بھارتی جیل میں قید 36 سالہ پاکستانی گریجوایٹ خاتون خود کشی کیوں کرنا چاہتی ہے؟ دل ہلا دینے والی تفصیلات

بھارت میں جاسوسی کے الزام میں ایک عرصہ گرفتار رہنے والی پاکستانی عورت اب پاکستان لوٹنے کی خواہش مند ہے لیکن کوئی اس کی مدد کرنے کے لیے راضی نہیں ہے۔ صوفیہ کنول جنہیں بھارتی فوج نے نیپال کے بارڈر سے آئی ایس آئی کی ایجنٹ سمجھ کر گرفتار کیا تھا 3ر وز سے بھارت میں پاکستانی ہائی کمیشن کے سامنے مدد کی منتظر ہے۔ صوفیہ کو ہائی کمیشن سے 3 لاکھ روپے درکار ہیں جس کے بدلے انہیں پاکستان سفر کرنے کی اجازت مل سکتی ہے۔ انہوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر پاکستان ہائی کمیشن نے ان کی مدد نہ کی تو وہ خود کو مار ڈالیں گی۔ انہوں نے کہا: میں خود کشی کر لوں گی۔ اب میرے پاس کوئی دوسری آپشن نہیں ہے۔ میں اس قدر پریشانی میں ہوں۔ پہلے مجھے اور میرے خاوند کو جاسوس کہہ کر گرفتار کیا گیا اور جب کوئی کیس نہ بن پایا تو ہمیں گلیوں میں ذلیل ہونے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔" صوفیہ کا دعوی ہے کہ وہ پاکستان کے شہر کراچی سے تعلق رکھتی ہیں اور کامرس کی گریجویٹ ہیں۔ صوفیہ اور ان کے خاوند پاکستانی ہائی کمیشن کے سامنے روڈ پر بیٹھے مدد کا انتظار کر رہے ہیں تا کہ صوفیہ پاکستان آکر اپنی ماں اور بچوں سے مل سکے۔دہلی پولیس نے 36 سالہ صوفیہ اور ان کے خاوند کو 2011 میں نیپال بارڈر سے گرفتار کیا تھا۔ان پر مودی کو قتل کرنے کا پلان بنانے کا الزام تھا۔ لیکن چارج شیٹ میں کچھ ایسا نظر نہیں آیا تو انہیں غیر قانونی طور پر بھارت میں داخلے کے الزام میں دھر لیا گیا۔ اب یہ جوڑا ضمانت پر رہا ہو چکا ہے اور خیرات پر گزر بسر کر رہا ہے۔ہائی کمیشن کے اہلکار نے بتایا کہ صوفیہ کی تفاصیل پاکستان کو بھیجی جا چکی ہیں تا کہ ان کا پاکستانی ہونا ثابت کیا جا سکے۔ کمیشن کا یہ بھی دعوی ہے کہ صوفیہ اور ان کے خاوند کو فی الحال گزارہ کرنے کے لیے 11900 روپے کی رقم فراہم کی گئی ہے۔

loading...

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *