زرعی آمدن پر انکم ٹیکس کی ضرورت

ڈاکٹر اکرام الحقikram

بادشاہوں اور جاگیرداروں کے اختیار کی بنیاد یہ ہوتی تھی...’’ہم زمین کے مالک ہیں، اس لیے ہم عوام پر راج کرتے ہیں۔‘‘اس کی جگہ جدید ریاست کا تصور یہ ہے کہ وہ عوام پر دیگر اختیارات کے علاوہ اپنی ضروریات اور عوام کی فلاح کے لیے ٹیکس لگاتی ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین آرٹیکل 77 میں کہتا ہے...’’وفاق عوام پر کوئی ٹیکس عائد نہیں کرسکتا سوائے اُس کے جس کی اجازت مجلسِ شوریٰ (پارلیمان) دے دے۔ اس کے باوجود کوئی حکومت بھی ررعی پیداوار پر دولت مند جاگیرداروں پر انکم ٹیکس وصول کرنے کے لیے تیار نہیں کیونکہ وفاقی اور صوبائی اسمبلیوں میں جاگیرداروں کا راج ہے۔
آئین کے آرٹیکل 260کے مطابق زرعی انکم ٹیکس کے قوانین لاگو ہیں لیکن وفاقی حکومت اور چاروں صوبائی حکومتوں نے 2013-14کے مالی سال کے دوران صرف 1.5 بلین روپے زرعی ٹیکس وصول کیا ہے حالانکہ اس کا پوٹینشل دوسو بلین روپے تک ہے۔ درحقیقت وفاقی حکومت نے وفاق کے تحت آنے والے علاقوں سے کوئی زرعی ٹیکس وصول نہیں کیا ہے۔ پانچ جولائی 1977کو ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹنے کی وجوھات میں سے ایک یہ بھی تھی کہ اُنھوں نے فنانس ایکٹ آف 1977کے تحت زرعی آمدنی پر ٹیکس لگانے کا فیصلہ کیا تھا۔اس قانون کو وفاقی پارلیمنٹ نے منظور کر لیا تھا اور اس پر صدر نے اٹھ جنوری 1977 کو دستخط کردیے تھے لیکن اس پیش رفت نے جاگیرداروں، زمینوں کے مالک جنرلوں، جج اور ارکانِ پارلیمنٹ پر مشتمل طاقتور طبقے کو مشتعل کردیا کیونکہ ان کے پاس ریاست کی بہت سی زمینیں تھیں۔ اس قانون کو ضیا نے معطل کردیا۔ بعد میں اس نے بھٹو کا عدالتی قتل کرتے ہوئے جاگیردار طبقے کو خوش کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ جاگیرداروں اورمذہبی رہنماؤں نے اُس کی حمایت کی تھی۔اس ضمن میں مذہبی طبقہ کی کارگزاری خاص طو ر پر یادرکھی جائے گی جس نے ضیا کی آمریت کو مذہبی رنگ دے کر اس کی حمایت کو عوام پر مسلط کرنے کی کوشش کی۔
ذوالفقار علی بھٹو کے بعد آنے والے بہت سی حکومتوں، جن میں سولین بھی شامل ہیں اور فوجی بھی، نے چھوٹے کاشت کاروں پر نوآبادیاتی دور سے لگے ہوئے سخت ٹیکس کوختم کرنے کی کوشش نہیں کی لیکن بڑے جاگیرداروں پر انکم ٹیکس لگانے کی کسی کو توفیق نہ ہوئی۔ اور تو اور، محترمہ بے نظیر بھٹونے بھی اپنی دونوں مدت کی حکومت کے دوران اپنے والد کے قانون کو نافذ کرنے کی کوشش نہیں کی۔ سندھ میں پی پی پی کی حکومت نے موجودہ سال کے لیے ٹیکس کا ہدف 107.02 بلین روپے رکھا ہے لیکن اس میں زرعی ٹیکس کا ہدف صرف 512.11 ملین روپے ہے۔ یہ رقم کل ٹیکس کا 0.47 فیصد ہے۔ 2013-14 میں اس نے صرف ساڑھے چار سو ملین زرعی ٹیکس وصول کیا تھا۔
پنجاب میں بھی یہی کہانی دہرائی جاتی ہے۔ یہاں بھی اسمبلی میں بڑے بڑے جاگیرداروں کا غلبہ ہے۔ وہ زرعی پیداوار پر انکم ٹیکس دینے ک لیے تیار نہیں۔ یہاں اس ضمن میں بہت آسانی سے ایک سو بلین روپے ہوسکتی ہے لیکن پنجاب حکومت نے صرف موجودہ مالی سال کے دوران صرف 830 ملین روپے وصول کیے ۔ یہ کل ٹیکس کا 0.1 فیصد ہے۔ نام نہاد خادمِ اعلیٰ نے اپنے اردگرد جاگیرداروں، جیسا کہ ملک، کھوسے، چوہدری ، رانے، ٹوانے وغیرہ سے کبھی بھی ٹیکس وصول کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اگر وہ ایسا کرتے توا نکی حکومت کے پاس بہت سی رقم فالتوہوتی۔
تحریکِ انصاف کی قیادت بھی شریف برادران پر تنقید کرتی رہتی ہے کہ وہ سخت ٹیکس لگاتی ہے لیکن اُنھوں نے خود خیبر پختونخواہ میں ٹیکس کا نظام بہتر کرنے یا امیر جاگیرداروں سے زرعی ٹیکس وصول کرنے کی زحمت نہیں کی ہے۔ 2013-14 کے مالی سال کے دوران صوبے کا کل زرعی ٹیکس چوبیس ملین روپے تھا۔ یہ وصول کیے گئے ٹیکس کا 0.16 فیصد تھا۔ بلوچستان کے حالات تو اور بھی خراب ہیں۔ یہاں موجودہ مالی سال کے دوران حکومت صر ف پانچ ملین زرعی ٹیکس وصول کرپائی۔ ان تمام صوبوں میں زرعی ٹیکس کا حجم بڑھانے کے لیے کوئی سیاسی خواہش دکھائی نہیں دیتی۔
اس وقت غریب کاشت کار سولا فیصد سیلز ٹیکس اداکررہے ہیں۔ اُنہیں یہ ٹیکس زراعت کے لیے استعمال ہونے والی اشیاپر ادا کرنان پڑتا ہے۔ ان کی زمین پر بھی ٹیکس ہے۔ ان ٹیکسوں کا بوجھ اُنہیں غربت کی طرف دھکیل رہا ہے۔ وفاقی حکومت کی طرف سے بلاسوچے سمجھے نافذکردہ سیلز ٹیکس نے عوام کی کمرتوڑ دی ہے۔ اس نے یہ بھی نہیں سوچا کہ اس کا پاکستان کی زراعت پر کیا اثر پڑے گا۔ سخت قسم کے بلواسطہ ٹیکسز نے دیہی علاقوں میں عوام کی بڑی تعداد کو غربت کی لکیر سے نیچے دھکیل دیا ہے۔ اس پر مستزاد، یہ علاقے سیلاب سے بھی شدید متاثر ہوئے ہیں۔ کاشت کار سالانہ 90,000 کے قریب ٹریکٹر خریدتے ہیں اور وہ اس سیلز ٹیکس ادا کرنے کے بعد اربوں روپے حکومت کو دیتے ہیں۔ یہی صورتِ حال کھادوں، بیج اور زرعی ادویات پر ہے، لیکن حکومت جاگیرداروں کی آمدنی پر ٹیکس لگانے کے لیے تیار نہیں۔ ان ٹیکسز کی وجہ سے جی ڈی پی میں زرعی پیداوار کا حجم کم ہوتا جارہاہے۔ تاہم یہ معاملات حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں۔
وفاق اور صوبے، دونوں بڑے جاگیرداروں پر انکم ٹیکس لگانے کے لیے تیار نہیں۔ اس کی وجہ یہ سیاسی قوت ہے۔ اسمبلیوں میں موجود جاگیردار یہ ٹیکس لگانے کی کبھی اجازت نہیں دیں گے۔ پی پی پی کی سندھ حکومت سروسز پر توٹیکس وصول کررہی ہے اور اس کا ارادہ اشیا پر ٹیکس بڑھانے کا بھی ہے لیکن جب زرعی آمدنی پر ٹیکس کی بات آئے تواُ نہیں سانپ سونگھ جاتا ہے۔اس کے باوجود یہ جماعتیں غریب عوام کی نمائندہ ہونے کا تاثر دیتی ہیں اور اشتہارات کے ذریعے عوام کی رائے پر اثر انداز ہوتی ہیں۔
اس تمام مسلے کا ایک ہی حل ہے یہ زرعی ٹیکس کو مقامی حکومت کے سپرد کردیا جائے۔ اس میں ستم ظریفی یہ ہے ابھی تک صرف بلوچستان میں مقامی حکومتوں کے انتخابات ہوئے ہیں۔ دیگر صوبے اس ضمن میں پس وپیش سے کام لے رہے ہیں۔ پاکستان تحریکِ انصاف مقامی حکومت کی حامی ہونے کے باجود خیبر پختونخواہ میں ایسا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ پاکستان کے بہت سے مسائل کی وجہ یہ ہے کہ ریاست کے وسائل اور اختیارات بڑے بڑے جاگیرداروں کی دسترس میں۔ یہ جمود ٹوٹنا ضروری ہے۔ وہ بدعنوان سرکاری افسران کی پشت پناہی کرتے ہیں کیونکہ وہ ان کے مفادات کا کا تحفظ کرتے ہیں۔ اگر پاکستان ان مسائل کے گرداب سے نکلناچاہتا ہے تو اس شراکت دار ی کو توڑنا ہوگا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ عوام کو بااختیار بنایا جائے۔اس مقصد کے طاقت کا ارتکاز سیاسی دانوں سے چھین کر عوام کونچلی سطح تک منتقل کیا جائے۔ ضروری ہے کہ اہم فیصلے عوام ،نہ کہ سرکاری افسران کریں۔ عوامی نمائندے عوام کے سامنے جواب دہ ہوں اورکوئی طاقت وراداراہ ان کے جرائم پر پردہ نہ ڈالے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *