ایف بی آر کی عدم فعالیت

ڈاکٹر اکرام الحقikram

ایف بی آر پاکستان کا سب سے زیادہ غیر فعال سرکاری ادارہ ہے۔ گزشتہ چند سالوں سے ایف بی آر ریونیوکی وصولی ، ٹیکس کے دائرے کو بڑھانے، بقایا جات کی ریکوری، ٹیکس نظام میں اصلاحات ، لیکیج کو بند کرنے اور ٹیکس چوری اور اس محکمے کے افسران کی بدعنوانی روکنے جیسے تمام محاذوں پر بری طرح ناکام ہواہے۔ انتہائی ناقص کارکردگی کے باوجودفنانس منسٹر اسحاق ڈارنے اس کی کارکردگی کوسراہتے ہوئے آئی ایم ایف سے مزید قرضہ مانگ لیا ہے۔فنانس ڈویژن نے اتفاق کرتے ہوئے آئی آرایس اور پی سی ایس میں ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا کردیے۔
بہت بڑی ورک فورس رکھنے کے باوجود ایف بی آر کو مالیاتی سال 2013-14کے دوران ریونیوکی وصولی میں بہت بڑے خسارے کا سامنا ہے۔ طے شدہ ٹارگٹ2475 بلین روپے کی بجائے اس نے 2262 بلین روپے اکٹھے کیے۔ سٹیٹ بنک آف پاکستان جولائی 2013 سے لے کر مئی 2014تک ایف بی آرکی وصولی 1956 بلین روپے دکھاتا ہے۔ اسے اس سائٹ پر چیک کیا جاسکتا ہے...(http://www.sbp.org.pk/ecodata/tax.pdf)۔ اس نے جون2014 میں تین سو دس بلین روپے کیسے اکٹھے کیے، یہ کوئی راز کی بات نہیں۔ اس نے مبینہ طور پر بھاری فنڈز کو ایڈوانس کے طور پر کھاتے میں ڈالا اور ریفنڈ کی جانے والی رقم کو روک لیا۔ اپریل 2014کو چیئرمین ایف بی آر سینٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی کے سامنے اس کا اعتراف کرچکے ہیں کہ ابھی 97 بلین روپے واجب الادا ہیں۔ تاہم آزاد ذرائع کے مطابق ریفنڈ کی رقم اس سے بھی زیادہ ہے۔
2013-14میں انکم ٹیکس کی وصولی افسران کی تمام تر کوششوں کے باوجود 80.58 بلین روپے رہی۔ یہ 2012-13میں 89.4 بلین روپے تھی۔ اس سے آئی ار ایس کی نااہلی ظاہر ہوتی ہے کیونکہ کولیکشن آن ڈیمانڈ پچھے سال کے مقابلے میں11.5 فیصد سے کم ہوکر 8,7 فیصد رہ گئی۔ 2013میں ایف بی آر بتیس لاکھ این ٹی این رکھنے والوں سے صرف 840,000 ریٹرن فائلز وصول کرسکا۔ نادرا کے اعداوشمار کے مطابق تیس لاکھ سے زائد پوش علاقوں میں رہنے والے ایسے افراد ہیں جن کا این ٹی این ہی نہیں ہے۔ یہ افراد مہنگی گاڑیاں چلاتے ہیں ، لگژری گھروں میں رہتے ہیں، کئی ایک بک اکاؤنٹس رکھتے ہیں ، غیر ملکی دورے کرتے ہیں لیکن انکم ٹیکس ادا نہیں کرتے۔جن افراد نے ریٹرن فائل جمع نہیں کرائی ان میں ایف بی آر کے اپنے 1020 افسران، اعلی سرکاری ملازمین ، جج اور جنرل حضرات اور عوامی نمائندے شامل ہیں۔ یہ بہت اہم بات ہے کہ 2009 میں 1,282,118 افراد نے ریٹرن فائلز جمع کرائی تھیں۔ اس کا مطلب ہے کہ انکم ٹیکس ادا کرنے والوں کی تعدادمیں سالانہ سات فیصد کی کمی واقع ہورہی ہے۔ اس کے باجود ایف بی آر کی کامیابیوں کے گن گائے جا رہے ہیں جیسا کہ اس ک ہاتھ کوئی جادو کی چھڑی لگ گئی ہو۔
ایڈوانس رقوم، ودہولڈنگ ٹیکس اور رضاکارانہ طور پر دی گئی رقوم پر انحصار کرنے کے باوجود گزشتہ کئی سالوں سے ایف بی آر کی کار کردگی انتہائی ناقص رہی ہے۔ اس میں کوئی مبالغہ آرائی نہیں کہ یہ ایک ’’غیر پیداواری ادارہ‘‘بن چکا ہے۔ اس وقت ملک کو جس مالیاتی بحران کا سامنا ہے ، اس کی بنیادی وجہ ٹیکس کی وصولی کا گلاسڑا ، غیر فعال اور بدعنوان نظام ہے۔ تاہم فنانس منسٹری اور ایف بی آر میں بیٹھے ہوئے افسران دعوے کرتے رہتے ہیں کہ پاکستان میں ٹیکس ادا کرنے کا کلچر ترقی نہیں پاسکا ہے... اسے ترقی دیناکس کی ذمہ داری ہے؟ تاہم حقائق ان دعووں کی نفی کرتے ہیں۔ پاکستان کے متوسط اور غریب عوام بھاری بھرکم ٹیکسز کا بوجھ اٹھارہے ہیں حالانکہ ان کی آمدنی کے لحاظ سے ان پر ٹیکس عائد نہیں ہوتا۔ اس کے باجوود سیاست دان اور سرکاری افسران ان کو عالمی برادری کے سامنے طعنہ دیتے ہیں کہ پاکستانی ٹیکس چور ہیں۔حقیقت ہے کہ ٹیکس چور عام پاکستانی نہیں بلکہ اشرافیہ ہے۔عام پاکستانی اشیائے ضروریات، موبائل فون کارڈز، بنک کی سروسز، بجلی اور گیس وغیرہ استعمال کرتے ہوئے ٹیکس ادا کرتا ہے۔ اس سے ریاست کا پہیہ چلتا ہے، جبکہ جن کی آمدنی بے اندازہ ہے ، وہ ہر قسم کے ٹیکسز سے مبرا ہیں۔
پاکستان کی کل آباد میں 43 فیصد کی عمر پندرہ سال سے کم ہے۔ ان میں سے زیادہ تر ٹیکس ادا کرنے کے قابل نہیں۔ چالیس ملین کے قریب دیہاتی مزدوروں کی آمدنی بہت کم ہے۔ ملک میں انکم ٹیکس ادا کرنے کے قابل افراد، جن کی آمدنی چارلاکھ سے زائد ہے، سے انکم ٹیکس وصول کرنے کی بجائے ان سے جبری ٹیکس وصول کررہا ہے جن کی آمدنی اس سے کم ہے۔ غیر افراد نہ صرف بلواسطہ ٹیکسز ادا کررہے ہیں بلکہ اُن سے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی شقوں 148 سے156A تک اور234 سے236N کے تحت ٹیکس وصول کیا جارہا ہے۔ اس طرح ہمارا ٹیکس کا یہ بوسیدہ نظام غریب عوام کا خون نچوڑ کر دولت مند افراد کو تجوریاں بھرنے کا موقع دے رہا ہے۔ ملک میں انقلاب کے لیے صرف یہی ایک جواز بہت کافی ہے۔
یکے بعد دیگرے مختلف حکومتیں عام آدمی کی زندگی میں آسانیاں لانے میں ناکام ہوگئی ہیں۔ پاکستان کے شہری آج بھی اچھی تعلیم، صحت، روزگار اوردیگر شہری سہولیات سے محروم ہیں۔ ضروری ہے کہ ایف بی آر کو ہنگامی بنیادوں پر تحلیل کرکے نیشنل ٹیکس ایجنسی قائم کی جائے اور عوام کا اعتماد حاصل کرتے ہوئے ٹیکس کی ادائیگی کو قومی فریضے کے احساس کے طور پر اجاگر کیا جائے۔ قومی شعور میںیہ بات راسخ کی جائے کہ ٹیکس کی ادائیگی کے بغیر ایک آزاد قوم اپنی آزادی کا نہ تو دفاع کرسکتی ہے اور نہ ہی آزادی کے تقاضے پورے کرسکتی ہے۔ تاہم حالیہ دنوں جبکہ جلسے جلسوں کا موسم چل رہاہے، ٹیکس کی ادائیگی کا بیان قومی رہنماؤں کی زبان سے سننے کو نہیں ملتا۔ اس وقت پاکستان میں طالبان اور دیگر انتہا پسند اپنی جگہ تیزی سے بنارہے ہیں کیونکہ شمالی علاقوں میں ان کے خلاف فوج بہت کامیابی سے موثر کارروائی کررہی ہے۔ انتہا پسند عام شہریوں کو یہ کہہ کر اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان موجودہ نظام میں ان کے لیے کچھ نہیں۔ لوگ حقیقت میں بھی یہی دیکھتے ہیں کہ ان کی رقوم پر اشرافیہ عیش کررہے ہیں تو پھر اُنہیں انتہا پسندوں کی بات وزنی لگتی ہے۔ اگر حکومت اس صورتِ حال کا تدارک چاہتی ہے ( وزرا کے بیانات سے دھشت گردوں کو شکست نہیں ہوگی)تو اسے اس جنگ میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ فوج ہتھیاروں سے لڑرہی ہے جبکہ فکری اور سماجی لڑائی حکومت اور سیاست دانوں نے لڑنی ہے۔ یہ بات سمجھنا زیادہ مشکل نہیں کہ ٹیکس کی وصولی بھی دھشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک فیصلہ کن کارروائی ہے، لیکن کیا کوئی سمجھنے کے لیے تیار ہے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *