بھارتی خاتون کے ساتھ بس سٹاپ پر جنسی زیادتی کی حقیقت آپ کا سر گھما دے گی!

indian-woman

نئی دلی -بھارت میں سر راہ خواتین کی عصمت دری کے واقعات روز کا معمول ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بنگلور شہر کی ایک شادی شدہ لڑکی نے پولیس کو بتایا کہ اسے ایک بس سٹاپ پر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تو سب نے اسے سچ جانا، مگر جب تفتیش ہوئی تو بات کچھ اور ہی نکلی۔  اخبار ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق بنگلور شہر کے شمالی علاقے ناگواڑا سے تعلق رکھنے والی لڑکی نے پولیس کو شکایت کی تھی کہ اسے صبح دفتر جاتے ہوئے بس سٹاپ کے قریب تنہا پا کر ایک شخص نے جنسی حملے کا نشانہ بنایا تھا۔ شکایت گزار لڑکی کے دیور نے اس واقعے پر بہت ہنگامہ برپاکیا اور علاقے کے لوگوں کو اکٹھا کرکے احتجاج بھی شروع کردیا۔
شروع میں ہر کوئی یہی سمجھتا رہا کہ وہ اپنی بھابھی کے ساتھ پیش آنے والے واقعے پر مشتعل تھا لیکن بعد میں حقیقت کھلی تو ہر کسی کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ شخص ایک عرصے سے اپنی بھابھی کے ساتھ خفیہ تعلقات استوار کئے ہوئے تھا اور اس سے شادی کرنا چاہتا تھا، تاہم اسے یقین تھا کہ کوئی بھی اس بات کو قبول نہیں کرے گا لہٰذا اس نے بظاہر ناممکن کام کو ممکن بنانے کے لئے انتہائی مکارانہ منصوبہ بنایا۔ اس کا خیال تھا کہ اگر اس کی بھابھی پر جنسی حملے کا چرچا ہو جائے تو اس کا بھائی اور دیگر گھر والے غیرت کے نام پر اسے دھتکار دیں گے اور جب سب اسے چھوڑ دیں گے تو وہ ہیرو بن کر سامنے آئے گا اور اسے قبول کرنے کا اعلان کر دے گا۔
شاید اس کی یہ مکارانہ چال کام کرجاتی مگر پولیس کو جائے وقوعہ کے قریبی علاقے سے ملنے والی سی سی ٹی وی ریکارڈنگ نے شک میں ڈال دیا۔ پولیس کا کہناہے کہ مبینہ وقوعہ کے وقت لڑکی کے ساتھ صرف اس کا دیوار موجود تھا جبکہ کسی اجنبی کی جانب سے جنسی حملے کے ثبوت بھی دستیاب نہیں ہوسکے۔ پولیس نے جب لڑکی کے دیور کو حراست میں لے کر تفتیش کا آغاز کیا تو بالآخر اس نے خود ہی بتا دیا کہ یہ اس کا شیطانی منصوبہ تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی مزید تحقیقات کی جارہی ہیں تاکہ پتہ چلایا جاسکے کہ لڑکی کس حد تک اس منصوبے کا حصہ تھی :-

loading...

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *