کیا یاسرہ رضوی کو ان کے حق مہر کے معاملے میں تنقید کا سامنا کرنا چاہییے؟

فراہ ناز زاہدیyasira-wedding

جب ایکٹریس یاسرہ رضوی نے عبد الحادی سے شادی کی تو انہیں اندازہ نہیں تھا کہ اپنے سے 10 سال چھوٹے مرد سے شادی کرنا ان کی شہرت کا باعث بنے گا ۔ اس شادی میں انہوں نے حق مہر کے طور پر اپنے خاوند کو پابندی سے صبح کی نماز پڑھنے کا کہا۔ اس بات پر انہیں سوشل میڈیا پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا ۔ اس تنقید کی وجہ صرف یہ تھی کہ انہوں نے رسم کے خلاف کوئی قدم اٹھایا ہے اور ایسا عمل کیا  جو ہماری سمجھ سے بہتر ہے۔ لوگ آج بھی بڑی عمر کی عورت کی اپنے سے چھوٹی عمر کے لڑکے سے شادی کی روایت کو نہیں بھولے اگرچہ وہ اسے ناپسند کرتے ہیں۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو  اس واقعہ کو جائز قرار دینے کےلیے حضور ﷺ کی زندگی سے مثال دیتے ہیں کہ کیسے ہمارے نبی نے اپنی عمر سے ۱۵ سالہ بڑی عورت سے شادی کی۔

جو چیز زیادہ حیران کن تھی وہ یاسرہ کی طرف سے مہر کی مد میں ایک خاص نوعیت کا مطالبہ تھا جو آج تک ہم نے پہلے کبھی نہیں سنا تھا۔ ہم مسلمان چونکہ اس مسئلے سے پوری طرح آگاہ نہیں ہیں اس لیے ہم بہت سی غلط فہمیوں کا شکار ہیں۔ میں یاسرہ کا شکر گزار ہوں۔ آپ کے اس فیصلے نے ایک نئی بحث چھیڑی ہے جس سے بہت سے لوگ مسئلے کی اصل اہمیت سے آگاہی حاصل کریں گے اور انہیں معلوم ہوگا کہ اصلا مہر چیز کیا ہے۔ میں اپنے قارئین کے سامنے مہر کے حوالے سے کچھ اہم حقائق بیان کرنا چاہتا ہوں۔ اگرچہ یہ معلومات بہت محدود ہیں لیکن مجھے امید ہے کہ ان معلومات سے ہم مہر کے بارے میں کچھ غیر واضح چیزوں کو کھول کر دیکھنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

مہر ایک ذمہ داری ہے جو مادی یا غیر مادی دونوں طریقے سے ادا کی جا سکتی ہے۔ اس معاملے میں دونوں فریق کسی بھی طرح سے ادائیگی پر اتفاق کر سکتے ہیں۔ جیسا کہ یاسرہ کے کیس میں ظاہر ہے مہر ایک  غیر مادی خواہش پورا کرنے سے بھی ادا ہو جاتا ہے۔ اس کی بہترین مثال ایک صحابیہ کی زندگی میں ملتی ہے جن کا نام ام سُلیم بنت ملحان الانصاریہ تھا جنہوں نے ابو طلحہ سے اس شرط پر شادی کی کہ وہ اسلام قبول کر لیں۔ اسلام نے مہر کی کم یا زیادہ کی حد مقرر نہیں کی ہے۔ یہ مرد اور عورت کی مالی حیثیت کو دیکھ کر مقرر کیا جانا چاہیے۔ چونکہ کوئی خاص مقدار مقرر نہیں ہے اس لیے یہ بھی ضروری نہیں کہ یہ مالی ہی ہو یا اتنا بڑا ہو کہ مرد اسے ادا کرنے کی طاقت ہی نہ رکھتا ہو۔ نہ ہی یہ اتنا غیر معمولی ہو کہ مرد اسے مذاق سمجھ کر اس کی اہمیت کو نظر انداز کر دے۔ لیکن یہ بات واضح ہے کہ اس کی زیادہ سے زیادہ یا کم سے کم حد مقرر نہیں کی گئی۔

مہر کی رقم بیوی اور خاوند باہمی مشورےسے طے کرتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ شادی کے بندھن میں بندھنے سے پہلے میاں بیوی کو نکاح نامہ پڑھنے کی ہدایت کی جاتی ہے  اور شرائط پر اتفاق کیا جاتا ہے۔ اگر خاندان کے بڑے لوگ بھی صلاح مشورہ کریں تو انہیں چاہیے کہ دلہا اور دلہن کو تمام شرائط سے باخبر رکھیں۔ شادی کرنے والے مسلمان مردو عورت کے لیے مہر ایک لازمی چیز ہے چاہے اس کی مقداراور نوعیت جو بھی ہو۔

مہر عورت کی سکیورٹی اور تحفظ کے طور پر طے کیا جاتا ہے۔ اس پر صرف بیوی کا حق ہوتا ہے اور وہی فیصلہ کر سکتی ہے کہ اسے کب اور کہاں خرچ کرنا ہے۔ اس طرح یہ نکاح کا حصہ قرار دیا جاتا ہے اور اس کی ادائیگی کسی دوسرے مسئلے یا طلاق  سے مشروط نہیں کی جا سکتی۔ اس لیے سب سے بہت چیز یہ ہے کہ اسے شادی کے وقت ہی ادا کر دیا جائے۔ لیکن اگر کوئی ایسی اہم وجہ ہو جس سے یہ فوری ادا نہ کیا جا سکتا ہو  تو بھی مرد کو چاہیے کہ جتنا جلدی ہو سکے اس فرض کو ادا کرے۔ جب تک وہ یہ مہر ادا نہیں کرتا یہ اس کے ذمے قرض رہے گا ۔ اسلام یہ واضح کرتا ہے کہ اگر مرد فوری ادا نہیں کر سکتا تو جلد از جلد ادا کرنے کی نیت کرے۔

اگر مرد کی موت ہو جاتی ہے تو مہر کی ادائیگی کے بغیر اس کی چھوڑی ہوئی دولت اس کے ورثا میں تقسیم نہیں کی جا سکتی۔ کوئی بھی شادی کا خواہشمند مرد اس فرض سےمستثنی نہیں ہے۔ اس لیے عورت سے حق مہر معاف کر دینے کی درخواست کرنا بھی اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ علم سے انسان کو یہ طاقت ملتی ہے کہ وہ صحیح فیصلے کر سکے۔ یاسرہ نے اسی طاقت کا استعمال کیا ہے۔ ان کے فیصلے  کے صحیح یاغلط ہونے کی بحث پر وقت ضائع کرنے کی بجائے بہتر ہے کہ ہم زیادہ علم حاصل کرنے پر توجہ دیں تا کہ ہم بھی وقت آنے پر اچھے فیصلے کر سکیں۔

loading...

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *