اللہ کی بنائی ہوئی مخلوق ایک گالی کیسے بنی؟

ahmer-akbar
خالق کائنات نے حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت ہوا رضی اللہ عنہا کو پیدا کیا اور بنی نوح انسان کی بنیاد رکھی معاشرہ مرد اور عورت سے ہی پروان چڑھا ہے مگر ایک مخلوق  اور بھی دنیا میں آئی جس کو ہجڑا (شی میل)کہتے ہیں تاریخ ان کے وجود کے معاملے میں آج بھی خاموش ہے -
سائنس کے مطابق عورت اور مرد کے ملاپ کے دوران کچھ پچیدگیوں کی بنا پر  ہارمونز اور جنینز میں ایک قدرتی تبدیلی کی وجہ سے جسمانی ساخت اور خصوصیات میں تبدیلی آجاتی ہے یہ تبدیلی وقتی طور پر ظاہر نہیں ہوتی مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ تبدیلیاں نمایاں ہوتی جاتی ہیں اور ایک وقت آتا ہے کہ ان کو لگتا ہے وہ باقی انسانوں سے مختلف ہیں ان کو حرف عام میں ہجڑا ،کھسرا، شی میل ادبی حلقوں میں مورت کہتے ہیں  -
پروفیسر جارج نے  اس مسلے پر روشنی ڈالی کہ ان کی تین اقسام ہیں ۔ایک وہ جو مرد نظر آتے ہیں مگر ان کے مردانہ جنسی عضاء بے سود ہوتے ہیں   اور ان میں عورتوں کی خوبیاں نمایاں ہوتی ہے-
دوسری قسم عورتوں کی ہے جو اپنے جنسی عضاء سے محروم ہوتی ہیں ان میں مردانہ خصوصیات زیادہ ہوتی ہیں-
تیسری قسم کے لوگوں میں دونوں قسم کے عضاء ہوتے ہیں وہ خود کو نہ مرد وں میں شامل کرتے ہیں نا عورتوں میں ۔
مولانا علی رضا صاحب محتمم  مدرسہ احیاالعلوم بورےوالہ نے اس بارے میں بتایا کہ اسلام میں ان کے بارے میں کوئی خاص حکم نہیں فرمایا گیا مگر اسلام مساوات اور بھائی چارے کا مزہب ہے ان کو مکمل تحفظ اور احترام ملنا چاہیے بشرطکہ وہ کسی بھی غیر اخلاقی سرگرمی میں ملوث نہ ہوں ان کی اہمیت کا  اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روضہ مبارک کی صفائی کی ذمہ داری آج تک ان کے پاس ہے
عاشی چوہدری یہ بورے والہ سے تعلق رکھنے والہ ہجڑا ہے وہ اپنے بارے میں  بتاتا ہے کہ وہ پیدائشی طور پر ہی ایساپیدا ہوا تھا  میڑک تک اس نے تعلیم حاصل کی مگر میٹرک کے بعد اس کے لیے تعلیم جاری رکھنا مشکل ہو گیا تھا ہر کوئی اس کا مزاق بناتا تھا  اور تو اور والدین بھی بدنامی کے ڈر سے تنگ آ گئے   اور مجھے گھر سے نکال دیا ایسا  ایک نہ ایک دن ہر  ہجڑے کے ساتھ ہوتا ہے اس لیے مجھے والدین سے کوئی شکواہ نہیں ہے اس کے بعد میں نے بیوٹیشن کا کورس کیا اور ڈانس کی باقاعدہ اکیڈمی جوائن کی  دن رات محنت کی اور آج میں ایک بہترین ڈانسر اور بیوٹیشن ہوں مگر پھر بھی معاشرے میں ہماری عزت آٹے میں نمک کے برابر ہے
heej-1
ہمارے حقوق کل بھی نہیں تھے آج بھی نہیں ہیں ہم  پر ترس کھایا جاتا ہے تشدد کیا جاتا ہے ہم کو بلیک میل کیا جاتا ہے پولیس اور ریاست ہم کو تحفظ فراہم نہیں کرتی ہم کو بے یارومددگار چھوڑ دیا جاتا  ہے
جعفر ببلی آف وہاڑی( گرو )نے بتایا کہ  زمانہ قدیم میں بھی ہم مورتوں کو بادشاہوں کی آرام گاہوں میں رکھا جاتا تھا ہم ان کی آرام گاہوں کی زینت ہوا کرتے تھے تب ہمارے ناز و نخرے اٹھاے جاتے تھے مگر اب نہ بادشاہ ہیں اور نہ دربار تبھی ہم کو اپنا پیٹ پالنے کے لیے کوئی نہ کوئی کام کرنا پڑتا ہے جوانی میں ہم ناچ گا کر اور بڑھاپے میں بھیک مانگ کر گزارہ کرتے ہیں
یورپ میں زیادہ تر شی میل جسم فروشی میں مبتلا ہیں اور پھر بھی ان کو بنیادی سہولیات میسر ہیں مگر پاکستان میں ایسا ہرگز نہیں ہے ہم اپنی محنت مزدوری کرتے ہیں ہم میں سے کچھ لوگ احساس کمتری کا شکار ہو کر بڑھاپے میں بھیک مانگتے ہیں  اور  اپنا گزر بسر کرتے ہیں پاکستان میں ان کے لیے  حکومتی سطح پر کوئی ایسا ادارہ نہیں ہے جو   ان  کی دیکھ بھال اور  بڑھاپے  کفالت کر سکے
ایک سروے کے مطابق پاکستان میں ایک لاکھ چھپن ہزار خواجہ سرا موجود ہیں ضلح وہاڑی میں ان کی تعداد دو سو کی لگ بھگ ہے مگر آج تک کسی بھی حکومتی ادارے یا نمائندے نے ان کی مالی یا اخلاقی مدد نہیں کی اور شاید کوئی کرے بھی نہ
  کیونکہہیجڑا ایک گالی سمجھا جاتا ہے ۔
عاشی چوہدری نے کہا کہ میں اپنے ساتھیوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہوں اور مرتے دم تک اپنے جیسے لوگوں کی مدد کروں گی اور  معاشرے میں ان کا ایک سٹیٹس قائم کروں گی عاشی چوہدری کی والدہ ماجدہ نے بتایا کہ وہ ایک ماں ہے اور میری بیٹی عاشی نے ان کی غربت کے باوجود انتھک محنت کرکے اپنا ایک نام بنایا اور میری دوسری بیٹوں کی شادی کروائی ہے ہمارے گھر کو مکمل سپورٹ کر رہی ہے حالانکہ ایک وقت ایسا تھا میرے سمیت سب گھروالوں  نے اس کو اپنی کفالت سے علیحدہ کر دیا تھا مگر آج وہ ہم سب کا سہارا ہے اور اپنے جیسوں کے لیے دن رات کام کرتی ہے
میری حکومت سے التماس ہے کہ میری کو مرنے کے بعد خط کی وجہ سے نا پہچانا جاے وہ ہم سب کی طرح انسان ہے ان کو تحفظ فراہم کیا جاے محلے میں اپنا مکان ہونے کے باوجود ہم کو گھر خالی کرنے کو کہا جاتا ہے کیونکہ محلے کے معزز لوگ اپنے بیٹے کی شادی پر تو بلانا پسند کرتے ہیں مگر ہمارے لیے کوئی آواز بلند نہیں کرتا آخر کیوں ؟
heej-3
ہم ایک مہذب قوم ہیں ہم ان مورتوں کو شروع سے اپنے فائدے کے لیے استمعال کرتے آئےہیں مگر جب حقوق کی بات ہو تو ان کی طرف سے منہ موڑ لیا جاتا ہے میں نے ان کی مجبوریوں کو آپ سب کے سامنے رکھا ہے جس کا مقصد ان کو پرموٹ کرنا نہیں بلکہ شاید کوئی حکومتی نمائندہ ان کے مسائل کا حل کر سکےشاید ان کو عام شہری کی طرح جینے کا حق مل سکے ۔پولیس کے پاس جا کر بھی ان کو ہی بلیک میل کیا جاتا ہے مزاق بنا دیا جاتا ہے میں عاشی چوہدری کو پرموٹ نہیں کر رہا مگر اس جیسے مظلوم انسانوں کی آواز آپ تک پہنچانا میرا کام ہے جو میں کرتا رہوں گا -
loading...

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *