ایک عورت سے ہونے والی گفتگو

Muhammad Asif
کہتےہیں کہ جب ہم عورت کی آزادی کی بات کرتےہیں تو اس سے مراد عام طور پر مغرب کی آزادی لی جاتی ہے۔اور یہ بہت حد تک سچ ہے کہ عورت آزادی بھی ایسی ہی چاہتی ہے، حالانکہ خدا گواہ ہے کہا ایسی آزادی مجھے مرد ہوکربھی ابھی حاصل نہیں ہوسکی۔ جو کہ عورت کے بقول "سانڈ" کی طرح آزاد ہے۔(آصف)
ویسے کبھی غور کیا کہ اگرہم عورتوں سے پوچھیں کہ وہ آزادی سے مراد کیا لیتی ہیں؟
ان کے ذہن میں آزادی کا کیا تصور ہے؟ شاید یہی کہ من پسند انسان سے شادی جو عیش وآرام مہیاکرسکے ہماری عورت کی تربیت اس نہج پر کی ہی نہیں جاتی کہ وہ اپنی اصل زمہ داری کو سمجھے بلکہ وہ فرائض اداکرنے سےپہلے اپنے حقوق چاہتی ہے۔
آج کی لڑکی تعلیم مانگتی ہے۔ وہ سمجھتی ہے کہ جب تک وہ تعلیم حاصل نہیں کرسکتی اس کی زندگی سہل نہیں ہوگی۔ اس کے خواب اس کی خواہشات کی تکمیل میں تعلیم سب سے اہم جزو ہے۔
لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس تعلیم کے حصول کے بعد اس کی ترجیح میں یہ بات کبھی شامل نہیں رہی کہ وہ اس تعلیم کو حاصل کرنے کے بعد ایک اچھی نسل کی تربیت کرناچاہتی ہے۔
وہ تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہے لیکن محض اپنی معاشی تسلی کے لیے، اپنی ذہنی تسکین کے لیے۔وہ مرد کے شانہ بشانہ چلنا چاہتی ہے۔ وہ ایسی زمہ داری کو اپنے سر لینے کی دُھن میں ہے جس کو اسلام نے اس کے لیے فرض ہی نہیں کیا۔
مجھے آج بھی یاد ہے جب ہمارے گھرمیں سب سے بڑامرد دنیا سے چلاگیا اور میرے گھر کی خواتین کو گھریلو استعمال اور عام سی چیزوں کے لیے بازار تک جانا پڑا تو اندازہ ہوا کہ مرد کی اہمیت کیا ہوتی ہے۔ اور مفت میں مرد کی طرف سے رزق کی فراہمی عورت کے لیے کتنی بڑی نعمت ہے۔مگر عورت اس نعمت پر شکرنہیں اداکررہی۔ وہ باہر نکلنا چاہتی ہے۔ آزادی کے نام پر اپنا استحصال کروانا چاہتی ہے۔ وہ مقابلہ کرنا چاہتی ہے ۔ وہ اپنے زعم میں ہے کہ وہ ہر کام کرسکتی ہے جو مرد کرتا ہے۔ اپنی طبعی حیثیت میں فرق ہونے کے باوجود وہ "مرد"بننا چاہتی ہے۔مگر عزت اور احترام عورت والا چاہتی ہے۔ کتنی عجیب بات ہے کہ.وہ احترام کبھی بھی مرد والا نہیں چاہتی یہ ممکن نہیں ہے۔
وہ مرد جو گھرمیں سب سے چھوٹا ہوتے ہوےبھی بڑابن جاتا ہے۔ کبھی یہ بھی سوچا کہ مرد تو ہم سے زیادہ انسان ہے پھر کیا ہمیشہ اس کی پسند سے زندگی گزرتی ہے؟ کیا اس نے بھی کبھی ایسے اپنی مجبوری اور ہمدردی کے لیے ٹسوے بہائے؟ وہ چھوٹا ہوتے ہوئے بھی بڑا بن جاتا ہے۔ وہ زندگی تیاگ دیتا ہے۔ وہ چھت بن جاتا ہے۔ مگر اف نہیں کرتا۔ پاکستان میں ہر دوسراگھر ایک مرد کے ہاتھ میں ہے اور وہ اپنی مکمل کوشش سے خاندان کو کھلاتا پلاتا ہے۔ وہ اپنے خواب گھر کےخواب سے ملادیتا ہے۔ وہ اپنی کوششیں اپنی محنتیں گھر کی عورتوں بچوں کے آگے قربان کردیتا ہے۔ مگر اس کو جو طعنہ ملتا ہے وہ 'حاکم" کا ہے۔ اسے کوئی پوچھنے والا نہیں۔ وہ "سانڈ" ہے۔ پاکستان کے ہر گھرمیں ایک بھائی ہے جو اپنی بہنوں کے لیے کیا کچھ نہیں کرتے؟ بدلے میں ان کو یہ کہہ دیا جائے کہ وہ آزاد ہے؟ یہ طعنہ ہے۔ ایسا طعنہ جو مرد کو اندر سے ہلا دیتا ہے۔عورتوں کے بقول مرد نے عورت کو کبھی انسان ہی نہیں سمجھا، مگر دل پر ہاتھ رکھ کر کہیے گا کہ کیا کبھی عورت نے بھی مرد کو "انسان"سمجھا؟اسے غاصب مانا تومجبوری میں، اسے حاکم سمجھا تو مصلحت کے تحت۔میں کبھی مرد کی زندگی گزارنا پسند نہیں کروں گی۔ کیوں کہ وہ دوسروں کے لیے جیتا ہے۔ وہ محنتی ہے۔ آج جب وہ اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ ساتھ سارے خاندان کو پال چکا ہے۔ اپنے فرائض ادا کرچکا ہے تو اس کے اپنے پاس کے لیے وقت نہیں بچا۔ وہ تھک چکا ہے۔ اپنی زندگی کے وہ بہترین سال وہ ہم عورتوں کے لیے گزارچکا ہے۔ ہم نہیں گزار سکتیں،ہم مرد کی ایک دن کی زندگی گزارلیں تو ہم "بوڑھی"ہوجائیں۔ حالانکہ عورت کبھی بوڑھی ہونا پسند نہیں کرتی۔
کبھی سوچا ہے؟ ہماری پہلی مائیں ان پڑھ ہونے کے باوجود بچوں کی تربیت اپنی نسل کی تربیت کے معاملے میں اس قدرحساس اور پرواہ کرنے والی کیسی تھیں؟  تعلیم نہ ہونے کے باوجود ان کا فوکس اولاد کی تربیت پر اس قدر زیادہ کیسے تھا؟
میں حیران ہوں کہ اج کی لڑکی جس کی ذہنی سطح اس قدرپست ہے کہ ایک رنگ کاسوٹ نہ ہونے پر وہ منہ پھلا کر کُپا کرلیتی ہے کل کو اپنی اولاد کی تریبت کس نہج پر کرےگی؟ غربت میں مشکل حالات میں جب معاشی مسائل زیادہ ہوں یہ عورتیں وقار اور حمیت کے ساتھ اپنے بچوں کو کیسے زمانے کے سامنے کھڑاکرسکیں گی۔؟ یہ آج کی عورت کا اعجاز ہے کہ وہ اپنے بچے کے ٹفن کو دے کراسکےذہن میں یہ بات ڈالتی ہےکہ اس کو خودکھانا کسی اور کونہیں دینا۔پاکستان کے ہر گھر میں سے ہرماں اپنے بچےکو یہی سبق دےکر گھر سے تعلیم لینے کے لیے بھیجتی ہے۔ جب یہ نسل کل کو کسی دوسرے کے احساس سے خالی کسی غریب یا بھوکے انسان کی مدد سے عاری ہوکر جوان ہوگی تو کون اس عمل کی زمہ داری لےگا؟
میں نے اپنی ایک کزن سے  سوال کیا کہ وہ کیسا جیون ساتھی چاہتی ہے؟ جواب ملا ایسا جو سارے زمانے کی خوشیاں میرے قدموں میں ڈھیر کردے۔
میں نے سوچا کیا میرے معاشرے کی عورت کی ایسی سوچ بھی ہوسکتی ہے جس میں وہ یہ کہے کہ وہ اپنے جیون ساتھی سے سارے زمانے کی آسائشات قدموں میں ڈھیر کرنے کی بجائے یہ کہے کہ وہ شوہرکے ساتھ ہر حال میں گزارہ کرنےوالی بنےگی۔ وہ آسائشات کےپیچھے بھاگنے کی بجائے اپنی طرف سے جہاں تک ہوسکے اسے سہولت دےگی اسے آرام اور تسکین دےگی۔ یقیناٰ ایسانہیں ہے۔ کیوں کہ اج کی عورت کی تعلیم میں یہ چیز سرِ فہرست ہی نہیں۔ وہ چودہ سولہ جماعتوں کے بعد ایسی قناعت اور گھر داری کی زندگی کو قید سمجھنے لگتی ہے۔ رہی سہی کسر موبائل اور انٹرنیٹ نے پوری کردی ہے۔ مغرب سے درآمد ان چیزوں نے ہماری عورت کا دماغ خراب کردیا ہے۔  ہوسکتا ہے کسی دن یہ اپنی مرضی کی زندگی گزارنے میں کامیاب ہوجائے۔ یہ گھر سے نکل کر مرد کے ساتھ ساتھ چلنے میں نام حاصل کر لے۔ مگرخیال رہے اپنی شرائط پر زندگی گزارنے والوں کو اسکی قیمت بھی دینی پڑتی ہے۔ اگر عورت کو یہ قیمت اپنا وقار اور حمیت کھو کر اداکرنی پڑے تو یہ بہت ہی بھاری قیمت ہے۔
چاہے کوئی سمجھے یا ناسمجھے، عورت کا وقار، اسکی اہمیت اسکے گھر سے اسکی اولادکی تربیت سے ہے اور اگر اسے حاکمیت چاہیے تو خیال رہے، مرد اس پر ایک حاکم ہے مگر وہ چاہے تو اپنے دس بیٹوں پر حاکم ہے۔ جیسے چاہے حاکمیت کا شوق پورا کر لے۔
loading...

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *