نئے آرمی چیف صاحب کے نام کھلا خط

muhammad-waqas

میرے عزیز ہم وطن

جناب چیف آف آرمی سٹاف

السلام علیکم

آپ  کو سپہ سالار بننے پر مبارکباد  ۔  اب جب  کہ آپ  کے آرمی چیف  منتخب ہوتے ہی  کچھ  لوگ راحیل شریف صاحب  پر تبرے بھیجنا اور اور آپ کے شان میں  قصیدے لکھنا شروع کرچکے ہیں-  یہ سلسلہ آئندہ تین سال چلتا رہے گا- اور پھر آپ کی ریٹائرمنٹ  کے بعد یہی لوگ جو آپ  کی شان میں رطب السان ہیں آپ پر بھی  اسی طرح تبرے بھیجیں گے-   میرا مقصد آپ کو مبارک  باد دینا نہیں کیوں کہ یہ کام ہمارا فرمابردار  میڈیا  بڑے خشوع و خضوع سے کرتا رہے گا- میرا مقصد پاکستان کے ایک شہری کے لحاظ سے کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر  آپ کی وہ آئینی ذمہ داریاں یاددلانا ہے جن سے آپ کے پیش رو اپنے آپ کو مبرّا سمجھتے رہے ہیں-

 سب سے پہلی ذمہ داری آپ پر یہ عائد ہوتی ہے کہ آپ اس آئینی حلف کی پاسداری کریں گے جو آپ نے برسوں پہلے ایک کمیشنڈ آفیسر کے تحت اٹھایا تھا-   آپ کو یاد ہوگا کہ آپ نےخدا کو حاظر ناظر جان کر یہ  قسم کھائی تھی کہ آپ کبھی کسی بھی سیاسی تنازع  میں فریق نہیں بنیں  گے اور ہمیشہ آئینِ پاکستان کی وفاداری کریں گے- یہ یاد دلانا میں نے اس لئے ضروری سمجھا کہ آپ کے تمام  پیش رو ہمیشہ آئینی کو زبانِ حال اور زبانِ قال سے ردی کی ٹوکری کہتے رہے اور سیاسی جوڑ توڑ  کی لت میں مصروف رہے- اب جبکہ گردشِ زمانہ کے تحت  مارشل لا قصہ پارینہ بن گیا ہے  لیکن  گزشتہ آرمی چیف  کبھی سیاسی جوڑ توڑ سے باز نہیں آئے جو کہ فوج کے حلف کی کھلی خلاف ورزی ہے- آج اگر مشرف صاحب آئین توڑنے پر  غداری کے مقدمہ  میں ملک سے مفرور ہیں تو ہوسکتا ہے کہ کل کسی آرمی چیف کو سیاست میں مداخلت پر دھر لیا جائے- ترکی میں ناکام مارشل لا کا حال آپ جنا ب کے سامنے ہے -

Image result for gen qamar bajwa

 دوسری بات یہ کہ  آرٹیکل ۲۴۸ کے تحت افواج ِ  پاکستان کی کمانڈ اینڈ کنٹرول سولین حکومت کے ہاتھ میں ہے-    لیکن   بدقسمتی سے افواجِ پاکستان کے سول حکومت کی بالادستی ماننے سے ماضی میں انکار کیا ہے- لگتا ہے کہ قائد کی عقابی نظر نے یہ بھانپ لیاتھا کہ ہونہ ہو کچھ جنرل  سیاست میں حصہ لینے  کے لئے اتاولے ہوئےجارہے ہیں- اسی لئے قائد اعظم نے ۱۹۴۸ میں فوج سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ " یاد رکھیں  کہ پاکستان کی مسلح افواج پاکستان کے عوام کی  ملازم ہیں-  آپ کا کام قومی حکمتِ عملی  یعنی نیشنل پالیسی بنانا نہیں – یہ ہمارا یعنی سویلین حکومت کا کام ہے-  اور آپ کی ذمہ داری صرف حکم کو بجا لانا ہے-" ایوب خان   اور یحیی ٰ خان کی مشرقی پاکستان میں امتیازی حکمتِ عملی  اور ضیا الحق کی بنائی ہوئی افغان پالیسی کو ہم آج تک بھگت رہے ہیں-    آپ کے پیش رو کے بنائے ہوئے   اثاثے آج تک ہمارے ناک میں دم کئے ہوئے ہیں-  خدارا مجھے فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیت سے ہرگز انکار نہیں لیکن خارجہ ، داخلہ اور دفاعی پالیسی بنانا ہرگز آپ کا کام نہیں –  جنگ  لڑنا   فوج کا کام ہے لیکن جنگ لڑنے کا فیصلہ کرناعوام کے نمائندوں کا ہی استحقاق ہے-  جنگ لڑنا اور ملک چلانا دو الگ الگ کام ہیں-پاکستانی فوج دنیا کی بہترین افواج میں سے ایک ہے لیکن  ملک چلانا  آپ لوگوں کا کام نہیں-

ہم جانتے ہیں کہ  دہشت گردی کی جنگ  میں عوام اکیلے قربانیاں نہیں دے رہے بلکہ پاک فوج بھی شانہ بشانہ اس جنگ میں شریک ہے – ہم تو  بس   اس  وقت کے  منتظرہیں جب  نیشنل ایکشن پلان کے تحت کالعدم تنظیموں کو بھی بند کرنے کےسویلین حکم پر عمل درآمد کیا جائے –

   لیکن ان سب کے باوجود اگر آپ سمجھیں کہ  آپ کے پاس پاکستان کے جملہ مسائل کا حل موجود ہے اور آپ کا  سیاست میں  حصہ لینا اشد ضروری  ہے  تو سیاسی جوڑ توڑ کرکے اپنے حلف سے روگردانی کرنے اور  فوج کو متنازع بنانے کی ہرگز ضرورت نہیں- بہتر یہی ہوگا کہ آپ اپنے عہدے سے مستعفی ٰ ہو کر عملی سیاست میں حصہ لے کر ہمیں اپنے تجربے سے مستفید کریں –  ورنہ سیاست سیاستدانوں پر چھوڑ دیں- ہم اپنے سیاستدانوں کا احتساب خود کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں-

یاد رکھیں کہ  ہمارے دل میں آپ کے لئے اتنی ہی عزت ہوگی جتنی آپ آئینِ پاکستان کی عزت کریں گے –

خدا آپ کو اپنے حلف کی پاسداری کرنے  اور پاکستان کے آئین کے تحت پیشہ ورانہ  ذمہ داریاں ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے- اول تو خدا آپ کے دل  کو آئین  شکنی کے ہر وسوسے سے دور رکھے -  اور اگر کبھی آپ  عملی طور آئین ِ پاکستان کی روگردانی  کی سعی بھی  کریں تو اللہ  ہمیں ایسی ہر کوشش  کو ناکام بنانے  کی توفیق عطا فرمائے اور  ہمیں اس کے شر سے محفوظ رکھے- آمین!

آپ کا خیرخواہ!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *