۔۔او کے
گیارہویں کال: ہائے لو۔۔۔ہائے لو،عزیر۔۔۔میری آواز سن رہے ہو؟ اچھا موٹر سائیکل پر ہو ۔۔۔پارلر جا رہے ہو! ویری گڈ ۔۔ذرا جلدی سے آنا۔۔۔
اس سے قبل کہ موصوف اگلی کال ملاتے اُن کے ساتھ بیٹھے ہوا مسافر کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ۔وہ دھیرے سے بولا : غزالہ واقعی شیر نی ہے !
:کیا مطلب ۔۔۔انہوں نے انکھیں نکالیں :تم گزالہ کو کیسے جانتے ہو ؟
:جی میں آپ کی وجہ سے ہی کہہ رہا ہوں ۔ وہ ببر شیرنی ہے جو اتنے کام کر رہی ہے اورآپ کی باتیں بھی سن رہی ہے ۔
:کیا مطلب ہے تمہارا۔۔۔کیا میں بکواس کر رہا ہوں ؟غپیں مار رہا ہوں،پاگل ہوں میں ۔۔۔؟
ساتھی ہم سفر نے مسکرا کر اُس کی جھلاہٹ کا مزا لیا:دراصل میری بیوی کا نام بھی غزالہ ہے مگر وہ بہت کاہل الوجود ہے ۔آپ کی گزالہ کی طرح چالاک اور ہوشیار نہیں ہے۔وہ تو کبھی اکیلے میں بازار نہیں گئی۔بہت ڈرپوک ہے ۔میکے جاتے ہوئے بھی مجھے ساتھ لے جاتی ہے ۔کسی دکان دار سے تو وہ بات بھی نہیں کر سکتی۔
:تم کہنا کیا چاہتے ہو ۔۔۔کیا گزالہ بلا مقصد بازار روں میں گھومتی پھرتی ہے اور دکان داروں سے باتیں کرتی ہے؟
:میں نے یہ تو نہیں کہا ۔۔۔۔وہ متبسم ہوا۔
عزیر کا باپ بھڑکتے لہجے میں بولا: میں خوب سمجھتا ہوں جو تم نے کہا ہے ۔آجاتے ہیں AC بسوں میں سفر کرنے ۔بات کرنے کی تمیز نہیں ہے ۔
ساتھی ہم سفر مضبوط ہاتھ پاؤں کا آدمی تھا ۔وہ ذرا برابر بھی اُس کے تلخ لہجے سے متاثر نہیں ہوا ۔ہنس کر بولا:AC بس میں تو سفر پیسوں سے کیا جاتا ہے ،تمیز سے نہیں ۔اتنے میں اُن کے پاس والی سواری نے بس ہوسٹس کو بلانے کے لئے کال بیل بجائی۔ہوسٹس آئی تو وہ تمسخر سے بولا :گزالہ ان دونوں کو پانی پلاؤ۔بس کی اکثر سواریاں ہنس دیں۔بس ہوسٹس بھی مسکرا دی اور جی سر کہہ کر پانی لینے چلی گئی۔اب بس کے پسینجروں میں ایک شگوفہ پھوٹ پڑا تھا ۔وہ بات بے بات ہوسٹس کو غزالہ کہہ کر مخاطب کرتے اور عزیر کے والد صاحب دانت پیس کر رہ جاتے ۔ایک وقت وہ بھی آیا جب اُن کو طیش آ گیا۔وہ چنگھاڑے :کیا بکواس ہے ،آپ لوگوں کو ذرا بھی تمیز نہیں ہے ۔
:جی کیا کہا گزالہ۔۔۔؟؟کسی نے بس کے اگلے حصے سے ہانک لگائی ۔پوری بس میں ایک زبردست قہقہہ گونجا۔عزیر کے والد صاحب اتنے زچ ہوئے کہ احتجاجاً بولے :مجھے یہیں اتار دو ۔میں ان جیسے آدمیوں کے ساتھ سفر کرنا اپنی توہین سمجھتا ہوں۔
بس ڈرائیور نے اُن کو بتلایا کہ یہ ہماری پالیسی کے خلاف ہے ۔ہم کسی سواری کو بھی راستے میں نہیں اتار سکتے ۔خاص طور پر موٹر وے پر تو پسنجر اتارنا بالکل منع ہے ۔ایک ہمدرد سواری نے پیچھے سے ہانک لگائی :سر آپ ادھر آ جائیں۔عزیر کے والد نے موقع غنیمت جانا اور چپکے سے اُٹھ کرسب سے پچھلی سیٹ پر چلے گئے ۔اس دوران میں ان کے موبائل کی مردوں کو جگانے والی بیل ہوئی ۔
اب آپ نے جلدی سے فون اٹینڈ کیا ۔آواز تو اُن کی آہستہ تھی لیکن پھر بھی اندازہ ہوا کہ انگلینڈ والے مہمانوں نے آنے کا پروگرام ملتوی کر دیا ہے ۔اس بار موصوف نے دوباہ گزالہ کو فون کیا اور سر گوشیوں میں اس سانحے کی اطلاع دی ۔اطلاع دیتے ہوئے اُن کی شکل رونے والی ہو گئی تھی۔شائد وہ چاچاحلوائی ،فیاض بیکری والے اور شیدے قسائی کے علاوہ عزیر اور چھوٹے کو فون کر کے اس انہونی کی اطلاع دینا چاہتے تھے لیکن فقط بس کی بد تمیزسواریوں کو منہ ہی منہ میں کوس کر رہ گئے ۔

loading...

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *