اے محبت طلب... اے حسنِ نظر

love
محبت کیا ہے ؟ محبت کی اصل کیا ہے،محبت کس کو کس سے ہو سکتی ہے، محبت کا تصور کیا ہے اور محبت کس کا جزو ہے اور محبت کا تصور کیا ہے ؟
محبت جزو ہے اس اصل کی جس سے عشق کی ابتدا ہوئی اور عشق پر گفتگو کے لیے اوراق کم پڑ جائیں گے، ہم ابھی محبت پر بات کریں گے- محبت کیا ہے صرف مرد اور عورت کے تعلق کو محبت کا نام دینے والے کس طرح کی سوچ رکھتے ہیں؟  محبت ایک احساس ہے جو مرد و عورت کی تفریق سے ماورا ہے۔۔۔محبت ایک ایسی سوچ کا نام ہے جو اپنے اندر دنیا اور کائنات کی تمام چیزوں کو سمو لیتی ہے- کسی پرندے سے محبت بھی اسی قدر اہمیت رکھتی ہے جس طرح کسی انسان سے محبت- ایک جانور سے محبت بھی بالکل اسی طرح احساس اور شدت رکھتی ہے جس طرح کسی بہت اہم چیز اور انسان سے محبت  - پھولوں سے محبت صرف شوق نہیں بلکہ زندگی کی علامت ہے- رنگوں سے محبت کو دیکھیں یا خوشبو سے محبت- محبت وہ ہے جو ہر رنگ اور ہر احساس اور ہر لمحہ خود میں سرشار رکھتی ہے-
 محبت اپنے اندر ہوتی ہے، اندرون مین، روح کے بہت اندر۔۔۔۔بالکل جس طرح انسان کسی بھی شے سے محبت کر سکتا ہے بدلے میں وہ بھی اسی طرح محبت کر سکتے ہیں- ایک جانور سے جس قدر محبت کری گے وہ بدلے میں اس سے کہیں بڑھ کر محبت دے گا کیوںکہ وہ انسان کے منافقانہ اور مصلحتانہ رویوں اور چالبازیوں سے واقف نہیں بلکہ جانور اور پرندے زیادہ سچی اور خلوص والی محبت کرتے ہیں-
ایک انسان اپنی مشکلات اور پابندیوں کے تحت اپنی محبت کو چھوڑ دیتا ہے لیکن جانور ہرگز نہیں- جانور اپنی جان تو دے دیتا ہے لیکن اس سے دور نہیں ہوتا جس سے اسے محبت ہو جس پر اس کا احسان کو جس کا اس کے ساتھ وقت گزرا ہو لیکن انسان جو کہ اشرف المخلوقات ہے وہ ایک عام جانور سے بھی کم ظرف کیوں ہو جاتا ہے؟
ایک پرندے کو دیکھیں جب وہ کسی کے پاس رہ جائے اور اسے اپنے مالک سے محبت ہو جائے تو پنجرہ کھل جانے پر اور پروں میں طاقتِ پرواز ہونے پر بھی اس سے جدا نہیں ہوتا-کوئی طوطا ہو یا طاقتور باز وہ اپنے مالک کے کندھے پر بیٹھے ہوئے پزاروں پرندوں کو کھلی فضآ میں اڑتے ہوئے دیکھتا ہے انہیں آزادی سے اپنی مستی میں پرواز کرتے ہوئے دیکھتا ہے لیکن اپنی زندگی کی آزادی اور پرواز کی قدرتی خوشی کو مالک کے ساتھ محبت پر قربان کر دیتا ہے۔۔۔  یہ ہے محبت !!
   خدا کے بعد انسان کی آپس میں محبت کی مثال نہیں ملتی- ایک ماں اپنے بچے کی پیدائش سے لے کر اس کے جوان ہونے تک اس کے لیے اپنی سانسیں تک وار سکتی ہے اور یہ بھی جانتی ہے کہ بڑا ہو کر یہ مجھے چھوڑ جائے گا-  باپ کی محبت کو دیکھیں ، وہ خود تو سردی برداشت کرے گا لیکن چاہے گا کہ اس کی اولاد گرم لباس پہنے،خود اینٹیں اٹھائے گا لیکن چاہے گا کہ اس کی اولاد نرم بستر پررہے- باپ ہی وہ واحد شخص ہوتا ہے جو اپنے بیٹے کو خود سے زیادہ آگے دیکھنا چاہتا ہے ورنہ لوگ ایک دوسرے کو کچل کر آگے نکنا چاہتے ہیں-
 اب بات ہو عورت اور مرد کے پیار اور محبت کی تو یہ ہرگز نہیں کہ مرد اور عورت کی آپس میں محبت کوئی معنی نہیں رکھتی-  آدم اور حؤا کی محبت کی مثال کے بعد تو کوئی جواز ہی نہیں-ایک عورت ایک مرد اور محبوب کی محبت میں اپنی سانسیں تک اس پر قربان کرنےکو تیار ہو جاتی ہےاور مرد بھی اپنی ذات تک کو چھوڑ کر اس کے لیے فدا ہو جاتا ہے- ایک دوسرے کے لیے جان دے دینا آسان بات نہیں -زندگی ایک بار ملنی ہے یہ جانتے ہوئے بھی وہ ایک دوسرے کے لیے جان تک دے دیتے ہیں اس سے بڑھ کر کیا حوصلہ ہو گا-
بھائی کی بہن سے محبت ہو یا بھائی سے بہن کی محبت۔۔۔۔ بہن اپنا حصہ بھائی کے لیے چھوڑ دیتی ہے اور بھائی اپنی خوشیاں بہنوں پر وار دیتے ہیں- دوستوں کی محبت ہو یا رشتہ داروں کی۔۔۔۔ یہاں تک کہ راہ چلتے ہوئے مسافر بھی ایک دوسرے کے ساتھ محبت کرنے لگتے ہیں اور رستہ بدلتے ہوئے ایک دوسرے کے لیے یادیں چھوڑجاتے ہیں اور سب سے بڑی محبت انسانوں کی رشتہ انسانیت کے تحت ایک دوسرے سے محبت ہے جو اس دنیا کی تمام محبتوں کے مقابلے میں زیادہ اہم، مقدس اور وقت کی ضرورت ہے-
اب اس محبت کا ذکر کرتے ہیں جس سے محبت کا ظہور ہوا, وہ اصل ہے ان تمام چیزوں کی جس سے تمام چیزوں کا تصور ہے- وہ خیر و شر اور نفرت اور محبت کا مالک ہے اس کے پاس سب کچھ ہے لیکن اس کو سب سے زیادہ عزیز محبت ہے- اسے خود سے محبت ہے،  اسے محمدؐ سے محبت ہے، اسے انبیاء سے محبت ہے، اسے اولیاء سے محبت ہے اسے علماء سے محبت ہے اسے محبت کرنے والوں سے محبت ہے اور محبت کے سوا اس دنیا میں کچھ نہیں اور خیال اور تصور کی دنیا میں بھی کچھ نہیں-
محبت دین و دنیا کا سرمایہ ہے- محبت تمام مسائل کا حل ہے-محبت انسان کے دل کی زبان ہے اور یہ وہ زبان ہے جو نہ صرف انسان بلکہ جانور اور بے جان تک سمجھ لیتے ہیں- محبت کی زبان بولنے والے خاموش رہ کے بھی امن اور زندگی کا پیغام دیتے ہیں- محبت کرنے اور سمجھنے والے مایوسیوں اور تاریکیوں کو دور کرنے والے عہد کی بنیاد رکھتے ہیں-محبت جینے اور جیتے رہنے کا پیغام دیتی ہے-نفرت اس دنیا کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے اور نفرت کا حل محبت ہے,  ہماری دنیا کی بدامنی اور افراتفری کا حل تمام معاملات کو محبت سے حل کرنے میں ہے- یہ وہ جذبہ ہے جو خدا سے لے کر ہر قسم کی مخلوق کا جذبہ ہے اور یہ جذبہ تمام دنیاؤں کی بنیاد ہے!!
اے محبت طلب اے حسنِ نظر
جس طرف دیکھیے محبت ہے
loading...

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *