جنسی تعلقات اور سماج

زیبا ہاشمی

Image result for sex

سیکس ایک بُرا سمجھا جانے والا لفظ ہے۔ قدامت پرست معاشروں میں اس پر کھلے عام گفتگو کرنا گناہ سمجھا جاتا ہے ۔ اس لیے آج کے دور میں اس اہم معاملے پر گفتگو کرنا بہت ضروری ہے تا کہ اسے ایک عام چیز قرار دیا جا سکے لیکن سخت مزاج اخلاقی اصول جو مذہب اور کلچر کے ذریعے طے کیے جاتے ہیں کے مطابق اس معاملے کو ایک عام چیز سمجھ کر ڈسکس کرنا ناممکن سا بن چکا ہے۔ اس معاملے میں ایک مصنوعی خاموشی طاری ہو چکی ہے کیونکہ اسے گندہ اور گناہ کا عمل سمجھا جاتا ہے۔ جب تک شادی نہیں ہو جاتی لوگ اس معاملے پر گفتگو کرنے سے پرہیز کرتے ہیں۔ در حقیقت سیکس ایک ایسا سبجیکٹ ہے جسے پاکستان میں زیادہ توجہ سے مطالعہ میں لانے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ انسانی فزیالوجی اور سائیکالوجی کا ایک اہم حصہ ہے۔

البتہ ہمارا اس موضوع سے تعلق مذہب سے جڑا ہوا ہے اور ثقافتی طور پر بھی اسے ایک مخفی رکھنے والی چیز سمجھا جاتا ہے۔ اردو مصنفین نے سیکس کو بہت واضح طریقے سے بیان کیا ہے۔ سعادت حسن منٹو نے اپنی کتاب میں سیکس کو بہت واضح طریقے سے بیان کیا اور بتایا کہ سیکس کو ایک منافقانہ معاشرے میں کس طرح لیا جاتا ہے۔ عصمت چغتائی نے بھی دوسرے اردو مصنفین کی طرح عورتوں کو آزادی، خود مختاری اور انفرادیت کی علامت قرار دیا ہے۔ امرتا پریتم اور احمد بشیر بھی کچھ ایسے لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اس موضوع کو کھل کر بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ اگرچہ اردو کے بہت سے افسانے 12ویں صدی سے لکھے گئے ہیں لیکن کوئی دوسرا ادب ایسا نہیں ہے جس میں سیکس کو ایک عام انسانی ضرورت کے طور پر لیا گیا ہو۔

ہمارا جنسی تعلقات کے بارے میں نظریہ تقسیم ہند کے بعد تھوڑا تبدیل ہوا ہے جس کی وجہ ہجرت کے دوران عورتوں پر ہونے والاتشدد اور خوفناک جبر ہے۔ لیکن فیمیل سینٹرڈ لٹریچر یں یہ کوئی ٹرننگ پوائنٹ نہیں تھا۔ ایک دہائی قبل ڈاکٹر رشید جہاں نے اردو کی تاریخ میں پہلی بار اپنے ساتھیوں کی مدد سے اس بت کو توڑنے کی کوشش کی اور لوگوں کی منافقت کو عوام کے سامنے لانے کی ہمت دکھائی۔ 1931 میں کچھ غیر روایتی اور بولڈ کہانیاں 'انگارے' نامی مجموعہ میں شائع کی گئیں لیکن اس مجموعے پر پابندی لگائی گئی اور تمام کی تمام کاپیاں جلا دی گئیں۔ یہ اہم ادبی نسخہ عوامی غصے کی بھینٹ چڑھ گیا کیونکہ عوام ایک خاموش چیز کو شور میں تبدیل نہیں کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے یہ رویہ اس لیے اختیار کیا کہ تب عورتوں کو جنسی طاقت کے بارے میں تصور بھی کرنے سے گریز کی جاتا تھا اور پاکستان میں آج بھی ویسی ہی صورتحال ہے۔

یہ سچ ہے کہ اردو زبان سیکس جیسے اہم معاملے میں بہت محدود رکھی گئی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ زبان کمزور ہو چکی ہے۔ سماجی تبدیلی کی وجہ سے ہم اس کے معنی صوفی ازم سے اخذ کرتے ہیں جو سیکس کو اللہ کے ساتھ محبت کا ایک خاص ذریعہ گردانتے تھے سب سے پہلی شخصیت جس نے اللہ کو اپنا محبوب قرار دیا وہ ایک خاتون رابعہ العداویہ تھی جس کا تعلق عراق سے تھا لیکن اسے مرد سمجھا جاتا تھا۔ اگرچہ اس کا اثر صوفی ازم پر ایک لمبے عرصہ تک رہا لیکن لوگ اب بھی اس کنسیپٹ کو نہیں سمجھ پاتے کہ انسانیت کو خدائیت کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔

ہمارا بھی سیکس کے معاملے میں نظریہ انڈیا کی تاریخ سے گہرا تعلق رکھتا ہے ۔ کاماسوترا اور تانترک نے سیکس کے بارے میں ہمارے خیالات پر ایک واضح اثر ڈالا اور اس کے تصورات آج بھی ہمارے ہاں پائے جاتے ہیں۔ اسی نظریہ کو سامنے رکھتے ہوئے ممتاز اردو رائٹر نے سیکس کے بارے میں انسانی نظریات اپنی کتاب 'سیکس اور سماج' میں بیان کیے ہیں۔ یہ کتاب سیکشولٹی کو بہت تفصیل سے بیان کرتی ہے خاص طور پر جیسا اس اہم چیز کو پاکستان اور مسلم معاشرے میں سمجھا جاتا ہے ۔ اس میں اس بات پر بحث کی گئی ہے کہ کیسے سیکس کو مذہبی تشریحات اور عورتوں سے متعلق جوڑ کر اس کے مختلف وضاحتوں سے نوازا گیا۔ مصنف نے اس معاملے میں مصنف نے اسلام اور عرب سے پہلے اور بعد کی عورتوں کے حوالے شامل کیے ہیں۔ انہوں نے سیکس کے بارے میں بدلتے ہوئے عام رویہ کی بھی تصویر کشی کی ہے جس کی بنیاد پر ہماری سیک کے بارے میں سوچ بدلتی رہی ہے ۔

ابراہیم کا کہنا ہے کہ اگرچہ سیکس کو برا سمجھا جاتا ہے لیکن سزا صرف عورت کو ملتی ہے کیونکہ عورت صنف نازک ہوتی ہے اور اسے آسانی سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ اسے پریشر اور دباو کے ماحول میں رکھا جاتا ہے اور جنسی تعلقات کے بارے میں اس کے خیالات کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ مردوں کے زیر اثر معاشروں میں عورت کا کوئی خاص کردار نہیں ہوتا اور انہیں صرف نوکرانی ہی سمجھا جاتا ہے ۔ یہ پوزیشن عورت کو مذہب اور معاشرے کی اقدار کی وجہ سے دی جاتی ہے۔ مصنف نے مرد کے حکمرانی کے اس زاویے کو یکسر مسترد کیا ہے چونکہ یہ رویہ عورتوں کی غلامی جیسے حالات کا عکاس ہے۔

جنوبی ایشیا کے علاقوں میں عورتوں سے نفرت کے اس رویہ کو چیلنج کرتے ہوئے مصنف بتاتے ہیں کہ مسلمانوں کے دور حکومت میں سیکس کو ایک نئے معنی ملے جس میں عورتوں کو زیادہ دباو میں رکھا جاتا اور انہیں ذیادہ ذمہ دار سمجھا جاتا تھا۔ عورتوں پر اس طرح کی کوئی پابندیاں نہ ہوتیں ۔ عورتوں کو غلام بنانے کے مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے مصنف نے پوری تفصیل سے گفتگو کی ہے۔ وہ اپنے نظریات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ پاکستان میں سیکس سے متعلق چیزوں کو ہمیشہ عورتوں سے ہی جوڑا جاتا ہے یعنی یہاں کہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ عورت کو موضوع گفتگو بنائے بغیر سیکس پر بحث ہو ہی نہیں سکتی۔ مصنف نے کچھ مشہور علما کو اس سلسلے میں تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔ ان علما میں اشرف علی تھانوی، اکبر الہ آبادی اور علامہ اقبال شامل ہیں جو عورتوں کو مردوں کے برابر نہیں سمجھتے تھے۔

ہم ان علما کے نظریات کی تعریف کرتے ہیں باوجود اسکے کہ وہ عورت کے خلاف حقارت آمیز رویہ اختیار کرتے تھے۔ جہاں تک عورت کا تعلق ہے تو ہمیشہ اسے ہی اپنا کردار پاکیزہ رکھنے کی تلقین کی جاتی ہے اور اگر عورت جنسی تعلقات کے متعلق ایک لفظ بھی بولے تو اسے بے ہودہ قرار دیا جاتا ہے۔ عظیم مصنف نے جنسی لحاظ سے مردوں کے غم و غصے پر بھی تفصیلی گفتگو کی ہے ۔ مردوں کے یہ جذبات معاشرے میں موجود غیر ضروری جنسی تفاوت کی بدولت ہیں ۔ مصنف کے خیالات پورا وزن رکھتے ہیں کیونکہ شر م و حیا کا لبادہ صرف عورت کو پہنایا جاتا ہے جو خود سے شرم و حیاکا پیکر ہوتی ہے اور جس کی گود بچے کی پہلی درسگاہ قرار پاتی ہے۔ مصنف کا خیال ہے کہ عورت کی طاقت ور موجودگی کو تاریخ میں ہمیشہ سے غیر اہم بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔

عورتوں کا طاقت کے سامنے بچھ جانا ابراہیم کے مطابق اس لیے ہے کہ مرد عورتوں کو اپنی نسل بڑھانے کےلیے استعمال کرتے ہیں تا کہ وہ مرد انہیں طاقت کے ذریعے زیر کر کے اپنے بچے پیدا کر سکیں اور اپنی دولت کی حفاظت کر سکیں۔ مذہبی نقطہ نظر سے دیکھیں تو بھی عورت کو ایک سے زیادہ مردوں سے بیک وقت رشتہ رکھنے کی اجازت نہیں ہے اور اگر عورت اپنی جنسی خواہشات کی تسکین کے لیے خاوند کے علاوہ دوسرا راستہ ڈھونڈتی ہے تو اسے بد کردار گردانا جاتا ہے۔ مردوں کی زیر تسلط سوسائٹی میں سیکس صرف مردوں کا حق سمجھا جاتا ہے اور جو بھی اس نظریہ کی مخالفت کرتا ہے اس کو بد تمیز، خطرناک اور معاشرے کے لیے ناقابل قبول مان لیا جاتا ہے۔

اپنی اس کتاب میں ابراہیم نے ایک بہت ہی حساس اور اہم موضوع پر روشنی دالی ہے جو اور کچھ نہیں بلکہ جنسی رجحان ہے۔ انکا دعویٰ ہے کہ ہمارے معاشرے میں لوگ ہم جنس پرستوں کو نہ صرف سماجی بلکہ قانونی طور پر بے عزت کرتے ہیں اور فحش قرار دیتے ہیں۔ ابراہیم کا ماننا ہے کہ مرد اور عورت میں اپنے ساتھی کے لیے پایا جانے والا رجحان ایک قدرتی چیز ہے جو دوسری مخلوقات میں بھی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے ایسے مردوں اور عورتوں کے مسائل کا بھی ذکر کیا ہے جو ہم جنس پرستی کے دلدادہ ہونے کی وجہ سے اپنی جنس تبدیل کروانے پر مجبور ہو جاتے ہیں جیسا کہ ایران ، تھائی لینڈ اور پاکستان میں دیکھا گیا ہے۔ جنس تبدیل کروانے کے بعد بھی انہیں معاشرے میں باعزت نہیں سمجھا جاتا۔

ہم جنس پرستوں کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے مصنف کہتے ہیں کہ ان کی مردانگی ان کے لیے ایک قید کی طرح ہوتی ہے جہاں ایک عورت دم گھٹنے سے مر رہی ہو۔ اگرچہ یہ موضوع زیادہ پیچیدہ اور متنوع ہے اور ابھی تک اس پر کہیں بھی تفصیلی بحث نہیں دیکھی گئی ہے لیکن پھر بھی مصنف نے ایک بحث چھیڑنے کی جراۡت کی ہے جب کہ ہم اس موضوع کو اردو میں ہمیشہ شامل کرنے سے کتراتے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مصنف نے محرم رشتہ داروں کے ساتھ جنسی تعلقات، بچوں پر جنسی تشدد اور بغیرخواہش کے اپنے ساتھی کو جنسی تعلقات پر مجبور کرنے جیسے مسائل کو بھی سامنے لانے کی کوشش کی ہے ۔ ان معاملات میں مجرم اپنے گھر والوں کو ہی اپنی حوس کا نشانہ بناتے ہیں ۔ مصنف کے خیال میں بچوں کو جنسی تشدد کا خطرہ گھر سے زیادہ اور باہر سے کم ہے۔

اس کتاب میں بہت سے ایسے پہلو ہیں جن پر نظر ڈالنے کے بعد ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ جنسی تعلقات کے بارے میں ہمارا نقطہ نظر کیا ہے اور اسے اصل میں کیا ہونا چاہیے۔ ہمیں یہ اعتراف کرنا ہو گا کہ پاکستان میں سیکس کو کسی بھی موقع پر ایک عام چیز کے طور پر زیر بحث نہیں لایا جاتا۔سرعام جبری زنا کا کلچر ہمارے معاشرے کی جڑوں تک پہنچ گیا ہے اور ہمیں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ لٹریچر کے ذریعہ اپنے پرانے خیالات کو بدلیں اور عورتوں کو ہی مورد الزام ٹھہرانا بند کریں۔ یہی وجہ ہے کہ سعید ابراہمی کی کتاب جنسی تعلقات کو ایک عام اور قدرتی چیز کے طور پر لینے پر کے لیے ایک انقلابی کوشش قرار دی جا رہی ہے ۔ اپنی کتاب میں انہوں نے یہ نقطہ نظر اختیار کیا ہے کہ سیکس کی اصل نوعیت سے ناواقفیت کی وجہ سے ہی لوگ انٹر نیٹ پر فحش مواد دیکھنے کے عادی بنتے ہیں۔ کچھ انگریزی اخباروں کو چھوڑ کر کسی اور ادارے نے ملک میں عورتوں اور سیکس سے متعلق سوچ کو بدلنے کی کوشش نہیں کی۔ خلاص کلام یہ ہے کہ یہ ایک ایسی کتاب ہے جو جنسی تعلقات کو بُرا سمجھنے جانے کے مسئلہ کو اجاگر کرتی ہے جو بالآخر پریشانی، مایوسی، احساس جرم اور شرمندگی کا باعث بنتا ہے۔

loading...

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *