فوجی عدالتیں نا گزیرہیں

ausaf-sheikh

دوسال قبل پشاور آرمی اسکول میں ہونے والی دہشت گردی جس میں 150سے زائد بچے اور ٹیچرز کو بے دردی سے شہید کیا گیا کے بعد دہشت گردوں کے خلاف موثر اور تیز ترین کاروائی کی گئی جس میں سپیڈ ی ملڑی کورٹس کا قیام بھی عمل میں لا گیا گیا۔ دہشت گردی کے خلاف کاروئی اس سے قبل بھی جاری تھی۔ آپریشن ضرب عضب کامیابی سے جاری تھا اور جاری ہے جس کے نتیجے میں دہشت گردی اور دہشت گردوں کو بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا، بہت سے شمالی علاقے جن پر دہشت گردوں کا قبضہ تھا موثر کاروائی کر کے ان سے خالی کروایا گیا اور لوگوں کو ان کے گھروں میں دوبارہ آباد کیا گیا، اسی طرح اندرون ملک بھی دہشت گردوں کے خلاف کاروائیاں جاری تھیں۔
یہ با ت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے پیچھے غیر ملکی عناصر ہیں۔ بھارت کو متعدد مرتبہ ثبوت دیئے گئے اور دنیا کو بھی پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں بھارت کے ملوث ہونے کے ثبوت دیئے گئے بھارت کے ساتھ ساتھ کچھ دیگر ممالک بھی بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان میں دہشت گردی اور پاکستان کے خلاف دیگر کاروائیوں میں ملوث ہیں ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے دنیا میں سب سے زیادہ نقصان اٹھایا 50ہزار سے زائد شہریوں اور فوجیوں کی جانوں کے نذرانے سمیت اربوں ڈالر کا نقصان بھی پاکستان کو اٹھانا پڑا، پاکستان کے دشمن پاکستان میں ہی دہشت گردی کر کے ایک طرف اسے کمزور کرنے کی مذموم سازشوں میں مصروف ہیں تو دوسری طرف دنیابھر میں پاکستان کو ہی دہشت گرد ملک ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں تاکہ پاکستان دنیا میں تنہا رہ جائے افسوس اس بات کا بھی ہے کہ ازلی دشمن بھارت کے ساتھ برادراسلامی ملک کے ملوث ہونے کے بھی نا قابل تردید ثبوت ہیں۔
پشاور اسکول سانحہ کے فوری بعد اس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف افغانستان گئے اور افغان صدر اور افغان آرمی چیف کو ثبوت دیئے کہ پشاور اسکول سانحہ کو بھارتی شخص نے افغا نستان میں بیٹھ کر مانیٹر کیا جس میں 150سے زائد بچوں کو بے دردی سے قتل کیا گیا۔
اسی واقعہ کے بعددہشت گردی کے خلاف جنگ کو مزید تیز کرنے کے لیے ملٹری کورٹس کا قیام عمل میں لایا گیا اور اسکی مدت 2سال رکھی گئی اس سے قبل دیگر عدالتوں میں دہشت گردوں کے خلاف مضبوط کیس ہی پیش نہیں ہوتے تھے، نہ کوئی گواہی دیتا تھا جس کی وجہ سے دہشت گردوں کو سزا ئیں نہیں ملتی تھیں۔ ملٹری کورٹس کے قیام کے بعد اس کی دوسالہ مدت میں274کیس ملٹری کورٹس میں ریفر کئے گئے جن میں سے 161کو دہشت گردی کا جرم ثابت ہونے پر سزائے موت اور 113کو دیگر سزائیں سنائی گئیں قوم نے ملٹری کورٹس کے قیام پر خوشی اور اطیمنان کا اظہار کیا۔
4/5روز قبل ملٹری کورٹس کی دو سالہ مدت ختم ہوئی تو کورٹس نے اپنا کام بند کر دیا، عوامی حلقوں میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی اور کچھ لوگ بغلیں بجانے لگے اور اس بات کا اظہا ر کرنے لگے کہ ملٹری کورٹس کا کام ہی ٹھیک نہیں تھا اور وہ اس کے مذید قیام کے خلاف تھے لیکن حکومت نے اسکی افادیت کو مد نظر رکھتے ہوئے بر وقت فیصلہ کرتے ہوئے ملٹری کورٹس کی مدت میں توسیع کرنے کافیصلہ کیا جس سے ایک بار پھر عوامی حلقوں میں خوشی کی لہڑ دوڑ گئی لیکن مخالفین کے چہرے مرجھا گئے اور لگے اس کے خلاف بیان بازی کرنے ، خود حکومتی حلقوں میں ملٹری کورٹس کی توسیع کی مخالفت کی گئی اور بیان بازی سامنے آنے لگی یہ وہی لوگ ہیں خود جن کے بارے میں عوامی حلقوں کی رائے ہے کہ کسی نہ کسی طور پر یہ لوگ بھی دہشت گردی اور دہشت گردوں کے سہولت کار ہیں جو فیصلہ پوری قوم خوشی سے تسلیم کرتی ہے اور اسے ملک و قوم کے مفاد میں اہم ترین سمجھتی ہے اس کے خلاف ہونا اپنے خلاف پائے جانے والے شک کو تقویت دینے کے ترادف ہے۔
یہ بھی سننے میں آرہا ہے کہ بعض اپوزیشن کے حلقے بھی اسی مسئلہ پر مل بیٹھنے کی باتیں کر رہے ہیں اگر وہ ملٹری کورٹس کے قیام اور اس میں توسیع کے خلاف ہیں اور اسے ہی مسئلہ سمجھتے ہیں تو یقیناًان کی عقل ماری گئی ہے ۔ قوم پھر ان کے بارے میں یہی سوچنے پر مجبور ہو گی کہ دشمن ممالک کی طرح یہ لوگ بھی پاکستان مخالف جذبات رکھتے ہیں اپوزیشن لیڈر اور پیپلرپارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ اور تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کے بھی بیانات سامنے آئے اور اگر وہ ملٹری کورٹس کی توسیع کے خلاف ہیں تو یقیناًعوامی حلقوں میں اپنا نقصان کریں گے ملٹری کورٹس بہر حال کام کریں گی جس کام کا بیڑا فوج نے اٹھا یا ہے اسے کامیابی کے قریب آکر چھوڑ نہیں سکتی، فوج کا فیصلہ عوامی امنگوں کے مطابق ہو گا حکومت نے بھی اس وقت یہ بہت اچھا اور اہم فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں سب سے زیادہ احتیاط تحریک انصاف کو کرنا ہو گی ، عوامی امنگوں کے خلاف کوئی بھی فیصلہ اسکی ناؤ ڈبو سکتا ہے او اسکی ساری محنت جو عوام میں مقبولیت کے لیے کی ہے اس پر پانی پھر سکتا ہے۔

loading...

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *