میں حاملہ نہیں ہوں!

بشکریہ : راما چیمہ 

"جی ہاں میں موٹی ہوں۔ "

"واہ کیا بات ہے۔ مبارک ہو۔ کتنے ماہ ہوئے ہیں؟"

"معاف کیجیے میں نے آپ کو پہچانا نہیں؟ "

"آپ تو بہت صحت مند ہو گئیں ہیں۔"

"ماشا اللہ بڑی صحت بنا لی ہے۔ "

"کچھ ڈائیٹنگ وائٹنگ تو کرنے کی کوشش کریں۔ "

پچھلے کچھ عجیب و غریب واقعات نے مجھے ہمت دی کہ میں اپنے تجربات کو تحریر کی شکل میں لاؤں۔ اوپر دیے گئے جملے وہ حقارت بھرے ریمارکس ہیں جو مجھے مختلف لوگوں سے سننے پڑے ۔ افسوس کی بات ہے کہ کچھ ایسے لوگ بھی اس طرح کے جملے بولتے ہیں جو میرے جاننے والے ہیں۔ حمل ایک عورت کے لیے بہت اہم خوش خبری ہوتی ہے خصوصا ایسی عورت کے لیے جو شادی کے 9 سال بعد اپنے پہلے بچے کو جنم دینے کی تیاری میں ہو۔

ہمیں یہ حقیقت معلوم ہے کہ حمل کے ساتھ جسم میں بہت سی تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں۔ یہ تبدیلیاں ہر انسان کے جسم میں نظر آتی ہیں۔ میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ جب میں حاملہ ہوئی تو میرا وزن کچھ کلو بڑھ گیا۔ چونکہ مجھے کھانے کا بہت شوق ہے اس لیے میرے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ اپنے بڑھتے وزن کو کنٹرول میں رکھتی۔ میں کسی بھی اچھی ڈش کی خوشبو کو نظر انداز نہیں کر سکتی۔ اس لیے انہیں عادتوں کی وجہ سے میرا وزن 25 کلو تک بڑھ گیا۔ البتہ میں اپنے جسم کو جیسے بھی ڈھالنا چاہوں یہ میرا ذاتی مسئلہ ہے۔ ہم لڑکیاں جب سے جوانی میں قدم رکھتی ہیں ہمیں جسم کے حوالے سے مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ہمارے آس پاس کے لوگ کبھی ہمیں پرفیکٹ نہیں سمجھتے اور وہ خود جتنے ہی اِمپرفیکٹ ہوں ہمیں ہمیشہ تنقیدی نظر سے دیکھتے ہیں۔ ان کے لیے لڑکیا ں یا بہت کمزور ہوتی ہیں یا موٹی۔ کبھی سانولی ہوتی ہیں تو کبھی کالی۔ کبھی چھوٹے قد کی ہوتی ہیں اور کبھی حد سے زیادہ لمبے قد کی۔ مرد اور عورت دونوں کے اجسام پر کڑی نظر رکھی جاتی ہے اور ہر لحاظ سے کیڑے نکالے جاتے ہیں۔ کیا آپ نے کبھی پرنٹ اورا لیکٹرانک میڈیا میں اپنی جسمانی ساخت کو بہتر کرنے کے مشورے دیکھے ہیں؟ ان ماڈلز اور سلیبرٹیز کے بارے میں کیا خیال ہے جن کی فوٹو شاپ میں ایڈٹ کی ہوئی تصاویر چھپوائی جاتی ہیں جو ہمیں حیران کر دیتی ہیں؟ میرے خیال میں یہ ماڈلز خود بھی کسی لحاظ سے پرفیکٹ نہیں ہوتیں۔ لیکن میڈیا ان کی کمزوریاں چھپا دیتا ہے۔

ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے کس طرح کے معیار مقرر کر رہے ہیں؟ آج کل لوگوں نے اپنے آپ کو پرفیکٹ دکھانے کے لیے پلاسٹک سرجری کا استعمال شروع کر دیا ہے چاہے اس سے ان کی زندگی ہی خطرے میں کیوں نہ پڑ جائے۔ ہمارے اس رویے نے ہمارے لیے بہت خطرات پیدا اکر دیے ہیں۔ ہم ہر وقت اس کوشش میں ہوتے ہیں کہ کیسے اپنے جسم کو اس حالت میں لائیں کہ دیکھنے والے ہماری شکل و صورت اور جسامت کے معترف نظر آئیں۔ میرے جاننے والے خوبصورت لوگوں کی تعداد جو اپنے جسم کو صحیح حالت میں لانے کی پریشانی لیے ڈیپریشن اور بے چینی کا شکار ہیں مجھے بد دل کر دیتی ہے۔

معاشرے کی طرف سے کی گئی تنقید ہمارے جسمانی اور جذباتی شخصیت پر بہت دھبے لگا دیے ہیں۔ مزید افسوسناک بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا، سائبر کی دھونس، اور آئیدیل لائف گزارنے کی خواہشات نے بہت سے لوگوں کو دکھی، عدم تحفظ کا شکار اور ناشکرا بنا دیا ہے۔ میں خود 10 سال کی عمر سے آج تک اپنے وزن کو لیکر پریشان رہی ہوں کیونکہ ہمیشہ تبدیلی واقعہ ہونے کے بعد مجھے سوسائٹی کی طرف سے 'صحت مند' اور 'موٹی' جیسے القابات سے نوازا گیا ہے۔ لوگ مجھ پر رشک بھی کرتے رہے ہیں اور میرا مذاق بھی اڑاتے رہے ہیں۔ کئی بار مجھے تعریفی کلمات بھی سننے کو ملے ہیں۔

ان سب بدلتے ہوئے احساسات نے مجھے زیادہ مضبوط اور جرات مند بنایا ہے۔ لیکن پھر بھی بعض اوقات میں ان حساس لوگوں کے تبصروں کے نظر انداز کرنے میں ناکام ہو جاتی ہوں۔ کیونکہ چاہے جو بھی ہو، ہوں تو میں انسان اور ایسے بھی اوقات آتے ہیں جب یہ تبصرے اتنا گہرا زخم لگاتے ہیں کہ آپ تصور بھی نہیں کر سکتے۔ ایسے بھی لمحات آئے ہیں جب میں نے اپنی سمجھ پر سوال اٹھائے ہیں اور اس طرح میرے اعتماد کو دھچکا پہنچا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم اپنے ماضی پر نظر ڈالنے سے کتراتے ہیں۔ مجھے غلط مت سمجھیے ۔ میں بھی ہر دوسرے شخص کی طرح ان تعریفی کلمات پر خوش ہوتی ہوں۔ لیکن ایسے لمحات بھی ہوتے ہیں جب میں چاہتی ہوں کہ مجھے جسم کی بجائے ایک بیوی، ماں، بیٹی اور بہن اور معاشرے کے فرد کے طور پر تعریفی کلمات سننے کو ملیں اور میں اس پر شکر ادا کر سکوں۔ میرا قد 5 فٹ 2 انچ ہے اور پچھلے تین سال میں میرا وزن 65 کلو کے آس پاس رہا ہے۔

میں نے اپنی دوستوں سے ملنا چھوڑ دیا ہے کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ جیسے ہی میں ان سے ملوں گی مجھے اپنے وزن کے بارے میں عجیب و غریب بیانات سننے کو ملیں گے۔ شاید اس طریقے سے میں ان دوستوں سے بھی کنارہ کش ہو رہی ہوں جو میرے جسم اور صورت کو دیکھے بغیر بھی مجھ سے محبت کرتے ہیں۔ جہاں تک مجھے یاد ہے، ایک بار میرے ایک رشتہ دار نے میری مثال دے کر اپنی بیٹی کو زیادہ کھانے سے بچنے کی تلقین کی تھی تا کہ وہ مجھ جیسی نہ لگنے لگے۔ کتنی بڑی گستاخی کی بات ہے۔ جب میں کالج میں دخل ہوئی تو میں بہت پتلی تھی اور یہی دوست اور رشتہ دار جو پہلے میرا مذاق اڑاتے تھے اب میری تعریف کرنے لگے تھے۔ ان لوگوں کا دہرا معیار مجھے بہت محظوظ اور حیران کرتا ہے۔ تب یہ میری فٹنس کا راز جاننا چاہتے تھے جو کوئی خاص نہیں تھا۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ میرا وزن اچانک کم کیسے ہو گیا۔ لیکن میں واقعی دبلی پتلی ہو گئی تھی۔ شاید اس وجہ سے کہ مجھے ہاسٹل کا کھانا پسند نہیں تھا۔

میں کسی کی ہمدردی حاصل نہیں کرنا چاہتی۔ میں صرف یہ جاننا چاہتی ہوں کہ لوگ پرفیکٹ بننے کے لیے پاگل کیوں ہوئے جا رہے ہیں؟ میں ان لاکھوں مردوں اور عورتوں کے ساتھ ہوں جو اپنے جسم کی وجہ سے اس طرح کے تنقیدی تبصروں کو برداشت کرتے ہیں۔ جسمانی ساخت پر تنقید کا مطلب امتیازی سلوک ہے جو ہمیں ہر روز برداشت کرنا پڑتا ہے۔ یہ بات حیران کن نہیں ہونی چاہیے کہ اگر لوگ آپ کو اپنے احساسات اور اعتماد میں کمزور کرتے ہیں تو یہی لوگ آپ کے رویہ کو اتنا بگاڑ سکتے ہیں کہ ایک دن یہی آپ کو معاشرے میں دھونس جمانے والے شخص کا لقب دے سکتے ہیں۔

loading...

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *