پاکستانی عیسائی کیا کریں؟

ایازا میرAyaz Amir

ایک وقت تھا کہ کراچی کا غریب مہاجر طبقہ، کلفٹن یا ڈیفنس میں رہنے والے نہیں، بلکہ عا م غریب مہاجروں سے دیگر قومیتں حقارت آمیز سلوک کرتیں،اُنہیں پنجابی پولیس پکڑ کے لے جاتی اور پبلک ٹرانسپورٹ ، جو زیادہ تر پختون چلاتے تھے، میں بھی اُن کے ساتھ برا سلوک کیا جاتا۔ اُنہیں کسی معاملے میں خاطر میں نہ لایا جاتا، بلکہ انہیں مخاطب کرنے کے لئے حقارت بھرا لفظ ’’تلیئر‘‘ استعمال کیا جاتا۔ اس کے بعد منظر ِ عام پر آئی ایم کیو ایم اور اس نے اسی ’’تلیئرکمیونٹی‘‘ کو منظم کرنا شروع کردیا۔ اس سے پہلے غریب مہاجر قوم کم کوش اور نرم مزاج تھی لیکن ایم کیو ایم کے پرچم تلے اس کو نہ صرف اعتماد اور طاقت ملی بلکہ اس کے سامنے اپنا مقصد ِ حیات بھی واضح ہونا شروع ہو گیا۔ اپنی ایک مشہور تقریر میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے اپنی قومیت کو تلقین کی وہ ٹی وی سیٹ بیچ کر ہتھیار خریدیں۔ بہت جلد مہاجر قوم دیگر قوموںکے سامنے سر اٹھا کر کھڑی دکھائی دی۔تاہم اس کے مخالفین الزام لگاتے ہیں اس عمل کے دوران اس نے تشدد کی راہ اپناتے ہوئے خوف کی فضا قائم کی۔ اس سے پہلے کراچی ایسی جنگ وجدل سے واقف نہ تھا۔ آج ایم کیو ایم پاکستان کے سب سے بڑے شہر ، جو کامرس اور صنعت کا مرکز بھی ہے، کے سماجی اور سیاسی افق پر چھائی ہوئی ہے۔ پاکستان میں ہمیشہ سے دیوبندی مکتب ِ فکراپنی موجودگی رکھتا تھا۔ تاہم یہ اسلام کے دیگر فرقوں کے ساتھ کسی کشمکش یا تصادم کی طرف مائل نہیں تھا۔ کبھی کبھار فرقہ وارانہ کشیدگی ہوجاتی تھی لیکن اس کا لیول بہت دھیما تھا اور اس میں تشدد کا عنصر خال خال تھا، لیکن افغان جہاد ، جس میں اس مسلک سے تعلق رکھنے والے بعض گروہوںنے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، کے بعد پاکستان میں انتہاپسندی اور فرقہ واریت نے اپنی جڑیں مضبوط کرلیں۔ اُس وقت امریکیوں کو ہرگز اندازہ نہ تھا کہ وہ کس ڈریگن کے دانت کاشت کررہے ہیں۔ آج دنیائے اسلام میں جو بھی انتہاپسندی کا لاوہ اُگلتے آتش فشاں دکھائی دیتے ہیں، ان کے نظریاتی یا فکری سوتے براہ ِ راست یا بالواسطہ پہلے افغان جہاد سے ہی جا کر ملتے ہیں۔ امریکہ کی ہلہ شیری پر پاکستان نے اُس سے کہیں زیادہ فتنے جگا لئے جتنوں کو ہم سنبھال سکتے تھے، چنانچہ ان کے نتائج بھی ہم نے ہی زیادہ بھگتنے تھے۔ یہ ایک فطری بات تھی، اس کے لئے کسی اور کو مورد ِ الزام ٹھہرانے کی ضرورت نہیں۔آج کا پاکستان جناح کا پاکستان نہیں ، بلکہ یہ کہنا بھی اپنا تمسخر اُڑانے کے مترادف ہے۔ موجودہ پاکستانی معاشرہ افغان جہاد سے مشتق ہے۔ ہماری دفاعی ذہانت نے پتہ نہیں کیا سوچ کر افغانستان میں اسٹریٹیجک گہرائی کی دلدل میں قدم رکھ دیا۔ اول تو رکھا ہوا قدم اٹھایا نہ گیا اور اگر ایسا ہوا بھی تو کیچڑ اور دلدل میں چھپے سنپولئے ساتھ ہی پاکستان آگئے۔ تاریخ ِ عالم کسی جنگ میں فتح کے اس طرح شکست میںبدل جانے کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ افغان جہاد کے اُس ماحول میں پروان چڑھنے والے مذہبی عناصر تکفیری سوچ میں ڈھل گئے ۔ اُنھوں نے فیصلہ کرنا شروع کردیا کہ کون اسلام کے دائرے کے اندر ہے اور کون باہر.... اور جو باہرہے(اُن کے نزدیک) وہ واجب القتل ہے۔ اس ذہنیت نے اہل تشیع پر حملے شروع کردئیے۔ ایک ایسا ملک ، جس میں مسلک کے اعتبار سے ہم آہنگی پائی جاتی، وہاں پرتشدد فرقہ واریت جنگ کا قانون نافذ کرنے لگی۔ تمام اہل ِ تشیع نے تو نہیں لیکن ان میں موجود کچھ عناصر نے ان حملوں کا جواب انہی کی زبان میں دیا۔ اس طرح سنی مسلح گروہوں کے مقابلے میں شیعہ مسلح گروہ بھی سامنے آگئے۔ یہ بات سب کو یاد ہوگی کہ اسلام آباد میں دئیے جانے والے حالیہ دھرنوں کے دوران وزیر ِ داخلہ ، جن کے پاس کہنے کو اور کچھ نہیں تھا، نے ایک وارننگ جاری کی تھی کہ مظاہرین کے درمیان ایک مذہبی گروہ کے تربیت یافتہ عناصر بھی موجود ہیں۔وہ درست تھے یا غلط، لیکن اُن کا اشارہ شاید مجلس ِ واحدت المسلمین کے کارکنوں کی طرف ہی تھا۔ جب 2012ء میںکوئٹہ میں ہزارہ برادری کے بہت سے افراد قتل ہوئے تو ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے ہوئے اور دھرنے دئیے گئے۔ لاہور میں گورنر ہائوس کے باہر دئیے جانے والے دھرنے میں، دو نوجوان میری طرف بڑھے۔ اُنھوں نے بیرونی ممالک میں تعلیم حاصل کی تھی اور اُ ن کے پاس بہت اچھی ملازمتیں تھیں۔ اُن کے چہرے سنجیدہ تھے اور آنکھیں شعلہ بار۔ اُنھوں نے مجھے پوچھا کہ کیا یہ بہتر نہیں کہ وہ اپنی تعلیمی ڈگریاں پھاڑدیں اور ملازمت چھوڑ کر اپنے ہم مسلک افراد کے تحفظ کے لئے ہتھیار اٹھالیں؟جب ایک ریاست شہریوںکے تحفظ کی ذمہ داری سے دستبردار ہو جاتی ہے تو ایسی سوچ ہی پروان چڑھتی ہے۔
بریلوی ہمیشہ سے ہی نرم خوعقیدے کے حامل ہونے کی پہچان رکھتے تھے۔ ان کا عقیدہ زیادہ تر اولیا اﷲ کے مزارات کی زیارت کرنے یا نذر نیاز بانٹنے کے گرد گھومتا تھا، تاہم وقت کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے تحت اُنھوںنے بھی اپنے طریق ِ کار کو ’’اپ ڈیٹ ‘‘ کرنا شروع کردیا ہے۔ دھرنوں کے دوران ڈاکٹر طاہر القادری اور سنی اتحاد کونسل کے رہنما ء،صاحبزادہ حامد رضا (دونوں بریلوی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں) کے پیروکاراور مجلس ِ واحدت المسلمین کے کارکنوں نے جس طرح پنجاب پولیس کا سامنا کیا، صف بندی کرکے حملے کیے، گھیرا توڑ کر نکلے اور اکثر پولیس کو بھاگنے پر مجبور کردیا ، وہ کوئی معمول کی بات نہیں تھی۔ عمران خان ، جو آسانی سے جذباتی نہیں ہوجاتے، نے ان کارکنوں کی بہادری کو سراہا جنہوں نے اکتیس اگست کی رات پولیس کے وحشیانہ کریک ڈائون کا سامنا کیا تھا ۔
تمہید طویل ہوگئی، سوال یہ تھا کہ اب پاکستان میں بسنے والے عیسائی کیا طرز ِعمل اپنائیں ؟اب تک پاکستانی ریاست ان کے تحفظ سے قاصر ہونے کا کافی ثبوت مہیا کرچکی ۔ اب ان کا کیا رد ِعمل ہونا چاہئے؟کیا وہ اچھے عیسائی ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے، جیسا کہ وہ پاکستان کی تخلیق سے اب تک دے رہے ہیں، اپنا دوسرا گال آگے کرتے ر ہیں یا پھر انتظار کریں کسی الطاف حسین جیسے لیڈر کا جو آکر اُنہیں بھی مار کھانے کی بجائے مزاحمت کرتے ہوئے عز ت سے جینے کا درس دے؟توہین کے قوانین کا انتہائی جاہل عناصر کے ہاتھوں غلط استعمال کی وجہ سے اس کے ذریعے مذہب یا رسول ِ اکرمﷺ کے تقدس کی حفاظت نہیںبلکہ پاکستانی ریاست کی کمزوری آشکار ہورہی ہے کہ یہ اپنے شہریوں کی جان ومال کی حفاظت کے بنیادی اور اہم ترین فریضے سے قاصر ہے۔
کوٹ رادھا کشن، قصور، میں ایک عیسائی جوڑے کو زندہ جلادینے کا واقعہ محض عیسائی برادری پر ہی حملہ نہیں بلکہ اس نے پاکستانی ریاست کے پاس عزت و وقار کا جوشائبہ بھی باقی تھا ، اُس کی بھی دھجیاں بکھیر دی ہیں۔ بپھرے ہوئے ہجوم، جس کو گائوں اور نزدیکی دوسرے گائوں کے مولوی لائوڈ اسپیکر کے ذریعے مزید اشتعال دلا رہے تھے، نے اُس جوڑے پر حملہ کردیا اور تین بچوں کی ماں، جو زندہ جلائے جانے والے وقت حاملہ تھی، کو آگ کے بھٹے میں پھینک دیا۔ ایسا اس لئے ہوا کیونکہ اُنہیں روکنے والاکوئی نہیں تھا، اُنہیں اس بربریت کے نتائج کی کوئی فکر نہ تھی۔ کس کی ہمت ہے کہ ان پر الزام لگائے !پنجاب کے وزیر ِاعلیٰ نے حسب ِ عادت ایک اور انکوائر ی کا حکم دے دیا ہے... ہوتی رہے گی۔ اگر یہ کوئی نادر واقعہ ہوتا تو اس کی کوئی نہ کوئی وجہ تلاش کی جاتی، لیکن یہ جنون تو اُس سیلاب ِ آتش و آہن کا ایک دھارا ہے جس کی تباہی کی داستان گوجرہ، جوزف کالونی ، لاہور ، رمشا مسیح اور دیگر بے شمار عیسائی بستیوں پر رقم ہے۔ شیخوپورہ کی آسیہ بی بی کو بھی توہین کے الزام میں سزائے موت ہوچکی ہے۔ اسلام آباد کے مضافات میں توہین کے ملزم کو جیل میں ہی گولی مار دی گئی۔ لب کشائی کی جسارت کریں تو کوئی ممتاز قادری کلاشنکو ف کی میگزین آپ پر خالی کردے گا چاہے آپ پنجاب کے گورنر ہی کیوں نہ ہوں اور حکمران جماعت کو اس گھنائونے فعل کی مذمت کے الفاظ بھی نہیں ملیںگے۔ مزید ستم یہ کہ وکلا اور معاشرے کے مختلف حلقوںنے قاتل کی پذیرائی کی اور جب وہ عدالت میں پیش ہوا تو اُس پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں۔ لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج نے بلاتامل کہا کہ وہ اُس کے وکیل ِصفائی بننے کے آرزومند ہیں۔ یہ واقعات ہمارے دبے ہوئے رویے کا اظہار ہیں۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میںتو ہمیں کوئی پوچھتا نہیں اور نہ ہی عالمی معاملات میںہماری کوئی حیثیت ہے تو پھر ہم اپنے ہاں پائے جانے والے کمزور طبقوں، جیسا کہ اقلیتوں پر ہی اپنا غصہ ٹھنڈا کرتے ہیں۔ جو شخص گھر سے باہر کوئی اوقات نہیں رکھتا، وہ گھر آکر اپنی بیوی کو ضرور مارتا ہے تاکہ اُس کم بخت کو اپنی اوقات نہ بھولے۔ اب کیا باقی دنیا مل کر ہمیں اپنی اوقات یاددلائے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *