مخلوط نظام تعلیم اور خودکشی

muhammad attique

اسلام مکمل ضابطہ حیات ،ایک معتدل دین اور دین فطرت ہے ۔ جس کے قوانین نہایت واضح اور قابل عمل ہیں ۔اسلام کے احکامات افراط وتفریط سے پاک اور انسانی خواہشات کی رعایت کرتے ہیں ۔ہمارے معاشرے میں بے سکونی اور گمراہیوں کی وجہ اسلامی تعلیمات سے بغاوت ہے ۔جہا ں ہم بھوک وافلاس سے مررہے ہیں وہیں ہم جنگ وجدل میں بھی مررہے ہیں ۔کہیں دوشیزائیں ملزموں کی ضمانت ہونے پر خودکو آگ لگارہی ہیں اور کہیں ساتویں کلاس کاطالب علم استانی سے محبت پروان نہ چڑھنے پر خودکشی کررہاہے ۔الغرض ہمارا معاشرہ انتشار وتفریق کی گہرائیوں میں غوطے کھارہاہے ۔ اسلام آبادکے علاقے ترنول میں ہوئے واقعہ سے سرچکراگیا، ساتویں کلاس کے طالب علم نے عشق میں ناکامی پر خودکشی کرلی ۔اس عمر کے بچے تو ہنسی مذاق اور کھیل کود کو ہی اپنی زندگی سمجھا کرتے ہیں ۔عشق کی عمرتو دُور یہ دورتوہنسنے کھیلنے اور سیروتفریض کے نت نئے پروگرام بنانے کاہوتا ہے ۔ اس عمر میں لوگ عشق ومحبت توکجا ان کی الف ب سے بھی ناواقف ہوتے تھے اورکلاس سے بھاگ کر کرکٹ کھیلنا،گولیاں کھیلنا اور مداری کا کھیل وغیرہ دیکھنے جاتے تھے ۔اس عمر کے بچوں کو موت سے آشنائی تو دُورکی بات ،یہ عمر توخود زندگی کا عکس ہوتی ہے ۔
مخلوط نظام تعلیم جو کہ جدیدیت کی نام پر ہمارے سر ایک اور غیر اسلامی چیز تھوپ دی گئی ہے ۔ یہ بذات خود ایک ایسا ناسور ہے جس نے اب رسنا شروع کردیا ہے۔کچا ذہن اور لاابالی عمرہو اور سامنے 21سے 22سالہ نوجوان خوبصورت لڑکی استاد کے روپ میں ہوتو ایسے واقعات ہونا قرین قیاس ہے ۔ستمبر 2015ء میں کراچی کے ایک نجی سکول کے میٹرک کے ہم جماعت لڑکے اور لڑکی نے خودکشی کی ،دسمبر 2016ء میں گوجرانوالہ میں چھٹی کلاس کے طالب علم نے خودکشی کی کوشش کی اور اب اسلام آباد میں ساتویں کلاس کے طالب علم نے خود کوموت سے ہمکنار کردیاہے ۔تینوں واقعات میں سے دوواقعات مخلوط نظام تعلیم اور عشق ومعاشقے کے ہیں ۔گوجرانوالہ والے واقعہ میں ڈانٹ ڈپٹ کارفرما ہے ۔اسلام میں مردوعورت کے احکامات واضح الفاظ میں بیان کردئیے گئے ہیں ۔پیسے کی دوڑ میں ہم نے اپنی اولاد کو دہکتی ہوئی آگ کی ہلکی سی لو پر رکھ دیا ہے اور جب وہ سن بلوغت کو پہنچتا ہے تو یہ ہلکی سی لو بھیانک آگ کے روپ میں ہمارے سامنے ہوتی ہے۔جہاں ہمارے سکولز، کالجز اور یونی ورسٹیاں اس میں برابر کے شریک ہیں وہیں ہم سب اس جرم میں برابر کے شریک ہیں ۔دواؤں پر تو لکھ دیا جاتا ہے کہ ’’بچوں کی پہنچ سے دوررکھیں ‘‘ لیکن ہم نے اپنی اولاد کو اپنے آپ سے دورکردیا ہے ۔گھر میں ٹیلی ویژن ،کمپیوٹر ،لیپ ٹاپ ،انٹرنیٹ اور سمارٹ فونز کی بھرمار نے اولاد کی تربیت سے ہمیں بالکل دور کردیاہے۔ہم اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو ان آلات کے سپرد کرکے خودکوہلوں کے بیل کی طرح دن رات پیسے کے پیچھے بھاگتے ہیں اور نتیجتاََکسی دن سربازار ہماری عزت نیلام ہورہی ہوتی ہے ۔اس وقت بھی ہم یہی سوچ رہے ہوتے ہیں تمام آسائشوں کے باوجود کس چیز کی کمی تھی انہیں ، جو انہوں نے یہ دن دکھائے !والدین کو ذہن میں رکھنا چاہئے کہ تعلیم اتنی ضروری نہیں جتنی تربیت ضروری ہے اصل میں ہمیں تعلیمی فوبیا ہوچکا ہے جس کی وجہ سے اسلامی تعلیم سے دور ہوکر ہم صرف اورصر ف اس تعلیم کی طرف دوڑتے ہیں جس میں دولت زیادہ ہو ۔تعلیم نہ بھی ہوگی توآپ کی اولاد کما لے گی کوئی نہ کوئی ہنر سیکھ کر اپنا گذاراکرلے گی اور ویسے بھی مسلمان کا یقین ہے کہ رزق اللہ کی طرف سے ہے تو کس لئے اتنی تگ ودواور اسلامی تعلیمات سے روگردانی کرکے اپنی اولاد کو چند نمبروں کی خاطر مخلوط نظام تعلیم میں دھکیلتے ہیں ؟تربیت کے بغیر انسان پھر اسی طرح سے گناہ در گناہ کرتاہے ۔ان واقعات میں جہاں معاشرتی برائیاں ذمہ دار ہیں ،وہیں والدین کی عدم توجہی بھی انہیں اس جیسے واقعات کی طرف دھکیلتی ہے ۔بچے توجہ چاہتے ہیں انہیں اپنے دولت سمیٹنے والے وقت میں سے وقت نکال کر وقت دیں ۔ ان کی دل جوئی کریں ، ان کے اچھے کام کی تعریف کریں اور بُرے کام پر احسن طریقے سے سمجھانے کی کوشش کریں ۔جدید ٹیکنالوجی سے اپنے بچوں کو آراستہ ضرور کریں لیکن انہیں رشتوں کی سمجھ بوجھ کے ساتھ ساتھ اچھا اور برا لازمی سکھائیں اور ان پر کڑی نظر رکھیں ۔
اسلام میں تعلیم پر جو زور دیا گیا ہے وہ احباب اختیار بخوبی جانتے ہیں ۔یورپ جب جہالت کے گھٹاٹوپ اندھیروں میں سانسیں لے رہا تھا تو مسلم امہ آئے روز ایجادات کررہی ہے ۔سائنسی گھتیاں سلجھانے کے ساتھ شعروسخن میں اپنا لوہامنوارہی تھی ۔قرآن مجید کی پہلی وحی کا پہلا لفظ ہی ’’اقرا‘‘ ہے ، اس سے ہٹ کر بھی قرآن وحدیث میں کئی جگہوں پر غوروفکر اور تعلیم حاصل کرنے پر زور دیا گیا ہے ۔پاکستان کے قومی شاعر اور حکیم الامت علامہ محمد اقبالؒ جو خود عصری تعلیم گاہ کے پرداختہ تھے ۔ان کی شاعری کا مطالعہ کرلیں توروزروشن کی طرح عیاں ہوجائے گا کہ ان کا اس تعلیم کے متعلق کیا خیال تھا ۔چنانچہ ’’شذرات فکراقبال‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’تعلیم بھی دیگرامور کی طرح قومی ضرورت کے تابع ہوتی ہے، ہمارے مقاصد کے پیش نظر مسلمان بچیوں کے لیے مذہبی تعلیم بالکل کافی ہے، ایسے تمام مضامین، جن میں عورت کو نسوانیت اور دین سے محروم کردینے کا میلان پایا جائے،احتیاط کے ساتھ تعلیم نسواں سے خارج کردیے جائیں۔‘‘حضرت اکبر اس متعلق کیا کہتے ہیں ، صرف ایک شعر سے ان کا مطمع نظر واضح ہوجاتاہے ۔
؂مجلسِ نسواں میں دیکھو عزت تعلیم کو
پردہ اٹھا چاہتاہے علم کی تعظیم کو
ہمارے نظام تعلیم میں پہلے ہی بے شمار خامیاں ہیں ، وہیں گھساپٹا پرانا نظام تعلیم ہے جو صرف کلرک اور دو جمع دو چار پیدا کررہا ہے۔تعلیم کے نام پر مغربی ممالک میں پڑھے اساتذہ سیکولرازم اور ملحدانہ عقائد کی اشاعت کررہے ہیں اور ہماری کتابوں کی تعداد بڑھ رہی ہے لیکن علم کی شمع کہیں دور ہوتی آہستگی سے بجھنے کو ہے ۔ایسے میں مخلوط نظام تعلیم کے مرہون منت ہوکر اس طرح کے واقعات یقیناہمیں اندھیروں میں دھکیلنے کو کافی ہیں ۔سوشل میڈیاپر ایک پیغام ملا کہ’’ جہاں سکول کے بچے عشق میں خودکشیاں کرنے لگیں ،وہاں تعلیم کی نہیں تربیت کی ضرورت ہوتی ہے !‘‘پاکستان میں اپنے اردگرد کے تعلیمی اداروں میں نظر دوڑائیں سرکاری سکولوں ،کالجوں اور پرائیویٹ اداروں میں صرف اور صرف تعلیمی ڈگریاں اور نمبربانٹے جارہے ہیں ۔یونی ورسٹیاں منشیات فروشی کا اڈابن چکی ہیں ، تعلیمی اداروں کے ہونہار طالب علم فیشن وسٹیس کے نام پر ہیروئین ،چرس وافیم اور شیشہ جیسی منشیات میں مبتلا ہورہے ہیں ۔جہاں تعلیمی ادارے ثقافت کے نام پر عریانیت وفحاشی کو فروغ دے رہے ہوں تو وہاں ساتویں کلاس کے بچے عشق ومحبت کے چکرو ں میں پڑکر زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں ۔ایک دور تھا معلمی ایک باعزت وباوقار پیشہ ہواکرتا تھا لیکن اداروں کی بھرمار اور حکومتی تعلیمی پالیسیوں نے تعلیم کے ساتھ ساتھ استاد کابیڑا غرق کردیا ہے ۔پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں میٹرک وایف ۔اے پاس استانیاں بھرتی کرکے نونہالان وطن کا ستیاناس کیا جارہاہے ۔اونچی اونچی بلڈنگوں، لمبی چوڑی فیسوں اور ماہانہ ٹیسٹ کی آڑ میں بٹورتے پیسوں نے صرف رٹا سسٹم اور نمبر بہتر کئے ہیں۔پاکستان میں ایک لمبی چوڑی تعداد مختلف یونی ورسٹیوں سے گریجوایٹ ہوکر نکلتی ہے اس کے باوجود CSSکے امتحان 2016ء میں صرف2فیصد طلبا پاس ہوئے ۔ایک طالب علم کو باقی مضامین پاس ہونے کے بعد صرف انگریزی میں فیل ہونے کی بنا پر ناکام قرار دے دیا گیا۔یہ ہے ہمارا تعلیمی نظام (رٹاسسٹم) ،سی ایس ایس کا سلیبس تبدیل ہوا نہیں اور فیل ہونے والوں ایک لمبی لائن لگ گئی ۔اس قوم کا مستقبل کیسا ہوگا ؟ جسے ابھی تک اپنی قومی زبان بولتے ہوئے شرم محسوس ہوتی ہے۔عوام کو توچھوڑئیے ،خواص بھی انگریزی میں بات کرنا اور تقریریں کرنا فخر خیال کرتے ہیں جبکہ ترکی وچین ودیگر ممالک کے سربراہان پاکستان آکر بھی اپنی زبان میں تقاریر کرتے ہیں اور ہم ان کے سامنے بھی پرچی پکڑ کر انگریزی بول رہے ہوتے ہیں ۔ وزیراعظم پاکستان وماہرین تعلیم اس مسئلہ کوترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے ساتھ اسلام کے مطابق ہمارے تعلیمی ادارو ں کو ڈھالیں اور تعلیمی نظام کو جدید دور سے ہم آہنگ کرنے کے ساتھ ساتھ تربیت پر بھی زور دیا جائے ۔مخلوط نظام تعلیم کو فی الفور ختم کیا جائے اور گورنمنٹ و پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں چیکنگ کا نظام سخت کیاجائے تاکہ ہم بہتری کی جانب گامزن ہوسکیں ۔نجی تعلیمی اداروں کے اساتذہ کی ورک شاپس کا انتظام کیا جائے جہاں انہیں جدید تعلیمی نظام کے ساتھ ساتھ طلبا کی تربیت کے متعلق سکھایا جائے ۔نجی تعلیمی اداروں کے اساتذہ کی تعلیمی استعداد کو لازمی طور پر چیک کیا جائے اور ایک معیار مقرر کیا جائے کہ کم از کم ایک ٹیچر کی کیا تعلیمی قابلیت ہو ۔ایک روڈ میپ تیار کیا جائے جس کے تحت گورنمنٹ ونجی تعلیمی اداروں کو چلایاجائے ۔اپنی ایک واضح تعلیمی پالیسی بنائی جائے جس میں ہمارا اپنا تعلیمی سلیبس ونظام ہو ۔ جہاں ضرب عضب ہورہا ہے وہیں ہماری قوم کو ایک ضرب علم کی بھی اشد ضرورت ہے جس کے بعد ہی ہم بہتری کی جانب گامزن ہوسکتے ہیں ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *