'دنیا پاکستان' میں شائع ہونے والے سید عارف مصطفیٰ کے کالم پر جسٹس (ر) وجیہہ الدین کا جواب

wajeeh-ul-din

سید عارف مصطفیٰ کا وہ کالم جس پر جسٹس(ر) وجیہہ الدین نے جواب دیا، پڑھنے کے لیے کلک کیجئے

محترم جناب عارف مصطفیٰ صاحب!

آپ کا مکتوب ملا اور پڑھا!

سیاسی لوگ، خاص طور پر فی زمانہ سیاسی لوگ نہ کبھی خود کچھ لکھتے ہیں اور نہ کسی لکھت کا جواب ارسال فرماتے ہیں- میں نے 2000 سے جب سپریم کورٹ کو خیرباد کہا، پاکستانی سیاست کا مسافر ہوں، جس میں تقریبا" چھ سال کا پی ٹی آئی کا تجربہ بھی شامل ہے-

اصولی طور ہر ، مجھے آپ کے مکتوب کا جواب نہیں دینا چاہئے ۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ میں "عام لوگ اتحاد" (ALI) کا ایک ادنیٰ لیڈر ضرور ہوں لیکن خود ALI نہیں ہوں اور ALI کی پالیسیاں ALI  کا ادارہ بناتا ہے ، جن کا خود میں بھی ، میرے جو بھی ذاتی خیالات ہوں ، پابند ہوں ۔

کیوں کہ میں آپ کی فہم و فرست کا معترف ہوں آپ نے کچھ اچھے سوالات اٹھائے ہیں۔ لہذا ، مجبوراً جواب دے رہا ہوں ۔ لیکن مہربانی فرما کے جواب در جواب کی زحمت نہ فرمائیے گا ، کیوں کہ اس کے بعد اگر کوئی تبادلہ خیال ہوگا تو وہ بالمشافہ ہو سکتا ہے ، مکتوبات کے ذریعے نہ ہوگا۔

ابھی یہ مکتوب روانہ ہوا بھی نہ تھا کہ آپ نے اپنے پیغام کو "کھلا خط" کا درجہ کا درجہ دیتے ہوئے فیس بک اور "دنیا پاکستان" وغیرہ میں (3 جنوری) مشتہر فرما دیا ۔ بقول خود جناب کے میری آپ سے فون پر بات اور آپ کے (مورخہ 30 دسمبر) کے مکتوب کے بعد ( 31 دسمبر ہفتہ ، 1 جنوری اتوار اور 2 جنوری پیر) تھوڑا وقت تو مجھے عنایت فرماتے ! موجودہ صورت حال میں میرے جواب کو بھی ہر اس جگہ space دلائی جائے جہاں جہاں آپ کا مکتوب چھپا ہے ۔

آپ نے قومی زبان کے معاملے کی طرف اشارہ فرمایا ہے ۔ خود میں بھی آئین کے مطابق نفاذ اردو کا مخالف نہیں لیکن یہ ایک پر خطر راہ ہے ۔ خود آپ کا فرمانا ہے کہ اقوام عام نے اپنی زبان کو اپنا کرکے ہی ترقی کی راہیں عبور کی ہیں ، ہمارے یہاں کتنی مادری زبانیں ہیں ؟

 اس سلسلے میں آپ کے خیالات کسی سے مخفی نہیں ۔ میرے بھی کچھ خیالات ہیں لیکن وہ کتنے بھی پختہ ہوں میرے ذاتی ہی ہیں ۔ اس سلسلے میں میں ALI کی متوقع پالیسی پر کار بند رہوں گا ، خواہ وہ کوئی بھی پالیسی ہو ۔ ایک بات ضرور کہوں گا۔ ALI ایک قومی پارٹی ہے اور شاید لسانی معاملات میں احتیاط پسندی سے احتراز نہ کر پائے ۔

js

آپ کا مزید فرمانا یعنی دوسرا نکتہ اختلاف یہ ہے کہ ملکی سیاست کو اسلام آباد ، لاہور اور لاڑکانہ کی گرفت سے آزاد کرکے کراچی لایا جائے ۔ میری ناقص رائے میں کسی بھی ملک گیر تنظیم کو کسی ایک علاقے یا شہر میں مقید نہیں کیا جا سکتا اور کراچی میں مقید کیا گیا تو پھر ایم کیو ایم کے تین دھڑوں والی بات ہی ابھر کے سامنے آئے گی اور اس طرح ALI کا ایک ملک گیر تحریک بننا "مشکل ہے بہت مشکل " کے مرحلے پر پہنچنے کا واضح احتمال ہے ۔ اس سلسلے میں کراچی کے بارے میں کراچی سے متعلق شخص ہونے کے ناتے کسی سے پوشیدہ نہیں کہ میں کراچی کے لئے جو کرنا چاہوں گا وہ شاید دیگر اتنا نہ کرنا چاہیں ، لیکن جو کچھ بھی میں کروں یا جس عمل سے بھی احتراز کروں گا وہ ملک کے دیگر علاقوں کی قیمت پر کبھی بھی نہیں ہوگا۔ یہ وہ باتیں ہیں جو نہ کراچی والوں کو بتانے کی ضرورت ہے اور نہ دیگر پاکستانی بھائیوں کو ان میں کوئی شک و شبہ ہو سکتا ہے ۔ میری ساری زندگی ایک کھلی کتاب کی حیثیت رکھتی ہے ۔ لہذا، الحمد للہ کبھی کچھ چھپانے کی ضرورت نہیں پڑی اور نہ انشاءاللہ پڑے گی۔ لہذا آپ مطمئن ہو جائیے ۔

آپ کا تیسرا اعتراض یہ ہے کہ میں ذاتی طور پر اپنے لئے عمران خان کے متبادل رول کا انتخاب کروں۔ میں تو عمران کے انداز سیاست سے ہی نا ماید ہو کر پی ٹی آئی سے نکلا ہوں ۔ میں اپنے آپ کو عمران کی طرح کیسے ڈھال سکتا ہوں؟ دوئم یہ کہ صرف پی ٹی آئی کے نا امید لوگ ہی نہیں بلکہ پاکستان کے وہ نظریاتی افراد بھی جو ، ALI لے آئین اور منشور کی بنیاد پر ہم سے متفق ہیں، انشا ء اللہ العزیز ہمارا ساتھ دیں گے ، مزید براں جلد ساتھ دیں گے۔

علاوہ ازیں صرف عمران کی مخالفت کرکے جو دیگر دیو ہیکل ہستیاں ہیں اور جو اس قوم پر عرصہ دراز سے مسلط ہیں، ان کو مزید دوام دینا نہیں چاہوں گا۔ بہر حال اصولی طور پر شخصی تنقید، اداروں کے غلط اقدامات کے مقابلے میں ، ثانویحیثیت رکھتی ہے۔

اور آخر میں یہ عرض کروں گا کہ ہم ہر طرح کی تنقید کریں گے ، ہر ایک کی تنقید کریں گے مگر وہ تنقید برائے تنقید نہ ہوگی بلکہ ہر تنقید سے منسلک متبادل تجاویز کو لائحہ عمل میں لایا جائے گا جو بفضل تعالیٰ ALI کے آئین و منشور میں موجود ہیں اور جو انشا ء اللہ بہتر سے بہترین ہو جائیں گی۔

ان الفاظ کے ساتھ شکر گذار ہوں کہ آپ نے ALI کے اغراض و مقاصد کے بارے میں مثبت رائے کا اظہار کیا ہے ۔ آپ کو ہم 000ALI کی صفوں میں خوش آمدید کہیں گے لیکن بہر صورت ہم یہ توقع کبھی نہیں کریں گے کہ آپ کسی ایسی سرگرمی کا حصہ بنیں جس سے ALI کو کسی بھی نوعیت سے استعمال کیا جا سکے یا ALI کے اغراض و مقاصد کے بارے میں کوئی شکوک و شبہات جنم لے سکیں۔

ان الفاظ اور شکرئیے کے ساتھ میں آپ سے اجازت لینا چاہوں گا۔

وجیہہ الدین احمد

loading...

'دنیا پاکستان' میں شائع ہونے والے سید عارف مصطفیٰ کے کالم پر جسٹس (ر) وجیہہ الدین کا جواب” پر ایک تبصرہ

  • جنوری 10, 2017 at 2:36 AM
    Permalink

    محترم جج صاحب کے خیالات بڑے عمدہ اور ارادے بہت نیک معلوم ہوتے ہیں۔ جمہوریت اور آزادئ عدلیہ کے لیے انکی جدوجہد اور قربانیاں بے حد ستائش کے لائق ہیں۔
    لیکن اب انھیں پس پردہ رہ کر ،،، اپنے گرانقدر تجربے کی روشنی میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔
    گرم خون نوجوان قیادت ہی ملک و قوم کی نیّا کو موجودہ سنگین بحرانوں اور امڈتے ہوئے خوفناک طوفانوں سے نکال پائے گی۔

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *