بات تو سچ ہے مگر ۔ ۔ ۔

mukhtar-chaudhry

میں نے پچھلے کالم میں پاکستان میں غربت کا باعث بننے والی چند ایک وجوہات بیان کی تھیں لیکن ان وجوہات کے علاوہ بھی بیسیوں وجوہات ہیں جو کہ ایک کالم کی بجائے ایک کتاب کی متقاضی ہیں، پھر بھی میں اس سے پہلے کہ غربت میں کمی کے لئے کچھ تجاویز پیش کروں اکا دکا اور وجوہات کا ذکر بھی کرنا چاہوں گا ۔ ایک بہت بڑی وجہ جاگیردرانہ سوچ ہے اس سوچ نے جہاں  اور بھی بہت برائیوں اور خرابیوں کو جنم دیا ہے وہی غربت کا باعث بھی ہے اور اس سوچ کی وجہ سے لوگ اکثر و بیشتر کوئی نچلے درجے کا کام کرنے سے کتراتے ہیں یا بے عزتی محسوس کرتے ہیں خاص کر پڑھے لکھے نوجوان ڈگریوں کو جیب میں لئیے  گورنمنٹ کی کسی اعلی نوکری کے انتظار میں یا پھر بیرون ملک جانے کی خواہش میں بوڑھے ہو جاتے ہیں لیکن کوئی مزدوری یا عام کام نہیں کرتے، اب حکومت تو ہر کسی کو کام دینے سے رہی،  دیہاتوں کے اندر بیشمار زرعی رقبے بنجر ہو چکے ہیں اور ان کے مالک نوجوان نوکریوں کے لئے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں اگر ان سے کہا جائے کہ اپنی زمین پر کام شروع کر لو تو ان کا جواب یہ ہوتا ہے کہ اس سے گزارہ نہیں ہوتا۔ اصل میں یہ اسی جاگیرانہ سوچ کا ہی شاخسانہ ہے کہ کوئی وقتی طور پر بھی چھوٹا موٹا کام کرنے کو تیار نہیں ہے ۔ پاکستان میں بیروزگاری کے باوجود کام کرنے والوں کو کام مل ہی جاتا ہے۔ ایک اور وجہ بھی ہے کہ اگر کسی خاندان کا ایک آدمی بیرون ملک خصوصی طور پر یورپ چلا جائے تو پیچھے سب کے سب ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاتے ہیں اور خود کو امیر سمجھنا شروع کر دیتے ہیں۔  اس کے علاوہ ایک اور بہت افسوس ناک بات ہے کہ لوگ کام کرنے کے بجائے مانگنے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ ایک زمانہ تھا کہ سب سے مشکل کام مانگنا سمجھا جاتا تھا،  گدا مانگنے کو تو معیوب سمجھا ہی جاتا تھا بلکہ لوگ ادھار مانگنے کو بھی انتہائی مشکل اور توہین آمیز سمجھتے تھے ۔ اور آج مانگنے والے اس طرح بھنبناتے پھرتے  ہیں جیسے گند پر مکھیاں۔ یہ کام صرف غریب یا معذور ہی نہیں کر رہے بلکہ ہر کوئی اس کام پر لگا ہوا ہے دیہاتوں سے لیکر شہروں تک جدھر دیکھو فقیروں کی بھرمار ہے۔ مانگنے والوں میں بڑے بڑے  نام بھی ہیں لیکن میں کسی کا نام لے کر ان کی عزت نفس مجروح نہیں کرنا چاہتا ۔ اگر کسی کو کام کرنے کا مشورہ دو تو منہ دوسری طرف پھیر لیتے ہیں۔ مانگنے والوں کی کئی ایک اقسام ہیں
اب میں پہلے کالم میں بیان کی گئیں وجوہات کے حل اور غربت میں کمی لانے کے لئے کچھ تجاویز پیش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ جن جن لوگوں کی ذمداری ہے وہ بھی اس پر کچھ سوچ بچار کریں گے اور میں اپنے سب دوستوں اور پڑھنے والوں سے بھی گزارش کرتا ہوں کہ وہ سب اپنی اپنی بساط کے مطابق مل کر اس مسلے کے حل کے لئے کچھ کریں ۔
1۔ آبادی ۔ آبادی کو بریک لگانے میں سب سے اہم کردار تو حکومتوں ہی کو کرنا ہے۔ بلا شبہ عوام کا تعاون بھی بہت ضروری ہے لیکن عوام کی تربیت کے لئیے بھی تو حکومت کو ابتدا کرنا ہوگی اور سرکاری اور نجی میڈیا کے ذریعے زیادہ سے زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے اس کے علاوہ علماء کرام کے ساتھ بات کر کے مساجد کے ممبر سے اور سکول کالج کے ذریعے بھی لوگوں تک معلومات فراہم کی جائیں یا پھر چین کی مثل قانون سازی کے ذریعے 2 یا 3 بچوں سے زیادہ کی اجازت نہ دی جائے ۔ لوگوں کو باور کرایا جانا چاہیے کہ ان کی اپنی صحت، ان کے حالات اور بچوں کی اچھی تعلیم و تربیت کے لئیے ضروری ہے کہ کم از کم بچے پیدا کیئے جائیں ۔ ہمارا الیکٹرانک میڈیا جتنے فضول قسم کے پروگرام پیش کر رہا ہے ان میں سے کوئی ایک پروگرام کی جگہ خاندانی منصوبہ بندی پر کوئی ایک ڈھنگ کا پروگرام ترتیب دیا جائے۔ اب یہ تو تھی بڑھتی ہوئی آبادی کو روکنے کے لیے تجاویز لیکن  سردست مسلہ تو  اس آبادی کا ہے جو ہم اب تک پیدا کر چکے ہیں اس کا کیا کیا  جائے؟  تو اس کے لئے میرے خیال میں ہمیں چین، انڈونیشیا اور کوریا جیسے ممالک سے سیکھنا چائیے کہ انہوں نے اپنی افرادی قوت سے کس طرح کام لیکر اپنی پیداوار اور برآمدات میں اضافہ کیا ہے ۔ سب سے پہلے تو ملک میں مردم شماری اور خانہ شماری کا بندوبست کیا جائے اور صیح اعداد و شمار سامنے لائے جائیں کہ اس ملک میں کل کتنے لوگ ہیں  پھر بیروزگاروں کا ڈیٹا بیس تیار کیا جائے جس میں ان کی عمر،  تعلیم و تربیت،  صحت اور انکی صلاحیتوں سمیت معلومات میسر ہوں۔ پھر ملک میں لاکھوں ایکڑ بنجر اور غیرآباد زمین کا سروے کیا جائے اور وہ زمین بیروزگاروں میں اس طرح یا اتنی تعداد میں تقسیم کی جائے کہ اس پر محنت کرنے والے کی گزر بسر ہو سکے ۔ شروع میں حکومت خود آسان قرضوں اور امداد کے ذریعے ان کی مدد کرے کہ زمین میں پیداوار شروع ہو سکیں ۔ مجھے یقین ہے کہ اس طرح ہمارے لاکھوں بیروزگاروں کو مصروف کیا جا سکے گا ۔ میں تو صرف بنیادی بات کر رہا ہوں اس پر عمل درآمد کے سیکڑوں مختلف طریقے ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ پرائیویٹ سیکٹر کے ذریعے سے بھی اس پر عمل درآمد ہو سکتا ہے ۔ سوڈان جیسے غریب ترین ملک میں بھی اس کو بروئے کار لایا۔ میں نے پچھلے کالم میں پاکستان میں غربت کا باعث بننے والی چند ایک وجوہات بیان کی تھیں لیکن ان وجوہات کے علاوہ بھی بیسیوں وجوہات ہیں جو کہ ایک کالم کی بجائے ایک کتاب کی متقاضی ہیں، پھر بھی میں اس سے پہلے کہ غربت میں کمی کے لئے کچھ تجاویز پیش کروں اکا دکا اور وجوہات کا ذکر بھی کرنا چاہوں گا ۔ ایک بہت بڑی وجہ جاگیردرانہ سوچ ہے اس سوچ نے جہاں  اور بھی بہت برائیوں اور خرابیوں کو جنم دیا ہے وہی غربت کا باعث بھی ہے اور اس سوچ کی وجہ سے لوگ اکثر و بیشتر کوئی نچلے درجے کا کام کرنے سے کتراتے ہیں یا بے عزتی محسوس کرتے ہیں خاص کر پڑھے لکھے نوجوان ڈگریوں کو جیب میں لئیے  گورنمنٹ کی کسی اعلی نوکری کے انتظار میں یا پھر بیرون ملک جانے کی خواہش میں بوڑھے ہو جاتے ہیں لیکن کوئی مزدوری یا عام کام نہیں کرتے، اب حکومت تو ہر کسی کو کام دینے سے رہی،  دیہاتوں کے اندر بیشمار زرعی رقبے بنجر ہو چکے ہیں اور ان کے مالک نوجوان نوکریوں کے لئے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں اگر ان سے کہا جائے کہ اپنی زمین پر کام شروع کر لو تو ان کا جواب یہ ہوتا ہے کہ اس سے گزارہ نہیں ہوتا۔ اصل میں یہ اسی جاگیرانہ سوچ کا ہی شاخسانہ ہے کہ کوئی وقتی طور پر بھی چھوٹا موٹا کام کرنے کو تیار نہیں ہے ۔ پاکستان میں بیروزگاری کے باوجود کام کرنے والوں کو کام مل ہی جاتا ہے۔ ایک اور وجہ بھی ہے کہ اگر کسی خاندان کا ایک آدمی بیرون ملک خصوصی طور پر یورپ چلا جائے تو پیچھے سب کے سب ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاتے ہیں اور خود کو امیر سمجھنا شروع کر دیتے ہیں۔  اس کے علاوہ ایک اور بہت افسوس ناک بات ہے کہ لوگ کام کرنے کے بجائے مانگنے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ ایک زمانہ تھا کہ سب سے مشکل کام مانگنا سمجھا جاتا تھا،  گدا مانگنے کو تو معیوب سمجھا ہی جاتا تھا بلکہ لوگ ادھار مانگنے کو بھی انتہائی مشکل اور توہین آمیز سمجھتے تھے ۔ اور آج مانگنے والے اس طرح بن بناتے ہیں جیسے گند پر مکھیاں۔ یہ کام صرف غریب یا معذور ہی نہیں کر رہے بلکہ ہر کوئی اس کام پر لگا ہوا ہے دیہاتوں سے لیکر شہروں تک جدھر دیکھو فقیروں کی بھرمار ہے۔ مانگنے والوں میں بڑے نام بھی ہیں لیکن میں کسی کا نام لے کر ان کی عزت نفس مجروح نہیں کرنا چاہتا ۔ اگر کسی کو کام کرنے کا مشورہ دو تو منہ دوسری طرف پھیر لیتے ہیں۔
اب میں پہلے کالم میں بیان کی گئیں وجوہات کے حل اور غربت میں کمی لانے کے لئے کچھ تجاویز پیش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ جن جن لوگوں کی ذمداری ہے وہ بھی اس پر کچھ سوچ بچار کریں گے اور میں اپنے سب دوستوں اور پڑھنے والوں سے بھی گزارش کرتا ہوں کہ وہ سب اپنی اپنی بساط کے مطابق مل کر اس مسلے کے حل کے لئے کچھ کریں ۔
1۔ آبادی ۔ آبادی کو بریک لگانے میں سب سے اہم کردار تو حکومتوں ہی کو کرنا ہے۔ بلا شبہ عوام کا تعاون بھی بہت ضروری ہے لیکن عوام کی تربیت کے لئیے بھی تو حکومت کو ابتدا کرنا ہوگی اور سرکاری اور نجی میڈیا کے ذریعے زیادہ سے زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے اس کے علاوہ علماء کرام کے ساتھ بات کر کے مساجد کے ممبر سے اور سکول کالج کے ذریعے بھی لوگوں تک معلومات فراہم کی جائیں یا پھر چین کی مثل قانون سازی کے ذریعے 2 یا 3 بچوں سے زیادہ کی اجازت نہ دی جائے ۔ لوگوں کو باور کرایا جانا چاہیے کہ ان کی اپنی صحت، ان کے حالات اور بچوں کی اچھی تعلیم و تربیت کے لئیے ضروری ہے کہ کم از کم بچے پیدا کیئے جائیں ۔ ہمارا الیکٹرانک میڈیا جتنے فضول قسم کے پروگرام پیش کر رہا ہے ان میں سے کوئی ایک پروگرام کی جگہ خاندانی منصوبہ بندی پر کوئی ایک ڈھنگ کا پروگرام ترتیب دیا جائے۔ اب یہ تو تھی بڑھتی ہوئی آبادی کو روکنے کے لیے تجاویز لیکن  سردست مسلہ تو  اس آبادی کا ہے جو ہم اب تک پیدا کر چکے ہیں اس کا کیا جائے؟  تو اس کے لئے میرے خیال میں ہمیں چین، انڈونیشیا اور کوریا جیسے ممالک سے سیکھنا چائیے کہ انہوں نے اپنی افرادی قوت سے کس طرح کام لیکر اپنی پیداوار اور درآمدات میں اضافہ کیا ہے ۔ سب سے پہلے تو ملک میں مردم شماری اور خانہ شماری کا بندوبست کیا جائے اور صیح اعداد و شمار سامنے لائے جائیں کہ اس ملک میں کل کتنے لوگ ہیں  پھر بیروزگاروں کا ڈیٹا بیس تیار کیا جائے جس میں ان کی عمر،  تعلیم و تربیت،  صحت اور انکی صلاحیتوں سمیت معلومات میسر ہوں۔ پھر ملک میں لاکھوں ایکڑ بنجر اور غیرآباد زمین کا سروے کیا جائے اور وہ زمین بیروزگاروں میں اس طرح یا اتنی تعداد میں تقسیم کی جائے کہ اس پر محنت کرنے والے کی گزر بسر ہو سکے ۔ شروع میں حکومت خود آسان قرضوں اور امداد کے ذریعے ان کی مدد کرے کہ زمین میں پیداوار شروع ہو سکیں ۔ مجھے یقین ہے کہ اس طرح ہمارے لاکھوں بیروزگاروں کو مصروف کیا جا سکے گا ۔ میں تو صرف بنیادی بات کر رہا ہوں اس پر عمل درآمد کے سیکڑوں مختلف طریقے ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ پرائیویٹ سیکٹر کے ذریعے سے بھی اس پر عمل درآمد ہو سکتا ہے ۔ سوڈان جیسے غریب ترین ملک میں بھی اس کو بروئے کار لایاگیا ہے ۔ اب یہ تو تھا زمین کی حد تک اس کے علاوہ بھی بہت سارے ایسے شعبے ہیں جن میں بیروزگاروں کو کھپایا جا سکتا ہے  ملک میں بیشمار بیمار یا اپاہج صنعتی یونٹس بند پڑے ہوئے ہیں اور اب انرجی کی صورتحال بھی بہتر ہو رہی ہے تو ان یونٹس کو بھی چالو کیا جا سکتا ہے اس کے علاوہ حکومت خود یا پرائیویٹ سرمایہ کاری کے ذریعے ٹیکنیکل اور تربیتی مراکز قائم کرے جو ہر سال ہزاروں نوجوان لڑکے لڑکیوں کو ہنر مند بنانے کا کام کریں پھر ان سے کئی مختلف شعبوں میں کام لیا جا سکتا ہے جس سے ملکی پیداوار کے ساتھ ساتھ بررآمدات میں بھی اضافہ کیا جا سکتا ہے ۔
یہ تو تھیں آبادی کے مسلے سے نمٹنے کے حوالے سے کچھ تجاویز ۔ اب بات ہو جائے وسائل کی منصفانہ تقسیم کی ۔ یہ کام تھوڑا مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن یہ بھی نہیں ہے ۔ سب سے پہلے تو جہاں تک ممکن ہو زرعی شعبے میں اصلاحات لانا نہایت ضروری ہے کم از کم ان بیسیوں خاندانوں سے تو کچھ زمین واپس لی جائیں جو ہزاروں ایکڑ یا مربعوں کے مالک ہیں یا کم از کم ان پر زمین کو آباد کرنے اور فی ایکڑ کم از کم  پیداوار کی پابندی عائد کی جائے۔ اور ان کو ٹیکس نیٹ ورک میں لا کر مناسب ٹیکس لیا جائے ۔ اس کے علاوہ بھرتیوں میں ہر کسی کو اس کی صلاحیت کے مطابق برابر مواقع دیئے جائیں اور زندگی کے ہر شعبے میں میرٹ کی پابندی کو سختی سے رائج کیا جائے اور کسی بھی جگہ ناانصافی یا اقرباپروری کی شکایت کی صورت میں تیز رفتار انصاف مہیا کیا جائے ۔ جہاں تک قدامت پسندی یا مذہبی رجعانات کا معاملہ ہے وہ میں اوپر بھی بیان کر چکا ہوں کہ علماء سے بات کی جائے اور ان کو قائل کیا جائے کہ وہ فرسودہ روایات کو اسلام کے نام پر استعمال نہ کریں اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کریں۔ یاد رہے کہ ملک کی نصف آبادی خواتین کو ہر میدان میں کام کرنے کے برابر مواقع دیئے بغیر ہم غربت میں کمی لانے میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکیں گے ۔ اس لئیے یہ بہت ہی ضروری ہے کہ ملک میں تربیت کے ذریعے ایسا ماحول اور حالات پیدا کرنے کی کوشش کی جائے کہ خواتین آزادی سے کام کر کے ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔
جہاں تک پاکستان میں صحت کے مسائل کا تعلق ہے اس کے لئے سب سے اہم بات یہ ہے کہ لوگوں کو اس حوالے سے معلومات ملیں کہ کس طرح وہ مختلف بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں یہ کام حکومت کے ساتھ ساتھ میڈیا، اساتذہ (بشرط کہ ان کو خود بھی کچھ پتا ہو)، این جی اوز اور سول سوسائٹی کے کرنے کا  ہے ۔ آج پاکستان میں جس قدر صحت کے مسائل ہیں یہ آج سے 30 سال پہلے نہیں تھے  اس مسلے پر میں الگ سے ایک یا زیادہ کالم بھی لکھوں گا اور لوگوں کو اچھی صحت کے حوالے سے کچھ معلومات بھی فراہم کروں گا  لیکن آج اتنا کہنا چاہوں گا کہ ملک میں کھیلوں کو فروغ دینے کی ضرورت ہے اور لوگوں کو صیح اور مناسب  غذا  کی معلومات اور  وبائی امراض سے بچنے کے لئے معلومات فراہم کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ میں یہ سمجھتا ہوں اور ہمیشہ زور دے کر کہتا ہوں کہ صحت کے حوالے سے ہسپتال،  ڈاکٹر اور دوائیں آخری آپشن ہے اصل کام یہ ہے کہ کوئی بیمار ہی نہ ہو ۔ اور یہ تب ہی ممکن ہوگا جب لوگوں کے پاس مناسب معلومات ہوں گی اور بچوں اور نوجوانوں کو کھیل کے مواقع میسر آئیں گے
اب آخر میں غربت میں کمی کے لئے ایک ایسی تجویز پیش کرنا چاہتا ہوں جس پر بہت غور کی ضرورت ہے حکومت کے ساتھ ساتھ سول سوسائٹی،   مخیر حضرات اور عام لوگوں کو بھی ذمداری لینے کی ضرورت ہے اور یہ ہے مانگنے والوں اور دینے والوں کے متعلق ۔ خدارہ یہ جگہ جگہ مانگنے والوں کو 10، 20 ، 50 یا 100 روپے دینے کے بجائے مل کر کوئی مشترکہ ادارہ قائم کریں جس کے ذریعے حقدار لوگوں کی مدد کی جائے اور ان کو اپنے پاوں پر کھڑا کرنے کے لئے مدد اور تربیت فراہم کی جائے ۔ ورنہ جس طرح آپ سب لوگ خیرات دیتے رہتے ہو اس طرح ہم مزید فقیر ہی پیدا کریں گے ۔ میں پہلے بھی اس مسلے پر ایک پورا کالم لکھ چکا ہوں بالخصوص حکومت کو اس مسئلے کے حل کی طرف توجہ دینا ہوگی یہ مسلہ ایسا ناسور بنتا جا رہا ہے جس سے ہر بندہ متاثر ہوگا ۔ مخیر حضرات خاص کر تارکیں وطن بھائیوں سے گزارش ہے کہ وہ اس مسلے کو حل کرنے کے لئے مل کر کسی لائے عمل پر غور کریں اور خلوص دل سے اپنی ذات سے اوپر اٹھ کر اس مسلے کا حل تلاش کریں ۔ تارکین وطن اگر مل کر اس کام کا بیڑا اٹھا لیں تو ان کی طرف سے یہ پاکستان کی بہت بڑی خدمت ہوگی ۔ پاکستانی قوم کا نام ان ممالک میں آتا ہے جو نجی شعبے میں سب سے زیادہ خیرات کرنے والے ہیں لیکن مسلہ یہ ہے کہ یہ کام منظم طریقے سے نہ ہونے کی وجہ سے فائدے کے بجائے مزید خرابیوں کا باعث بن رہا ہے ۔ اس لئے اس کو منظم کرنے کی بے حد ضرورت ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *