سیاحت کی راہداری

nazia-mustafa

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان کو اِس وقت کئی محاذوں پر لاتعداد چیلنجز درپیش ہیں۔ ملکی سیاست کو دیکھیں تو سیاست میں سکون کا کوئی لمحہ نہیں ملتا، عسکری محاذ ہے تو پاکستان گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے دہشت گردی کے خلاف ایسی جنگ لڑرہا ہے، جس کا کوئی انت دکھائی نہیں دیتا۔ معاشی محاذ ہے تو اُس کا اندازہ زبوں حالی کی شکار پاکستانی تجارت سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ اِن چیلنجز سے بلاشبہ پاکستان نبرد آزما ہونے کیلئے بھرپور کوششیں کررہا ہے اور پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کی شکل میں پاکستان کو اس سلسلے میں کامیابی بھی ملی ہے، لیکن اس منصوبے کے راستے میں کبھی معاشی رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو کبھی دشمن کی جانب سے دہشت گردی کی صورت میں امن و امان کی صورتحال پیدا کرکے اس منصوبے کو ناکام بنانے کی کوشش بھی ہوتی رہتی ہے۔ اِن حالات میں پاکستانی میڈیا کو دیکھیں تو اِسی طرح کی سیاسی، معاشی اور امن و امان کی خبروں سے بھرا دکھائی دیتا ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود اب ایسا بھی نہیں ہے کہ ان تمام مشکلات، رکاوٹوں اور چیلنجز کو دیکھ کر یہ کہا جائے کہ پاکستان میں ایسی کوئی بات یا ایسی کوئی چیز ہی نہیں جسے دیکھ یا سن کر اطمینان قلب اور دلی راحت محسوس ہو۔ ابھی حال ہی میں وکی میڈیا نے پاکستان کا ایسا روشن چہرہ دکھایا ہے کہ یوں سمجھیں کہ ماردھاڑ والی سیاست، سماج اور معیشت کی خبروں سے پیدا ہونے والے سارے ''دلدر‘‘ دور ہوگئے ۔
جی ہاں! وکی میڈیا کی جانب سے''وکی لوز مونومنٹس 2016‘‘ کے عنوان سے منعقد کرائے گئے تصویری مقابلے میں دنیا بھر سے 10748 فوٹوگرافروں نے کم و بیش تین لاکھ تصاویر بھیجیں، جن میں سے 15 بہترین تصاویر منتخب کی گئیں۔فوٹوگرافی کے اس مقابلے کو دنیا کا سب سے بڑا فوٹوگرافی کا مقابلہ بھی کہا جاسکتا ہے۔یہ منتخب تصاویر 42 ممالک کی بہترین ثقافتی ورثے کی عکاس ہیں۔یہ مقابلہ اگرچہ جرمنی کے دارالحکومت برلن کی ڈسٹرکٹ کورٹ کی انسگر کورنگ کی بنائی ہوئی تصویر نے جیت لیا، لیکن پاکستان نے اس مقابلے میں ایک ایسا ریکارڈ بنایا ہے، جس پر یقینا ہر پاکستانی کو فخر ہونا چاہیے۔ جی ہاں! فوٹوگرافی کے اِس مقابلے میں تین پاکستانی فوٹوگرافروں کی تصاویر دس بہترین تصاویر میں شامل کی گئی ہیں۔اسلام آباد میں واقع پاکستان مونومنٹ کی شام کے وقت بنائی گئی محمد اشعر کی تصویر کو اس مقابلے میں چھٹی بہترین تصویر قرار دیا گیا، اِسی طرح دس بہترین تصاویر میں پاکستان کی دوسری تصویر ضلع بہاولپور میں اوچ شریف کے مقام پر واقع بی بی جیوندی کے مقبرے کی تصویر ہے، اسامہ شاہد کی بنائی ہوئی یہ تصویر وکی میڈیا کے مقابلے کی آٹھویں بہترین تصویر ہے۔ بہاولپور میں نویں صدی میں تعمیر کیے جانے والے تاریخی قلعہ دراوڑ کی تصویر اِس مقابلے کی دسویں بہترین تصویر قرار پائی ہے، یہ تصویر تحسین شاہ نے بنائی تھی۔
اس مقابلے سے پاکستان کاجو چہرہ سامنے آیا ہے، وہ ایک ایسا روشن اور انتہائی خوبصورت چہرہ ہے، جو ثقافتی اور سیاحتی ورثے سے مالا مال ہے۔ اس میں پہلے بھی کوئی شک نہیں تھا کہ پاکستان قدرتی حسن سے مالا مال ملک ہے، لیکن وکی میڈیا کے مقابلے کے بعد تو اب مہر تصدیق ثبت ہوگئی ہے۔ ا گر یہاں سیاحت کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے تو صرف سیاحت ہی ہماری معیشت میں ایک بڑے اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔ دہشت گردی کے باوجود اب بھی پاکستان کے شمالی علاقوں میں غیر ملکی سیاحوں کی آمد جاری ہے جو پاکستان کے سحر انگیز اور دیو مالائی قدرتی حسن کا ثبوت ہے۔دنیا بھر سے تین لاکھ تصاویر میں سے منتخب پندرہ تصاویر میں تین پاکستانی فوٹو گرافرز کی تصاویر کا شامل ہونا پاکستانیوں کیلئے انتہائی فخر کی بات ہے، لیکن اصل فخر تو یہ ہے کہ اِن منتخب تین پاکستانی تصاویر سے کہیں زیادہ خوبصورت مقامات اور یادگاریں ابھی پاکستان میں موجود ہیں لیکن دنیا کی نظروں سے اوجھل ہیں، جنہیں سامنے لاکر ناصرف پاکستان کے ثقافتی ورثے کو محفوظ بنایا جاسکتا ہے بلکہ پاکستان میں سیاحت کو بھی فروغ دیا جاسکتا ہے۔
آئیے پاکستان کے عظیم ثقافتی ورثے کی ''دیگ کے چند دانے‘‘ چکھتے ہیں۔مثال کے طور پر یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ کوہ پیماؤں کی کشش کا باعث بننے والی دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو پاکستان کے صوبہ گلگت بلتستان میں موجود ہے۔لیکن کیا کوئی یہ جانتا ہے کہ سندھ میں بھی ایک مری موجود ہے، جی ہاں! سندھ میں دادو شہر کے شمال مغرب کوہ کیر تھر میں گورکھ ہل اسٹیشن واقع ہے، جو سطح سمندر سے 5 ہزار 688 فٹ بلند ہونے کی وجہ سے سندھ کا بلند ترین مقام اور مری کا ہم پلہ سمجھا جاتا ہے۔اب یہ بتائیں کہ ہم میں سے کتنے لوگ جانتے ہیں بلوچستان میں واقع ہنگول نیشنل پارک 6 لاکھ 19 ہزار 43 ایکڑ رقبے پر محیط ہونے کی وجہ سے دنیا کے پارکوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ پارک کئی اقسام کے جنگلی درندوں، چرندوں، آبی پرندوں، حشرات الارض، دریائی اور سمندری جانوروں کا قدرتی مسکن ہے۔ کیا کوئی جانتا ہے کہ ساڑھے آٹھ سو سال قدیم ''امید کی دیوی‘‘ کاتاریخی مجسمہ اورہندوؤں کا معروف ہنگلاج مندر بھی اس پارک میں واقع
ہے۔صرف یہی نہیں بلکہ پاکستان میں سیرو سیاحت کے لحاظ سے ایسے بہت سی مقامات موجود ہیں جو اپنی قدرتی خوبصورتی کی بنا پر نہ صرف پاکستان میں بلکہ پوری دنیا میں مشہور ہیں۔ پاکستان اور کشمیر کے شمالی علاقے جہاں آسمان کو چھوتے بلند و بالا پہاڑوں سے بھرے ہوئے ہیں، وہیں کشمیر اور شمالی علاقہ جات میں موجود سرسبز وادیاں، منہ زور دریا، خوبصورت جھیلیں اور ورطہ حیرت میں ڈال دینے والے جنگلات کی زندگی بھی دنیا بھر میں مشہور ہے۔ وادی نیلم ‘ وادی سوات اورہنزہ وادی تو اپنے قدرتی حسن میں کسی طرح بھی سوئٹزرلینڈ سے کم نہیں ہیں۔
قارئین کرام!!وکی میڈیا کے مقابلے کے بعد پاکستان کا جو روشن چہرہ سامنے آیا ہے، اُسے دنیا کے سامنے مزید واضح صورت میں لانے کے لیے متعلقہ وزارت اور محکموں کو چاہیے کہ سب سے پہلے پاکستان کے ایسے ثقافتی ورثے کو دنیا میں روشناس کرانے کی کوشش کرے اور پھر سیاحت کے فروغ، نئے سیاحتی مقامات کی تلاش، آثار قدیمہ کو محفوظ بنانے، سیاحوں کے لیے زیادہ سے زیادہ اور جدید سہولیات پیدا کرنے، سیاحوں کے تحفظ ، نئے سیاحتی مقامات تک آسان رسائی سمیت دیگر متعلقہ امور کو فروغ دینے کیلئے بھی باقاعدہ پالیسی مرتب کرے۔اگر ایسا ہوجائے تو پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کی مدد سے پاکستان صرف سیاحت کے شعبے سے سالانہ اربوں ڈالر کماسکتا ہے، سی پیک کے ساتھ ساتھ پاکستان کو سیاحت کی یہ راہداری قائم کرنے میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *