برطانہ میں ہم پاکستانی

طارق احمدwe Pakistani in Britain

ٹیکسی عین مقررہ وقت پر میرے گھر کے دروازے پر پہنچ گئی تھی اور اب ٹیکسی ڈرائیور اندر گھر کی جانب نگائیں لگائے ہمارے نکلنے کا انتظار کر رہا تھا۔ میں نے تقریباٰ دو گھنٹے پہلے ٹیکسی آفس فون کر کے اسے بک کیا تھا۔ ایک کار میرا بیٹا ہسپتال لے گیا تھا علاج کروانے نہیں بلکہ وہ وہاں جاب کرتا ہے اور دوسرا کار میرا دوسرا بیٹا یونیورسٹی لےگیا تھا جہاں وہ پڑھتا ہے۔ ایسا پہلی بار ہی ہوا تھا۔ مجھے ایک پارٹی پر جانا تھا اور ٹیکسی اسی کار خیر کی خاطر منگوائی تھی۔ مسجد کا امام جمعے کی نماز پڑھانے میں دیر کر سکتا ہے لیکن یہاں کا ٹیکسی والا ایک منٹ بھی لیٹ نہیں ہو سکتا ۔ میں نے اپنے کمرے کی کھڑکی سے اسے دیکھ لیا تھا اور اپنی گھڑی کا ٹائم بھی درست کر لیا تھا۔ میری گھر والی نے اپنی تیاری کو آخری ٹچ دی۔ لپ سٹک کو چیک کیا، دو پٹہ ٹھیک طریقے سے اوڑھا اور پھر میری جانب داد طلب آنکھوں سے دیکھا جیسے پوچھ رہی ہو، کیسی لگ رہی ہوں؟ گزشتہ پچیس سالوں سےکہیں بھی جانا ہو۔ میری بیوی تیار ہو کر ضرور مجھ سےبول کر یا بغیر بولے یہ معلوم کرتی ہے کہ وہ کیسی لگ رہے ہے اور آیا کپڑوں کی میچنگ ٹھیک ہے؟ اب خدا شاہد ہے ہم اتنے سادے ہیں۔ آج تک کپڑوں کی کلر سکیم ، میک اپ کا تال میل، جوتی کا رنگ و روپ اور ہینڈ بیگ کی بناوٹ اور سجاوٹ اور ان سب کا آپس میں تعلق  داری اور میچینگ کی گھتیاں نہیں سلجھا سکا۔ ایک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا۔۔۔۔۔۔۔اول تو بیوی خود کسی اسرار سےکم نہیں جس کا سراغ لگانا ایک مشکل کام ہے۔ اوپر سےسج دھج کر یہ پوچھنا کہ کیسی لگ رہی ہوں۔ ہم بھی خوشدلی سے مسکرا کر حاتم طائی کی قبر پر لات مار دیتے ہیں۔ بخدا بہت اچھی لگ رہی ہو اور وہ بھی بھلی مانس ایسی کہ یقین کر کے فورا خوش ہو جاتی ہے۔ البتہ ایک ایسا ہی سوال بیوی کھانے کی میز پر بھی کرتی ہے۔ ادھر پہلا نوالا ابھی منہ اور حلق کے درمیانی منزلوں پر ہوتا ہے اور وہ توپ کے گولے کی مانند سوال داغ دیتی ہے۔۔۔۔۔۔۔ کیسا پکا ہے۔۔۔؟ یہ سنتے ہی نوالا پل صراط پر ڈگمگانے لگتا ہےجیسے پیٹ کے دوزخ میں اترنے سے انکاری ہو۔ ادھر بیوی کی آنکھوں میں آپشن بھیانک ہی ہوتی ہے۔ اتنی محبت اور محبت سے پکایا ہے۔ اچھا ہی ہوگا۔ ادھر ہم زور سے سر ہلا کر نوالے کو دھکا لگاتے ہیں۔ اور وہ سمجھتے ہیں کھانے کا حال اچھا ہے۔ بہرحال ہنسی مزاق ایک جانب۔۔۔۔۔۔۔ ہماری بیوی ایک اچھی خاتون خانہ ہیں اور تعریف کرنا ہمارا فرض ہے۔ ویسے بھی حضرت علامہ اقبال نے ایسے شوہروں کےلیے ہی یہ شعر ادا کیا تھا۔

وہ ایک سجدہ جسے تو گران سمجھتا ہے

ہزاروں سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات

ٹیکسی والا اپنا آدمی تھا یعنی پاکستانی۔ چنانچہ جیسے ہی ٹیکسی روانہ ہوئی ہم نے باتیں شروع کر دیں ایک بار ایک شخص نے ہمیں کہا تھا، آپ بولتے بہت ہو، اور ہمارا جواب تھا، ہم بولنے کا ہی کماتے اور کھاتے ہیں۔ اشارہ ہماری پروفیسری کی جانب تھا۔ لیکن اس ملک میں آکر دیکھا خاموشی بہت ہے۔۔۔۔۔۔ اداسی بہت ہے۔۔۔۔۔۔ اکیلا پن بہت ہے۔ چنانچہ جیسے ہی موقع ملتا ہے لوگ بولتے ہیں۔ بے تکان بولتے ہیں اور کسی دوسرے کی باری بھی نہیں آنے دیتے۔ یہ ٹیکسی والا بھی بڑ بولا تھا۔ ٹیکسی کےمیٹر کی مانند اس کی زبان بھی چل رہی تھی جہاں کہں رکتا ہم ایک اور سوال کر دیتے۔ یاد رہے یہاں برطانیہ میں پاکستانی تاریکین وطن کا ایک بڑا حصہ ٹیکسی کے کاروبار سے منسلک ہے۔ معلوم ہوا یہ بندہ آج سے بیس سال قبل منگریتر ویزے پر یہاں آیا تھا۔ خوش قسمتی سے تب سے اس کی ٹیکسی بھی چل رہی ہے اور گھر بھی چل رہا ہے۔ ورنہ یہاں طلاق ولاق کا ہو جانا ایک معمول کی بات ہے۔ یہان کی لڑکی وہاں کا لڑکا یا یہاں کا لڑکا وہاں کی لڑکی گویا زمین و آسمان کا ملاپ۔ دو دنیا ۔۔۔۔۔ دو کلچر۔۔۔۔۔ دو مختلف انسان۔۔۔۔۔ نبھا بھی کیسے ہو؟ پھر بھی لوگوں نےخوب نبھایا اور اب یہ تبدیلی کہ لڑکی اور لڑکا دونوں یہیں سے۔۔۔۔ وہ اس لیے کہ پاکستانیوں کی تیسری نسل یہاں پیدا ہو کر یہیں پل کر بڑی ہوگئی۔ تعداد بڑھ گئی اور ماضی کے تلخ تجربے۔ چنانچہ اب زیادہ شادیاں یہیں ہونے لگیں۔ اب تو چوتھی نسل کے بچے بھی سڑکوں پر نظر آنے لگے۔ ٹیکسی ڈرائیور مسلسل بول رہا تھا۔ کہنے لگا میرے والد یہاں ایک فیکٹری ورکر تھے انہوں نے بڑی محنت کی۔ ساری زندگی گھر اور فیکٹری کے درمیان گزار دی۔ پراپرٹی بھی اچھی خاصی بنا لی۔ وہ سستے زمانے تھے، اب تو برطانیہ میں تمام فیکٹریاں بند ہوگئیں اور بنگلہ دیش اور کوریا جیسے ممالک میں منتقل ہوگئیں۔چنانچہ مین اب ٹیکسی کا کاروبار کرتا ہوں اللہ کا شکر ہے۔ میری دو اور ٹیکسیاں بھی ہیں۔ اس کاروبار میں بھی مندا آگیاہے اور بے شمار لوگ اس کاروبار میں آگئےہیں۔ میں نے ہنس کر کہا آبادی بھی تو بڑھ گئی ہے۔ کہنے لگا خدا کا شکر ہے ٹھیک کما لیتا ہوں۔ میں نے مسکرا کر کہا تو ٹیکس بھی تو دیتے ہونگے۔ میری بات سن کر دانت نکوس کر قہقہہ لگایا ٹیکس کون دیتا ہے۔ بس خانہ پری کر لیتے ہیں۔ سوچ رہا ہوں کچھ پراپرٹی خریدلوں لیکن ڈرتا ہوں کہیں پکڑا نہ جاؤں۔ بغیر ٹیکس کی آمدن سے کچھ خریدنا بھی مشکل ہے۔ میں خاموش رہا، مجھے معلوم تھا ہمارے یہاں بے شمار ایسے لوگ ہیں جو دکاندار ہیں، ٹیکسی کا کاروبار کرتےہیں بلکہ یوں کہنا چاہیے اگر ٹیکسی کے بعد اپنے لوگوں کا کوئی دوسرا بزنس فیلڈ ہے تو وہ کارنر شاپ کا ہے۔ پوری فیملی مل کر یہ کام کرتی ہے۔ صبح آٹھ نو بجے دکان کھولتےہیں اور رات آٹھ نو بجے بند کرتےہیں۔مہینے کے چار ہفتے اور سال کے بارہ مہینے، کوئی چھٹی نہیں۔ کچھ ٹٰکس دیتے ہیں کچھ نہیں۔ ٹیکسی کا کاروبار تو مکمل کیش پر ہے لیکن اب پاکستان میں پراپرٹی خریدنے کا فیشن نہیں رہا۔ جو کبھی خریدی تھی پہلی نسل کےلوگوں نے یہ سوچ کر کہ کبھی واپس جائیں گے، اس پر رشتہ داروں نے قبضہ کر لیا اور خود یہیں مر کر دفن ہوگئے۔ یہاں خرید نہیں سکتے چنانچہ گھروں میں ہی بے تحاشہ کیش رکھا ہے جسے دیکھ کر خوش ہو لیتے ہیں۔ ویسے جو اپنے لوگ پراپرٹی کا کام کرتےہیں اور ٹیکس ادا کرتے ہیں انہوں نےیہاں بہت زیادہ پراپرٹی بنالی ہے غالباَ سینکڑوں میں۔ گویا ہر طرح کےلوگ۔

البتہ یہاں کے وہ لوگ جو زیادہ تر دکاندار اور ٹیکسی والے ہیں انہوں نے یہاں ایک نیک کام یہ کیا ہے جگہ جگہ مسجدیں کھول دی ہیں تا کہ اپنے اپنے مسلک اور فرقے کے پرچار میں سہولیت رہے۔ پاکستان کے دور افتادہ دیہاتوں سے پڑھے لکھےمولوی یعنی مدرسوں کے فارغ التحصیل عالم بلوا کر ان مسجدوں میں بیٹھا دیے ہیں جو یہاں کے پیدا شدہ بچوں کو بڑی فصاحت و وضاحت سے بتاتے ہیں ان کے فرقے کی کیا خوبیاں اور دوسرے فرقے کی کیا خامیاں ہیں۔ گویا ہماری جو ادائیں وہاں تھیں وہی ادائیں یہاں ہیں اور عشاق کے قافلے ان علماء کرام کے ہاتھوں بے دست و پا ہو کر عیدین بھی دو یا تین کرنے پر مجبور ہیں۔ اچھا ہے۔۔۔۔۔۔ زیادہ دنوں تک رونق لگی رہتی ہے۔

ٹیکسی والا میٹر کے مطابق اپنا بل لیکر کسی نئےمسافر کی جانب ہو لیا اور ہم میزبان کے گھر کے اندر قدم بڑھائے۔ ہمارے میزبان ایک پرانےڈاکٹر تھے جو اب ریٹائر ہو چکے ہیں۔ عید کی پارٹی میں ان سے ملاقات ہوئی تھی اور آج انہوں نے ہمیں دعوت پر مدعو کیا تھا۔ گھر بہت شاندار اور وسیع و عریض تھا ۔ ایک بار تو ہماری آںکھیں بھی دنگ رہ گئیں، ہمارے چہرے کی طول و عرض میں پھیلی حیرت دیکھکر یوں محسوس ہوا جیسے ہمارے میزبان کو دلی سکون ملا ہو۔ انکے چہرے پر اطمینان اور آسودگی بھری مسکراہٹ پھیل گئی تھی۔ برطانیہ میں ٹیکسی ڈرائیوروں اور دوکانداروں کے بعد اگر پاکستی کسی شعبے سے مسنلک ہیں تو وہ  میڈیسن کا شعبہ ہے اور اچھی خاصی تعداد میں ڈاکٹر فیملیز نظر آجاتی ہیں۔ معلوم ہوا ہمارے علاوہ اس پارٹی میں آٹھ دس اور بھی فیملیز مدعو ہیں جو کہ اتفاق سے سب ہی ہمارے اچھے دوست تھے۔ یہاں ڈاکٹروں کی بھی دو اقسام ہیں بڑے ڈاکٹر یعنی کنسلٹنٹ اور چھوٹے ڈاکٹر یعنی جی پی اور سٹاف گریڈ۔ بڑے ڈاکٹروں کی انکم بڑی ہے۔ چنانچہ ان کے گھر بھی بڑے ہیں اور کارییں بھی بڑی ہیں۔ کچھ بڑے ڈاکٹروں کا نخرہ بھی بڑا ہے اور وہ عام طور پر اپنی ہی ذات کے گنبد میں گم ہیں۔ چوندے چوندے لوگوں سے ملتے ہیں اور عوام سے پرہیز کرتے ہیں لیکن زیادہ تر ڈاکٹر حضرات انتہائی خوبصورت انسان اور بہترین دوست ہیں۔ سچی بات ہے ہمارا زیادہ تر میل ملاپ اسی گروپ کے ساتھ ہے۔ آٹھ دس فیملی فرینڈز۔۔۔۔ اچھا وقت گزر جاتا ہے۔ سیاست، کرکٹ، سماج اور بچوں کے معاملات اور یا پھر محکمہ صحت کی باتیں۔ درمیان میں کوئی ایک آدھ لطیفہ۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر ایک انتہائی لزیز اور وسیع و عریض کھانا۔ انواع و اقسام سے بھرپور اور ہم سب کے تابڑ توڑ حملے۔ آخرپاکستانی ہیں اور کھانے کےشوقین ہیں۔ بڑھے ہوئے پیٹ خوشحالی اور خوش  خوراکی دونوں کا مظہر ہیں۔

کہیں کہیں کبھی کسی ایک آدھ اکاؤنٹینٹ اور وکیل سے بھی ملاقات ہو جاتی ہے۔ اور کوئی ٹیچر بھی نظر آجاتا ہے۔ گویا پیشے آہستہ آہستہ بڑھ رہے ہیں۔ سڑکوں پر شلواروں والے مرد اور شٹل کاک برقعوں والی خواتین اور حجاب والی لڑکیوں کی تعداد اب زیادہ نظر آنے لگی ہے ۔عورتیں باہم مل بیٹھتی ہیں۔ مذہب کی بات ہوتی ہے اور چغلی بخیلی بھی چل جاتی ہے۔ مردوں نے اپنی بیٹھکیں بنا لی ہیں۔۔۔۔ گوروں کے دیس میں ہم دیسیوں کے یہ جزیرے ہیں اور قفس کے ان جزیروں میں ہمیں آرام بہت ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *