بلوچستان میں دہشت گردوں کا بزدلانہ وار، ہلاکتوں کی تعداد 45 ہوگئی

حب -درگاہ شاہ نورانی میں دھماکے کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 45 افراد جاں بحق جب کہ 100 سے زائد زخمی ہوگئے جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ ذرائع کے مطابق بلوچستان کے علاقے حب میں واقع درگاہ شاہ نورانی میں زور دار دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں ابتدائی طور پر متعدد افراد جاں بحق و زخمی ہوگئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق درگاہ شاہ نورانی میں سالانہ میلہ جاری تھا کہ اس دوران مزار کے احاطے میں دھمال کے دوران دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں متعدد افراد جاں بحق و زخمی ہوگئے، دھماکے کے فوری بعد ریسکیو اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں شروع کردیں اور زخمی و جاں بحق ہونے والوں کو اسپتال منتقل کیا گیا۔ انچارج ایدھی لسبیلہ حلیم لاسی نے دھما کے کے نتیجے میں 45 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کردی ہے جب کہ دھماکے میں 100 سے زائد افراد زخمی ہیں، دھماکے میں جاں بحق و زخمی ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ دھماکے کے بعد مزار میں افراتفری مچ گئی اور بھگدڑسے بھی کئی افراد زخمی ہوگئے جب کہ دھماکے کے فوری بعد ضلع بھر کے تمام اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی اور دیگر شہروں سے ڈاکٹرز اور ایمبولینسز کو بھی طلب کیا گیا ہے۔ درگاہ شاہ نورانی میں دھمال کے وقت دھماکے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

دھماکے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے درگاہ کو مکمل طورپر گھیرے میں لے لیا جب کہ درگاہ کو مکمل طور پر خالی کرالیا گیا۔ ایس پی ضلع لسبیلہ محمد جعفر کے مطابق جس جگہ دھماکا ہوا وہ لیویز کا علاقہ ہے، دھماکے کے بعد لیویز اور ایف سی کی نفری علاقے میں پہنچ چکی ہے۔ ایس پی نے بتایا کہ درگاہ شاہ نورانی میں سالانہ میلہ رمضان میں ہوتا ہے اور اس موقع پر ایف سی سمیت دیگر سیکیورٹی اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات ہوتی ہے جب کہ عام دنوں میں بھی درگاہ پر معمولی سیکیورٹی ہوتی ہے۔ ذرائع کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے نے دھماکے کی ابتدائی تحقیقات شروع کردی ہیں جس کے بعد ہی اس بات کا تعین کیا جاسکے گا کہ دھماکا ٹائم ڈیوائس کے ذریعے کیا گیا یہ کوئی خودکش حملہ تھا۔

دھماکے کے بعد صوبائی محکمہ داخلہ نے درگاہ شاہ نورانی میں ہنگامی کنٹرول رول قائم کردیا جس پر دھماکے میں زخمی و جاں بحق ہونے والوں کی معلومات حاصل کرنے کے لیے 9202110-081، 9201002-081 ان نمبروں پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔ شاہ نورانی دھماکے کے بعد وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثنااللہ زہری نے ہنگامی اجلاس طلب کیا جس میں آئی جی بلوچستان اور آئی جی ایف سی سمیت صوبائی وزرا نے شرکت کی جب کہ اجلاس میں شاہ نورانی میں ہونے والے دھماکے کی مذمت کی گئی اور اس میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا عزم کیا گیا۔

وزیر داخلہ چوہدری نثار نے ایف سی کو سیسنا جہاز لینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ زخمیوں کو جہاز کے ذریعے اسپتالوں تک پہنچایا جائے۔ ادھر آئی ایس پی آر کے مطابق کراچی میں پاک آرمی کے تمام اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے، 50 فوجی اور 2 میڈیکل ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ چکی ہیں، آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے سے جہاز کےذریعے زخمیوں کا انخلا ممکن نہیں تاہم ہیلی کے ذریعے امدادی کاموں کی کوشش کی جائے گی۔

ترجمان پاک فوج کے مطابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے بھی زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہےکہ زخمیوں کو نکالنے کے لیے تمام وسائل استعمال کیے جائیں اور معمولی زخمیوں کو موقع پر ہی طبی امداد یقینی بنائی جائے۔ دوسری جانب صدر مملکت ممنون حسین اور وزیراعظم نوازشریف نے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس میں جاں بحق و زخمی ہونے والوں کے لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم نوازشریف کا مذمتی بیان میں کہنا تھا کہ دھماکے کے ذمہ داروں کو کٹہرے میں لایا جائے :-

loading...

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *