تعلیمی نظام اور اخلاقی گراوٹ

madeeha-riaz

معلمی پیشہ انبیاء اکرام کا پیشہ ہے۔جیسا کہ اللہ پاک نے قرآن مجید میں حضور اکرم ﷺ کو معلم کہا اور خود سرکار دو جہاں نے فرمایا بیشک مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا۔مگر اب بدقسمتی سے یہ پیشہ زوال پذیری کی جانب رواں دواں ہے۔کسی بھی معاشرے میں معلم انسان کی تعلیم و تربیت میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور تا کہ وہ معاشرے کافرد شنا س شہری بن جائے جس پر ملک اورمعاشرہ فخر کر سکے۔لیکن مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ آج کے اس جدید دور میں معلم اس پیغمبری پیشے سے مخلص نہیں۔جگہ جگہ کھلے پرائیویٹ اسکولز اس بات کا عملی نمونہ ہے۔ان اسکولز کے مالکان کا مقصد بچوں کی درس وتدریس کی بجائے اپنا کاروبار چمکانا ہے۔یہ نام نہاد اسکولز انگلش میڈیم کے نام پے والدین کی کھال ادھیڑتے ہیں۔ان اسکولز میں امتحانات کے دنوں میں امتحانی فیس کے نام سے پیسے بٹورے جاتے ہیں۔جب کوئی والدین اپنے بچوں کا داخلہ کرواتے ہیں تو اس وقت اس بات کے پابند کر دیئے جاتے ہیں کہ وہ یونیفارم اور کتب ان کی اپنی بک شاپ اور یونیفارم سے خریدیں۔اگر کوئی طالب علم نیا سیشن شروع ہونے کے بعد کتب اور کاپیاں وغیرہ باہر سے خریدتا ہے تو طالب علم کو ان کاپیوں پر کام لکنے سے روک دیا جاتا ہے اور تو اور یہ نام نہاد اسکولز سکینڈری امتحانات میں نقل مہیا کرتے ہیں تا کہ رزلٹ نہ خراب نہ ہو جائے۔ان پرایؤیٹ اسکولز کے اساتذہ میٹرک پاس اور انہی اسکولز کی سابقہ طلباء ہوتی ہیں ۔ان پرایؤیٹ اسکولز میں میڈم کی سیٹ بھی کم اور غیر تربیت یا فتہ خاتون کو دی جاتی ہے۔ان پرایؤیٹ اسکولز کا تعلیمی معیار کے علاوہ اخلاقی معیار بھی گراوٹ کا شکار ہے،پرنسپل اور میڈم،پرنسپل اور فی میل ٹیچر،اور میل ٹیچر اور فی میل ٹیچر کے افیئرز اکثر خبروں کی زینت بنے رہتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *