پاک بھارت ایٹمی جنگ ہوئی تو کیا ہوگا، ہولناک تحقیق آگئی

missiles

اگر پاکستان اور بھارت اپنی ایٹمی طاقت کا آدھا حصہ بھی جنگ میں استعمال میں لے آتے ہیں تو  21 ملین لوگ فوری طور پر موت کے منہ میں چلے جائین گے اور اوزون لئیر کا آدھا حصہ مکم تباہ ہو جائےگا۔ نیو کلیر بارشوں کو وجہ سے دنیا بھر کی  ذراعت اور مون سون سیزن مکمل طور پر تباہ ہو جائے گا۔ جہاں بھارتی فوج دہشت گردوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دے رہی ہے،  بھارتی رولنگ پارٹی بی جے پی کا پارلیمنٹ کا ممبر ایٹمی حملہ کرنے کی تجویز دے رہا ہے اور پاکستان جوابی کاروائی کے لیے تیار رہنے کا عندیہ دے رہا ہے تو اس صورتحال میں ہم امریکی یونیورسٹیز کے محقیقین کی طرف سے پیش کردہ وہ حقائق آپ کے سامنے لائین گے جو اس ممکنہ ایٹمی جنگ کے نتائج کو تفصیلا بیان کر رہے ہیں تاکہ ایٹمی جنگ کا راگ الاپنے والوں کے ہوش ٹھکانے لانے میں مدد مل سکے۔ بی جے پی کے ایم پی سوامی نے 23 ستمبر کو کہا تھا کہ اگر پاکستان کے ایٹمی حملے میں ایک ارب بھارتی شہری مرتے ہیں تو جوابی حملے میں پاکستان کو دنیا کے نقشے سے مٹایا بھی جا سکتا ہے۔ اگر یہ جنگ اس حد تک بڑھ جاتی ہے تو نقصان اندازے سے کہیں زیادہ ہو گا اور یہ نقصان صرف پاکستان اور بھارت تک محدود نہیں رہے گا۔ 21 ملین لوگ حملے کے بعد ایک ہفتے کے اندر موت کے منہ میں جائیں گے جو جنگ عظیم 2 کے دوران مرنے والوں کی تعداد کے دو گنا ہے۔ یہ ریسیرچ 2007 میں رتجر یونیورسٹی ، یونیورسٹی آف کولریڈو بولڈر اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا  کے محققین نے پیش کی تھی۔ مرنے والوں کی تعداد 9 سال میں بھارت کی ٹوٹل اموات کے 2221 گنا زیادہ ہو گی۔ دنیا بھر کے 2 بلین لوگ بھوک اور قحط کا شکار بن سکتے ہیں  جس کی وجہ ایٹمی دھماکے کی وجہ سے کلائمیٹ پر پڑنے والے اثرات ہوں گے۔ پاکستان کے وقت اس وقت 130 کے لگ بھگ ایٹمی وار ہیڈ موجود ہیں۔ جب کے انڈیا کے پاس ایٹمی وار ہیڈ کی تعداد 120 کے قریب ہے۔

ایٹمی جنگ کے بارے میں گفتگو اوڑی میں ہونے والے حملے کے بعد شروع ہوئی جس میں 18 بھارتی فوجی مارے گئے تھے اور بھارت نے حملے کا الزام بغیر تحقیق پاکستان پر ڈال دیا تھا۔  بھارتیوں کا دعوی تھا کہ جیش محمد اور لشکر طیبہ اس حملے میں شامل تھے۔ بھارتی دھمکیوں کا جواب دیتے ہوئے خواجہ آصف جو پاکستان کے وزیر دفاع ہیں نے بتایا کہ پاکستان کی سکیورٹی کو دیکھتے ہوئے ہم ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔ اس سے قبل پاکستان کی ایٹمی قوت کی وجہ سے بھارت کبھی پاکستان پر حملے کی جرات نہیں کر پایا۔ اینلسٹ منوج جوشی نے 'دی وائر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت جس طرح کا بھی حملہ کرے اسے پاکستان کے برابر ہی نقصان اٹھانا پڑے گا۔ انڈیا کا پاکستان سے کم ایٹمی ہتھیار کا مالک ہونا بھی زیادہ معنی خیز ثابت نہیں ہوتا کیونکہ حملہ کوئی بھی کرے  نقصان دونوں ملکوں کو بھگتنا ہو گا۔ انڈیا کے ایٹمی ہتھیاروں کی تفصیلات کے لیے ملاحظہ کریں دی گئی تفصیلات: پاکستان کے 66 فیصد ہتھیار بالسٹک میزائل پر مبنی ہین۔ 66 فیصد ہی نیو کلیر وار ہیڈ کو بالسٹک میزائل پر موجود رکھا گیا ہے ۔ پاکستان کے حتف میزائل کی سیریز ابھی بھی تکمیل کے مراحل میں ہے۔ پاکستان کی طرف سے ایک نارمل ایٹمی حملہ بھی بھارت کے کروڑوں لوگوں کی آبادی والے شہروں پر کیا جا سکتا ہے جن میں نئی دہلی، ممبئی، بنگلور، اور چنائی اہم ہیں۔ پاکستانی میزائل بھارتی آرمی کے میجر کمانڈ کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔ پاکستان کے40 بیلسٹک میزائل کو غوری کے برابر قرار دیا جا سکتا ہے۔

اس میزائل کی رینج 1300 کلومیٹر ہے اور یہ دہلی، جے پور، احمد آباد، ممبئی، پیونے، ناگپور، بھوپال اور لکھنو کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

پاکستان کے 8 وارہیڈ کو شاہین 2 کا نام دیا گیا ہے ۔ ان کی رینج 2500 کلومیٹر ہے اور یہ انڈیا کے تقریبا ہر شہر کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں جن میں خاص طور پر کلکتہ شہر قابل ذکر ہے۔ 16 غزنوی میزائل کے زریعے سمندر کے آس پاس کے علاقوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس میزائیل کی رینج 270 سے 350 کلومیٹر تک ہے۔ یہ لدھیانہ، احمد آباد اور دہلی کے علاقوں کو تباہ کر سکتا ہے۔

Image result for atomic war

پاکستان کے پاس 16 نیو کلیر شاہین 1 ہیں جو کم رینج کے بیلسٹک میزائل ہیں  ان کی رینج 750 کلومیٹر کے لگ بھگ ہے اور یہ لدھیانہ ااور احمد آباد جیسے علاقوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ 60 کلو میٹر کی رینئج کے نصر میزائل بھی پاکستان کے لیے بہت اہم ہیں جو نیو کلیر ہتھیاروں کے حملے کے لیے مفید ثابت ہو سکتےہیں۔ یہ میزائل بھارت کے ہتھیاروں کی خاص جگہوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔،350 کلو میٹر رینج کے بابر میزائل بھی نیو کلیر وار ہیڈ کے طور پر استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ ائیر کرافٹ کے ذریعے پاکستان اپنے 28 فیصد وار ہیڈز کو استعمال کر سکتا ہے۔ امریکی  ایف سولہ طیاروں کے ذریعے ایک وقت میں 24 جب کہ فرانس کے میراج 111 اور 4 میں 12 ایٹم بم لے جائے جا سکتے ہیں۔

انڈیا کی ایٹمی طاقت۔ سبمیرائن، میزائل اور ائیر کرافٹ

انڈیا کے پاس پرتھوی اور اگنی میزائل کی تعداد 56 ہے۔ یہ بھارت کے وار ہیڈ کے 53 فیصد ہتھاروں کو منتقل کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ انڈیا نے نیو کلیر وار ہیڈ کے لیے ساگاریکا سبمیرائین بیلسٹک میزائل بھی بنا رکھے ہیں۔ پاکستان کے محدود جغرافیہ کو دیکھتے ہوئے بھارت اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور اور کراچی پر حملے کرے گا۔ بھارت کے نشانے پر پاکستان آرمی کے نوشہرہ ھیڈکوارٹرز بھی ہوں گے۔ لاہور اور کراچی پر ایٹمی حملہ کرنے کی صورت میں بھارت اور افغانستان کے بارڈر پر موجود علاقے بھی بہت متاثر ہوں گے۔ 250 کلو میٹر کی رینج کا پریتھوی انڈیا کے 24 وار ہیڈز کو لے جا سکتا ہے۔ یہ میزائل پاکستان کے بڑے شہروں کو نشانہ بنا سکتے ہیں جن میں لاہور، سیالکوٹ، اسلام آباد، اور راولپنڈی شامل ہیں۔ انڈیا کے پاس 20 نیو کلیر نوکدار اگنی 1 اور 8 اگنی 2 ہیں جن کی رینج 700 اور 2000 کلومیٹر ہے۔ یہ میزائل پاکستان کے کسی بھی شہر کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اگنی 3، 4 اور 5 بھی پاکستان کے تمام شہروں کونشانہ بنا سکتے ہیں لیکن فی الحال انہیں چین کی طرف موڑ کر رکھا گیا ہے۔ انڈیا کے پاس دھنوش نامی شپ لانچڈ 350 کلومیٹر کی رینج والے میزائل بھی ہیں جو نیو کلیو وار ہیڈ کے ساتھ منسلک کیے جا سکتے ہیں۔ انڈیا کا ایئیر کرافٹ ایک وقت میں 106 وارہیڈز کو لے جا سکتا ہے۔ انڈین ائیر فورس کے جاگوار فائٹر بامبر 16 نیو کلیر وارہیڈز کو لے جا سکتے ہیں۔ فرانس کے میراج 2000 کے ذریعے 32 وارہیڈ اٹھائے جا سکتے ہیں۔

نوٹ۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھی ہوئی کشیدگی کی وجہ سے یہ سٹوری یاد دہانی کے لیے اپ ڈیٹ کی گئی ہے:۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *