2017 میں کیا طبی انقلابات آنے والے ہیں، آپ حیران رہ جائیں گے

Health montage

ٹرانسلیشن میڈیسن

2017 میں ہم کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ ڈیٹا کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔ لیکن پرائمری ہیلتھ کئیر کے سلسلہ میں مجھے ہمیشہ یہ پریشانی رہتی ہے کہ ہم زیادہ ترقی کیوں نہیں کر پائے؟ لوکل جی پی کے معاملے میں ہم سائنسی ایجادات کی لسٹ میں کوئی اضافہ کیوں نہیں کر پائے؟ ٹرانسلیشنل میڈیسن کے نام سے جانی جانے والی بائیو میڈیکل سائنس ہمیں یہ خلا بہت جلد پر کرنا ہو گا۔ سائنسدان، ہیلتھ کئیر پروفیشنلز، فارما اور فنڈر مل کر سائنس کو سلوشن میں تبدیل کرنے کی کوشش میں ہیں۔ حکومتوں اور ایجنسیوں کے لیے جو دنیا بھر میں ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ میں بہتری کے ذمہ دار ہیں کاسب سے بڑا مسئلہ نتائج کے اعتبار سےادائیگی ہے۔ سچ بات یہ ہے کہ مسئلہ صرف قیمتوں کی کمی نہیں ہے۔ اصل مسئلہ ناکارہ ادویات کی فراہمی کو روکنا ہے اور پریسین میڈیسن کی فراہمی ہے جس میں جینامکس، ایپی جینامکس، ماحولیاتی ایکسپوژر اور دوسرے فیکٹرز شامل ہیں ۔

کمپیوٹر کی مدد سے میڈیسن کی فراہمی

پریسین میڈیسن یا کوئی بھی ماڈرن میڈیسن ڈیٹا کے بغیر کسی صورت ممکن نہیں ہے۔ آج کل ہمارے جسم کا ڈیٹاخراب ہوجانے والی ڈیوائسز ککے ذریعے اکٹھا کیا جا رہا ہے۔ یہ صرف قدموں تک محدود نہیں ہے بلکہ وزن، بلڈ پریشر، دل کے دھڑکن کی رفتار اور درجہ حرارت سب چیزیں اسی طریقے سے معلوم کی جاتی ہیں۔ آئی بی ایم پلیٹ فارم جیسے ذرائع سے ہر شعبہ میں ترقی کی امید رکھی جا سکتی ہے۔ الگوریتھم کے ذریعے ایسی ڈیوائسز تیار کی جاسکتی ہیں جو اپلیکیشن کے ذریعے استعمال ہو سکیں جیسے نٹرینو جو ڈائیٹ کے بارے میں معلومات فراہم کر سکتا ہے ۔ یہ سسٹم انسان کے اندر سے حاصل ہونے والے مواد سے معلومات حاصل کرتا ہے ۔ انسان کے اندر ڈیپریشن اور دوسری بیماریوں کی پہچان کے لیے بھی آن لائن طریقے استعمال کرنے کی مشقیں بھی جاری ہیں ۔ ایک ایسی تھیراپی بھی تیار کی جا رہی ہے جو ڈیپریشن میں مبتلا انسان کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔

Go for the gut

گٹ بایوم زیادہ مشہور ہونے والا ہے۔ ہمارے جسم کے اندر اور باہرلاکھوں جرثوم پائے جاتے ہیں۔ زیادہ تر ہمارے گٹ میں موجود ہوتے ہیں۔ یہ تعداد ہمارے خلیوں سے بھی 10 گنا زیادہ ہوتی ہے۔ ان جرثوموں میں جو انفارمیشن موجود ہوتی ہے وہ کیمیکلز کی پیدائش کے لیے بہت اہم کردار ادا کرتی ہے خاص طور پر زخموں کے مندمل ہونے اور نظام دفاع میں یہ سب سے اہم چیز کہلاتی ہے۔ ہولی گریل یہ دیکھ سکتی ہے کہ ایک صحت مند جرثوم کس نوعیت کا ہوتا ہے ، انسانی جنس کو فیڈ کیسے کیا جا سکتا ہے اور کس طرح کے کھانے جرثوموں کو صحت پر اثر انداز ہونے سے دور رکھتے ہیں۔ اگر آپ اپنے بایوم کو دوسرے خاندان کے لوگوں کے بایوم سے موازنہ کرنا چاہتے ہیں تو آپ برٹش گٹ پروجیکٹ میں حصہ لے سکتے ہیں۔

اگلا صحت عامہ چیلنج کیا ہو گا؟َ

الکوحل جلدی موت کے وقوع، بیماری اور معذوری کے لیے سب سے بڑا رسک سمجھی جاتی ہے۔ الکوحل اور شراب کےلیے کم سے کم رقم مختص کرنے سے انسان شراب کم پی سکے گا لیکن الکوحل انڈسٹری اس اقدام کی مخالفت کرے گی۔ عام طور پر سموکنگ، غیر متوازن غذا، موٹاپا اور ہائی بلڈ پریشر جیسی چیزیں الکوحل سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتی ہیں۔ گاڑیوں کے اندر اور 18 سال سے کم عمر نوجوانوں پر سگریٹ نوشی کی پابندی پر عملدرآمد میں متعلقہ محکموں کو مشکل پیش آئی ہے اور اب مہم چلانے والے اہلکاروں کو یہ پیغام گھر گھر تک پہنچانا ہو گا۔ vaping ابھی تک ایک متنازعہ معاملہ ہے۔ لیکن یہ بہت سے لوگوں کو سگریٹ نوشی سے نجات دلانے میں مدد کرتا ہے۔ کچھ ناقدین کا کہنا ہے کہ vaping سے تمباکو نوشی بڑھ سکتی ہے۔ یورپی قانون دان ویپنگ اور تمباکو انڈسٹری پر پابندیاں لگانے کے حامی ہیں۔ سب سے بڑا چیلنج ہیلتھ کے خلا کو پر کرنا ہو گا۔ اوسط حد عمر پچھلے 26سالوں میں 75.9 سے بڑھ کر 81.3سال تک پہنچ گئی ہے لیکن اس حقیقت کے پیچھے ایک افسوسناک حقیقت پوشیدہ ہے۔ امیر مرد غریب مردوں کے مقابلے میں 9 سال اور امیر عورتیں غریب عورتوں کے مقابلے میں 8 سال زیادہ جیتی ہیں۔

زیکا وائرس

پھچلے سال انگلینڈ میں پہلی بار ایک خاتون زیکاوائرس کا شکار ہوئی اور اب لگتا ہے کہ ایسے مزید کیسز دیکھنے کو ملیں گے۔ حاملہ ہونے کے دوران اگر یہ بیماری ہو جائے تو بچے کی پیدائش اور عورت کی صحت بُری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔ زیکا وائرس والے ایریا سے واپس آنے والے مردوں کو تجویز دی جاتی ہے کہ 6ماہ تک کنڈوم کا استعمال کریں یا جنسی تعلقات سے پرہیز کریں۔ عورتوں کو ۸ ہفتے تک ایسے طریقے استعمال کرنے چاہیے کہ وہ حاملہ نہ ہوں یا پھر جنسی تعلقات سے ہی گریز کریں۔

کیا سکروی کا خاتمہ ہو چکا ہے؟

انگلینڈ میں سکروی سے متاثرہ لوگوں کی تعداد تو زیادہ نہیں ہے لیکن اچھی غذا استعمال نہ کرنے کے باعث یہ مرض پھیلنے کا خدشہ ہے۔ سب سے زیادہ خطرہ الکوحل اور منشیات کا استعمال کرنے والوں، اور گھر سے باہر رہنے والے لوگوں کا اس مرض کا زیادہ خطرہ رہتا ہے۔ یہ بیماری وٹامن سی کی کمی کے باعث پیش آتی ہے۔ اس بیماری کے نتیجہ میں منہ سے خون کا نکلنا ، جلد کی خوشکی، مندمل ہونے میں دیر لگنا اور اعصاب میں تکلیف کے مسائل پیش آتے ہیں۔ ہر انسان کو روزانہ کیوی فروٹ یا مالٹے کے جوس کا آدھا گلاس، ایک چھوٹی سرخ مرچ یا 50گرام جڑی بوٹیوں کا رس استعمال کرنا چاہیے ۔ ٹھنڈی کی گئی سبزیاں اور ٹین میں محفوظ فروٹ بھی وٹامن سی کی بحالی کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے۔ حاملہ یا بچے کی پروش کرنےو الی عورتوں کو وٹامن سی کی کچھ زیادہ مقدار کی ضرورت ہوتی ہے۔

کیا سخت تکلی کے علاج کے لیے کیٹامین کے بجائے مورفین کا استعمال کیا جائے گا؟

تکلیف سے فوری نجات کے لیےمورفین کے انجیکشن کی بجائے کیٹامین کا استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ عام لوگوں کو بی کلاس کی دوائی مہیا کی جاتی ہے جو مختلف مسائل کا باعث بن سکتی ہے جس میں ہالوسینیشن خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ اگر کم مقدار میں استعمال کریں تو یہ تیز تکلیف میں آرام کا باعث بنتی ہے۔ آج کل اسے صرف بچوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے ۔

کیا ڈائمنشیا کا علاج دریافت ہو جائے گا؟

جب سولانیزوماب کے انجیکشن سے بہت توقعات کی جا رہی تھیں لیکن یہ فائدہ مند ثابت نہیں ہو سکا ۔ اب تمام نظریں ایک نئی دوا برائمونیڈین پر اٹکی ہوئی ہیں۔ یہ آنکھ کے اندر پائے جانے والے ریٹینا کے ایمبلائیڈ پروٹین کی تعداد کو کم کرتا ہے۔ ڈر یہ ہے کہ اس سے دماغ پر بھی اثر پڑ سکتا ہے اور دماغ کے خلیوں کو تباہ کر کے موت کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

کیا ٹائپ 1 ذیابیطس کے لیے انگلینڈ ایک مصنوعی لبلبہ متعارف کروانے میں کامیاب ہوگا؟

مصنوعی لبلبہ ایک دلچسپ چیز ہے جو زیابیطس کی ٹائپ 1 سے متاثرہ انسانی خون کے اندر گلوکوز کی سطح پر نگرانی رکھتا ہے اور انسولین پمپ پر اثر انداز ہو کر انسولین کی صحیح مقدار کو ڈیلیور کرنے میں مدد کرتا ہے۔ یہ عمل ان اجسام میں دیکھنے کو ملتا ہے جن کے اصل لبلبہ صحیح طریقے سے کام کر رہا ہو۔ اس مصنوعی لبلبہ کوامریکہ کی ایف ڈی اے کی منظوری مل چکی ہے ۔ کچھ مزید تجربات کے بعد امید ہے کہ یہ جلد انگلینڈ میں عام شہریوں کے لیے دستیاب ہو گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *