ہم عورتیں

hijab2

وہ اکیلی پیدل چلے جا رہی تھی , سادہ سے کپڑے منہ پر چادر لی ہوئی اور ہاتھ میں اپنی عام سے ڈگری , جس دفتر میں جاتی اور کوئی اس کی سادہ شکل دیکھ کر نوکری نہیں دیتا اور کوئی اس کی عام سی ڈگری دیکھ کر , سادہ چپل پہنے جس کی آواز ساتھ چلتے لوگوں کو متوجہ کرتی وہ اپنی سوچ میں ڈوبی اپنے مستقبل اور حال کی ایک ایسی جنگ کا شکار تھی جسے تو نہ وہ لڑ سکتی تھی نہ لڑنا چاہتی تھی لیکن اسے اس جنگ اور آگ میں دھکیلا گیا تھا ,گھر پر چھوٹا چار سال کا بھائی جس کا دوا تک نہ تھا اور بوڑھی ماں جو لکڑیاں اٹھاتے ہوئے بھی جھک جاتی تھی , اس ماحول میں رہتے ہوئے اس کی کل کائنات میٹرک کی سند تھی جس کے سہارے وہ جگہ جگہ نوکری کے لیے ماری ماری پھر رہی تھی اور ہمیشہ ایک جیسی نظریں اسے یا تو اپنی طرف کھینچتی تھیں یا بہت دور دھکیلتی تھیں اور اس چپل کی آواز میں گم ہو گئی

وہ تم تھیں ,وہ میں تھیں , وہ میرے اندر کی روح تھی یا تمہارے اندر کی بے بسی , وہ کون تھی جو حالات میں گم ہوئی ؟ وہ میں تھیں نہ تم تھیں وہ عورت تھی , وہ عورت تھی جیسے میں عورت ہوں اور جیسے تم عورت ہو لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ میں ایک خوشحال عورت ہوں اور تم بے فکر,نہ تمہیں کبھی خیال آیا نہ میں نے سوچنا گوارا کیا , تو پھر کون سوچے گا ؟ اس کے بارے میں کون سوچے گا, تم نہیں دیکھتیں کہ ایک عورت نہیں ایک پوری ذات گم ہوئی , وہ ایک ذات تھی , عورت ذات ,جس کی مانگیں ہی کیا تھیں ؟ یہی نا کہ نوکری مل جائے , چار پیسے , جس سے وہ اپنا گھر چلا سکے , اپنے بھائی کا دوا لے سکے ,گھر کا چولہا جل سکے ,ماں کو خوش رکھ سکے ,دو وقت کی روٹی پک سکے , اور اس کے ساتھ کیا سلوک کیا تم نے ؟ ہاں بتاؤ کیوں ایسا سلوک کیا تم نے ؟ حیران ہو رہی ہو ؟ اب تم کہو گی کہ تم نے تو کسی کے ساتھ ایسا سلوک ہی نہیں کیا اور نہ تم نے کبھی کسی کو دیکھا اس حالت میں, تم بے نیاز ہو مست ہو خوش ہو ورنہ تم میرا گریبان بھی پکڑتی کہ تم نے کیوں ایسا سلوک کیا اس کے ساتھ تم نے کیوں اسے سہارا نہ دیا تم تو دیکھنے والی تھی اور مجھے یہ دکھ کھائے جا رہا کہ میں دیکھنے والی ہوں , میں دیکھ سکتی ہوں وہ کیسے مجبور تھی اس نے بدیسی نگاہوں کا کیسے سامنا کیا میں سمجھ سکتی ہوں , لیکن یہ کیا تم مجھ سے پوچھ رہی ہو کہ کون تھی وہ اور کہاں تھی ؟ تم نے تو ایسی کوئی عورت نہیں دیکھی , میں تمہیں بتاتی ہوں , حقیقت یہ ہے کہ تم دیکھ ہی نہیں سکتی تمہیں اب تک سب جھوٹ بتاتے رہے کہ تم دیکھتی ہو ارے تم اکیسویں صدی کی عورت ہو اور لوگ آج سے چار سو سال پہلے ہی آنکھیں کھو چکے ہیں, ایسی بے شمار عورتیں روز ترے مرے ارد گرد ہوتی ہیں اور ہم ان پر حقارت بھری نظر ڈال کر گزر جاتی ہیں, وہ عام عورتیں ہوتی ہیں ؟ تم کیا سمجھو کہ وہ عورتیں نہیں وہ روحیں ہوتی ہیں, عورت ذات کی پہچان ہوتی ہیں, سایہ ہوتی ہیں اور تم اور میں روزانہ ان بے کس عورتوں پر نہیں بلکہ اپنے آپ پر حقارت بھری نظر ڈال کر گزر جاتی ہیں

ہم نے اپنا ذہن استعمال ہی کب کیا ہے ؟ ہم نے اپنا احساس بھی نہیں کیا اور اپنا احساس پایا بھی نہیں , اپنی آنکھوں سے دیکھنا سیکھا نہ اپنے کانوں سے سننا سیکھا, ہم نے وہ دیکھا جو ہمیں دکھایا گیا اور ہم نے وہ سنا جو سنوایا گیا اور ہمیں ہمیشہ وہ ہی دکھایا اور سنایا گیا جو سنانے اور دکھانے والے کے مفاد میں تھا, میں ان آنکھوں سے کیسے ماتم کروں کہ میں اپنی آنکھوں سے صرف اپنے مطلب کی چیزیں دیکھ سکتی ہوں, صرف اپنے بچوں کو اداس دیکھ سکتی ہوں لیکن کسی دوسرے کے بچوں کو روتے ہوئے دیکھ کر بھی میری نظر ان پر نہیں پڑتی, میں ایک عورت ہوں صرف میں, عورت نازک ہوتی ہے اور مشکل حالات میں خود کو بھی نہیں سنبھال پاتی لیکن میں تو صرف عورت ہی خود کو سمجھتی ہوں میرا تو پورے جہاں کی دوسری عورتوں سے واسطہ ہی نہیں میں نے ہمیشہ وہ سوچا جو میرے کام کا تھا اور تمہیں بھی یقناً وہی سوچنا چاہیے جو تمہارا کام کا ہو, یہ کچرے میں پڑی زندگیاں تمہارے اور میرے جوتے خراب خراب کر سکتی ہیں لیکن ذہن نہیں, میں اپنا ذہن ہی نہیں رکھتی کہ ایسی صورتوں کے لیے کچھ سوچوں اور ہاں سنو تم بھی ایسا مت کرنا کیونکہ یہ حقوق محدود ہیں جو عورتوں کے حصے میں آئے ہیں کیونکہ تمہیں پتہ ہے نا کہ یہ عورتوں کے حقوق مردوں سے حاصل کرنے میں ہم جیسی کامیاب عورتوں کا ہاتھ تھا اور اب اگر ان محدود حقوق میں سے ایسی نچلے طبقے کی زندگیوں کو حصے بکھرے دینا پڑے تو ہمارے پاس کچھ نہیں رہے گا, میں بھی اپنی آنکھیں بند کر لیتی ہوں جیسے تم نے کیں اور سکون بھری سنانس لے کر زندگی کا مزہ لیتی ہوں کہ یہ زندگی بہت خوبصورت اور قلیل ہے جس پر صرف تمہارا اور میرا حق ہے

, میں کتنی مطلب پرست ہوں اور تم بھی کتنی مطلب پرست ہو اور ہمیں مطلبی ہونے کی تعلیم دینے میں ہمارے بڑوں نے کوئی کثر نہ چھوڑی اور ہم آج کامیاب عورتیں ہیں

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *