بھارتی لوگوں کے لیے ریپ ویڈیوز کیوں اہم ہیں؟

فاطمہ ندیم

fatima-nadeem

بھارت کے علاقے اتر پردیش میں عصمت دری کی حقیقی ویڈیو فروخت کی جاتی ہیں جن کی قیمت 20 روپے سے 300 روپے تک ہوتی ہے۔ یہ مذاق نہیں ہے۔ اس بارے میں کچھ دیر سوچیں۔ اس لڑکی کے بارے میں جس کی عزت لوٹی جا رہی ہو وہ بھی بار بار اور ایک شخص نہیں بلکہ چار چار لوگ اس کی عزت سے کھیل رہے ہوں۔ ہر ایک شخص اپنی اس حرکت کے دوران فون پر ویڈیو بھی بنا رہا ہو کہ کیسے اس نے ایک لڑکی کو جسمانی اور ذہنی تکلیف سے دوچار کیا۔

 یہ لوگ اس لڑکی کے کپڑے پھاڑ کر اس کے جسم کو نوچ رہے ہوتے ہیں۔ وہ اسے اتنی بے دردی سے نوچتے ہیں کہ اس کے جسم سے خون رسنے لگتا ہے ۔ وہ اس کے بال جکڑ لیتے ہیں اور اپنے گندے ہاتھ لڑکی کے منہ پر رکھ لیتے ہیں تا کہ وہ آواز نہ نکال پائے۔ وہ اس کی عزت سے تب تک کھیلتے رہتے ہیں جب تک وہ سانس لیتی رہتی ہے۔ اسے ننگا اور دردناک حالت میں چھوڑ کر جانے سے پہلے وہ اس لڑکی کو ویڈیو دکھاتے ہیں   اور وہ بے حس و حرکت کمزور اور آنسو بہاتی لڑکی وہاں پڑی رہتی ہے۔ وہ اسے دھمکی دیتے ہیں کہ اگر اس نے ان کے خلاف شکایت کی تو یہ ویڈیو لوگوں کو دے دی جائے گی۔ وہ اسے خاندان کی عزت کی نیلامی اور مار دینے کی دھمکیاں بھی دیتے ہیں۔ پھر وہ چلے جاتے ہیں اور اپنے گناہ کا ثبوت سب سے زیادہ بولی لگانے والوں کے ہاتھ بیچ دیتے ہیں۔ جو لوگ پورن ویڈیو خریدتے اور دیکھتے ہیں ان سے مجھے حیرانی نہیں ہوتی۔ اتنی آسانی سے جب عریانیت مہیا ہو تو لوگ کیوں نہ اپنے امیجی نیشن کو بڑھانے کے لیے اس سے بھر پور فائدہ اٹھائیں۔ کچھ لوگ ڈی وی ڈی سٹور پر چھپ چھپ کر ہر طرح کے پورن ویڈیو ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں جنہیں دیکھ کر وہ اپنی  جنسی فرسٹریشن کو کم کرتےہیں۔

پورنوگرافی کی بہت سے قسمیں ہیں جن میں  ریپ کی ویڈیو بھی شامل ہے ۔ میں نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ لوگ عورتوں کی عصمت دری کی اصلی ویڈیو بھی دیکھ لیں گے۔ لوگوں کے اندر جنسی تعلقات کی حوس ، چاہے یہ کوئی سکول گرل ہو، کسٹمر ہو،   بڑی عجیب ہے۔ لوگوں کی اس خواہش کے لیے پورن سٹار مختلف قسم کے کردار نبھاتے ہیں۔ بہت سے ممالک میں اس طرح کا  مواد قانونی سمجھا جاتا ہے کیونکہ وہاں کے لوگوں میں جسمانی تشدد زیادہ معنی نہیں رکھتا۔ لیکن کوئی بھی ملک اس بات کا دفاع نہیں کر سکتا کہ اصل ریپ کی ویڈیوز بیچی اور تقسیم کی جاتی ہوں۔

ایسے لوگوں کو تو درندے کہنا بھی توہین ہے کہ جانوروں کے اندر بھی ایک ضمیر ہوتا ہے۔ صرف 20 روپے میں اپنی جنسی خواہشات کی تسکین چاہتے ہیں؟ کیا ان مردوں کو مظلوم کی عزت کی قیمت کا بھی اندازہ نہیں ہے؟   اصل بات یہ  ہے کہ مظلوم لڑکیوں کو اغوا کر کے ان پر تشدد کرنے او ر اس کی ویڈیو بنانے کی صرف 2 وجوہات ہیں۔ پہلا یہ کہ گناہ گار اپنے جبر کے دوران ایسا محسوس کرتے ہیں کہ وہ اپنی اتھارٹی ان مظلوم پر رکھتے ہیں اور اسے اپنی جیت تصور کرتے ہیں۔ دوسری وجہ ہے کہ وہ ان کو بلیک میل کرنا چاہتے ہیں تا کہ ظلم کا نشانہ بننے والی لڑکیاں ان کے خلاف قانونی کاروائی نہ کر پائیں۔

وہ یہ ویڈیو دکھا کر مستقبل میں انہی لڑکیوں سے اپنی ہوس کی تسکین کر سکتے ہیں  اور اپنی بوریت مٹا سکتے ہیں۔جس کے پاس تھوڑی سی بھی عقل ہو وہ آپ کو بتا سکتا ہے کہ مارکیٹ صرف ان چیزوں کے لیے ہوتی ہے جو خریدی اور بیچی جاتی ہیں اور یہ احساس بہت پریشان کن ہے۔ یہ حقیقت ہم کیسے نظر انداز کر سکتے ہیں کہ ایک آدمی کی زندگی بھر کی تکلیف جو اس کی بدنامی کا بھی باعث بن رہی ہو ایک دوسرے شخص کے لیے باعث تسکین ہو۔  مجھے تو یہ سوچ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ عصمت دری کرنے والوں کو موت سے بھی بد تر سزا ملنی چاہیے۔

وہ ایک ایسے شخص کی زندگی برباد کر دیتے ہیں جس کے پاس جینے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ یہ گناہ گار اپنے کرتوت پر بالکل شرمندہ نہیں ہوتے اور ساتھ ہی اپنے گناہ کو بیچ کر پیسے بھی جمع کر لیتے ہیں۔ لوگوں کا رویہ دیکھیں کہ ایسی ویڈیو پولیس اور اتھارٹی کو دینے کی بجائے اس سے مزے لیتے ہیں۔ وہ یہ نہیں سوچتے کہ  ان گنہگاروں کو اس  گناہ سے روکا جانا چاہیے تا کہ یہ دوبارہ کسی کی زندگی سے کھیل نہ پائیں۔ صرف بے غیرت لوگ ہی مختار مائی کی عصمت دری کی ویڈیو دیکھتے ہیں اور بچوں پر جنسی تشدد کو دیکھ کر لطف اندوز ہوتے ہیں۔

اگر آپ میرا یہ آرٹیکل پڑھیں تو بتائیں کہ کیا آپ ایک منٹ کے لیے بھی کسی کی عزت لٹتے دیکھ سکتے ہیں؟   کیا آپ یہ تصور کر سکتے ہیں کہ آپ کسی لڑکی کی عزت لوٹ رہے ہوں  یا کوئی آپ کی عزت لوٹ رہا ہو؟ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ اگر آپ کو کوئی زخم لگائے اور خون بہائے  یا پھر تم کسی اور کے ساتھ ایسا سلوک کرو؟  کیا آپ معصوم بچوں کے بارے میں سوچتے ہو؟ کیا آپ نے کبھی بچوں کو ڈورے مون دیکھتے ہوئے انہیں ٹافی کا لالچ دے کر چھونے کی کوشش کی؟   کیا آپ اس بچے کے ہاتھوں کے بارے میں سوچتے ہیں اور اس دکھ کا اندازہ لگاتے ہیں جو وہ برداشت کرتے ہیں جب درندے ان کے منہ پر ہاتھ رکھ کر ان پر زبردستی کرتے ہیں؟

 شاید آپ بچوں کے بارے میں ایسا نہیں سوچتے۔ یہی لائن ہے۔ آپ جس کے بارے میں سوچتے ہیں وہ قانونی طور پر بچے کی عمر کا نہیں ہوتا۔ کیوں کہ آپ کسی اور کو الزام دینا چاہتے ہیں۔ یہی بات ہے نا؟ آپ کہتے ہو کہ اسی نے آپ کو مجبور کیا تھا، وہ جان بوجھ کر مجھے پھانسنا چاہتی تھی وغیرہ وغیرہ۔ شاید آپ صرف گینگ ریپ کا ہی تصور کرتے ہوں ۔آپ کی لمٹ کیا ہے؟ تین، چار، سات؟ کیا آپ کسی لڑکی  کو کئی لڑکوں کے ہاتھوں بار بار لٹتا دیکھنے کے تصورات رکھتے ہیں؟  نہیں شاید آپ  صرف وہی منظر تصور میں لاتے ہو جب آپ اس کے اوپر موجود ہو اور فاتحانہ طریقے سے اونچی آواز سے ہنس رہے ہو۔ یہ سوچ رہے ہو کہ وہ اب کسی کو بتا نہیں پائے گی۔

آپ کو اصل جیت کا احساس تب ہوتا ہو جب آپ اس کو کہتے ہوں کہ آپ جب چاہیں اس کے ساتھ دوبارہ یہی کریں گے۔ اسے ہر وقت تمہارا استقبال کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ کیا آپ کو یہ دیکھنا کچھ خوشی دیتا ہے کہ آپ اصل ریپ کی ویڈیو دیکھ رہے ہیں؟ ریپ ایک جنسی تعلق یا عام سا مذاق نہیں ہے۔ ریپ کے بارے میں سوچنا بھی گناہ ہے۔ جو لوگ اس طرح کی ویڈیو بناتے ہیں اور پھر انہیں بیچ ڈالتے ہیں قابل نفرت ہیں۔ لیکن جو لوگ ان ویڈیوز کو خریدتے ہیں وہ بھی اس برائی کو پھیلانے کے ذمہ دار ہیں ۔ وہ کسی طرح بھی ریپ کرنے والوں سے بہتر نہیں کہلائے جا سکتے۔ جب جب کوئی ریپ ہوتا ہے ، اس کے برابر کے ذمہ دار یہ لوگ ہیں جو ان ویڈیو کو خریدتے اور انہیں دیکھتے ہیں۔

source:http://blogs.tribune.com.pk

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *