سوشل میڈیا ایکٹویسٹ خوف و ہراس کے ماحول میں

Jon Boone

ملک کے ممتاز اور محرک سوشل میڈیا کارکن جو سیکولر  تھے اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف نظریات رکھتے تھے پچھلے کچھ دنوں سے ملک سے لاپتہ ہو گئے ہیں جس سے عوام میں خوف وہراس اور غم و غصہ بڑھتا نظر آ رہا ہے۔ پاکستان کے کچھ ادارے اس حوالے سے مشہور ہیں کہ وہ اپنے خلاف آواز اٹھانے والوں کو اچانک اغوا کر لیتے ہیں اور اغوا کار کے رشتہ داروں کو بالکل خبر ہی نہیں دی جاتی۔ لیکن اس طرح جبری طور پر لاپتہ ہو جانا ہمیشہ اس بات کی علامت سمجھا جاتا ہے کہ انہیں شدت پسند اور علیحدگی پسند تنظیموں نے اغوا کیا ہے۔ اغوا ہونے والے چار کارکنوں میں عاصم سعید جنہیں جمعہ کے دن لاہور سے اغوا کیا گیا جب وہ سنگا پور سے واپس آئے۔ احمد وقاص گوریا جو ایک آن لائن ایکٹوسٹ ہیں جو اصل میں ہالینڈ سے تعلق رکھتے ہیں کو بھی اسی دن اٹھا لیا گیا۔ سعید کے والد کے بیان کے مطابق چار لوگ آئے اور زبردستی ان کے بیٹے کو پِک اپ ٹرک میں ڈال کر لے گئے۔ انہوں نے بتایا: "میں نے پوری کوشش کی کہ پتا لگاوں میرا بیٹا کہا ں ہے لیکن میں پتہ نہیں لگا پایا۔" جب سعید کو اٹھایا گیا تو ان کے پاس ایک لیپ ٹاپ اور دو موبائل فون تھے۔ سعید اور گورایا 'موچی فیس بک پیج ' چلاتے ہیں جس میں مقتدرادارے کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ حال ہی میں اس پیج پر کراچی میں اسٹیبلشمنٹ کی طاقت کے استعمال کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ کچھ سینئرعہدیدران کے اوپر کرپشن کے الزامات لگائے گئے اور اسٹیبلشمنٹ پر سیاست میں مداخلت کا الزام بھی لگایا گیا۔

فیس بک پیج کے ایک بینر پر لکھا گیا تھا: ہم 'اسٹیبلشمنٹ' کی عزت اس وقت تک کریں گے جب تک وہ پاکستان کی آئین کی عزت کرتی رہے گی۔

سلماں حیدر جو فاطمہ جناح وومن یونیورسٹی میں لیکچرر ہیں بھی جمعہ کے دن گھر واپس نہیں لوٹے۔ ان کی بیوی کو ایک نامعلوم نمبر سے فون آیا اور بتایا گیا کہ ان کے خاوند اپنی کار اسلام آباد راولپنڈی موٹر وے پر چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ بعد میں پولیس کو کار اسی روڈ سے مل گئی۔ ہفتہ کے دن وزیر داخلہ نے پولیس کو حکم دیا کہ سلمان حیدر کو بازیاب کرایا جائے۔ سلمان حیدر ایک ڈرامہ نگار، شاعر اور تنقید کے ایڈیٹر ہیں۔ آن لائن میگزین نے بلوچستان میں  آپریشن پر تنقید کی تھی۔ چوتھے شخص رضا نصیر کے رشتہ دار وں نے بتایا کہ انہیں پنجاب کے ڈسٹرکٹ شیخوپورہ سے اپنی فیملی شاپ سے ہفتہ کے دن اٹھایا گیا۔ ہیومن رائٹ واچ کے ڈائیریکٹر بریڈ ایڈمز نے چاروں اہلکاروں کی بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا: پاکستانی حکومت کا یہ فرض ہے کہ چاروں اغوا شدہ اہلکاروں کو فوری طور پر بازیاب کروائے ۔ اگر حکومت اس طرح کے مسائل حل کرنے میں کامیاب نہیں رہتی تو اس کی ذمہ داری حکومت پر ہی عائد ہو گی۔ شہزاد احمد جو 'بائٹ فار آل '  ہیومن رائٹس گروپ کے ڈائریکٹر ہیں کا کہنا ہے کہ ان اغوا کی وارداتوں سے سوشل میڈیا استعمال کرنے والے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور لوگ اپنے فیس بک اور ٹویٹر اکاونٹس ڈی ایکٹویٹ کرنا شروع ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا یہ آزادی اظہار رائے کی خلاف ورزی ہے۔ یہ گرفتاریاں ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف اٹھنے والی عوامی آواز کو دبانے کے لیے کی گئی ہیں اور کسی طرح قابل قبول نہیں ہیں۔

دوسری طرف سکیورٹی اداروں نے اہلکاروں کی اغوا اور گرفتاری سے مکمل طور پر لاتعلقی کا اظہار کیا ہے جب کہ کچھ ایم پی حضرات نے اسے ایک پریشان کن سانحہ قرار دیا ہے۔ پارلیمنٹ کی ایک قرارداد میں لکھا گیا کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ واقعات پوری پلاننگ کے ساتھ عمل میں لائے گئے اور ان کا مقصد پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے اٹھنے والی اور تنقیدی آوازوں کو دبانا ہے۔ یہ ہر لحاظ سے قابل مذمت ہے۔

source:www.theguardian.com/world/2017

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *