دل پھر طواف کُوئے مٙلامت کو جائے ہے۔۔۔۔۔۔!

ghulam mustafa mirani

دُھندلائے ہوئے سیاسی مٙطلع پر دکھائ دینے والا گٙردباد چٙھٹ چکا ہے یا وقتی سکوت کسی بڑے طوفان اور اہم تبدیلی کا پیش خیمہ ہے ؟ مُتجسِس مخلوق کی نگاہیں، معزز عدالت پر مرکُوز اور دو سیاسی جماعتوں کا مستقبل، اسکے فیصلہ پر منحصر ہے۔ بظاہر بحران ٹل چکا ہے اور اس التوا یا اِنفساخ کو ہر شخص اپنے اپنے نقطہء نگاہ سے دیکھ رہا ہے۔ عام خیال یہ ہے کہ حکومت جٙھٹکوں، اندیشوں اور مشکلات سے محفوظ ہو گئ۔ دستیاب وقت میں خود کو سنبھالنے اور در پیش خطرات سے نمٹنے کیلئے مہلتِ عمل غنیمت سے کم نہیں۔ تحریکِ انصاف کے سربراہ کا اظہارِ خود اعتمادی اور جوشیلے کارکنان کیلئے ترغیبِ اطمینان، در اصل ایک ایسے سیاسی جرنیل کا حکمت سے لبریز طرز عمل ہے جو محاذِ مبارزت پر، ہر حال میں اپنی سپاہ کو حوصلوں اور ولولوں سے سرشار دیکھنا چاھتا ہے۔ لگتا ہے کہ مقدر نے ہر دو متحارب گروہوں کی یاوری کی، ایک محاذ کیلئے سُبکی اور دوسری جانب سر لٹکتی تلوار کا طوفانی بادل ٹل گیا ورنہ حقیقتِ حال، آنکھ مچولی یا چھپ چھپا کھیل کا مظہر نہیں، کسی بہت بڑے حادثے کی چغلی کھا رہی تھی۔ قومی تاریخ سے ایسا منظر، مدتوں تک ماتم و شاتم تاثر منعکس کرتا رہے گا جس میں ایک صوبہ کا وزیراعلی' علی الاعلان، مرکزی حکومت کے خلاف بغاوت کا اعلان کر رہا ہو یا ایسا کرنے پر مجبور کر دیا گیا ہو اور سامنے وفاق سے وابستہ چاق چوبند مسلح دستے اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کیلئے کمر بستہ کھڑے ہوں۔ عدالتی کمیشن کو اس "تصویر" کے مصوروں اور رنگ بھرنے والے "نقاشوں" کے طفیل ترتیب پانے والی منظر کشی کے مجرموں کو بھی ماخوذ کرنا چاھیئے۔ محرکات اور اسباب کا تعین کر لینے کے بعد، تساھل اور تجاوز کے مُرتکبین کو عدالت کے کٹہرے میں لا کھڑا کرنا اقتضائے انصاف ہے، خواہ وہ اربابِ اقتدار ہوں یا اصحابِ احتجاج۔ کیونکہ ملک اب کفن چور مجاوروں کے موج میلے کا متحمل ہے نہ غل غپاڑوں اور کھیل تماشا لگانے والے بازی گروں کا۔ نت نئے اسیکینڈلز، آئے روز کی شرمناک لِیکس اور دھرنے دھما چوکڑیوں کے مناظر نے اقوامِ عالم میں، ہمارے قومی تشخص اور ملکی وقار کو بہت بری طرح مجروح کر ڈالا ہے۔ آمریتوں کے وجود پر تبرے بازی بجا، لیکن ان کے نزول کا ذمہ دار کون ہوتا ہے ؟ چھ روز قبل کی تہلکہ خیز صورتحال اور مناقشے سے معمور منظر میں کیا کمی رہ گئی تھی جو " میرے عزیز ہموطنو ! " اصحاب کے جلوہ گر ہونے میں مانع تھی؟ یاد رکھنا چاہیئے، عساکرِ پاکستان، پاسبانِ ملت اور محافظینِ ملک ہیں۔ معاملات پر ہمہ وقت چشم کشا اور فکر مند ۔ قومی سلامتی اور ملک کی حفاظت کیلئے لمحہ بھر غفلت کا شائبہ بھی ناممکن، ہر طرح کے حالات سے نبرد آزمائ کیلئے، مناسب منصوبوں اور متنوِع مُتبدِلات سے مسلح ۔ اس میں کیا شک ہے کہ ملک سے جب بھی جمہوریت کا جنازہ نکالا گیا، اس کا سبب سیاسی پنڈتوں کی حماقتیں اور ریشہ دوانیاں بنیں یا سیاسی قوتوں کے باھم دست بگریباں ہونے سے جنم لینے والا خطرناک انتشار اور خلفشار ہی فوجی مداخلت کا موجب بنتا رہا بلکہ امر واقع یہ بھی ہے کہ براہ راست یا بالواسطہ، ظاھری یا مخفی طور پر سیاستدانوں کی ایک معقول اور موثر تعداد، خود ہی فوج کو دعوتِ مداخلت دیتی رہی ہے لہذا حکمت کا حاصل اور مصلحت کا مُدعا یہ ہے کہ فوج کو طالع آزمائ کی طعن درازی سے پہلے، سیاستدانوں اور انکے مقلدین کو سنجیدگی اور سلیقہ مندی اختیار کرتے ہوئے اپنے معاملات سنوارنے چاہئیں اور ثناخوانِ جمہوریت بھی، جو صحافت کے چُغے میں ملبوس، صبح و مسا تدبر اور بصیرت کے موتی بکھیرتے رہتے ہیں، اپنے اپنے ممدوح سیاستدانوں کی پشت بھرنے اور پیٹھ ٹھونکنے کے بجائے، انہیں راہِ راست کی تلقین کریں۔ ہم سب کا مرجعء محبت اور مطمحء مفاد ملک ہونا چاہیئے نہ کہ من مطلب مشاہیر سیاست۔
جناب وزیر اعظم صاحب کا متفکر چہرہ, اُداس جھلک اور ریختہ رویئے، انکے معتقدین کو مضمحل کر رہے ہیں۔ پاناما لیکس کا پروپیگنڈہ پروان چڑھنے سے پہلے اور مخالفین کے مقابل آنے سے قبل، انہیں بٙر موقع مصلحت کا مظاہرہ کرنا چاہیئے تھا۔ اپنی صفائ کے مواقع مہیا کرنے میں لیت ولعل یا تردد، نہ صرف انہیں بہت مہنگا پڑا بلکہ ملک کیلئے بھی باعثِ نقصان ثابت ہوا۔ معیشت متاثر ہونے کے دیگر تمام پہلووں سے قطع نظر، صرف ان مٙصارف کی میزان ملاحظہ فرما لیں جو صرف دھرنا دھمال مظاہروں کو کنٹرول کرنے کیلئے ملک کو برداشت کرنے پڑے۔ عوام خوار ہوئے، ٹریفک جام اور ادارے مفلوج رہے۔ مریض سڑکوں پر تڑپتے رہے اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہو کر رہ گئ۔ یہ سب کچھ فطرت سے اغماض اختیار کرنے کا قدرتی نتیجہ تھا۔ راست گوئ سے انحراف، ضد اور ھٹ دھرمی اور خلافِ حقیقت رویے ہمیشہ زیاں رسیدگی کا سبب بنتے ہیں۔ شریف خاندان کی صالحمندانہ موروثی شہرت تو تب داغدار ہو گئ تھی جب قوم کے سامنے معروفِ زمانہ دس سالہ جلاوطنی کے معاہدے کی تکذیب کا ارتکاب کیا گیا اور بتکرار کیا گیا تا وقتیکہ کہ شہزادہ مقرن نے دارالحکومت کی دھلیز پر کھڑے ہو کر تحریری دستاویز کی برسر عام تشہیر کر دی۔ پیپلز پارٹی کی پرت در پرت کرپشن سے اُچاٹ عوام نے، ایک بار پھر شریف خاندان کو تخت نشینی کا شرف بخشا مگر پے در پے لغزشوں، اقربانوازیوں اور پاناما لیکس طرز کے سیکینڈلوں کے عواقب کے بوجھ سے بچ نکلنا، اب محال لگ رہا ہے۔ مستقبل کا مٙطلع واضح طور پر "ابر آلود" دکھائ دیتا ہے۔ قدرت نے مگر استغفار اور توبہ کے دروازے کھلے رکھے ہیں۔ پُل صراط سے گزرنے کیلئے غیرمعمولی حکمت، وسیع النظر مصالح اور شبانہ روز ریاضت کے تقاضوں کی تکمیل، شاید مکافاتِ عمل سے محفوظ رکھ سکے۔ اس چِلہ کشی میں "غیبی امداد" سے بھی صٙرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا جو مخالفین کی مردود مہم جوئیوں، عاقبت نااندیش حریفوں کی حیا باختہ حرکتوں اور عٙقلوں عاری عمائدینِ سیاست کی ناہنجار سرگرمیوں کی بدولت وقوع پزیر ہو سکتی ہے۔ جس کا منطقی مفاد بہرحال مقتدر جماعت کا مُقدر بنے گا تاہم مشکلات کے منجدھار سے نکلنے اور مخالفین کو مات دینے کیلئے، حکومت کو ہم خیال جماعتوں اور دُور رٙس اقدامات کی حامل بیساکھیوں کا سہارا لینا پڑے گا خواہ معاملات کا مُنتہا، اقتدار کے بقیہ عرصہ بِتانے کے جواز پر مُنتج ہو یا کسی طرح وقت سے پہلے انتخابات کا ناقُوس بجا دیا جائے۔ یوں بھی مستقبل کے انتخاب کا ماحول ماضی سے مختلف ہو گا۔ تحریکِ انصاف ایک نمایاں قُوت کے طور پر انتخابی دنگل میں اترے گی۔ مقابلہ کیلئے نون لیگ کو نہ صرف حکمت سے لبریز انتھک محنت کرنی پڑے گی بلکہ وسیع المشربی سے کام لیتے ہوئے، بہت سی دیگر جماعتوں سے مفاھمت کے پاپڑ بھی بیلنے پڑیں گے۔ میسر وقت سے کماحقہہ استفادہ کرنا چاہیئے۔
وزہر داخلہ چودھری نثارعلی خان، شفاف اور سلیم الطبع شخصیت ہونے کی شُہرت رکھتے ہیں۔ پتہ نہیں، اُنہیں کیا سُوجھی، پولیس اور ایف سی میں اعلی' اور کامیاب کارکردگی دکھانے پر انعامات بانٹتے پھر رہے ہیں اور تحسین آفریں تمغوں کی تقسیم کے ساتھ ساتھ تنخواہوں میں اضافوں کے اعلانات یوں فرما رہے ہیں جیسے متعلقہ فورس نے کسی دشمن ملک پر فتح حاصل کر لی ہو۔ دوسری طرف وزیراعلی' کے پی کے، وزیراعظم پاکستان سمیت، وزیر داخلہ اور اسی انعام یافتہ وفاقی فورس کے خلاف دھشت گردی کے مقدمات درج کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ کیا مضحکہ خیز تماشا ہے ! تنخواہوں میں اضافہ مستحسن صحیح، یہ کام مگر کسی اور موقع پر کرنا چاہیئے تھا۔ کسی کے زخموں پر نمک پاشی مناسب عمل نہیں۔ اسی طرح وزیر اعلی' کے پی کے بھی حوصلے اور ہوشمندی سے کام لیں۔ دونوں اطراف، ڈنڈ پیل اور باڈی بلڈنگ کے سے مناظر، ملک اور قوم کیلئے شرمندگی کا سبب بن رہے ہیں۔
عمران خان کے مجموعی کردار، ذاتی تشخص، محب الوطنی، معاملات کے بارے میں اخلاص اور دیانتداری پر انگشت نمائ غلو اور مبالغہ امیزی ہو گی۔ ایک سیدھا سادہ اور کھرا سچا انسان ہے جو خدمت اور رفعت کے جذبوں سے سرشار ہے۔ ظاہری طور پر تُرش وتلخ گفتگووں، "دھماکہ خیز" اور سپیکر پھاڑ خطابات کے باوجود، فطرتا" نہایت رحم دل اور انسان دوست شخص لگتا ہے۔ طویل جدوجہد کے بعد، شوکت خانم ہسپتال کا وجود اور پس منظر میں محسوس ہونے والے محرکات اس تاثر کی تائید کرتے ہیں اور دکھائ دینے والے شٙواہد، شہادت کیلئے کافی ہیں۔ سوال مگر پیدا ہوتا ہے کہ قومی سیاست کے صحیح سانچے میں ڈھلنے اور متقاضی معیار پر پورا اترنے کیلئے، محض شخصی اوصاف ہی کافی ہیں یا ملک کے داخلی خارجی حالات، در پیش مشکلات اور پیچیدہ اُلجھنوں کی گِرہ کُشائ پر دسترس رکھنے کے ساتھ ساتھ، اپنے ہمراہ، رفقائے کار کا ایک ایسا کاروان بھی متحرک اور مصروفِ عمل ہے جو خان صاحب کے ارادوں اور دعووں کی عملی تصویر نظر آ رہا ہو ؟ ناقدین کا خیال ہے کہ مسٹر خان، مخلص احباب کے اثاثہ سے محروم ہیں ۔ سٹیج اور سراونڈنگ کے چند چہروں کے اِستثنی' سے قطع نظر، بیشتر کردار لوٹے اور لُٹیروں کے ہیں جنکے طرزِ تغلب کی تفصیل جناب جسٹس وجیہ الدین، اپنی ایک رپورٹ میں، پیش کر چکے ہیں۔ بحرِ سیاست کے یہ مٙشاق شٙناور، عمران خان کی مقبولیت سے بھر پور مُستٙفِیض ہونے کیلئے طرح طرح کے داوء پیچ استعمال کر رہے ہیں۔ قدرے گرانبار سہی مگر قول اور قلب کا تضاد دور کرنا ہو گا۔ خان صاحب سے عقیدت رکھنے والے اہل دانش کا یہ مشورہ بڑا صائب اور مخلصانہ ہے کہ پارٹی کو کاروبار کے ٹٙھگوں اور بٙہار کے بھنوروں سے پاک کیا جائے، کچھ ایسا ہی موقف جسٹس وجیہہ الدین کا تھا جسے درخورِ اِعتنا نہیں سمجھا گیا !!! کپتان کا کرپشن کے خلاف اٹھایا جانے والا کُہرام اور آہ و نالہ، در اصل، ہر درد مند شہری کی صدائے دل ہے، اب سے نہیں، جب سے معیشت مفلوج اور معاشرت مضرُوب ہونا شروع ہوئ، ادارے مجروح اور عوام مضمحل ہونے لگے، وسائل پر خود سٙر اور سٙرکٙش طبقوں کا تسلط طاری ہوتا نظر آیا، تو مسائل اور مصائب کے سِتائے ہوئے عوام، ہر اس ہٙنگام پر گوش بر آواز ہوئے جو اُنکی فلاکت اور بد حالی کے محرکات کا سُراغ لگا کر، ان کیلئے مسیحائی کا کردار ادا کر سکتی تھی۔ ایوب خان کا سبز انقلاب، بھٹو کا روٹی کپڑا مکان، ضیاالحق کی اِسلامائزیشن، نواز شریف کی قرض اُتارو ملک سٙنوارو مُہم، مشرف کا اعلانِ احتساب، سب کے سب سُہانے اعلانات تھے مگر سُراب ثابت ہوئے۔عمران خان کی سرپرستی میں، ایک بار پھر، چٙہار جانب انقلاب انقلاب کے نعروں کی گونج سنائ دے رہی ہے۔ اُن کے اردگرد پُرجوش جٙمگھٹوں میں بیشتر شہری نوجوان نظر آتے ہیں مگر بےچینی ملک کے دیہات پر زیادہ غالب ہے۔ دیہی آبادیاں، روزگار، زرعی مداخل، صحت ، تعلیم اور امنِ عامہ کے فُقدان کے باعث بدترین حالات سے دو چار ہیں۔ اپنی حیاتِ دشوار اورحالتِ زار کے مقابلہ میں، جب حکمرانوں کے اٙلٙلے تٙللوں پر نگاہ ڈالتے ہیں اور جمہوریت کی آڑ میں جونکوں کو پھیلتا پھولتا دیکھتے ہیں یا ٹھیکوں، اسکیموں اور پروجیکٹس کے نام پر قومی خزانے کی بندر بانٹ کا مُشاھدہ کرتے ہیں تو طوفانی ہیجان اور باغیانہ رحجان کی طرف مائل اور مُعمِل ہونا ایک فطری عمل ہے۔ آپ ملک کے کسی دور دراز اور پسماندہ مقام پر چلے جائیں، سرے محل، پاناما لیکس ، دبئ اور لندن اثاثوں کے بارے میں گفت و شنید اور قیل و قال کا ماحول اور منظر ملاحظہ فرمائیں گے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس قدر معاشی مُفلسی اور حکومت بیزاری کے باوجود، عوام کی اکثریت عمران خان کی پُکار پر آمنا و صٙدقنا کہنے اور آگے بڑھنے میں پٙس و پیش کیوں کر رہی ہے جبکہ عمران خان کی شخصی سحرانگیزی اور ذاتی کشش کا جادو بھی سٙر چڑھ کر بول رہا ہے ؟ ھم نے دیکھا کہ ماہِ رفتہ کے اختتام پر راولپنڈی میں پولیس گردی اور حکومت کے خلاف، خان صاحب نے ملک بھر میں ہڑتال کی اپیل کر ڈالی جس کے جواب میں شہر اور مارکیٹیں تو کیا، ایک کھوکھا تک کسی نے بند نہیں کیا! یہی انجام ہر بار کپتان کے دس لاکھ افراد کو اکٹھا کرنے کا ہوا !! 2 نومبر کی کال کا عملی رُوپ نہ دٙھار سکنا بھی صٙریحا" ناکامی کی دٙلالت کرتا ہے۔ ہر شہر سے صف اول کی نصف قیادت حِیلے بہانوں سے بنی گالہ میں براجمان نظر آئ اور بقیہ نصف تعداد کو پولیس نے دٙھر لیا۔ رہے پیچھے کارکنان تو ٹائیں ٹائیں فش !!! آخر جذب و جنون کا ہر طوفان جھاگ کی طرح کیوں بیٹھ جاتا ہے اور ہر مہم، وسیع پیمانے پر پذیرائ سے کیوں محروم ہو رہی ہے ؟ لاکھ دو لاکھ افراد کا کہیں مٙجمع لگا لینا کوئ اٙنہونا کارنامہ نہیں اور نہ اتنا سا اِکٹھ ملک کے چار صوبوں اور وہاں کے بیس کروڑ عوام کی نمائندگی کا دعوی' کرنے میں حق بجانب قرار دیا جا سکتا ہے۔ تحریک انصاف کیلیئے یہ صورتحال جشن آرائ کی مستحق نہیں بلکہ لمحہ فکریہ ہے۔ معمولی سے اِنہماک اور تھوڑے سے دھیان گیان سے حقائق خود بولتے دکھائ دیتے ہیں۔۔۔
ا- عوامی حلقوں میں پہلا سُلگتا سوال یہ اٹھایا جاتا ہے کہ کرپشن کے خلاف مہم صرف شریف خاندان تک محدود کیوں ؟ جبکہ ملک کو لوٹنے اور اداروں کو تہس نہس کرنے والی دیگر جماعتیں ، خاندان اور بےشمار شخصیات، نہ صرف موجود ہیں بلکہ سیاسی طور بھی سرگرمِ عمل ہیں، مُستزاد یہ کہ اقتدار کے ایوانوں میں موجودگی کے دوران، ان کے خلاف، شریف خاندان سے کہیں زیادہ کرپشن کے غبار اٹھے تھے۔ رد عمل میں، عمومی تاثر یہ ہے کہ عمران خان، منزل یابی میں صرف نون لیگ سے خائف ہیں اور متفکر ہیں کہ حکومت نے سکون سے ٹرم نکال لی تو بہت سے عوامی مقبولیت کے حامل اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی اور ایسی صورت میں آئیندہ انتخابات کی تسخیر کا خواب ادھورا رہ جائے گا۔
ب- جیسا کہ بالائ سطور میں توجہ دلائ ہے۔ عمران خان کے ارد گرد لوٹوں اور لٹیروں کا جُھرمٹ، تحریک انصاف کے نصب العین اور مُتعینہ مشن کی کامیابی کے امکان کو دُھندلا رہا ہے۔ داغدار ماضی، تابناک مستقبل کو کبھی جنم نہیں دے سکتا۔ سیاست کے بحرِ بےکراں میں جدوجہد کا سفینہ، ایسے کرداروں کے بوجھ سے ہمیشہ مخدوش رہے گا۔ جس قدر جلد ممکن ہو سکے، ایسے لوگوں سے اگر نجات نہیں تو کم از کم انہیں پچھلی صفوں کیطرف دھکیل دینا چاہیئے۔
ج- امپائر کی انگلی اور پسِ پردہ منصوبوں کے شوشوں اور مفروضوں کے تذکروں نے پارٹی کو بہت نقصان پہنچایا۔ عوام کا معیارِ پسندیدگی اور حُسنِ انتخاب، ہمیشہ " توہیں کی زندگی ہے سٙہاروں کی زندگی " جیسی خوددار اور باغیرت قیادت رہا۔ اس کے برعکس اور مُتضاد رویئے نفرت کا نشانہ بنے۔
د- شاید اصحابِ تحریکِ انصاف کو یہ بات ناگوار گزرے کہ " قدر کھو دیتا ہے، ہر روز کا آنا جانا" بار بار کے دٙھرنوں، آئے روز دھماکہ خیز خطابات اور وقتا" فوقتا" شہری زندگی کو مفلوج کر دینے والے اقدامات یا سرگرمیاں، عوام میں مثبت تاثر کے بجائے، منفی رحجانات کی تقویت کا سبب بن رہی ہیں۔ عدالتیں آزاد اور میڈیا طاقتور ہے۔ متنازعہ معاملات اور باھم اختلافات نمٹانے اور کسی بھی مسلہ کو حل کرنے کیلئے عدالتوں کیطرف رجوع کرنا چاہیئے۔ عوام امن، سکون اور استحکام کے آرزومند ہیں۔
ر- خان صاحب سُنی سُنائ باتوں اور بےسروپا معلومات کو موضوعِ خطاب بنانے اور اپنے لٙب و لہجہ کو تُند و تلخ رکھنے میں قدرے احتیاط برت لیا کریں تو شاید یہ وٙتیرہ انکی پارٹی اور خود ان کیلئے مستحسن قرار پائے گا۔
س- درج بالا تمام تحفظات پر، گفت وشنید اور بحث و تمحیص کے دوران، ایک اہم نکتہ یہ بھی اٹھایا جاتا ہے کہ ایک منتخب حکومت کیلئے احتساب گاہ پالیمنٹ، عدلیہ، احتساب ادارے اور پاکستان الیکشن کمیشن ہے یا بنی گالہ اور زمان پارک ؟
مذکورہ بالا چند گزارشات کے علاوہ بھی، انتخابی رحجان کے کچھ دیگر اہم پہلو توجہ طلب ہیں۔ شہری سطح پر تحریکِ انصاف کی تگ و دو اور بھاگ دوڑ اطمینان بخش سہی لیکن ظٙواہِر کے پسِ پردہ بعض اوقات تغیرات وقوع پذیر ہو رہے ہوتے ہیں۔ پارٹی کو غور کرنا چاہیئے کہ کپتان کے جلسوں میں بتدریج کمی، کہیں رائے عامہ میں تبدیلی کی آئینہ دار نہ ہو۔ ایک حقیقت اور بھی ذھن نشین کر لینا چاہیئے کہ عمران خان کی خود اعتمادی اور امیدوں سے لبریز امکانات کی اساس، ان کے پس وپیش شہروں میں مقیم نوجوانوں کے انبوہ، گاڑیوں کی طویل قطاریں اور بھنگڑوں سے بھرپور جلسے جلوسوں کا وجود ہے، غوغا آرائ کی یہ صورت حال مگر دیہات کی ستر فیصد آبادی کے مزاج، مرضی اور استصواب رائے کا پٙرتٙو نہیں ہو سکتی۔ مطلوبہ منزل تک پہنچنے اور کامیابیوں کے جھنڈے گاڑنے کیلئے وقت کی قدر، اسکے صحیح استعمال اور گہری دانشمندی کے ساتھ پیش قدمی کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں۔ تنظیمی اصلاحات کریں، ھلا گلا گروہوں میں مست و مگن رہنے کے بجائے، ووٹروں اور انکی مقامی قیادتوں سے رابطے اور دیہی آبادیوں میں اثرونفوذ بڑھانے کی سوچیں، نہ کہ دھرنے، دھکم پیل اور دنگے فساد میں اپنی صلاحیتں اور اسباب برباد کرتے رہیں۔
نون لیگ اور تحریک انصاف کی لڑائ میں پیپلزپارٹی بڑی اسودگی اور راحت محسوس کر رہی ہے۔ اس خوش فہمی میں مسرُور اور مبتلا کہ دونوں جماعتوں کے درمیان ماردھاڑ اور کھینچاتانی کا منطقی مفاد اُسے پہنچ رہا ہے۔ یہ خود فریبی اور نظر کا دھوکا ہے۔ مقبولیت سے پسپائ کی گہری ڈھلوان کیطرف لڑھکنیاں لیتی پیپلز پارٹی جیسی ایک قومی جماعت پر طاری زوال کا یہ حال باعث تاسف ہے۔ پارٹی کے چھوٹے بڑے لیڈروں کی اکثریت، جناب بلاول بھٹو زرداری کے افکار اور فلسفے کی تعریف و ترویج میں مصروف، ایک دوسرے سے سبقت لینے میں کوشاں ہے۔ اپنے نوخیز قائد کے پس وپیش باادب، باملاحظہ انداز میں اِستادہ اور پھر مجلسوں اور ٹاک شوز میں بلاول کے فرمودات کا بار بار ذکر، بھونڈی خوشامد اور سکورز سازی کی انتہا ہے جو فائدے کے بجائے تضحیک اور ٹھٹھے بازی کا سبب بن رہی ہے۔ قوموں کی قسمت اور ملک کا مُقدر بدلنے کے تقاضے کارِ طِفلاں نہیں اور نہ بچوں کے منہہ سے اُگلوائ طوطا طرز کی تقریریں، گنجلک مسائل میں محیط ملک وملت کی توقعات کا ازالہ کر سکتی ہیں۔ پیپلز پارٹی والے ملک سے پہلے ہی بہت " مذاق" کر چکے۔ اب رحم فرمائیں، خدارا تماشا آرائ اور جگ ہنسائ کے یہ ڈرامے بند کریں۔ واللہ! ان گزارشات کا مقصد ہرگز ہرگز جناب بلاول سائیں کی اِہانت یا کوتاہ قٙدری نہیں، فکر ایک قومی جماعت کی گرتی ہوئ ساکھ اور مستقبل کا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری، خد انہیں صحت و تندرستی کے ساتھ، عمرِ طویل عطا فرمائے، مستقبل میں، مناسب وقت پر، سیاست، سیادت اور قیادت ، غرضیکہ ہر حوالہ سے اپنا من پسند موثر کردار ادا کر تے رہیں گے۔ ابھی ان کے پڑھنے، سیکھنے اور مشاھدہ کرنے کے دن ہیں۔ اگر پارٹی کو، ملک گیر مقام پر دیکھنا مطلوب ہے اور اسکی بقا کو جِلا بخشنا دٙرکار ہے تو پھر تمام خدشات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جناب آصف علی زرداری کو فورا" وطنِ مالوف کیطرف مراجعت کا سوچنا چاہیئے۔ یوں بھی بُرا لگتا ہے کہ ایک شخص صدر پاکستان کے اعلی' ترین منصب پر سرفراز رہا ہو، سیاسی طور پر اتنی بڑی جماعت، آج بھی اُنکی پشتبان ہو، قوم کی اتنی بڑی لیڈر کا سٙرتاج اور بلوچ قبیلہ کا خانوادہ ہو۔۔۔۔۔اور مارے ڈر گرفتاری کے مبتلائے خوف ہو! حٙیف !! صٙد حٙیف !!! جناب، جوئیندہ یابندہ؛ آپ لوٹیں گے تو کچھ حاصل ہوگا ورنہ یاد رکھنا چاہیئے، مستقبل کے انتخابات میں بٙچا کُھچا بٙھرم بھی باقی نہیں رہے گا۔ پیپلزپارٹی کی بقا اور پیش رفت کیلئے ضروری ہے کہ زرداری صاحب واپس آئیں۔ رضا ربانی، اعتزاز احسن، یوسف رضا گیلانی، خورشید شاہ، کائرہ، احمد محمود، منظور وٹو اور اس طرح کے دیگر نمایاں اور موثر لیڈروں پر مشتمل ایک قافلہ میدانِ عمل میں اترے۔ شہر شہر خطاب کرے اور اِشُوز پر بولے۔ اس طرح کی مہم جوئ اور بھاگ دوڑ، یقینا" بارآور ثابت ہوگی۔ قومی سیاست میں قومی جماعتوں کا وجود اور اُنکے مابین تقابل سے، ملک اور جمہوریت پر بھی بڑے مثبت اور دور رس اثرات مرتب ہونگے۔
سیاست اور انتخابات کے میدان میں ایک اہم محاذ دینی قُوتوں کا بھی ہوا کرتا تھا۔ انتخابی مقابلوں میں ہار بھی جاتے، تب بھی ان میں ہر شخصیت سوا لاکھ کی تھی۔ مقام ومرتبہ اور شان و شوکت کا کیا عالٙم تھا کہ لاکھوں کے مٙجمعے پٙس وپیش ہوا کرتے تھے، اللہ اللہ کیا لوگ تھے، سید ابولاعلی' مودودی، مولانا مفتی محمود، عبیداللہ درخواستی، سید شاہ احمد نورانی، مولانا محمد یوسف بنوری اور کس کس کا نام لیا جائے، جِھلملاتے ستاروں کی ایک کٙہکٙشاں تھی جن کے وجود سے ملک کا مِلی، دینی اور قومی تشخص جگمگا رہا تھا۔۔۔۔مگر آج جانشینوں اور وارثین کے طرزِ عمل، طور طریقوں اور لٙچھن دیکھیں، مستقبل کی ایک دھندلی سی تصویر کا تصور کریں تو کچھ سجھائ نہیں دیتا سوائے ظہور احمد فاتح کے کچھ اٙشکبار اشعار کے۔۔۔!

صٙد حٙیف! کہ ظُلمت سے ضیا مانگ رہا ہے
خورشیدِ ھدایت کو لگا ایسا گٙہٙن دیکھ
مٙترُوک ہوئ قادرِ مُطلق کی عبادت۔۔۔۔۔۔!
مٙعبُود ہوئے رنگ و زباں، نٙسل و وطن دیکھ
جو قوم ہوا کرتی تھی، اک جسم کی صورت
بِکھرے ہوئے اُس قوم کے اٙعضائے بٙدٙن دیکھ۔

loading...

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *