ہم آپ کے ہیں کون۔۔۔؟

Afshan Huma

پتہ یہ کرنا ہے کہ آپ میرے ہیں کون۔ جی آپ اور آپ بھی اور آپی جی آپ بھی۔ کبھی کبھی بہت دل کرتا ہے کچھ لوگوں سے یہ سوال کرنے کا۔ جب وہ میری ذاتی زندگی میں ایسے داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں جیسے ہمشیرگان بھی نہیں کرتیں۔ چند ماہ قبل ایک خاتون نے تو تقریبا" پانچ منٹ کی چھوٹی سی گفتگومیں نہ صرف مجھے شادی کے مفادات گنوائے بلکہ جاتے جاتے یہ بھی کہا کہ اگر کوئی پسند ہے تو بتائوں وہ میرے اور اس کے گھر والوں سے بات بھی کر لیں گی۔ میں نے پوچھا آپ یہ کام فی سبیل اللہ کرتی ہیں یا اس کی فیس لیتی ہیں تو فرمایا کہ نہیں میں تو تمہاری مدد کرنا چاہتی ہوں۔۔۔ یاد رہے کہ میں زندگی میں انہیں پہلی بار اور شاید آخری بار مل رہی تھی۔

ایک حضرت نے یونیورسٹی آف لاہور کی کانفرنس میں پہلی بار ملاقات کے دوران نہ صرف مجھے یہ سمجھانے کی کوشش فرمائی کہ مجھے صحیح طور پر پردہ کرنا چاہئے بلکہ یہ بھی نصیحت کی کہ میں خواتین کے حقوق کے نام پر ان کو گمراہ کرنے کے خطرناک عزائم رکھنے والی این جی اوز سے دور رہوں۔ یہ بھی بتلایا کہ پاکستان میں یہ جو ہر طرف بے راہ روی پھیل رہی ہے یہ بھارت اور امریکہ کی ملی بھگت ہے۔ ہم جیسے پڑھے لکھے لوگوں کو یہ سب روکنا چاہئے اور پھر وہ مجھے جہاد پر آمادہ کرنے ہی والے تھے کہ میں نے اجازت چاہی۔ اگلے روزسر راہ ملے تو فرمانے لگے کہ میں اپنے دانتوں کا علاج کروا لوں ورنہ یہ مزید برے لگنے لگیں گے۔۔۔

ایک شخص نے فون پر بتلایا کہ انہیں میری فلسفیانہ رائے بہت پسند آتی ہے۔۔۔میں ان سے پوچھنے کی جسارت ہی نہ کر پائی کہ انہوں نے کیا میری فیس بک پر لکھی گئی خرافات کے بارے میں کہا ہے یا کہیں اور میری رائے ان کے سامنے آگئی جسے وہ فلسفہ گردانتے ہیں کیونکہ فلسفہ تو مجھ سے فی الحال کافی دوری پر ہے۔ البتہ چند منٹوں ہی میں معلوم یہ ہوا کہ وہ میرے ساتھ پبلیکیشن کرنا چاہتے ہیں، پھر انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ انہیں تو کوئی ضرورت نہیں ہے وہ تو یہ بار صرف میری خاطر اٹھانا چاہتے ہیں ان کی تو پہلے ہی دو سو سے زائد تنصیفات ہیں۔۔۔ کچھ روز بعد معلوم پڑا کہ حضرت ایم فل اور پی ایچ ڈی کے تھیسز پیسے لے کر لکھتے لکھاتے ہیں اور انہیں ایم فل پی ایچ ڈی کے طلباء کی پبلیکیشنز بھی کروا تے ہیں اس شرط پر کہ ان کا نام ضرور ائے گا۔۔۔

کچھ تو لوگوں کو مشورہ دینے کا شوق بہت تھا کچھ اللہ بھلا کرے آپا زبیدہ کا جنہوں نے ایک بھرپور ٹرینڈ سیٹ کیا ہے۔ ایک خاتون جنہیں میں عرصہ دس برس کے بعد سر راہ ملی تو انہوں نے پہلے جملہ میں مجھے پی ایچ ڈی کی مبارک دی، دوسرے جملہ میں مجھ سے راہنمائی مانگی اور تیسرے جملہ میں اس قدر کمال سے مجھے بتلایا کہ میری شادی نہ ہونے کی وجہ میرا بڑھتا ہوا وزن ہے۔ ابھی میں ان کی بے تکلفی کی داد ہی دینا چاہتی تھی کہ انہوں نے یہ بھی کہہ ڈالا کہ وہ میرے دفتر آ کر مجھے چند مفید مشورے دینا چاہیں گی۔۔۔اس کے بعد شاید وہ مجھے رنگ گورا کرنے کے بھی آزمودہ طریق بتلانا چاہتی لیکن میں نے معذرت کر لی اور کہا کہ اس کار خیر کے لیے وہ پلیز دفتری اوقات میں میرے پاس تشریف نہ ہی لائیں۔۔۔

پچھلے دنوں ہماری یونیورسٹی میں ہونے والی بہت سی تبدیلیوں میں سے ایک بہت ہی خوش ائند تبدیلی یہ تھی ک فیکلٹی آف ایجوکیشن کو ایک نئی عمارت میں منتقل کیا گیا۔ ہم سب نے اپنے اپنے نئے آفسز سیٹ کیے اور میں جس دفت میں بھی گئی میں نے تعریفی کلمات کہے اور مبارکباد دی جبکہ میرے کمرے میں آنے والے افراد میں سے بہت سارے افراد آتے ہی مجھے یہ بتانے لگتے ہیں کہ میری کی گئی سیٹنگ میں کہاں کہاں تبدیلی ہونی چاہئے، چند افراد کو تو مجبورا" یہ کہنا پڑا کہ یہ میرا کمرہ ہے آپ یہ سب کچھ اپنے دفتر میں کر ڈالئے۔۔۔

میری ملاقات پچھلے دنوں ایک فیس بک فرینڈ سے ہوئی جو کہ کسی اور دوست کی نسبت سے مجھ سے آن لائن ہی متعرف ہوئے تھے۔ چھوٹتے ہی حضرت کا پہلا مشورہ یہ تھا کہ فیس بک پر دوستی کرنے سے پرہیز ضروری ہے، خصوصا'' مرد حضرات سے چاہے وہ کسی دوست ہی کی وساطت سے کیوں نہ فرینڈ ریکویسٹ بھیجیں۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ میں سب سے پہلے تو ان سے پرہز کرتی لیکن کیا کیا جائے ہمارے ہاں مشورہ دینے والا وہی پرہیز بتاتا ہے جو اس نے خود کبھی نہ کیا ہو۔۔۔ مثلا'' ایک بار امریکہ میں ایک بس میں سوار پاکستانی دوست نے میری آنکھوں میں ایلرجی کے اثرات دیکھے تو کہنے لگے پچھلے دنوں مجھے بھی یہی شکایت تھی مجھے کسی نے ایک دوا بتائی تھی تم استعمال کر کے دیکھو۔ میں نے پوچھا کہ کیا آپ کو اس دوا نے اثر کیا، تو فرمانے لگے میں تو خود ہی صحیح ہو گیا تھا، لہذا میں نے بھی ان کے تجربے پر عمل کیا اور خود ہی صحیح ہو گئی۔۔۔

قریبی دوستوں اور عزیزوں کے علاوہ ہر خاص و عام سے گزارش ہے کہ میرے جیسے افراد جن کو کسی کی زندگی میں اپنا عمل دخل نظر نہیں آتا اور نہ ہی وہ اپنی ذاتی زندگی میں کسی انجان کی سننے اور ماننے کو تیار بیٹھے ہیں، ہم جیسے لوگوں کو مشورہ داغنے سے پہلے خود ہی دل میں یہ سوال دہرا لیا کریں ۔۔۔ہم آپ کے ہیں کون؟ اس سے آپ کا قیمتی مشورہ بھی بچ جائے گا اور قوم کا وقت بھی جو پہلے ہی بہت ضائع ہو چکا ہے۔ بعض اوقات کچھ سادہ لو افراد آپ کے ناقص مشورہ پر عمل کر کے نقصان بھی اٹھا سکتے ہیں لہذا احتیاط لازم ہے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *