ناکام فنکشن اور دھرنا

سحر رضوان

pti4

زندگی میں آپ کو کئی شادیوں کے فنکشن میں شرکت کا موقع ملا ہو گا۔ اب دیکھا جائے تو اس محفل کا بنیادی مقصد تو ایک لڑکا اور ایک لڑکی کی آپس میں شادی کرنا ہی ہے اور مقصد کے اعتبارسے تقریباََتمام فنکشن اپنے منطقی انجام تک پہنچ ہی جاتے ہیں لیکن عمومی طور پر دیکھا یہ جاتا ہے کہ فنکشن میں آنے والے مہمان کس حد تک مطمئن گئے اوران تاثرات کی بنیاد پر یہ کہا جاتا ہے کہ شادی کا فنکشن کامیاب تھا یا ناکام۔
بالکل یہی مثال کسی بھی جلسے یا دھرنے کی ہے۔ مقصد کے لحاظ سے ہر جلسہ یا دھرنا کچھ نہ کچھ حاصل کر ہی لیتا ہے لیکن عوامی تاثر کے اعتبار سے دیکھا جاتاہے کہ جلسہ کتنا کامیاب ہوا۔
اب آئیے عمران خان کے دھرنے کی طرف ،اب خان صاحب کا تو یہی دعویٰ ہے کہ مقصد کے اعتبار سے تو ان کا یہ ٹی 20میچ کامیاب رہا اور شاید اس بات میں کچھ حد تک صداقت بھی ہے مگر میری رائے میں شادی کی طرح عوامی تاثرات کے لحاظ سے انتہائی بد مزہ اور غیر منظم کاوش کی گئی ہے اور اس ضمن میں مندرجہ ذیل نکات پیشِ خدمت ہیں۔
.1سب سے پہلی غلطی یہ کی گئی کہ تمام قیادت بنی گالہ میں اکٹھی ہو گئی اور اندر چھپ کر بیٹھ گئی۔ اس سے کہیں بہتر تھا کہ ایک یا دو سرکردہ رہنماؤں کو چھوڑ کر باقی تما ممبران پارلیمنٹ اور رہنماؤں کو اپنے اپنے حلقوں میں بھیج دیا جاتا اور جیسے ہی ن لیگ نے پکڑ دھکڑ شروع کی تھی تو اس دن سے ایک یا دو رہنماؤں کو سامنے لایا جاتا۔
اس سے نہ صرف انتظا میہ کی توجہ مختلف علاقوں میں منتقل ہوتی بلکہ ایک ملک گیر تحریک کا تاثر جاتا۔ مثال کے طور پر کتنا ہی اچھا ہوتا اگر ایک دن جہانگیر ترین لودھراں سے قافلہ لے کر نکلنے کی کوشش کرتے اگلے دن شاہ محمود اس سے اگلے دن علیم خان اور اس طرح ایک سلسلہ شروع ہو جاتا۔ بھلے یہ لوگ گرفتار ہوتے اور ایک بندہ بھی نہ پہنچ پاتا مگر تحریک انصاف ایک ملک گیر جماعت کے طور پر سامنے آجاتی۔
.2 دوسری غلطی اس ضمن میں صوبہ خیبر پختونخواہ میں ہوئی یہاں ہی تحریک انصاف کی حکومت ہے اور خیبر پختونخواہ کی سرحد جنوبی پنجاب کے ساتھ بھی لگتی ہے کتنا ہی اچھا ہوتا کہ پورے خیبر پختونخواہ میں بیس کیمپ لگائے جاتے ۔ پنجاب سے بھی کارکنوں کو ہدایات دی جاتیں کہ وہ اپنے نزدیکی خیبر پختونخواہ کے بیس کیمپ پہنچ جائیں۔مثال کے طورپر ڈیرہ غازی خان ،لیہ، تونسہ کے لوگ ڈیرہ اسماعیل خان پہنچ جاتے پھر ان چھوٹے بیس کیمپوں سے لوگوں کو صوابی پہنچایا جاتا اور پھر ایک بڑا قافلہ پنجاب داخل ہونے کی کوشش کرتا۔
.3 اس ضمن میں تیسری غلطی کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ انتہائی اہم لمحات میں برطانیہ ایک انتہائی غیر ضروری دورے پر چلے گئے۔ انہیں برطانیہ کی بجائے خیبر پختونخواہ کے علاقوں کا دورہ کرنا چاہیے تھا اور کارکنوں کو منظم کرنا چاہیے تھا۔
.4چوتھی غلطی یہ کی گئی کہ جب انتظامیہ نے کریک ڈاؤن شروع کیا تو تب عمران خان کو تحریک کا آغاز کر دینا چاہیے تھا بجائے اس کے کہ گھر میں بیٹھ کر انتظامیہ کو تیار ہونے کا پورا موقع دیا گیا۔
.5پانچویں اور سب سے بڑی غلطی یہ تھی کہ پی ٹی آئی جانتی تھی کہ کارکن جب خیبر پختونخواہ سے داخل ہونگے تو ان کو روکا جائے گا اور اس کے توڑ کے لیے ان کے پاس بہترین طریقہ تھا وہ یہ کہ ٹیکسلا اور واہ کینٹ میں تحریک انصاف کا ہی ایم این اے اور ایم پی اے ہے اور یہ خیبر پختونخواہ کا سرحدی علاقہ ہے کے پی کے سے پنجاب آنے والے چار سے پانچ راستے یہیں سے گزرتے ہیں۔ برہان انٹر چینج بھی یہاں سے انتہائی قریب ہے تحریک انصاف کو چاہیے تھا کہ یہاں کے ایم این اے سرور خان اور ایم پی اے تیمور کو یہ ٹاسک دیتی کہ جب کے پی کے کے قافلے کو روکا جائے تو یہ واہ اور ٹیکسلا سے کارکن لے کر جاتے اور ان کی مدد کرتے اس طرح پولیس دونوں طرف سے پھنس جاتی اور راستہ دینے پر مجبور ہو جاتی لیکن افسوس کے ساتھ کہ ان دونوں شخصیات کو بری طرح نظر انداز کر کے تحریک انصاف نے ناکام حکمتِ عملی ترتیب دی۔
.6چھٹی غلطی جناب اعجاز چودھری اور میاں محمود کی نا اہلی ہے جو کہ ایک دفعہ پھر کھل کر سامنے آئی۔2013کے الیکشن میں بھی انھی کی حرکتوں نے تحریک انصاف کو شدید نقصان پہنچایا۔ اب بندہ پوچھے کہ پیدل مارچ کی کیا منطق ہے جب ہر ناقے پر پولیس بیٹھی ہے اور چن چن کر بندوں کو اتھایا جا رہا ہے تو اعجاز چودھری صاحب پیدل مارچ لے کر روانہ ہو رہے ہیں اپنے بڑے صوبے اور اتنے اہم صوبے میں ایسی حکمتِ عملی سمجھ سے بالا تر ہے ۔
.7ساتویں غلطی خیبر پختونخواہ کے لوگوں کو اکیلا چھوڑ دینا ہے۔ یہ بات ہزار دفعہ عمران خان صاحب کے گوشوار کی گئی ہے کہ خان صاحب آپ کی اصل طاقت کے پی کے اور حقیقی معنی میں جماعت کی محنت کا ثمر بھی خیبر پختونخواہ ہی ہے عمران خان کے ابتدائی دنوں میں خان صاحب کے ساتھ جو لوگ تھے ان میں سے اکثر اسی صوبے کے تھے اور اپنوں نے انتھک محنت سے یہاں جماعت کو مقبول اور یہ عمران خان کے لیے اتنا سنہری موقع تھا کہ کیونکہ موجودہ سیاست میں پٹھانوں کے پاس کوئی ایک بھی پٹھان نیشنل لیڈر نہیں۔ کے پی کے کے لوگوں نے خان کو اپنا سمجھا اور یہ نعرے تک لگائے کہ ’کہتا ہر پختون ہے خان ہمارا خون ہے‘ ۔آپ بھٹوصاحب کو دیکھیں ان کے طرزِ زندگی کا سندھ سے دور دور تک تعلق نہیں تھا مگر انہوں نے سندھ سے ایسا تعلق جوڑا کہ آج تک سندھی اس کا حق ادا کر رہے ہیں۔
اسی طرح خان صاحب بھی اگر خیبر پختونخواہ سے اپنا رشتہ جوڑیں تو یہاں کے لوگ سندھ سے بڑھ کر وفا کرتے اور خان صاحب کو چاہیے تھا کہ جب خیبر پختونخواہ کے لوگ اسلام آباد کے لئے نکلے تو یاتو خود جاتے یا پھر کم از کم جہانگیر ترین کو ضرور بھیج دیتے ۔جہانگیر ترین اپنے ہیلی کاپٹر پر پہنچ بھی سکتے تھے اس سے یہ تاثر بھی جاتا کہ تحریک انصاف نے خیبر پختونخواہ کے لوگوں کو اکیلا نہیں چھوڑااور جہانگیر ترین بھی ایک کامیاب سیکٹرری جنرل کے طور پر سانے آتے۔ مگر افسوس کہ یہاں بھی ایسا نہیں ہوا۔
خیر اس کے ساتھ اور بھی کئی غلطیاں ہوئیں جن کا ذکر پھر کبھی کروں گا اور آخری با ت کہ مقصد بھلے پورا ہو جائے مگر خان صاحب کو عوام کا خیال رکھنا چاہیے کیونکہ اسی عوام کے ذریعے ہی انہوں نے پارلیمنٹ میں آنا ہے۔ اللہ خان صاحب کو اچھے مشیر عطا فرمائیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *