نیا پاکستان، نئے تقاضے

ایازا میرAyaz Amir

اب جبکہ ہمارے ہاں سرگرم ِ عمل مقامی انقلاب نیا پاکستان تعمیر کرنے جارہے ہیں، توایک سوچ ابھرتی ہے کہ کیا اس نئے پاکستان میں منافقت، جس کی فعالیت ہمارے ہاں سب سے زیادہ ہے، کو دیس نکالا دیا جائے گا یا پھر حسب ِ معمول بظاہر نیکی اور پرہیزگاری اور اندر سے ’’سب چلتا ہے‘‘ کا فارمولہ مستعمل رہے گا۔ جب پاکستان وجود میں آیا توسرائے، بار اور سیلون سے کسی کو بھی خطرہ لاحق نہ تھا۔ ہمارے قصبوں میں موجود بہتر میخانے ہوتے تھے لیکن ان سے کسی کے عقیدے کو بھی نقصان نہیں پہنچتا تھا۔ اس کے بعد قرارداد ِ مقاصد منظور ہوئی اور کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ بعض مولوی اور مفتی حضرات کی عید ہوگئی اور انہیں مخالفوں کے خلاف جھوٹے فتوے دینے کا موقع مل گیا۔ اور اس کے ساتھ ہی مے خانے کے دروازے بند اور منافقت سکہ رائج الوقت۔
کراچی کے نائٹ کلبوں میں مشرق و مغرب کی حسینائوں کا رقص ہوتا تھا جبکہ لاہور میں فلیٹی ہوٹل کے فلور پر ہونے والی سرگرمیوں کی تشہیر پاکستان ٹائمز کے صفحہ نمبر تین پر باقاعدگی سے کی جاتی تھی۔ وہاں جنٹل مین امریکی گاڑیوں (ابھی ملک میں جاپانی کاروں کی آمد شروع نہیں ہوئی تھی کیونکہ جاپان اُس وقت تک ایٹمی حملوں کے اثرات سے نہیں نکلا تھا) میں آتے۔ فلیٹی ہوٹل کے باہر لیموزن گاڑیوں کی طویل قطار ہوتی تھی۔ دہلی کے شاعر مرزا غالب کے شعر ۔۔۔’’مسجد کے زیر ِ سایہ خرابات چاہئے‘‘۔۔۔کی لاہورمیں عملی تشریح دکھائی دی اور بادشاہی مسجد کے قریب شاہی محلہ اپنی اشتہا انگیز موجودگی رکھتا تھا۔ مسجد میں پانچ وقت اذان کی آواز گونجتی اور شام ڈھلتے ہی بازار کی فضا گہری ہونے لگتی۔ بند دروازوں کے پیچھے سے گانے، طبلے اورگھنگھروں کی جھنکار، دزدیدہ نظروںسے جھانکنا اور منچلوں کے قہقہے ماحول کو گرماتے تھے۔ پتہ نہیں محمود و ایاز ایک ہی صف میں کبھی کھڑے پائے گئے تھے یا نہیں لیکن اس بازار میں ، بقول عبدالحمید عدم۔۔۔’’بڑی روشنی بخشتے ہیں نظر کو۔۔۔ تیرے گیسوئوں کے مقدس اندھیرے‘‘۔۔۔ چھوٹے بڑے، امیر غریب گھنی زلفوں کے سانولے اندھیرے سے اپنی دنیا روشن کرنے کی کوشش کرتے دکھائی دیتے۔ ہاں ضروریات کی تکمیل کے لیے جیب کا ہلکا یا بھاری ہونا فرق ڈالتا تھا۔یہ فرق ہر جگہ ہی رہتا ہے۔
روز ِ روشن کی طرح عیاںہماری بے شمار خامیوں میں سے سب سے نمایاںہماری وہ منافقت ہے جس کا تعلق خوشی اور لطف سے ہے۔ آج کچھ اچھا وقت گزارنے کے لئےضروری ہے کہ آپ کو بہت زیادہ رقم خرچ کرنے کی ضرورت ہے۔ صرف تعلیم یا صحت کی سہولتیں ہی نہیں بلکہ آپ کی جیب میں رقم ہوتو ہی آپ لطف اٹھانے کا حق رکھتے ہیں۔ جب نومبر 1917ء میں روسی انقلاب آیا تو پیٹرو گریڈ کے ونٹر پیلس میں شہنشاہ زار کے تہہ خانے توڑ کر کھولے گئے او ر انقلابیوں نے دل کھول کر یورپ میں دستیاب عمدہ ترین شراب پی۔ ایک شرارتی سی سوچ دل میں جاگزیں ہے کہ اگر گزشتہ اگست کو علامہ قادری کے پیروکار وزیر اعظم ہائوس پر چڑھائی کرتے ہوئے قبضہ کر لیتے تو کیا یہاں بھی توڑنے کے لیے کچھ تہہ خانے تھے یا نہیں ؟(لگتا ہے کہ تہہ خانے خشک ہی نکلتے)آخر انقلاب میںکوئی تشنگی باقی نہیں رہنی چاہئے۔
دنیائے اسلام ہمیشہ ایسی نہیں تھی۔ اسلام کی اصل تاریخ ا سکولوں میں کیوں نہیں پڑھائی جاتی؟اسلام کا سنہرا دور عباسی دور تھا اور اس دور کی سرگرمیوں کا خواص کے ساتھ عوام کو بھی علم ہونا چاہئے۔اس حوالے سے میں دو کتابوں کا ذکر کرتاہوں۔۔۔ ہیوگ کینڈی کی ’’The Court of the Caliphs‘‘ اور بنسن بوبرک کی’’The Caliph's Splendor‘‘۔ ان کتابوں میں حوالہ دینے کے لیے بہت کچھ ہے لیکن کالم ان حوالوں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ممکن ہے کہ قارئین میں سے کچھ ان کا مطالعہ کریں۔ ان حکمرانوں کے دربار میں جواں سال اور خوبرو کنیزوں کی تعدادحیران کن ہے۔ ہم یہ باتیں زبان پر لانے کی جرات نہیں کرتے، لیکن وہاں ان کنیزوںکا کچھ تو ’’مصرف‘‘ ہو گا۔ دنیائے اسلام میں ایک اور مسلۂ بھی ہے۔۔۔ اس میں موجودہ دور میں بھی مذہبی رہنما برآمد ہورہے ہیں، جیسا کہ آج اسلامی دنیا کے نام نہاد بنیاد پرست قائدین(اس کی مثال شام اور افغانستان میں ملتی ہے)۔ ماضی میں بنو امیہ اور بنوعباس کے خلیفہ کچھ اور کاموں، جیسا کہ علم اور ثقافت کے فروغ اور بازوںکی طاقت، کے لئےشہرت رکھتے تھے۔ وہ درحقیقت اسلام کا سنہری دور تھا، لیکن آج ہم کس آسیب کا شکار ہیں۔۔۔ وحشت، درندگی، جنونیت، دھشت گردی، تنگ نظری اور انتہا پسندی۔ کوئی کمی ہےشام کے بنیاد پرستوں میں ، یا ہمارے انتہا پسند مذہبی گروہوں میں ؟
اگر واقعی نیا پاکستان بنایا جاناہے تو اس میں عقیدے کے نام پر روا رکھی جانے والی منافقت کو ختم کرنا ہوگا۔ ماضی کو بھول جائیں۔ ضیا الحق 1988ء کے بعد موجود نہیں تھا، اس لیے ہم اپنے تمام مسائل پر اُس دور کو مورد ِالزام نہیں ٹھہراسکتے۔ اگر جنرل کی چھوڑی ہوئی باقیات بری تھیں تو بھی ہمارے پاس کافی وقت تھا ، ہم معاملات کو درستی کی طرف لے کر جاسکتے تھے، لیکن پاکستان کے نام نہاد جمہوری حکمران انتہا ئی بزدل نکلے۔ وہ دن رات جمہوریت کے تحفظ کے نعرے تو لگاتے رہتے ہیں لیکن انتہا پسندی اور عدم برداشت کے سامنے کھڑے ہونے سے ان کی جان نکلتی ہے۔
آپ قادری صاحب پر جومرضی الزام عائد کریں لیکن ہمارے ہاں پہلی مرتبہ کسی نے کھلے عام عورتوں اور غیر مسلموں کے حقوق کی بات کرنے کی جرات تو کی ہے۔ وہ ا سٹیج پر اہل تشیع رہنمائوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ لانگ مارچ کے نتائج کو ایک طرف رکھیں، کیا پاکستان کے مخصوص حالات اور تنگ نظری کو دیکھتے ہوئے یہ ایک مستحسن پیش رفت نہیں؟ جب علامہ قادری دہرے بیانات دیں، آپ اُن پر جی بھر کر تنقید کریں، لیکن جب وہ اچھی بات کریںتو کیا ان کی تعریف نہیں کی جانی چاہئے؟عمران خان نے ان سے بھی بہتر کارکردگی دکھائی ہے۔ اُنھوںنے وہ کچھ کردکھایا ہے جو جمہوریت کے نام نہاد علمبردار ایک سوسال میں بھی نہیں کرسکتے تھے۔ اُنھوںنے خواتین کے لئے عملی سیاست کے دروازے کھولے ہیں۔
کئی عر ب ملکوں کے بعد اس دنیا میں شاید پاکستان ہی وہ جگہ ہے جہاں خواتین کے لیے عرصہ ِ حیات تنگ ہے۔ اُنہیں جنسی امتیاز کا شکار ہونا پڑتاہے۔ عمران کی تحریک نے اس صورت ِحال کو تبدیل کردیا۔ آج ان کے جلسوں اور دھرنوں میں نوجوان لڑکیوں کی تعداد سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ میانوالی جیسے علاقے میں،جہاں خواتین کا اس طرح باہر آنا ممکن نہیں، عمران کے جلسے کے مناظر قدامت پسندی کے معبد گراتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ یہ کتابی نہیں عملی لبرل ازم ہے۔ بوبرک لکھتے ہیں۔۔۔’’ اگرچہ قرآن میں الکوحل کی ممانعت ہے، لیکن بغدادی دربارمیں مشروب خاص اور کنیزیں رقص کرتی تھیں‘‘ظا ہر ہے کہ آج کے جدید دور میں تو کوئی مسلم حکومت ایسا سو چ بھی نہیں سکتی اور نہ ہی کسی میں جر ات ہے کہ تشریح کریں کہ اس وقت ایسا کیوں اور کیسے جا ئز قرار دیا گیا۔کیا ہم منافقت سے جان چھڑا سکیںگے۔ یقینا ہم شاندار ماضی رکھتے ہیں۔ مشرف سے بہت سی غلطیاں سرزد ہوئیں، لیکن وہ ضیا دور کے حدود قوانین کو ختم کرکے ان کی تلافی کرسکتے تھے۔ کیا پاکستان میں دوبارہ وہ دور واپس آئے گا جب آپ بے دھڑک کچھ بھی خرید سکیںگے؟پھر سوچ آتی ہے جب ہم یوٹیوب پر پابندی بھی نہیں ہٹاسکے تو اور کیا تیر مار لیںگے؟اگر ہم نئے پاکستان کو طالبان سے بچانا چاہتے ہیں تو ہمیں وہ سب کچھ کرنا ہوگا جس سے طالبان بدکتے ہیں۔ کیا ایسا کبھی ہوگا ؟ کیا ہم ایک نارمل معاشرہ ، جس میں تنگ نظری نہ ہو اور ٹریفک کے قوانین کی پابندی کی جاتی ہو، کبھی قائم کر پائیں گے؟ ویسے اس کے علاوہ ہم کون سانیا پاکستان بنانے جارہے ہیں؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *