ایوان بالا کے ارکان کی ’’اجتماعی بصیرت‘‘

Photo

پابندی صوم وصلوۃ سے محروم میں ایک انتہائی گنہگار انسان ہوں۔ اپنی خطائوں پر شرمندہ اور ربّ کریم کی غفاری اور ستاری کا طلب گار۔ اپنے دین کی مبادیات اور اس کی تاریخ سے مگر لاعلم بھی نہیں اور جو تھوڑا بہت مطالعہ کیا ہے اس کی وجہ سے ہمیشہ اس بات پر بضد کہ ’’صادق اور ’’امین‘‘ کے القاب صرف اور صرف میرے نبی پاکﷺ کے لئے مختص کئے جا سکتے ہیں۔ ہم ایسے انسانوں کو صداقت او ر امانت کی علامت بنایا ہی نہیں جاسکتا۔
ہمارے مگر ایک اپنے تئیں مجاہد اسلام بنے صدر ہوا کرتے تھے۔ ضیاء الحق ان کا اسم گرامی تھا۔ ملک کو نام نہاد خانہ جنگی سے بچانے کے لئے انہوں نے جولائی 1977ء میں اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ اقتدار پر قابض ہونے کے چند ہی روز بعد حجاز کی مقدس سرزمین پر انہوں نے 90 روز میں نئے انتخاب کروانے کا وعدہ کیا۔ بعدازاں لیکن پہلے ’’احتساب پھر انتخاب‘‘ کا جواز گھڑلیا۔ ہمیں ’’بہتر مسلمان‘‘ بنانے کی لگن بھی انہیں لاحق ہوگئی۔1984میں ایک ریفرنڈم کروایا۔ سوال اس میں یہ تھا کہ پاکستان میں حقیقی اسلام کا نفاذ چاہتے ہو یا نہیں کوئی بدبخت اس سوال کا ’’ناں‘‘ میں جواب دینا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ موصوف نے مگر طے کرلیا کہ ’’ہاں‘‘ کا مطلب انہیں پاکستان کا باقاعدہ منتخب ہوا صدر شمار کیا جائے گا۔
ریفرنڈم کے نام پر رچائے ڈرامے سے منتخب ہونے والے اس صدر نے پھر 1985ء میں غیر جماعتی بنیادوں پر عام انتخابات کے ذریعے اپنی’’مشاورت‘‘ کے لئے قومی اور صوبائی اسمبلیاں بھی بحال کردیں۔سینٹ کا ادارہ بھی دوبارہ زندہ ہوگیا۔ ان انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کے لئے مگر لازم تھا کہ وہ خود کو آئین کے آرٹیکل 62اور 63میں زبردستی گھسائی چند ترامیم کے ذریعے ’’صادق اور ’’امین‘‘ ثابت کریں۔
1985ء کے انتخابا ت میں جہلم سے راجہ افضل بھی قومی اسمبلی کے رکن بن گئے تھے۔ ان کی رکنیت کو ان کے مخالف امیدوار چودھری الطاف حسین نے عدالت میں چیلنج کردیا۔ آرٹیکل62اور 63 میں ’’صادق اور ’’امین‘‘والی شرائط لکھنے والے شریف الدین پیرزادہ ان کے وکیل تھے۔ راجہ افضل کے خلاف پولیس کے ریکارڈ میں چند FIR موجود تھیں ان کی بنیاد پر جہلم سے منتخب ہوئے اس رکن پر ’’صادق ‘‘ اور ’’امین‘‘ نہ ہونے کی تہمت لگائی گئی متعلقہ عدالت نے اس الزام کو درست قرار دے دیا۔فیصلہ ہوا کہ وہ قومی اسمبلی سے باہر نکال دئیے جائیں۔چودھری الطاف حسین کو ان کی جگہ منتخب رکن قرار دے دیا گیا۔
شریف الدین پیرزادہ کے ہمراہ مگر جب چودھری الطاف حسین اپنی رکنیت کا حلف اٹھانے قومی اسمبلی آئے تو اس کا اجلاس شروع نہ ہوا۔ان دنوں قومی اسمبلی اپنی موجودہ عمارت میں نہیں ہوا کرتی تھی۔ اس کے اجلاس اسلام آباد میں موجود اسٹیٹ بینک کی عمارت میں موجود ایک آڈیٹوریم میں ہوا کرتے ۔ ایک نوجوان رپورٹر ہوتے ہوئے میں ان دنوں قومی اسمبلی کی کارروائی پر انگریزی روزنامہ ’’مسلم‘‘کے لئے ایک کالم لکھا کرتا تھا۔ اجلاس میں تاخیر نے رپورٹر کو اس کی وجہ معلوم کرنے پر مجبور کردیا۔
تھوڑی مشقت کے بعد بالآخر دریافت ہوا کہ چودھری انور عزیز کی قیادت میں کئی اراکین اسمبلی نے یکسو ہوکر وزیر اعظم جونیجو کو سمجھایا تھا کہ راجہ افضل کی 62/63کے استعمال کے ذریعے نااہلی درحقیقت ضیاء الحق اور اس کے حواریوں کو آزاد منش اراکین سے نجات حاصل کرنے کی راہ بنانے والی سازش ہے۔ اس نااہلی کو روکنے کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کرنا ضروری ہے۔ ہنگامی حالات میں سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا۔ وہاں فوری شنوائی ہوگئی اور Stay Order بھی مل گیا اور کئی گھنٹوں کے انتظار کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس بھی شروع ہوگیا۔
اپنی ’’ایجاد‘‘ کے چند ہی مہینوں بعد لہذا62/63عملی اعتبار سے ناکارہ ثابت ہوگئی۔ ہمارے آئین میں یہ دونوں آرٹیکلز مگر اب بھی ان ہی الفاظ کے ساتھ موجود ہیں جو ضیاء الحق نے شریف الدین پیرزادہ کی میکیاولی والی مہارت اور مکاری کے ذریعے متعارف کروائے تھے۔
جب بھی عام انتخابات ہوتے ہیں تو کاغذات نامزدگی داخل کرواتے وقت چند ریٹرننگ افسران ان آرٹیکلز کی بنیاد پر رپورٹروں کو چسکے دار مواد فراہم کرتے ہیں۔ 2008ء کے انتخابات کے بعد مگر ’’اصلی تے وڈے‘‘جمہوری ہونے کے دعوے دار لوگوں کا ایک ہجوم پارلیمان میں پہنچ گیا تھا۔ حق بات یہ بھی ہے کہ ان میں سے رضا ربانی،افراسیاب خٹک اور حاصل بزنجو جیسے کئی لوگوں نے آمریت کے خلاف جدوجہد میں بے پناہ اذیتوں کا سامنا بھی کیا تھا۔ یہ لوگ ایک برس سے زیادہ تمام جماعتوں کی نمائندگی کرتی ایک پارلیمانی کمیٹی کے رکن رہے۔ اس کمیٹی نے آئین کی ایک ایک شق کاجائزہ لیتے ہوئے اسے آمروں کی متعارف کردہ ترامیم سے پاک کرنے کا ذمہ اپنے سرلیا۔ بالآخر 1973 ء میں متفقہ طور پر منظورہوئے آئین کی ’’بحالی‘‘کا اعلان ہوگیا۔ اس بحالی پر شاداں لوگوں کو مگر احساس تک نہ ہوا کہ 62/63اپنی اصل شکل میں اب بھی برقرار ہے۔ اسے چھیڑنے کی جرأت میرے کسی ’’انقلابی‘‘ یا ’’سیکولر‘‘ ہونے کے دعوے دار ممدوح نے ہرگز نہیں دکھائی تھی۔
پانامہ کے حوالے سے 62/63کے بارے مچائے شور کے تناظر میں اگرچہ مجھے جمعیت العلماء اسلام کے حافظ حمد اللہ نے بہت حیران کیا۔ موصوف سینٹ کے رکن ہوا کرتے ہیں۔منگل کے روز اپنی نشست پر کھڑے ہوکر دہائی مچانا شروع ہوگئے کہ پارلیمانی لاجز کے صحن اور دریچوں میں شراب کی خالی بوتلیں لڑھک رہی ہوتی ہیں۔ بچے ان بوتلوں کو دیکھ کراپنے والدین سے ’’یہ کیا ہے‘‘ والے سوالات کرتے ہیں۔ حافظ صاحب جیسے والدین کو ایسے سوالات سے بہت شرمندگی ہوتی ہے۔
حافظ صاحب سے قبل کچھ ماہ پہلے قومی اسمبلی میں مظفر گڑھ سے منتخب ہوئے جمشید دستی نے بھی ’’خالی بوتلوں‘‘ کے حوالوں سے ٹی وی سکرینوں پر کئی ماہ تک رونق لگائے رکھی تھی۔ان بوتلوں کی بوری لے کر وہ کیمروں کے سامنے آتے اور پارلیمان کے اراکین کی اکثریت کو عیاش اور شرابی قرار دینے کی مہم چلاتے۔ قومی اسمبلی کے اسپیکر کو انہوں نے اس ضمن میں ’’کچھ‘‘ کرنے پر مجبور کیا۔ایاز صادق کے کمرے میں لیکن ایک دن ان کی تنہائی میں سپیکر سے ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات میں کیا ہوا۔ یہ بات نہ ایاز صادق بتاتے ہیں نہ ہی حق وصداقت کے اپنے تئیں علمبردار بنے جمشید دستی۔ اس ملاقات کے بعد مگر مظفر گڑھ کے اس رکن کو ’’خالی بوتلیں‘‘ نظر آنا بند ہوگئی ہیں۔ مجھے ہرگز خبر نہیں کہ چیئرمین سینٹ کے پاس حافظ حمداللہ کی نظر سے ’’خالی بوتلیں‘‘غائب کرنے کا کوئی بندوبست ہے یا نہیں۔
حقیقت خواہ کچھ بھی رہی ہو گزشتہ چند دنوں سے ہمارے ایوان بالا کے اراکین اپنے ہی ساتھیوں میں پھیلی نشے کی لت سے بہت پریشان دِکھ رہے ہیں۔ اگرچہ نشے کی ایک قسم کو شاہی سید نے ’’درویشی‘‘ سے منسوب بھی کردیا ہے اور مشاہد اللہ تو کوکین کی ایک رتی کی بازار میں رائج قیمت بھی دریافت کرچکے ہیں۔ایک دوسرے پر بچگانہ الزامات لگاتے ہمارے نمائندے جو خود کو ’’سب پر بالادست ادارے‘‘ کا رکن بھی کہتے ہیں،ٹی وی سکرینوں کے لئے ایسا تفریحی موادمفت فراہم کررہے ہیں جسے دیکھنے کے لئے لاہور کے چند تھیٹر کافی مہنگا ٹکٹ لگاتے ہیں۔ کوئی دیوانہ ہی اس ’’بالادست ادارے‘‘سے خلقِ خدا کی بہتری کے لئے کسی قانون سازی کی توقع کرسکتا ہے اور یہ امید بھی کہ افغانستان جیسے’’پیچیدہ مسائل کے حل کے لئے اس کی ’’اجتماعی بصیرت‘‘سے رجوع کیا جائے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *