’’ملاقاتیں کیا کیا‘‘اور’’کارِجہاں دراز ہے‘‘

muhammad-saeed-azhar

امید کے چراغ روشن رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ زندگی کی کشمکش ایک زندہ اور موجود حقیقت ہے، اسے الفاظ کے گورکھ دھندے میں چھپایا نہیں جاسکتا۔ انسان نے ابھی تک طاقت پہ عدل کا پلڑا بھاری نہیں دیکھا، ساتھ ہی طاقت کی ناجائز فرمانروائی کو تسلیم بھی نہیں کیا، لگتا ہے، لگتا کیا ہے، ڈیکلریشن بھی یہی ہے’’ ہم نے یونہی یہ سب کچھ بے کار نہیں بنایا‘‘، پھر ہی قرۃ العین حیدر کا یہ لکھا ہی دل کو بھاتا ہے ’’کارجہاں درازہے!‘‘
ہمارے ذہنی کینوس کی کوئی بھی سطح کائنات کی وسعت کو ا پنی گرفت میں لانے سے عاجز ہے۔ جن لوگوں نے ’’کارجہاں دراز‘‘کے اس سفر میں انسانی سفر کے لئے علم اور ٹیکنالوجی کی آسانیاں پیدا کیں، اپنے جسم و جاں کو پتوں سے ڈھانپنے کا آغاز کرکے چاند تک جاپہنچے یقیناً وہ قابل قدر ہیں، قابل قدر ہی نہیں انہیں عبقری کہنا چاہئے۔ وہ اس سیارے کی نہایت ہی محترم و مکرم مخلوق ہیں مگر یہاں اس دنیا میں جہاں جہاں خوف کی حکمرانی نے اپنے پنجے گاڑ رکھے ہیں، عدل تک پہنچنا یا عدل حاصل کرنا عموماً ممکن نہیں ہوتا ، دھرتی کے ایسے خطے یامنطقےبہرحال تکلیف دہ ہیں، پھر وہاں تو یہ اذیت بے پناہ ہوجاتی ہے جہاں تقدیس کےوار سے انسانی آزادی ذبح کردی جائے یا اس کا مثلہ کردیا جائے!پاکستان میں بھی جو لوگ اس ملک کی عمر کے برابر ہیں یا جنہوں نے اسکے قیام کے چند برس بعد ہوش و حواس کی آنکھیں کھولیں، ایسے ہی سوالوں کا شکار ہیں جن کے جواب ڈھونڈھنے کی عادت سے وہ آج تک چھٹکارا نہیں پاسکے۔
مطالعہ کی میز پر الطاف حسن قریشی صاحب کی کتاب’ ’ملاقاتیں کیا کیا‘‘ پڑی ہے، قلمکار خود عمر میں پاکستان سے شاید ڈیڑھ دو سال بڑا ہے،’’ملاقاتیں کیا کیا‘‘ میں الطاف صاحب نے جن شخصیات سے انٹرویوز کئے یا عنوان کی نسبت سے’’ ملاقاتیں کیں‘‘ کہہ لیجئے ان میں سے شاید طالبعلم نے سب کو دیکھا، یہ کتاب ان حضرات کی زبانی پاکستان کی بولتی، مکالمہ کرتی اور وقوع پذیرہوتی تاریخ کی داستان ہے۔ پاکستان آج خوف اور خون کے جن دو متوازی دریائوں کے درمیان اپنے شب و روز گزار رہا ہے ان انٹرویوز میں بھی ان راہوں کی نشاندہی کی جاسکتی ہے جن پر چل کر ہم اس حال کو پہنچے ۔
مثلاً الطاف صاحب کی اس کتاب’’ملاقاتیں کیا کیا‘‘ میں سید ابوالاعلیٰ مودودی ، ذوالفقار علی بھٹو، شیخ مجیب الرحمٰن، جنرل محمد ضیاء الحق، چیف جسٹس اے آر کارنیلس، اے کے بروہی، غلام رسول مہر، مولوی تمیز الدین، حکیم محمد سعید دہلوی،قدرت اللہ شہاب اور ائر مارشل اصغر خان سمیت متعدد تاریخ ساز پاکستانی شخصیات سے الطاف صاحب کا مکالمہ پڑھنے کو ملتا ہے۔ الطاف صاحب کے اسلوب بارے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ معنونیت سے بھرپور انشا پردازی اور توانا اسلوب جہاں قاری پر زندگی کا بھروسہ بڑھاتا، اسے جدوجہدپہ ابھارتا اور امید کے چراغ روشن رکھنے کا یقین دلانے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔’’ملاقاتیں کیا کیا‘‘ میں گو اسے سوالات کا حل ملتا ہے مگر وہ ماضی کے نقوش ہیں حال میں جو زہر پینا پڑرہا ہے اس کا تریاق کہاں سے حاصل کیا جائے؟پاکستان کا ایک عام شہری الطاف صاحب کی کتاب ’’ملاقاتیں کیا کیا‘‘ میں جب ذوالفقار علی بھٹو اور شیخ مجیب الرحمن کے انٹرویوز کا مطالعہ کرتا ہے، اسے مشرقی پاکستان(اب برسوں سے اس کا نام’’ بنگلہ دیش ‘‘ہے )یاد آجاتا ہے، ذوالفقار علی بھٹو کسی سوال کے جواب میں الطاف صاحب سے کہتے ہیں ’’برہمن قیادت نے پاکستان کا وجود کبھی تسلیم نہیں کیا تاہم اب اس کی مسلم کش پالیسی نے ایک نیا روپ دھار لیا ہے۔ ہندوسیاستدان تعاون اور دوستی کی باتیں کرنے لگے ہیں، ان کا مقصد پاکستان کی صورت میں ہندو تہذیب کے خلاف تعمیر ہونے والے قلعے میں شگاف ڈالنا ہے، ہم نے ان پر یہ حقیقت بار بار واضح کی ہے کہ تعاون صرف دو برابر ملکوں کے درمیان ہوسکتا ہے۔ تم جب تعاون کی بات کرتے ہو تب تمہارے پیش نظر پاکستان کو ہڑپ کرنا ہوتا ہے؟‘‘
اور شیخ مجیب الرحمٰن کا اپنی’’ملاقات‘‘ میںکہنا تھا ’’قریشی صاحب! میں نے پاکستان کی جدوجہد میں بھرپور حصہ لیا۔ مختلف مراحل اپنی آنکھوں سے دیکھے اور آج مجھ پر پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کردینے کا الزام لگایا جارہا ہے۔ الزام بھی وہ اصحاب لگارہے ہیں جو بالکل تہی دامن ہیں۔ میں سچ کہتا ہوں کہ مشرقی پاکستان کے عوام سخت دشوار یوں سے دو چار ہیں اور صرف ان کا مداوا چاہتے ہیں
آپ خود ہی سوچئے کہ مشرقی پاکستان کو علیحدہ ہونے کی کیا ضرورت ہے۔ ہماری آبادی 56فیصد ہے، مغربی پاکستان علیحدگی کا تصور کرسکتا ہے مگر ہم بالکل نہیں کرسکتے‘‘۔ دونوں پاکستان کے واری صدقے جارہے ہیں، پھر مشرقی پاکستان ہم سے علیحدہ کیوں ہوگیا؟ صرف بھارت کی وجہ سے ؟کیا ہم میں سے کوئی ’’پورا سچ‘‘ کہنے کی جرأت کرسکتا ہے؟ کیا کبھی’’پورا سچ‘‘ کہا جاسکے گا؟ میرے دکھی مظلوم خوبصورت دیس کے ملاحوں کے دلنواز دلدوز گیت، کیا میں کبھی واپس جاسکوں گی؟‘‘ اور یاد آیا ’’مشرقی پاکستان‘‘ تو موجود ہی نہیں اب مانجھیوں کی آوازیں کہاں سے آئیں گی؟،اسے تو اب بنگلہ دیش کہتے ہیں، ہم نے آپس میں لہو کی ندیاں نہیں خون کے سمندر بہادئیے، سچ یہی ہے چاہے ذوالفقار علی بھٹو’’بھارت پاکستان کو ہڑپ کرنا چاہتا ہے،کہتے رہیں، شیخ مجیب کا کہنا ہو’’مغربی پاکستان علیحدگی کا تصور کرسکتا ہے ہم بالکل نہیں کرسکتے‘‘ اس لئے کہ ہم علیحدہ ہوگئے، جس کو ہم اب پاکستان کہتے ہیں وہاں سر عام سڑکوں پر سے بندے اٹھا لئے جاتے ہیں ، ’’ملاقاتیں کیا کیا‘‘ جیسی کتابیں ہمیں یقیناً ہماری گزری تاریخ کے ابواب کا نوحہ سنا سکتی ہیں، کہانی کہہ سکتی ہیں لیکن قائد ا عظم کی ایمبولینس سے لے کر پاکستان کے دو لخت ہونے تک کا ’’پورا سچ‘‘قطعی غیر جانبدار ، شاید ایسی کتابوں کے صفحات بھی یہ بوجھ نہ سہار سکیں۔
الطاف صاحب ،جسٹس ایس اے رحمن کے انٹرویو کے حوالے سے کہتے ہیں’’وہ چیف جسٹس آف پاکستان کے منصب سے ریٹائرمنٹ کے بعد اگر تلہ سازش کیس ٹریبونل کے سربراہ مقرر ہوئے، ہم نے یہ راز معلوم کیا کہ ٹریبونل کی سربراہی قبول کرنے سے پہلے انہیں شیخ مجیب الرحمٰن نے جیل سے کیا پیغام بھجوایا تھا، کن حالات میں جسٹس صاحب پر ڈھاکہ میں قاتلانہ حملہ ہوا اور وہ کس طرح معجزانہ طور پر بچ نکلے؟ پھر الطاف صاحب نے سید ابوالاعلیٰ مودودی کے اس انٹرویو کا تذکرہ چھیڑا ہے جس میں سید صاحب نے1948میں جہاد کشمیر کے حوالے سے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ جہاد کے اعلان کا اختیار صرف ریاست کو حاصل ہے اور اسلام کے اندر غیر ریاستی عناصر کی کوئی گنجائش نہیں؟ جس کے بعد سالہا سال تک سید صاحب کی ذات تہمت تراشوں اور باطل پرستوں اور جاہل محب وطنوں کے انگار کا نشانہ بنتی رہی؟
کارجہاں دراز ہے، سوالوں کا جواب نہیں ہوسکتا ’’ملاقاتیں کیا کیا‘‘ جیسی سچائیاں اپنی جگہ، ان کے باعث مگر اس کرب میں اضافہ کہ پاکستان نارمل ملک تھا انبارمل کیسے ہوگیا؟ کس نے کیا؟

loading...

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *