پاکستان بنتا دیکھنے والے لینگلینڈز ۹۴ سال کے ہو گئے

چترال پاکستان۔ کچھ عرصہ قبل معمر قبائیلی رہنماؤں میں ایک مہمان خصوصی ایسے بھی تھے جو انگریزgeoffrey-d-langlands تھے اور سوٹ اور پالش کیے ہوئے جوتے پہنے ہوئے تھے۔ انہوں نے بالوں میں کنگھی کر رکھی تھی  اور ان کی گود میں اخبار رکھی تھی۔ یہ شخص جن کا نام جیوفری ڈٰی لینگلینڈز ہے کو پاکستان بننے سے آج تک پورے 65 سال   تک پاکستانی ڈراموں میں پہلی صف میں بٹھایا گیا۔ وہ بہت سی شہزادیوں کے ساتھ چائے پی چکے ہیں، ڈکٹیٹروں کے ساتھ ڈنر کر چکے ہیں، قبائلیوں کے ہاتھوں اغوا ہو چکے ہیں اور بہت سی جنگوں کو آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں۔ یہ 94 سالہ بزرگ جو پہلے برٹش کولونیل افسر ہو چکے تھے اور میجر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے تھے اور زندگی بھر معلم کے فرائض بھی انجام دیتے رہے  اب زندگی کے ایک نئے دور میں قدم رکھنے والے ہیں اور ریٹائرمنٹ کی زندگی گزارنے والے ہیں۔

پچھلے ۲۵ سال تک ان کا گھر اور کام چترال میں تھا جو پاکستان کے مشرق میں واقع ایک ٹھنڈا علاقہ ہے۔ یہاں وہ جس ادارے کے مالک تھے وہ لینگلینڈ سکول اینڈ کالج کے نام سے مشہور ہے جہاں ہر سال ادارے کے 1000بہترین طلبا جن میں سے 33 فیصدلڑکیاں شامل ہوتی ہیں دنیا کی بڑی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے جاتے ہیں جو امریکہ اور انگلینڈ میں واقع ہیں۔ یہ کامیابی مزید اہم اس وجہ سے کہلاتی ہے کہ یہ ایسے علاقے میں حاصل کی گئی ہے جہاں شہر کے ساتھ ملحق سوات کا علاقہ ہے جہاں پاکستان آرمی کو 2009 میں طالبان کے خلاف آپریشن کرنا پڑا  اور دوسری طرف افغانستان کا صوبہ نورستان ہے جہاں امریکی جنگ لڑ رہے ہیں۔ کچھ سال قبل کچھ امریکی اس علاقہ میں اسامہ بن لادن کی تلاش میں آئے اور شہریوں سے سوال و جواب کیے۔ ان امریکیوں کا تعلق سی آئی اے سے تھا۔ لیکن 'میجر' کے لیے ایک دلچسپ وقت تھا  جس میں تمام مشکلات کے باوجود ان کی محنت کا سفر جاری رہا۔ اب جو زندگی ان کے سامنے ہے وہ اس کے بارے میں زیادہ پر جوش نہیں ہیں۔ انہوں نے اپنے گھر بیٹھے ہوئے کہا: اب وقت آگیا ہے کہ زندگی کو تھوڑا زیادہ آسانی سے جیا جائے۔ لیکن اب بھی ہمارے پاس بہت کچھ کرنے کو ہے۔ کچھ نہ کرنا ان کو بالکل ہی پسند نہیں ہے۔geoffrey__2246307b

دوسری جنگ عظم میں مسٹر لینگلینڈ کمانڈو یونٹ کا حصہ تھے جنہوں نے فرانسیسی ساحل پر جرمن فوجیوں کا مقابلہ کیا تھا۔ اگست 1947 میں انہیں برٹش انڈیا میں تعینات کیا گیا جہاں انہوں نے تقسیم کا خونی منظر دیکھا ۔ جب وہ ایک ٹرین سٹیشن پر ہندو مسافروں سے بھری ٹرین میں موجود تھے تو کچھ مسلمانوں نے ان پر حملہ بھی کیا۔ اس کے بعد انہوں نے سکھوں کو ایک مسجد پر حملہ کرتے ہوئے بھی دیکھا۔ انہوں نے مناظر کو ان الفاظ میں بیان کیا: صورتحال بہت خوفناک تھی۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کیا کیا جائے۔ جب دوسرے برطانوی فوجی چلے گئے تو مسٹر لینگلینڈ نے یہیں رہنے کا فیصلہ کیا اور ایچی سن کالج میں معلم کے فرائض سر انجام دیے۔ کچھ عرصہ وہ پاکستانی بچوں کو الجبرا پڑھاتے ہیں جو بعد میں بڑے ہو کر سیاستدان  اور ملٹری آفیسز بنے۔ظفر اللہ خان جمالی اور عمران خان ان کے شاگرد رہ چکے ہیں۔  عمران خان نے ان کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا: وہ ایک بہترین استاد تھے۔ وہ سخت بھی تھے اور مہربان بھی۔ 1979 میں وہ شمالی وزیرستان گئے جہاں انہوں نے سکول کھولنے کا فیصلہ کیا۔

 اس علاقے کو امریکی ڈرون حملوں کی وجہ سے جانا جاتا ہے اور یہاں ایک االقاعدہ لیڈر بھی مارا گیا ہے۔ لینگلینڈ  قبائلی لوگوں کو ولن کی بجائے بدمعاش سمجھتے تھے۔ ان کے مطابق قبائلیوں نے انہیں 6 دن تک قید کیے رکھا تا کہ الیکشن کے نتائج بدلے جا سکیں۔ لیکن ایسا نہیں ہوا ۔ ان کو قید میں رکھنے والے لوگوں نے اچھا برتاو کیا اور انہیں رائفل چلانے کا طریقہ سکھانے کی بھی پیشکش کی۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا: یہ تجربہ زیادہ برا نہیں تھا۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ میں 71 سال کا ہوں تو انہوں نے مجھے بہت پیار سے رکھا۔ جب میں جانے لگا تو انہوں نے میرے ساتھ فوٹو بھی کھنچوائی۔ چترال میں زندگی بہت بہتر ہے۔ جغرافیائی اہمیت اور ثقافی تنہائی کی وجہ سے یہ صوبہ طالبان سے بچا رہا۔ چترالی لوگ نسلی طور پر پشتون نہیں ہیں۔ وہ پولو کھیلنے، بچوں کو تعلیم دینے اور دوسری اہم چیزوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ 

کچھ عرصہ قبل جب قبائلی شہزادے کو عزت بخشنے کی تقریب ہوئی تو بچوں نے خوب ڈانس کیا  جب کہ پولیس آفیسر پاس خاموشی سے کھڑے دیکھتے رہے۔ لینگلینڈ انگریزوں کے طرز کی زندگی جیتے ہیں ۔ وہ ایک چھوٹے سے گھر میں رہتے ہیں اور صبح 5:40 پر بیدار ہوتے ہیں۔ 40 منٹ بعد وہ ناشتہ کرتے ہیں۔ ناشتہ میں وہ انڈا اور چائے لیتے ہیں۔ لینگلیڈ روزانہ اخبار بھی پڑھتے ہیں جو ان کے علاقے میں 4 سے 5 دن بعد پہنچتا ہے۔ ان کا ایک اسسٹنٹ بھی ہے جو ان کے فون اور ای میلز چیک کرتا ہے۔ وہ ماہانہ صرف 270 ڈالر تنخواہ لیتے ہیں  اور عوامی بسوں میں سفر کرتے ہیں۔ وہ اردو جانتے ہیں لیکن اردو بولنے سے گریز کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ہمیشہ انگریزی کے لیول کو بہتر کرنا اپنی جاب کا حصہ سمجھتے ہیں۔ 

وہ 12 سال کی عمر میں یتیم ہو گئے اور کبھی شادی نہیں کی۔ ان کا جڑواں بھائی جو انگلینڈ میں رہتا ہے صرف ایک یا دو بار چترال ان کو ملنے آیا ہے۔ چترالی انہیں اپنے خاندان کا آدمی سمجھتے ہیں۔ سلطان محمود جو چترال کے ایک ڈویلپمنٹ ورکر ہیں کا کہنا ہے کہ میجر ان کے لیے ایک اہم شخص ہیں۔ ان کا متبادل موجود ہی نہیں ہے۔ لیکن ایک دن تو انہیں بدلنا ہی پڑے گا۔ کچھ عرصہ قبل ان کے ہاتھ کانپنے لگے ۔ ڈاکٹرز کو لگتا ہے کہ سردیوں کا موسم ان کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ ایک چیز جو پریشانی کا باعث ہے وہ یہ ہے کہ کیا ان کے جانے کے بعد ان کا قائم کردہ سکول باقی رہے گا یا نہیں؟  

اس کا جواب یہ ہے کہ لوگوں کو امید ہے کہ کوئی دوسرا انگریز پرنسپل ہونا چاہیے لیکن اس بار پرنسپل فیمیل ہونی چاہیے۔ ستمبر سے لینگلینڈز سکول کو کیری سکوفیلڈ چلائیں گے جو ایک مصنف ہیں اور فرانسیسی غنڈوں، مِک جیگر  اور پاکستانی آرمی کے بارے میں کتابیں لکھ چکے ہیں۔ مِس سکوفیلڈ جن کی عمر 58 سال ہے کا ماننا ہے کہ انہیں ٹیچنگ کا کوئی تجربہ نہیں لیکن چترالیوں کے اصرار پر وہ یہ ذمہ داری لینے پر آمادہ ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چترالی لوگ لینگلینڈز سے اتنی محبت کرتے ہیں کہ انہی کے ہم شکل کو ہمیشہ اپنے ساتھ رکھنا چاہتے ہیں۔ چونکہ پچھلے کچھ عرصہ سے لینگلینڈز کام پوری طرح سے نہیں کر پائے اس لیے بہت سے مسائل پیدا ہو چکے ہیں۔ بچوں کی فیس کی عدم ادائیگی، اساتذہ کی رکی ہوئی تنخواہیں ، کمپیوٹرز کی کمی، تنظیم اور رقم، یہ سب چیزیں بہت ہی اہم مسائل کی اشارہ کرتی ہیں۔ 

اب تک مِس سکوفیلڈ نے 55000 ڈالرز جمع کر رکھے ہیں  جو سکول تک بس کے راستے کو ٹھیک کروانے کے لیے خرچ کیے جائیں گے جہاں کچھ عرصہ قبل 14 طلبا کو لیے آنے والی بس حادثے کا شکار ہو گئی تھی۔ اس دوارن مسٹر لینگلینڈز لاہور جائیں گے جہاں ایچی سن کالج میں ان کے سابقہ طلبا نے ان کے لیے ایک اپارٹمنٹ تیار کر رکھا ہے۔ انہوں نے ایچی سن کالج کے دروازے کے قریب جگہ منتخب کی ہے تا کہ لوگ آ کر آسانی سے ان کو مل سکیں۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ ابھی بہت سے کام باقی ہیں ۔ انہیں اپنی آپ بیتی لکھنی ہے اور اپنی 95 واں جنم دن منانا ہے تا کہ اس موقع پر سکول کے لیے فنڈ اکٹھے کیے جا سکیں۔ اب ان کا خواب چترال میں ایک اچھی اکیڈمی قائم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں فارغ بیٹھنا بلکل پسند نہیں ہے۔ 

loading...

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *