لاہور کے ایک معروف کلب نے ایسا نوٹس آویزاں کردیا کہ ہنگامہ کھڑا ہوگیا!

لاہور-ہمارے ہاں پیسے والوں کی دنیا غریبوں کی دنیا سے بالکل الگ تھلگ ہے، جس کا اظہار ہمارے معاشرے کے ہر پہلو سے ہوتا ہے۔ اگرچہ اس تلخ حقیقت سے سب ہی واقف ہیں لیکن لاہور کے ایک پوش علاقے کے کمیونٹی کلب کی انتظامیہ نے اسے باقاعدہ ایک نوٹس کی شکل دے کر آویزاں کرنا مناسب سمجھا، جس پر اب سوشل میڈیا کی دنیا میں ایک ہنگامہ برپا ہے۔ ویب سائٹ Parhlo.comکی رپورٹ کے مطابق کسی سوشل میڈیا صارف نے ڈیفنس کلب میں آویزاں کئے گئے ایک نوٹس کی تصویر لے کر اسے انٹرنیٹ پر شیئر کردیا، جس کی تحریر کچھ یوں ہے:

”نوکروں، نوکرانیوں اور ڈرائیوروں کو مندرجہ ذیل جگہوں میں جانے کی اجازت نہیں:
لابی، لائبریری، چائنیز/ اٹالین ریسٹورنٹ، مراکن ریسٹورنٹ، ڈائیننگ ہال، پارٹی ہال، باربی کیو گارڈن، سپورٹس ہال/گراﺅنڈ، دفتر علاوہ کیش کاﺅنٹر“

اس انوکھے نوٹس کی تصویر سوشل میڈیا پر آتے ہی جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور ایک پرجوش مباحثے کا آغاز ہوگیا۔ سوشل میڈیا صارفین کی اکثریت اسے سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے پوچھ رہی ہے کہ بھلا نوکروں، نوکرانیوں اور ڈرائیوروں کو ان جگہوں پر جانے کی اجازت کیوں نہیں ہونی چاہیے جہاں ان کے مالکان بلاروک ٹوک جاسکتے ہیں۔ سوال اٹھانے والے کچھ انٹرنیٹ صارفین کہتے ہیں :

”لعنت ہے اس سسٹم پر۔ میں اس طرح کی سوچ کا خاتمہ چاہتا ہوں۔“

”اچھا تو خدام اور خادمائیں کہا جائیں؟ کیا ان کے لئے بھی مناسب سہولیات سے مزین کوئی جگہ فراہم کی گئی ہے؟“
”اس امتیازی سلوک کا خاتمہ کرنے کے لئے ہمیں پورے ملک میں ایک بڑی مہم چلانا ہوگی“
”یہ کیسا توہین آمیز اور منافقانہ فعل ہے؟“

جہاں اس بات پر تنقید کرنے اور غم وغصے کا اظہار کرنے والوں کی کمی نہیں وہیں اس کے حق میں بات کرنے والے بھی موجود ہیں، جن کے دلائل کچھ یوں ہیں:
”مجھے کوئی ایک کلب ایسا دکھائیے جس کے ممبر ایسے لوگوں کو اندر آنے کی اجازت دیتے ہیں جو ممبر نہیں ہیں۔ دنیا کے کسی بھی کلب کے ممبر ایسے لوگوں کو اپنی سہولیات استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتے جو ممبر نہیں ہوتے۔“
”یہ امتیازی سلوک کیسے ہے؟ یہاں امریکہ میں بھی سٹاف کو اجازت نہیں ہے کہ وہ مشروبات اور کھانے کی جگہ پر جاکر بیٹھیں۔ سیلز سٹاف کو بھی کسٹمر ایریا میں بیٹھنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ ممبر ایریا ملازمین کے لئے نہیں ہوتا۔ یہ تو سادہ سی بات ہے۔“
”کسی بھی کلب کے ممبر اپنے اصول بناسکتے ہیں کیونکہ یہ کوئی عوامی جگہ نہیں ہوتی“
ایک صاحب نے تو بہت ہی مختلف زاویہ دکھاتے ہوئے یہ نقطہ بیان کر دیا ہے، ”ابے کمبختو۔۔۔ کبھی تو کسی چیز کو مثبت طور پر دیکھا کرو۔۔۔ مالکان اپنے ملازمین کو ساتھ لیجاکر ان کے ساتھ جو امتیازی سلوک کرتے ہیں یہ اس گھٹیا حرکت کا جواب ہے۔۔۔ کہ اگر آپ انہیں اپنے ساتھ کھانا نہیں کھلاسکتے تو انہیں یہاں لاتے ہی کیوں ہیں“
یہ بحث تاحال بھرپور جوش و خروش سے جاری ہے اور دونوں اطراف کے دلائل ہیں کہ ختم ہونے میں نہیں آرہے۔ آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ہوٹلوں، ریستورانوں اور کلبوں وغیرہ میں نوکروں اور ڈرائیوروں کے داخلے پر پابندی ہونی چاہیے؟ :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *