جمہوری پاکستان اور ہیلری کلنٹن

usman ghazi

امریکی تو اسی دن انتخاب ہارگئے تھے جب برنی سینڈرز جیسے قابل سیاست دانوں کی موجودگی کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ کی صورت میں انہیں ہیلری کلنٹن کے مقابلے میں ایک دوسرا آپشن دیا گیاتھا
دنیا بھر میں اسٹبلشمنٹ انتخابات میں اپنا کردارادا کرتی ہے اور یہ کردار اسٹبلشمنٹ کے منظور نظر سیاست دانوں کے حریفوں کے تعین کا ہوتا ہے
پاکستان میں شاید اسٹبلشمنٹ کے منظور نظر سیاست دان وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کے حریفوں کے تعین میں بھی پاکستانی اسٹبلشمنٹ نے وہی کردار ادا کیا جوامریکا میں ہیلری کے لیے کیا گیا
جب حریف مضبوط نہ ہو تو اپنا بند ہ جیت ہی جاتا ہے ، وزیراعظم نوازشریف کے کیس میں بھی ایسا ہی ہوا اور وہ احمقانہ اپوزیشن کے ذریعے پاکستان کی تاریخ کے مضبوط ترین سیاست دان بنادیئے گئے اوراگر کوئی انہونی نہ ہو تو ہیلری کے معاملے میں امریکا میں کچھ ایسا ہی ہوگا
خیر یہ امریکیوں کا مسئلہ ہے، اگر ہیلری انتخاب جیت جاتی ہے تو یہ پاکستان کے لیے کسی حد تک خوش گوار ہے کیونکہ ہیلری کے پاکستانی سیاست دانوں اور اسٹبلشمنٹ سے کافی اچھے روابط بلکہ اکثر سے ذاتی مراسم ہیں
یہ شاید 1988 کی بات ہے ، جب لندن میں ہیلری کلنٹن اپنی چھوٹی بیٹیو ں کے ساتھ بے نظیر بھٹو کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے مجمع کو چیرتے ہوئے آگے بڑھنے کی کوشش کررہی تھی، اس نے اپنی کتاب میں بے نظیر بھٹو کا تذکرہ کسی افسانوی لیڈر کی طرح کیا ہے
امریکا میں ڈیموکریٹس ہمیشہ سے پاکستان کے لیے ری پبلکنز سے زیادہ بہتر رہے ہیں
جمہوری پاکستان کے لیے ہیلری کلنٹن کا اقتدار میں آناناگزیر ہے ورنہ مستقبل میں پاکستان کے لیے کافی مشکلات ہوں گی

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *