عمر اکمل ٹیسٹ کرکٹ سے دورکیوں؟

ہارون احمد

haroon

2009میں میں نے ۱۹ سالہ کرکٹر کو نیوزی لینڈ میں اپنے پہلے ٹیسٹ میچ میں سینچری کرتے ہوئے دیکھا۔ اس نے شین بونڈ جیسے باولز کا سامنا کیا اور کسی مشکل کو آڑے نہ آنے دیا۔ عمر اکمل نے اس میچ کی پہلی اننگز میں 129 اوردوسرے اننگز میں 75 رنزسکور کیے۔ مجھے لگا پاکستانی ٹیم کو ایک سٹار مل گیا ہے۔ ۷ سال گزرنے کے بعد یہی کھلاڑی بنگلہ دیش پریمیر لیگ میں بیٹنگ کے دوران مشکلات کا شکار نظر آیا۔ وقت کیسے بدل جاتا ہے۔

مجھے ٹینلنٹ کو ضائع ہوتے دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ خاص طور پر یہ دیکھنا کہ پاکستان میں بیٹنگ سٹاک بہت نیچے کی طرف جا رہا ہے۔ لیکن یہ ہوا کیسے؟ کیا عمر اکمل اپنی تباہی کے ذمہ دار خود ہیں؟ سادہ جواب نفی میں ہے۔ مجھے یقین ہے کہ پی سی بی نے عمر اکمل سے اچھا برتاو نہیں کیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ملک ایک بڑے کرکٹر سے محروم ہو گیا۔ یہ بھی سچ ہے کہ ان کی اپنی بھی غلطیاں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ پاکستان کے لیے ٹیسٹ کرکٹ کھیلنا چاہتے ہیں لیکن ٹی ٹوینٹی لیگز کے لیے فرسٹ کلاس کرکٹ کو نظر انداز کرتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی ترجیحات غلط ہیں اور انہیں ایسے ایڈوائزرز کی ضرورت ہے جو انہیں صحیح راستے کی طرف رہنمائی کر سکے۔

یہ ناانصافی ان کے کیریر میں مختلف سٹیجز پر ہو چکی ہے۔ 2013 میں عمر اکمل پاکستان کے سب سے اعلی رینک کے کھلاڑی تھے جو آئی سی سی رینکنگ میں دسویں نمبر پر تھے۔ اس کے باوجود انہیں چپمین ٹرافی سے ڈراپ کر دکیا گیا اور کہا گیا کہ وہ ڈومیسٹک کرکٹ میں اچھی کھیل پیش نہیں کر پائے۔ کیا جب بیٹسمین بین الاقوامی کرکٹ میں چھایا ہوا ہو تو ڈومیسٹک فارم دیکھی جاتی ہے؟ ان کو باہر کرنا میرے لیے ایک دھچکا تھا۔ ٹیم کو بھی اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا جب تینوں میچوں میں قومی ٹیم کو شکست ہوئی۔ اگلی سیریز کے لیے عمر کو واپس لایا گیا جس میں انہوں نے 175 سکور کر کے اپنی فارم کا مظاہرہ کیا اور ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیم کو فتح دلائی۔ میرے لیے حیران کن بات عمر اکمل کو ٹیسٹ ٹیم کا حصہ نہ بنانا ہے۔

یہ سچ ہے کہ ان کی فارم میں فرق آیا لیکن جب ایک بیٹسمین اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لے تو اسے سپورٹ ملنی چاہیے۔ یہی ان کے کیریر کا بنیادی ایشو رہا ہے۔ انہیں کوچز اور پی سی بی سے مناسب سپورٹ نہیں ملی۔ 2011 میں پاکستان نے ویسٹ انڈیز کے خلاف دو میچز کی سیریز کھیلی۔ عمر اکمل اس سیریز میں سیکنڈ ہائی سکورر رہے۔ اس سے عمر کو حوصلہ ملا کہ وہ زمبابوے کے خلاف سیریز میں ٹیم کا حصہ بن سکتے ہیں۔ وہاں ایک سپنر کی بال کو پُل کرتے ہوئے وہ عجیب طریقے سے آوٹ ہوئے جب کھلاڑی کے کندھے سے بال ٹکرا کر کیچ کر لی گئی۔ اس بال کی cricinfoکمنٹری ملاحظہ کیجیے:

"یہ ایک عجیب طریقے سے وکٹ گری ہے۔ شارٹ بال کو فارورڈ شاٹ لیک کی طرف بیٹسمین نے پُل کر دیا ۔ بال ٹیلر کے کندھے سے ٹکرا کر لیگ گلی کی طرف گئی جہاں فیلڈر نے آسان کیچ لیا۔ عمر کو یقین نہیں ہو رہا کہ کیا ہو گیا ہے۔ ایسے ہی ٹنڈولکر آسٹریلیا کے خلاف 2001 کی سیریز میں آوٹ ہوئے تھے۔ "

یہ ان کی آخری ٹیسٹ اننگز تھی۔ ایک شارٹ پر ۶ سال کے لیے باہر کیا جانا کہاں کا انصاف ہے۔ کیا ایک نوجوان کرکٹ سے اس طرح کا برتاو کیا جانا چاہیے؟ اس کے بر عکس اظہر علی اور اسد شفیق کو بہت سے چانسز دیے گئے۔ اہم بات یہ ہے کہ ایک اننگز کے علاوہ عمر نے دوسرے ممالک میں ہر بار اچھی اننگز کھیلی اور ان کی ایوریج 41 کی ہے جب کہ اظہر علی 41.98 اور اسد شفیق 38 کی ایوریج سے کھیلتے ہیں۔ چھوٹے اکمل کے لیے پچھلے کچھ سال اچھے نہیں رہے۔ ان کی ODIایوریج 39 سے گر کر 34 پرآ گئی ہے اور ان کا سٹرائیک ریٹ اب بھی 80 سےزیادہ ہے۔ مجھے حیرانی ہے کہ انہیں ٹاپ آرڈر میں کبھی کھیلنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کئی بار کہا کہ انہیں دوسرے یا تیسرے نمبر پر کھلایا جائے اور مجھے لگتا ہے کہ یہ پوزیشن ان کے لیے سب سے زیادہ موزوں ہے۔

عمر کی بہترین خوبی ان کا پیس کے خلاف بیٹنگ کرنا ہے۔ وہ آسانی سے بال کو پُل اور کٹ کر سکتے ہیں۔ انہیں فاسٹ باولنگ کا سامنا کرنا اچھا لگتا ہے۔پاکستان تھنک ٹینک کو لگتا ہے کہ فاسٹ باولنگ پر سکور کرنے والا ہارڈ ہٹر ہوتا ہے اس لیے اسے نچلے نمبروں پر کھلانا چاہیے۔ یہی مسئلہ صہیب مقصود کے معاملے میں پیش آیا۔ تیسرے نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے انہوں نے پہلے دونوں میچوں میں ففٹیاں سکور کیں۔ پھر انہیں نچلے نمبروں پر بھیجا جانے لگا اور ان کی کارکردگی بھی خراب ہونے لگی۔ دونوں اچھے بیٹسمین ہیں۔ اور انہیں اچھی طرح استعمال کیا جانا چاہے۔ اگر آپ عمر اکمل سے اچھی اننگز کی توقع کرتے ہیں تو انہیں اوپر کے نمبر پر کھلانا ہو گا۔

مجھے لگتا ہے کہ زیادہ تر مسائل ان کے ذاتی نوعیت کے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ ان کے ڈومیسٹک کوچ باسط علی نے انہیں کلب کرکٹ کھیلنے کا مشورہ دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ ڈومیسٹک ٹیم کے لیے موزوں نہیں ہیں۔ ایس این جی پی ایل ٹیم میں ان کا 45 کی ایوریج سے 3216 رنز بنا لینا کوچ کے اس بیان کو مضحکہ خیز ثابت کرتا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ اب عمر اکمل کے کیریر کا کیا ہو گا ۔ پچھلے چند سالوں میں ہم نے بہت سے اچھے کرکٹر ز کے ٹیلنٹ کو ضائع ہوتے دیکھا ہے۔ میں عمر اکمل کو اس لسٹ میں نہیں دیکھنا چاہتا۔ اگر انہیں پی سی بی کی سپورٹ نہ ملی تو ان کا حال بھی ایسا ہی ہو گا۔ وہ ایک میچ ونر کھلاڑی ہیں اور انہیں اسی طرح سے دیکھا جانا چاہیے۔ دنیا اس بات کی حقدار ہے کہ عمر اکمل کو بڑا کرکٹر بنتا دیکھے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *