تمام لڑکیاں وجاہت کاظمی سے ہوشیار رہیں

امیرہ ہاشم

ameera-hashim

اگر آپ فری لانس رائیٹر ہیں تو آپ کو مختلف کلچر اور ذہنیت کے مالک لوگوں کے ساتھ کام کرنا پڑے گا۔ ایک بڑے تجارت کو جاری رکھنے کے لیے آج کے ٹیکنالوجی اور کمیونیکیشن کے دور میں کچھ اہم حدود اور ہدایات واضح کرنا بہت واضح ہوتا ہے۔ ہمیں لچک کا مظاہرہ بھی کرنا ہوتا ہے۔ ہر حالت میں آپ کو یہ خیال رکھنا ہے کہ آپ کس پر اعتبار کریں کیونکہ میں نے ایسی غلطی کی اور ایک بڑے نام پر اعتبار کر لیا جس کا نتیجہ مجھے بھگتنا پڑا۔

دو ماہ قبل میں نے ایک مشہور صحافی وجاہت کاظمی کے ساتھ کام کرنے کا فیصلہ کیا ۔ کاظمی ایک پرکشش شخصیت رکھتے ہیں اور ان کے بہت سے فالوورز اور فینز ہیں۔ لیکن کیا میں نے غلط کیا؟ جس پراجیکٹ کا میں حصہ بنی اس میں ایک ماہ کے لیے مجھے فری لانس رائٹر کے طور پر کام کرنا تھا۔ میں نے درخواست دی تو مجھےپراجیکٹ دے دیا گیا۔ میں ان پر اعتبار کرتی تھی اور ایک اچھے ورک ایتھکس والے شخص پر کیوں نہ اعتبار کرتی۔

یہ آدمی بہت سے مشہور اداروں جن میں سما ٹی وی ، ڈان، بی بی سی ،سی این این، سی ٹی وی، ہفنگٹن پوسٹ ، ڈی این اے انڈیا او انٹرنیشنل بزنس ٹائمز کے لیے کام کر چکا تھا۔ میں نے ایڈوانس رقم لیے بغیر کام کرنے کی حامی بھر لی کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ رقم ان کے ویزا کارڈ کی لمٹ سے زیادہ ہے۔ میرا کام ان کے بلاگ کے لیے آرٹیکلز لکھنا اور انہیں سوشل میڈیا اکاونٹس پر شئیر کرنا تھا۔ ایک ماہ انتھک محنت کر کے مجھے لگا کہ میں اس مشہور کمپنی اور پروفیشنل شخص کے ساتھ لمبے عرصے کےلیے کام کرنے کی امید رکھنے لگی۔ وہ ہمیشہ میرے کام کی تعریف کرتے اور کبھی تعریف نہ کرتے۔

امیرہ ہاشم کے الزامات پر وجاہت کاظمی کا جواب پڑھئے

بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ اس کے پیچھے کیا مقصد تھا۔ مہینہ ختم ہونے پر جب ادائیگی کا وقت ہوا تو انہوں نے اعلان کیا کہ وہ مجھے انعام کے طور پر ایک اور کام دیں گے۔ میں یہ سن کر بہت خوش ہوئی کیونکہ مجھے لگا کہ اگلی نوکری ڈھونڈنے سے بچ جاوں گی اور زیادہ کام سے پیسے بھی زیادہ ملیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کام بہت آسان ہے اور اس کے لیے مجھے 600 ڈالر ملیں گے۔ میں نے فورا حامی بھر لی۔ بعد میں پتہ چلا کہ کام کیا تھا۔

wajahat-kazmi

یہ آسان کام ان کے ساتھ گندی جنسی تعلقات سے متعلق باتیں کرنا تھا۔ مجھے بہت غصہ آیا۔ لیکن چونکہ مجھے سابقہ رقم بھی نہیں ملی تھی اس لیے میں نے ان کی بات مانی۔ میں نے سوچا فری لانس رائٹر ہوتے ہوئے مجھے اس طرح کے لوگوں سے واسطہ پڑتا رہے گا اس لیے مجھے پروفیشنل طریقے سے معاملات کو دیکھنا ہو گا۔ میں نے پیار سے انہیں بتایا کہ میں صرف تحریری کام ہی کر سکتی ہوں اور میں کسی اور طرح کی کام کے لیے تیار نہیں ہوں۔ اگلے 10 دن کاظمی صاحب اصرارکرتے رہے کہ میں ان کی بات مان لوں۔ وہ مجھے گندی زبان میں باتیں کرنے پر ابھارتے اور ایسی زبان استعمال کرتے جو جنسی حرکات سے متعلق ہوتی۔

میں نے انہیں پروفیشنل رویہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا لیکن ان کے خیالات کچھ اور تھے اور انہوں نے ابھی تک مجھے میری تنخواہ بھی نہیں دی تھی۔ انہوں نے رقم ادا نہ کرنے کے عجیب عجیب بہانے تراشنے شروع کر دیے۔ میں نے ہر طرح کی آپش دی اور یہاں تک کہا کہ میں کسی شخص کو بھیج دیتی ہوں آپ اسے نقد رقم دے دیں۔ آخری آپشن جو انہوں نے دی اس کے مطابق وہ مجھ سے کریڈٹ کارڈ کی تمام تفصیلات حاصل کرنا چاہتے تھے۔ میں نے تفاصیل فراہم کرنے سے انکار کر دیا کیوں کہ مجھے شک تھا کہ کوئی گڑ بڑ ہے۔

ایسے پراجیکٹس کے لیے ہمیشہ ایڈوانس رقم لینا ایک اہم ضرورت ہے۔ لیکن کئی بار ہم مشہور لوگوں کو ان کی اچھی شہرت کی وجہ سے قبول کرتے ہوئے ان پر اعتبار کرنے لگتے ہیں۔ میں نے سوچا کہ میں اپنی تحریری خصوصیت کا استعمال کرتے ہوئے اس شخص کو عوام کے سامنے ننگا کروں گی۔ مجھے امید ہے کہ میری یہ کوشش لوگوں کو ہمت دے گی کہ وہ بھی اپنی ایسی تکالیف کا اظہار کریں اور اپنے باس حضرات کی زیادتیوں کو عوام کے سامنے لائیں۔ کئی بات بہت مشہور اور جانے پہچانے لوگ بھی عزت اور احترام سے عاری ہوتے ہیں اور اپنی حدود کو بھول جاتے ہیں۔

نوٹ: 6 دسمبر کو جیسے ہی یہ تحریر شائع ہوئی وجاہت کاظمی صاحب نے اپنے تمام سوشل میڈیا اکاونٹس ڈی ایکٹیویٹ کر دیے۔میں یہاں وجاہت کاظمی سے ہونے والے تمام میسجز درج کر رہی ہوں آپ خود پڑھ سکتے ہیں-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *