آپ اس معاملے میں کس طرف ہیں؟

mukhtar-chaudhry-403x400
میں 35 سال سے مختلف اخبارات کے کالم پڑھ رہا ہوں اور کبھی کبھار کوئی کتاب ہاتھ لگ جائے تو وہ بھی پڑھ لیتا ہوں اس کے علاوہ پاکستانی ڈرامے دیکھنے کا شوق ہوتا تھا اور کبھی کبھار کوئی فلم بھی دیکھ لیتے تھے  البتہ زمانہ طالب علمی میں نصاب کی کتابوں سے کافی پرہیز کرتا رہا ہوں تبھی تو آج یہ حال ہے کہ دل کی بات کہنا آتی ہے نہ لکھنا میں جن لوگوں کے کالم زیادہ تر پڑھتا تھا ان میں ارشاد احمد حقانی صاحب مرحوم، نذیر ناجی صاحب،  عطا الحق قاسمی صاحب،  جمیل الدین عالی صاحب،  حسن نثار صاحب، ڈاکٹر صفدر محمود صاحب، امجد اسلام امجد صاحب،  انصار عباسی صاحب، ہارون الرشید صاحب  فضل حق صاحب، عبدلقادر حسن صاحب، ایاز میر صاحب    اور پھر جاوید چوہدری صاحب، سلیم صافی صاحب  اور ان کے  علاوہ اور بھی جو بڑے نام تھے یا ہیں اسکے علاوہ اداریے پڑھتا تھا ان تمام حضرات کے نام ہی کافی ہیں اور یہ جو بھی لکھیں چلتا ہے۔ ان کے علاوہ میں کسی اور کا وہی کالم پڑھتا تھا جس کا عنوان کچھ مصالحے دار لگتا تھا۔ لیکن جیسے جیسے ان میں سے چند ایک بڑے ناموں سے قربت کا موقع ملا تو کچھ کچھ مایوسی بھی ہوئی اور ان کے قول و فعل میں تضاد پایا،  ان بڑے ناموں کی سیاسی وابستگی اور ذاتی مفادات بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں تھی گو کہ ان میں اکثریت غیر جانبداری کی دعویدار رہی ہے لیکن حقیقت میں  لگ بھگ سب نے اپنی وابستگی  حکومتوں سے رکھی ہے اور سیاستدانوں کی طرح وابستگیاں تبدیل بھی کرتے رہے ہیں۔ 1988 کے قومی اسمبلی کے انتخابات کے بعد ایک ٹی وی ٹاکرے میں ارشاد حقانی مرحوم پیپلزپارٹی کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے تھے اور  مسلم لیگ اور لیگ کے اتحادیوں پر مشتمل اسلامی جمہوری اتحاد کو بھان متی کے کنبے کا نام دے رہے تھے اور بعد میں جب اسی کنبے کی شہ پر 1996 میں فاروق لغاری نے پیپلزپارٹی کی حکومت کو چلتا کر کے عبوری حکومت تشکیل دی تو حقانی صاحب اس میں وزیر اطلاعات و نشریات بن گئے اور 3 ماہ کے اقتدار کے پورے مزے لئیے اور آخری دنوں تک سرکاری رہائش کی آرائش و نمائش پر سرکاری خزانے سے کروڑوں روپے خرچ کرتے رہے۔ اور جن کو کسی حکومت سے کچھ نہ ملا اور وہ اپنے آپ کو کچھ زیادہ ہی غیر جانبدار کہلاتے ہیں وہ دراصل بڑے گھر  (اصلی حکمرانوں) کے چہیتے تنخواہ دار ہوتے ہیں۔ اگر میں غلط ہوں تو کوئی جا کر ان سب کی جائدادیں اور حالات زندگی دیکھ کر خود فیصلہ کر لیں اسی طرح دوسرے کئی کالم نگاروں کو بھی جہاں جہاں مواقع میسر آئے خوب فائدے اٹھائے۔ اس طرح آہستہ آہستہ مجھے ان میں سے اکثریت کے کالم سے اکتاہٹ کا احساس ہونے لگا۔ پھر ایک دن ایک کالم پر نظر پڑی جس کا نام ہے " ذرا ہٹ کے " جب پڑھا تو واقعی ذرا بلکہ کافی ہٹ کے لگا اور یہ کالم یاسر پیر زادہ صاحب لکھتے ہیں اس دن سے آج تک پھر میں نے بلا ناغہ ان کا کالم جنگ اخبار میں ہر بدھ اور اتوار کو پڑھا ہے وہ خود کبھی ناغہ کر جائیں تو اور بات لیکن میں ناغہ نہیں کرتا، پھر ان سے رابطہ ہوا ملاقات ہوئی اور پھر ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا اور میں نے ان کی شخصیت میں ابھی تک کوئی تضاد نہیں پایا بعض اوقات سوچ میں اختلاف تو ہو سکتا ہے لیکن ان کی شخصیت سے نہیں۔ یاسر پیرزادہ کو جو بات دوسرے کالم نگاروں سے ممتاز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ پاکستان کے حقیقی مسائل پر نہایت خوبصورتی سے لکھتے ہیں اور سچائی کو بھی قائم رکھتے ہیں یہ نہیں ہے کہ وہ کوئی نظریہ نہ رکھتے ہوں لیکن سچائی لکھتے وقت وہ کسی کو خاطر میں نہیں لاتے ہیں ناروے سے شائع ہونے والے ماہانہ رسالے کارواں جو کہ آج کل آن لائن ہر وقت تازہ ترین خبریں تبصرے اور کالم شائع کرتا ہے  کے مدیر سید مجاہد علی صاحب کو پڑھنا شروع کیا تو لگا کہ ہم وہ چراغ ہیں جن کے آس پاس اندھیرا ہی رہتا رہا ہے یا گھر کی مرغی دال برابر کے مصداق انکی کالم نگاری نظر ہی نہیں آئی یقین جانیں جس طرح بیباک اور غیر جانبدار تبصرے اور کالم صحافیانہ مہارت کے ساتھ سید مجاہد علی صاحب لکھتے ہیں ایسے پاکستان کے بڑے اخبارات میں بڑے ناموں میں سے کوئی بھی نہیں لکھتا ہے یہ الگ بات ہے کہ ہم ذاتیات کی بناء پر ان کو پسند نہ کریں لیکن ان کی دانش اور کالم نگاری سے مفر نہیں۔ سویڈن میں مقیم ڈاکٹر عارف کسانہ صاحب کو بھی ہم گھر کی مرغی سمجھ کر ہی نظر انداز کرتے چلے آئے تھے ان کے علاوہ پاکستان میں ایک اور بڑا نام ہے جو واقعی بڑا ہی ہے وہ ہیں وجاہت مسعود صاحب " کمال کا لکھتے ہیں اور انتہائی خوبصورتی سے ہر وہ بات لکھ دیتے ہیں جس کو لکھتے ہوئے دوسروں کو جان کے لالے پڑ جاتے ہیں۔ وجاہت صاحب خوش قسمت بھی ہیں کہ ان کو میرٹ پر صدارتی ایوارڈ بھی مل چکا ہے ورنہ پاکستان میں تو زیادہ تر ایوارڈ پسند و ناپسند کی بنیاد پر ہی دیئے جانے کا رواج ہے۔ میں اب بھی بڑے ناموں میں سے کئی ایک کے کالم پڑھتا رہتا ہوں لیکن باقاعدگی اور انتظار کر کے وجاہت مسعود صاحب اور یاسر پیرزادہ صاحب کے کالم ہی پڑھتا ہوں ان کے ساتھ ساتھ وقار خان صاحب اور سلیم صافی کو بھی شوق سے پڑھتا ہوں۔ جب سے میں نے خود لکھنا شروع کیا ہے تب سے یہ احساس ہوا ہے کہ کسی بھی لکھنے والے کو پڑھنا چاہیے کیوں کہ لکھنے والوں کے دل میں ایسا بہت کچھ ہوتا ہے جس کو وہ دوسروں تک پہنچانا چاہتے ہیں جس سے معاشرے میں بہتری کی امید ہوتی ہے میں اپنے تمام دوستوں سے اور پڑھنے والوں سے گزارش کرتا ہوں کہ برآئے مہربانی کالم کو لازمی پڑھا کریں اور اس پر سوچا بھی کریں، مجھے یہ اعتراف کرنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ مجھے لکھنا نہیں آتا لیکن میں معاشرتی مسائل کو بہت قریب سے دیکھتا ہوں اور ان پر ہر زاویے سے سوچتا ہوں پھر ان کے حل تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہوں اس ساری کوشش کا مقصد کسی بھی طرح اور کسی حد تک معاشرے میں بہتری لانا ہے میں جانتا ہوں کہ 90% پاکستانی فرسودہ نظام اور حالات سے تنگ ہیں اور بہتری کے خواہاں ہیں لیکن ان کو خود سمجھ نہیں آرہی ہے کہ یہ سب کچھ کیسے درست ہوگا  اور وہ اپنا کردار کس طرح ادا کر سکتے ہیں! بہت سارے لوگ اللہ سے دعائیں مانگتے ہیں اور توقع کرتے ہیں کہ اللہ بہت جلد پاکستان کو مضبوط اور ترقی یافتہ ملک بنا دے گا  (حالانکہ اللہ تعالٰی نے قرآن میں فرمایا ہے کہ وہ کسی قوم یا فرد کی حالت نہیں بدلتا تاآنکہ کہ وہ خود اپنی حالت بدلنے پر آمادہ نہ ہو) کچھ لوگ ہر سال فوج یا سپہ سالار کی طرف للچائی نظروں سے دیکھتے ہیں اور سپہ سالار کو اپنا مسیحا سمجھتے ہیں  (حالانکہ ملک کو اس نہج تک پہنچانے میں ایسے ہی مسیحوں کا کردار مرکزی رہا ہے) کچھ لوگ آئے روز نئے راہنما کی تلاش کرتے رہتے ہیں اور ان کی نظر میں راہنما کی آمد کسی جاگیردار، کسی بڑے صنعتکار، یا پھر کسی بھی اپر کلاس کے گھرانے سے ہوگی۔ کیوں کہ پاکستان کی اکثریت اس بات پر یقین رکھتے ہیں اور ذہنی طور پر قبول کر چکے ہیں کہ حکمرانی کا حق بہرطور صرف ایلیٹ کلاس کو ہی حاصل ہے (حالانکہ ایلیٹ کلاس نے ہمیشہ اپنے مفادات کے لئیے کام کیا ہے اور عام عوام کو تعلیم سے محروم رکھا ہے اور ان سے ہمیشہ ایک فاصلہ قائم رکھا ہے وہ تبدیلی اور حقیقی جمہوریت سے خوف زدہ رہتے ہیں اسی کلاس کے سیاستدانوں نے اپنے عوام کو کبھی روٹی کپڑا مکان کے نعرے کے سحر میں مبتلا کر کے ان پر حکومت کی ہے اور کبھی اسلام کے نام پر لوگوں کو گرما کر ایک امیرالمومنین کے چنگل میں پھنسا کر اندھیروں میں دھکیلا ہے تو کبھی قرض مکاو ملک سنوارو کے نام سے لوٹ کر ملک کو قرضوں تلے دبایا ہے اور کبھی سب سے پہلے پاکستان اور احتساب کاچکر دے کر اپنی جد سنواری اور کوئی نئے پاکستان کا جھانسا دے کر اقتدار کی کرسی تک پہنچنے کا متمنی ہے تو کوئی اسلامی یا عوامی انقلاب کا نعرہ لگا کر اربوں کا مالک اور کینڈا کے بہترین نظام سے لطف اندوز ہو رہا ہے) کچھ لوگ میڈیا بلخصوص الیکٹرانک میڈیا سے امیدیں وابستہ کیئے ہوئے ہیں اور ٹاک شوز دیکھ دیکھ کر اس خوش فہمی میں مبتلا رہتے ہیں کہ بہت جلد انقلاب آنے والا ہے لیکن وہ یا نہیں جانتے کہ میڈیا حکومتی ضابطے سے آزاد ہو کر ایک ایسا اژدھا بن گیا ہے جس کا پیٹ بھرنے کے لئیے روزانہ کی بنیاد پر کئی اسکینڈلز درکار ہوتے ہیں
کچھ لوگ عدلیہ پر تکیہ لگائے بیٹھے ہیں- لیکن آج تک عوام نے اگر کسی سے امید نہیں باندھی تو وہ خود عوام ہیں یعنی کہ خود پر کبھی بھروسہ نہیں کیا، خود اپنوں میں سے کسی پر اعتبار نہیں کیا، خود اپنے اندر یا اپنے ارد گرد قیادت تلاش نہیں کی ہے اور اگر کسی غریب یا کمزور نے سامنے آنے کی کوشش کی بھی ہے تو اس کا مذاق اڑایا گیا ہے ہم اپنا لیڈر اور اپنا حکمران صرف اسی کو بنانا چاہتے ہیں جو امیر ہو (کمائی حرام کی ہونا بھی شرط ہے) طاقتور ہو،  بدمعاش ہو۔ یہیں وجہ ہے کہ پاکستان میں عام آدمی،  غریب اور نیک آدمی انتخابات میں یا سیاست میں حصہ لینے کا سوچنا بھی گناہ کبیرہ سمجھتا ہے اور سیاست سے اپنا دامن بچا کر چلتا ہے۔ لیکن اے مرے ہم وطنو یاد رکھو کہ جب تک آپ خود پر بھروسہ نہیں کرو گے، خود قدم نہیں اٹھاو گے، خود اپنے حق کے لیے اٹھ کھڑے نہیں ہو گے۔ جھوٹے نعروں سے توجہ ہٹا کر خود اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کرو گے دوسروں کا احترام حیثیت کے بجائے کردار کی بنیاد پر کرنا نہیں سیکھو گے اور خود کو ہر قسم کی بدعنوانی سے پاک نہیں کرو گے اس وقت تک کسی بھی طرح کی تبدیلی کو عبث سمجھو۔ میں جانتا ہوں کہ مجھے کہنے اور لکھنے کا سلیقہ نہیں آتا لیکن مجھے قسم ہے اس پاک ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ میری نیت بہتری کی ہے میں وہی لکھتا ہوں جو محسوس کرتا ہوں میں وہی کہتا ہوں جو میں کرنا چاہتا ہوں مجھے قسم ہے اس قلم کے تقدس کی کہ کبھی نہ بکوں گا اور نہ کسی لالچ یا خوف کے سامنے جھکوں گا۔ تو پھر آپ کیوں کر میرے کالموں سے صرف نظر کرو گے؟ کیوں میری راہنمائی نہ کرو گے؟  کیوں میری اصلاح نہ کرو گے اور کیوں میرا ساتھ نہ دو گے جبکہ میں تم میں سے ہوں اور ہمیشہ تم میں ہی رہوں گا اور تمھارے لیے ہی لکھوں گا۔ کوئی مجھے خرید سکے گا نہ جھکا سکے گا ۔
loading...

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *