اور وہ کہیں گے کہ یاد نہیں نائلہ کے ساتھ کیا ہوا تھا؟

sahirساحر پلیجو
اُس کا تعلق قنبر شہداد کوٹ سے تھا جہاں کی شرح خواندگی 2012کی ایک رپورٹ کے مطابق44%ہے اور جہاں 33%فیصد لڑکیاں مڈل سکول تک تعلیم حاصل کر پاتی ہیں۔ ان سب خامیوں کے باوجود اُس نے اپنے آبائی قصبے کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور یونیورسٹی آف سندھ جامشورو کے سندھی ڈیپارٹمنٹ میں داخلہ لے لیا۔
اور اب اپنے فائنل ائیر میں نائلہ رند کوئی عام طالبہ نہیں تھی بلکہ اپنے ماسٹرز کی کلاس کی ایوارڈ یافتہ طالبہ تھی۔ وہ اس دفعہ اپنی سردیوں کی چھٹیوں سے جلدی واپس آگئی تھی تاکہ 15جنوری کو اپنا تھیسس ٹائم پر جمع کرا سکے لیکن وہ اپنا تھیسس جمع نہیں کرا سکی کیونکہ یکم جنوری کو اُس کا ہاسٹل کے کمرے سے اُس کی پنکھے سے لٹکتی لاش ملی۔ مقامی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ خود کشی کا معاملہ ہے لیکن سوال یہ اُٹھتا ہے کہ نائلہ خود کشی کیوں کرے گی؟ وہ ایک اوّل نمبر کی طالبہ تھی جو بہت جلد بہت اچھے مارکس کے ساتھ گریجویٹ ہونے والی تھی، وہ ابھی اپنے گھر والوں کے ساتھ چھٹیاں گزار کر آئی تھی تو پھر وہ خودکشی کیوں کرے گی۔
اصل میں نائلہ کو انیس خاص خیلی نامی ایک لیکچرار سائبر بلیک میل کر رہا تھا۔ اُس کے پاس نائلہ کی تصاویر اور ویڈیوز تھیں جن کی بناء پر وہ پچھلے تین ماہ سے نائلہ کو بلیک میل کر رہا تھا اور آخر کار اسی بلیک میلنگ سے تنگ آکر نائلہ نے سندھ یونیورسٹی کے ماروی ہاسٹل میں پنکھے سے لٹک کر اپنی جان لے لی۔
کیا اب بھی آپ اسے خودکشی ہی کہیں گے؟ یہ خود کشی نہیں بلکہ قتل ہے اور اس دفعہ قاتل ایک بدنام لیکچرار تھا جو نائلہ اور اُس جیسی کتنی لڑکیوں کو بلیک میل کر رہا تھا اس کے ساتھ اس کی ذمہ داری یونیورسٹی، حکومت اور ہم عام شہریوں کی بھی ہے۔
ایسا کیوں تھا کہ نائلہ نے کسی اُستاد، دوست، گھر والے، ماں باپ، بہن بھائی کسی سے بھی اس بارے میں بات نہیں کی؟ وہ کسی سے مدد دریافت کرنے کے بجائے خاموش کیوں رہی؟ شاہد وہ ہماری مقامی حکومت کی پہلے کی کارکردگی جانتی تھی، شائد وہ جانتی تھی کہ ہمارے عدالتی نظام میں کیا خامیاں ہیں اور شائد وہ یہ بھی جانتی تھی کہ اُس کو ہمارے میڈیا کی توّجہ مرنے کے بعد ہی ملے گی کیونکہ اپنی زندگی میں تو وہ ایک عام لڑکی ہی تھی جس کو ایک اور پاگل آدمی بلیک میل کر رہا تھا اور یہ تو کوئی سٹوری نہیں تھی نا۔
حالانکہ سندھ یونیورسٹی پاکستان کا ایک بڑا نام ہے مگر اتنی بڑی اور مشہور یونیورسٹی میں بھی طلباء کی کونسلنگ کا کوئی انتظام موجود نہیں ہے اور نا ہی وہاں کوئی ماہرِ نفسیات موجود ہیں۔
نائلہ کو شائد اس بات کا بھی یقین تھا کہ اگر اُس کی تصاویر یا ویڈیو منظرِ عام پر آگئیں تو کوئی بھی اُس کا یقین نہیں کرے گا بلکہ ہمارا معاشرہ اُس کو ہی قسور وار ٹھہرائے گا، تو مبارک ہو کہ ایک اور جان ہماری دقیانوسیت کی بھینٹ چڑھ گئی۔
کچھ لوگوں کو شائد نائلہ کی موت ایک روز مرّہ کا واقعہ لگے، کچھ لوگ تو شائد اس کے بارے میں بات تک نا کریں مگر پھر بھی یہ واقعہ اُس مکروہ مافیا کا ایک افسوسناک چہرہ ہے جس کا پاکستان کے ایک بڑے گروہ پر گہرا اثر ہے۔ خاص کر اب اندرون سندھ کے لوگ شائد اپنی بیٹیوں کو پڑھنے کی اجازت نا دیں۔ اب بھی وہاں کے لوگ یہ مانتے ہیں کہ باہر کی دنیا اُن کی بیٹیوں کے لیے محفوظ نہیں ہے۔اب نائلہ کے واقعے کو وجہ بنا کر ان گنت بہنوں اور بیٹیوں کو گھر بٹھا دیا جائے گا اور اُن کو کہا جائے گاکیا تم نے نائلہ کو نہیں دیکھا کہ اُس کے ساتھ کیا ہوا؟
پاکستان نے اس طرح کی کئی طلباء کوکھویا ہے جو پاکستان کا فخر بن سکتی تھیں۔ اور اگر یہ بات افسوس کے قابل نہیں تو پتہ ہیں پھر کیا ہے۔
اب جبکہ سائبر کرائم بل تک منظور ہوگیا ہے تب بھی بطور شہری ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ا ہم اس مسئلے کے موئثر حل کے لیے آواز اُٹھائیں کیونکہ قانون کیسے کام کرتا ہے یہ تو ہماری پولیس جانتی ہی نہیں۔ اس Cyber Harassment Helpline کا ہمیں کیا فائدہ اگر ہم نائلہ کی جان نہیں بچا سکے۔

loading...

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *