کیا میں اپنے شوہر سے طلاق لے لوں؟

 اسد شفیع صاحب جواب دیتے ہیں!

asad-shafi

محترم اسد صاحب ،

میری شادی کو 16 سال بیت چکے ہیں اور میرے دو بچے ہیں۔ میرا خاوند ایسا شخص ہے جو اپنی بیوی پر کچھ خرچ کرنا نہیں چاہتا۔ میں پچھلے دس سال سے محنت مزدوری کر کے اپنا اور بچوں کا پیٹ پال رہی ہوں باوجود اس کے کہ میرا خاوند میرے ساتھ اسی گھر میں رہتا ہے۔ کئی بار مجھے اپنا کھانا بھی خود خریدنا پڑتا ہے۔ کچھ دنوں قبل میں سخت بیمار پڑ گئی تو میرا خاوند میرا سہارا بننے کی بجائے مجھے چھوڑ کر چلا گیا۔ اس سے مجھے احساس ہوا کہ میں اس کے لیے نوکرانی سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوں۔ شادی کے 16 سال بعد میں سوچتی ہوں کہ طلاق لے لوں۔ جو واحد چیز مجھے ایسا کرنے سے روکتی ہے وہ میرا ماضی ہے۔ میں نے زندگی کا سب سے اہم حصہ اپنے خاوند کے ساتھ گزارا ہے۔ اس لیے مجھے نہیں سمجھ آ رہی کہ کیا فیصلہ کروں۔ پلیز میری مدد کریں۔

پیاری بہنا!

آپ بلکل ٹھیک سوچ رہی ہیں اور آپ کا ایسا سوچنا ایک قدرتی بات ہے۔ اس لیے آپ اس بارے میں پریشان نہ ہوں۔ آپ کا سوال پڑھنے کے بعد میں خود 2 چیزوں میں الجھ گیا ہوں۔ پہلی چیز آپ کا مسئلہ ہے جو ایک حقیقی مسئلہ ہے  اور کسی سخت ایکشن کا متقاضی ہے۔ آپ سمجھتی ہیں کہ یہ ایکشن طلاق ہونا چاہیے۔ یہ ایک قابل سمجھ بات ہے اور اگر آپ ایسا کر گزرتی ہیں تو یہ غلط نہیں ہو گا۔

دوسری طرف طلاق کا مستقل علیحدگی ہونا ایک اہم مسئلہ ہے۔ طلاق کے بعد اس فیصلے کو بدلا نہیں جا سکتا۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ یہ قدم باقی تمام معاملات کے بعد ہی اٹھایا جانا چاہیے۔ اس لیے طلاق سے پہلے خاوند اور بیوی کو ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کہ طلاق سے بچا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے میرج کونسلنگ، خاندان کے بڑے افراد کی مدد حاصل کرنا، کچھ عرصہ کے لیے علیحدگی،  دل کھول کر اپنے احساسات بیان کرنا اور دوسرے طریقے آزمائے جا سکتے ہیں۔ طلاق ہمیشہ آخری راستہ ہی ہونا چاہیے۔

آپ کو طلاق کے نتائج کا پوری طرح سے مطالعہ کرنا ہوگا۔ اس لیے یہ فیصلہ اتنی آسانی سے نہیں کرنا چاہیے۔ اسی لیے میں آپ کو طلاق کا مشورہ دینے سے ہچکچا رہا ہوں۔ خاص طور پر اس لیے کہ میں نے صرف آپ کی بات سنی ہے اور آپ کے خاوند کی کہانی مجھے معلوم نہیں ہے۔ یہ بات بھی مد نظر رکھنی چاہیے کہ طلاق کا اثر صرف میاں بیوی پر نہیں پڑتا بلکہ بہت سے اور متعلقہ لوگوں پر بھی اس کا گہرا اثر بڑتا ہے جس میں بچے بڑے اور رشتہ دار شامل ہیں۔ اس لیے طلاق سے پہلے بچوں پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لے لیں تو بہتر ہو گا۔ طلاق ہوتے ہی وہ ایک مکمل گھر سے نکل کر ایک ٹوٹے ہوئے خاندان کا چراغ کہلانے لگیں گے۔ اب میں آپ کے سوال کی طرف آتا ہوں۔

یہ سچ ہے کہ آپ نے زندگی کا اہم وقت اپنے خاوند کو دیا ہے۔ لیکن کیا آپ اس شخص کی خاطر اپنا مستقبل قربان کرنے کے لیے تیار ہیں جو آپ کو ایک نوکرانی کے علاوہ کچھ نہیں سمجھتا؟ کیا آپ کو یقین ہے کہ آپ کی زندگی کے بہترین سال ختم ہو چکے ہیں؟  حقیقی خوشی کو زندگی کے ہر سٹیج پر عمر کا لحاظ رکھے بغیر قبول کرنا چاہیے۔ اور امید رکھنی چاہیے کہ مستقبل میں یہ وقت دوبارہ بھی آسکتا ہے۔ آپ کے خاوند آپ کو زندگی کی بڑی خوشیاں نہیں دیتے اور چھٹیوں پر سیر پر نہیں لے کر جاتے یہ ایک الگ مسئلہ ہے لیکن اگر وہ آپ کو کھانا تک فراہم نہیں کرتے تو پھر یہ کس طرح کا تعلق ہے؟ کیا انہیں  لگتا ہے کہ آپ سے شادی اس نے اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے کی ہے؟ ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو آپ خوش قسمت عورت ہیں۔ زیادہ تر طلاق کے مسائل جو مجھ سے کنسلٹ کیے جاتے ہیں ان میں لوگوں کو مستقبل کا خوف ہوتا ہے کہ آگے کیا ہو گا۔ آپ کو ماضی کی فکر ہے۔ اس لیے مجھے لگتا ہے کہ دوسرے لوگوں سے بہتر حالت میں ہیں۔ ماضی تو گزر چکا ہے۔ ہم اسے بدل نہیں سکتے۔ آپ ماضی کو بھول جائیے۔ پرانی تکالیف کو بھول جائیے۔ زندگی کو آگے بڑھائیے اور خوشیوں کے راستے تلاش کیجیے۔

 مجھے جو نظر آ رہا ہے وہ یہ کہ آپ کا خاوند آپ سے پیار نہیں کرتے۔ نہ ہی وہ آپ سے کوئی خاص لگاو رکھتے ہیں ۔ آپ کو بنیادی تحفظ بھی فراہم نہیں ہے۔ ان حالات کا مشاہدہ آپ پچھلے 16 برس سے کر رہی ہیں۔ خاص طور پر جب آپ بیمار تھیں اور انہوں  نے آپ کا خیال نہیں رکھا تب آپ کو سب سے بڑا تجربہ ملا۔ آپ جوان ہیں اس لیے بیماری سے آپ کو نجات مل گئی۔ لیکن اگر آپ کو مستقبل میں کسی بڑی بیماری نے آ لیا تو کیا ہو گا؟ کیا تب وہ آپ کی دیکھ بھال کرینگے؟  مجھے نہیں لگتا۔ مجھے یقین ہے کہ آپ نے ان موضوعات پر ان سے گفتگو کئی بار کی ہو گی۔ وہ وجوہات کیا بتاتے ہیں ؟ کیا وہ آپ سے پیار نہیں کرتے؟

کیا وہ فطری طور پر ایک کنجوس شخص ہیں یا صرف آپ کے معاملے میں کنجوسی دکھا رہے ہیں؟ کیا وہ بچوں پر بھی کچھ خرچ نہیں کرتے؟ ان کے خیال میں اگر آپ بیمار ہوں گی تو آپ کو کون دیکھے گا؟ اگر وہ خود بیمار ہو جائیں تو کس سے دیکھ بھال کی توقع رکھتے ہیں؟ اگر ان سوالوں کے جوابات مجھے مل جاتے تو میں آپ کے مسئلے کا حل آسانی سے بتا پاتا۔ کیا آپ نے کبھی اپنے رشتہ داروں اور اپنے شوہر کے رشتہ داروں کے ساتھ یہ مسائل شئیر کیے؟ میں صرف ان سوالات کی روشنی میں ہی آپ کے جوابات دے پاوں گا لیکن آخری فیصلہ تو آپ ہی کو کرنا ہو گا۔ میری دعا ہے کہ اللہ آپ کو صحیح راستہ دکھائے۔

loading...

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *