ڈولنڈ ٹرمپ کا پاکستانی قوم کے نام خط

abdul-rauf-khan

عزیز پاکستانیو!!

اُمید ہے آپ سب خیریت سے ہونگے۔ میرا یہ خط لکھنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ پوری پاکستانی قوم کو میں یہ باور کرواسکوں کہ میں ڈولنڈ ٹرمپ پاکستانی قوم کا دشمن ہرگز نہیں ہوں۔ ایک بات اچھی طرح سے سُن لو میں نہ تو تحریک طالبان کی طرح سے ایک سفاک قاتل ہوں، نہ میں اپنے دشمنوں کے معصوم بچوں تک کو قتل کرتا ہوں۔

جب سے میں نے الیکشن جیتا ہے تب سے آپکے پورے مُلک میں ایک سوگ کی فضا ہے جو کہ بالکل غلط ہے۔ پاکستانی قوم مجھے اپنا دشمن سمجھتی ہے اور یہ فرض کئیے بیٹھی ہے کہ جونہی میں منصب صدارت پر بیٹھا، سارے کے سارے پاکستانی نژاد مُسلمان امریکہ سے ڈی پورٹ کردئیے جائیں گے۔ اُن سے روزگار چھین لیا جائے گا۔ اور پھر جیسا حملہ افغانستان پر کیا تھا بالکل ویسا ہی پاکستان پر کردوں گا۔ اے بھولی قوم تمہارا دشمن سات سمند پار بیٹھا ٹرمپ نہیں ہے بلکہ تمہارا دشمن تمہارے دائیں بائیں اور تمہارے ارد گرد کیا بلکہ تمہارے بیچ موجود ہے۔ وہ تمہارے جیسے مسلمان ہیں تمہاری جیسی زبان بولتے ہیں۔ ایک ہی رب ، رسول اور قرآن کو ماننے والے ہیں۔ جو کبھی گلشن اقبال پارک لاہور میں جھولوں میں کھیلتے بچوں کو اپنی خود کش دھماکوں سے قیمہ بناتے ہیں تو کبھی وہ ٹھیک تمہارے بیچ سے گزر کرکوئٹہ کے پولیس ٹریننگ سکول میں پہنچ کر معصوموں کا قتل کرتے ہیں۔ یہ دشمن کہیں اور نہیں ہے تمہارے اندر موجود ہے۔ لیکن تم کیسی قوم ہو کہ اپنے دشمن کا نام لینا بھی گوارا نہیں کرتے۔ بلکہ جب تم میں سے کچھ لوگ ان شدت پسندوں کی مذمت کرتے ہیں تو تم میں سے ہی ایسے لوگ آگے آتے ہیں جو اُن کی صفائیاں دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کوئی مُسلمان ایسی بزدلانہ حرکت کرہی نہیں سکتا۔ دشمن کہیں اور نہیں تمہارے صفوں میں موجود ہے۔

یہ سفاک دہشت گرد کبھی تمہارے فوجیوں کو قتل کرکے اُن کے سروں سے فُٹ بال کھیلتے ہیں، تو کبھی چاقو سے انتہائی سفاکی سے اُن کے گلوں کو کاٹ کر فلمیں بناتے ہیں۔ ٹرمپ تو وہ آدمی ہے جس نے صدراوبامہ کو کہا تھا کہ تم نے کس حیثیت سے عراق پر حملہ کیا؟ تم نے شام پر حملہ کرکے لاکھوں لوگوں کو قتل کردیا۔ ہاں میں ہی وہ شخص ہوں جس نے کہا تھا کہ القاعدہ، آئی ایس آئی ایس اور دوسرے دہشت گرد گروپوں کو اوبامہ نے ہی تخلیق کیا ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی ہے کہ پاکستانی قوم کا دشمن کو جانچنے کا کونسا پیمانہ ہے؟ کیا وہ تمہارے دشمن ہیں جنہوں نے مسلم دُنیا میں آگ اور خون کا بازار گرم کررکھا ہے یا میں ٹرمپ تمہارا دشمن ہوں جس نے تمہارے رستے زخموں کو دیکھ کر اصل دہشت گرد کی نشاندہی کی ہے؟

اب ایک کام میں ضرور کرنے جارہا ہوں۔ ایک تو ڈومور کا مطالبہ نہیں کروں گا۔ کیونکہ جب بھی امریکہ ڈومور کا مطالبہ کرتا ہے تمہارے عسکری اور سیاسی ادارے بھی ساتھ ہی پیسوں کو مزید بڑھانے کا ڈومور کا مطالبہ کردیتے ہیں۔ اپنے عسکری اداروں کو بخشوؤں سے پاک کرو تمہارے سارے مسئلے ختم ہوجائیں گے۔ یہ لشکر طیبہ، سپاہ صحابہ اور سپاہ محمد جیسی تنظیمیں امریکہ کے لئیے نہیں بلکہ خود پاکستان کے لئیے خطرہ ہیں ان سے امریکہ نے سات سمندر سے آکر نہیں لڑنا۔ ان سے تم نے خود لڑنا ہے اور ایک دن تمہیں یہ سب ختم کرنا ہوگا۔ ورنہ تمہاری نسلوں کے بھی اسی طرح سے چیتھڑے بن کر ہوا میں اُڑتے رہیں گے اور تم لوگ ایک ایک عضو چُن چُن کر تابوتوں میں بند کرتے رہوگے۔

تم یا تمہارے سیاست دان بڑے دعوے کرتے ہیں کہ ہم نے کشکول توڑ دینا ہے، وہ توڑیں یا نہ توڑیں اب کی بار اگر تم لوگ یہ کشکول لےکر میرے سامنے آئے تو یہی کشکول تمہارے منہ پر دے  ماروں گا۔

اصل دشمن ٹرمپ نہیں بلکہ بھوک ہے اس سے لڑو اپنے ملک میں امن پیداکرو بھوک خود ہی مٹ جائے گی۔

اور ہاں ہمارا ایک دوست شکیل آفریدی تمہاری قید میں ہے میں کوشش کروں گا کہ جلد سے جلد اُسے امریکہ میں دیکھوں۔ ویسے تو ہمارے بہت سے دوست پاکستان میں موجود ہیں۔ ایک دوست تو اپنے خاندان سمیت امریکہ میں آکر مقیم ہوچکا ہے۔ جی ہاں یہ وُہی دوست ہے جو تمہاری فوج میں ایک کرنل تھا بس تھوڑے انعام کے لالچ میں آکر خود ہی ہمارے اسلام آباد کے سفارت خانے میں آگیا اور ہمیں اُسامہ بن لادن کے ٹھکانے تک لے گیا۔ ہم اپنے دوستوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتے۔ آج وہ سابق کرنل یہاں امریکہ میں ایک خوشحالی کی زندگی بسر کررہا ہے۔ اب بہت جلد ایسے ہیں شکیل آفریدی بھی ہمارے بیچ میں کھڑا ہوگا۔ بالکل ویسے ہی جیسے ہم ریمینڈ ڈیوس کو لے گئے تھے۔

باتیں تو اور بھی بہت سی کرنی ہیں لیکن چونکہ ابھی نیا نیاصدر بنا ہوں اس لئے بہت مصروف ہوں باقی دُنیا کو بھی خطوط لکھنے ہیں فی الحال اتنا کافی ہے۔

تمہارا اصل دوست ٹرمپ!!!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *