سعودی عرب کا ایران کے حق میں امریکا کو حیران کن مشورہ

Image result for ‫شاہ سلمان بن عبدالعزیز‬‎

واشنگٹن -امریکہ و دیگر عالمی قوتوں نے گزشتہ سال ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدہ طے کیا تھا جس کی سعودی عرب نے شدید مخالفت کی تھی کیونکہ ایران خطے میں اس کا سب سے بڑا حریف ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں کہا تھا کہ اگر وہ اقتدار میں آ گئے تو اس معاہدے کو ختم کر دیں گے۔ اب وہ اقتدار میں آ گئے ہیں اور اس معاہدے کی مخالفت کرنے والے سعودی عرب ہی کے ایک سینئر ترین سابق عہدیدار کی طرف سے ٹرمپ کو یہ معاہدہ ختم نہ کرنے کا مشورہ دے دیا گیا ہے۔ یہ عہدیدار شہزادہ ترکی الفیصل ہیں جو سعودی انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ بھی رہے ہیں اور واشنگٹن اور لندن میں ریاست کے سفیر بھی۔ عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق شہزادہ ترکی کا کہنا ہے کہ ”ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ طے شدہ ایٹمی معاہدہ ختم نہیں کرنا چاہیے بلکہ انہیں امریکہ کی مشرق وسطیٰ میں غیرمستحکم ہوتی سرگرمیوں کی طرف توجہ دینی چاہیے۔“ واشنگٹن میں ایک تھنک ٹینک کے زیراہتمام تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہزادہ ترکی الفیصل کا مزید کہنا تھا کہ ”میرا نہیں خیال کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدہ ختم کر دینا چاہیے۔

Image result for ‫ٹرمپ‬‎

صرف امریکہ ہی نہیں، پوری دنیا نے اس معاہدے پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے کئی سال محنت کی ہے، تب کہیں جا کر یہ معاہدہ طے ہو پایا تھا۔ اگر ٹرمپ یہ معاہدہ ختم کر دیتے ہیں تو میں نہیں جانتا کہ وہ اس کی جگہ اور کوئی ضمانت دے سکیں گے کہ ایران دوبارہ اسی راستے پر نہ چل پڑے، جس راستے پر وہ اس معاہدے سے پہلے چل رہا تھا۔ میرے خیال میں اس معاہدے کو جوہری پھیلاﺅ کے انسداد کے کسی مستقل پروگرام کا زینہ بنایا جانا چاہیے :-“

Image result for ‫سعودی عرب ایران‬‎

loading...

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *