نیازی کی بے نیازی اور اہل کراچی کی ناراضی

syed arif mustafa

کراچی میں 2013 کے انتخابات میں 68000 ووٹ لے کر سب کو حیران کردینے والے این اے 256 کے امیدوار زبیرخان بھی بالآخر پی پی پی کو پیارے ہوگئے ،،، ایک ایک کرکے کراچی میں پی ٹی آئی کے پرانے ستون گرتے جارہے ہیں ،،، پہلے شاہنواز صدیق گئے پھر صوبائی اسمبلی کے امیدوار جواد جیلانی اور سلطان احمد نے اڑان بھری اور اب زبیرخان نے بھی تحریک انصاف کو خیرباد کہ دیا ان لوگوں کے ساتھ انکے سیاسی وابستگان کی بھی ایک تعداد پی پی پی کا حصہ بنی ہے ۔۔۔۔ افسوس کی بات تو انکا پی ٹی آئی سے اپنی پرانی و طویل رفاقت کو خیرباد کہ دینا ہے ہی ، لیکن اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے یہ سب کے سب اس جماعت کا حصہ بنے ہیں کہ جسکی بدعنوانیوں اور لوٹ کھسوٹ کے خلاف ان لوگوں نے اپنے جلسوں میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر بڑی آتشیں تقریریں کی تھیں - زبیرخان تو پی ٹی آئی لیبر ونگ کے سربراہ بھی تھے اور انہوں نے 2014 میں لاہور میں پہلا لیبر کنونشن بھی منعقد کیا تھا جو کہ بہت کامیاب اور متاثر کن تھا ۔۔۔
یہ تمام لوگ جو پی ٹی آئی کو چھوڑ گئے ہیں فی الواقع پی ٹی آئی کے قدیمی ساتھی تھے اور سب کے سب اردو اسپیکنگ تھے جبکہ کراچی میں پی ٹی آئی میں اردو بولنے والے کارکنوں کا تناسب پہلے ہی 5 فیصد سے زیادہ نہیں تھا ۔۔۔ اور یوں پارٹی کے لیئے یہ خسارہ اندوہناک ہے مجھے قطعی امید نہیں کہ عمران خان اس بات کی زحمت گوارا کرینگے کہ یہ کھوج لگائیں کہ ایسا کیا ہوا کہ اتنے پرانے یہ ساتھی پرانی رفاقت کو چھوڑ بیٹھے ...لیکن مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ ان لوگوں کی قربانیوں کو فراموش کرکے پس پشت پھینک دیا گیا تھا اور فیصل واڈا و حلیم حادل جیسے نئے و مالدار سیاسی پنچھیوں کو سب سے سے زیادہ ترجیح دی جارہی تھی خصوصاً حلیم عادل شیخ تو مشرف کی اس ٹیم کا حصہ تھے کہ جنہوں نے پی ٹی آئی کی تذلیل کی مہم میں بڑھ چڑھ کے کردار ادا کیا تھا -ان موصوف نے اس دور میں لینڈ مافیا کا بھی کردار ادا کیا اور کراچی میں جائیداد و پلاٹوں کی قیمتوں میں مصنوعی و ہوش ربا اضافے کے اسکینڈل میں بھی خوب ہاتھ رنگے اور انہیں بجا طور پہ کراچی کا علیم خان بھی کہا جاسکتا ہے اور شاید اسی طرح کی صلاحیت کے بل پہ وہ برسہا برس پرانے لوگوں کے سر پہ پیر رکھ کے سینیئر نائب صدر کی کرسی پہ چڑھ بیٹھنے میں کامیاب بھی ہوعگئے ہیں -- اگر کوئی انکی مشرف دور سے قبل کی مالی حلت کا موجودہ پوزیشن سے تقابل کرے تو بخوبی اندزہ ہوجائے گا کہ معاشرے میں ایسے لوگ تبدیلی لانے کا مطلب صرف اپنی مالی حیثییت میں تبدیلی لانے کو ہی سمجھتے ہیں - اور انکی یہ موقع پرستی انہیں نئی نئی سیاسی اڑانین بھرنے اور نت نئے مواقع ڈھونڈھنے پہ اکساتی رہتی ہے
پھر ایک حلیم عادل ہی کیا اور بھی کئی ایسے ہیں کہ محض پیسے کے بل پہ سب پرانوں کو روند کے آگے بڑھ رہے ہیں ۔۔۔ البتہ چند پرانوں نے جو زرا سیانے ہیں پارٹی میں ترقی و استحکام کا حقیقی راز پالیا ہے اور وہ ایسے خوشحال مگر نئے لوگوں کا دامن پکڑ کے لٹک گئے ہیں جیسا کہ عمران اسماعیل کہ جنہوں نے اپنی خدمات کا صلہ ہرطرح سے اور ہرایک سے وصول کرنے میں مہارت تامہ حاصل کی ہوئی ہے ۔۔۔ چند ایسے ہیں کہ مفت میں بدنام ہوئے جاتے ہیں ذرا ایک لمحے کو کبھی بھولے سے جو آنکھ دکھاتے ہیں پھر سوجوتے اور سو پیاز کھاتے ہیں ۔۔۔ یہ بیبے لوگ بے عزتی اور دھوکا کھانے ہی میں اپنی سیاسی عاقبت تلاش کرتے ہیں -- پرانے لوگوں کا شکوہ یہی ہے کہ انہیں خان نےاصلاح احوال کے نام بار بار دھوکہ دیا اور عملاً کراچی و سندھ میں پارٹی کو نودولتیئوں کو ٹھیکے پہ دے دیا اور یہاں پارٹی کے حقیقی استحکام پہ کوئی سنجیدہ توجہ کبھی نہ دی ،،، ہاں بھاشن تو بہت جھاڑے لیکن کراچی کو انکا وہ التفات کبھی نہ مل سکا کہ جسکے مستحق اور علاقے ٹہرے ۔۔۔ اس نیازی کی بے نیازی کا یہ عالم تھا کہ اسے 2013 کی الیکشن مہم میں ملک کے سب سے بڑے شہر میں ایک بھی جلسہ کرنے کی توفیق نہ مل سکی کیونکہ دو بار تاریخیں دے کے جلسے ملتوی کردیئے گئے اور پھر بالآخر یہاں ٹوٹے دلوں کی آہ موصوف کو لاہور میں 17 فٹ نیچے پٹخ گئی ،،،
لیکن یہ کراچی والے بھی عجب ہیں ۔۔۔ خان کو زخمی ہوکے ہسپتال میں پڑا دیکھا تو سب بھول بھال کے ووٹوں میں لپیٹ کے اپنے دل بیلیٹ باکسوں میں چھوڑ آئے ۔۔۔۔ جبکہ ایم کیو ایم کی غنڈہ گردی و دھاندلی کا عہد اپنے شباب پہ تھا اور بہتیروں نے اسکی کڑی سزا بھی بھگتی خود صوبہ سندھ کی سینیئر نائپ صدر آپا زہرہ شاہد کو ایک ہی ہفتے میں انکے گھر کے دروازے ہی پہ خاک و خون میں نہلادیا گیا ،،، تاہم خان نے پہلے تو الطاف حسین کو انکے قتل کا ذمہ دار قرار دیدیا لیکن بعد میں اندر خانے اس سے سیاسی مفاہمت بنانے کی راہ میں اتنے آگے گئے کہ سوا سال تک انکے گھر آکے تعزیت سے بھی گریز کیا کہ کہیں ایم کیوایم ناراض نہ ہوجائے اور 21 ستمبر 2014 کے کراچی جلسے میں تو نام لے کے الطاف حسین کا شکریہ تک ادا کیا اور آپا زہرہ شاہد کا تذکرہ بھی زبان پہ نہ لائے ۔۔۔ پھر مزید خرابی یہ ہوئی کہ کراچی میں ملنے والے ان بہت سارے ووٹوں کو دیکھ کے بہت سے سے موقع پرست اور انویسٹر ٹائپ مالدار لوگوں نے سندھ کی قیادت میں مناصب حاصل کرلیئے اور پرانے لوگوں میں سے بیشتر کو کھڈے لائن لگا دیا گیا انہی پرانے لوگوں میں سے ایک زبیرخان بھی تھے کہ جنہوں نے صرف مڈل پاس ہونے کے باوجود زیرکی و چوکسی میں سب کو ششدر کرکے رکھ دیا تھا ،،، لیکن چونکہ وہ 'گمنام دولت' کے مالک نہ تھے لہٰذا انہیں پارٹی لیڈر کی طرف سے خاطر خواہ تعاون نہ ملا ۔۔۔ انکی مایوسی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ انہوں نے اپنے حلقے میں دھاندلی کے خلاف جو پٹیشن دائر کی تھی اور دوبارہ گنتی کے لیئے کوششیں کی تھیں اس میں انہوں نے بارہ لاکھ روپے خرچ کردیئے تھے لیکن پارٹی کی طرف سے انہیں کوئی تعاون یا قانونی مشاورت تک فراہم نہ کی گئی اور وہ یہ جنگ اپنے طور پہ اکیلے لڑتے رہے اور پھر بالآخر تھک کر گر پڑے-
اس صورتحال میں اب عالم یہ ہے کہ وہ شہر کراچی کہ جو پی ٹی آئی کا قلعہ بنایا جاسکتا تھا اب اس پارٹی کے لیئے سمندری ریت سے بنائے ایک گھروندے سے زیادہ اسکی کوئی اور حیثیت نہیں رہی اور اس حقیقت کا بہت جلد ہی ملنا شروع ہوگیا تھا کیونکہ الیکشن کے محض 3 ماہ بعد 22 اگست 2013 مکے 3 ضمنی الیکشنوں میں پی ٹی آئی تیسرے نمبر پہ بھی نہیں آسکی تھی جبکہ مزید دو برس میں این اے 245 اور این اے 246 میں منعقدہ الیکشنوں میں تو اسکے پرخچے ہی اڑ گئے،،، ان نتائج سے یہ سفاک حقیقت پوری طرح ابھر کے سامنے ائی تھی کہ ایم کیوایم بڑی مہارت سے ووٹروں کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہوگئی تھی کہ عمران خان کی اس شہر کی جانب لاپرواہییوں اور غفلت کا سبب دراصل انکا تعصب اور بغض ہے ،،، لیکن یہ کیوں نہ ہوتا کہ جبکہ اسکی تلافی کے لیئے عمران خان نے سوائے چند ہوائی دوروں کے سوا کچھ بھی نہ کیا اور اس شہر کو ایک ایسے فرقہ پرست یعنی علی زیدی کے سپرد کردیا کہ جو عرصہ دراز تک امریکا میں بیٹھے رہ کے پارٹی چلانے پہ اکتفا کیئے رہے اور جنہوں نے گزشتہ برس محرم کے جلوس میں صحابہ کی شان میں کھلم کھلا گستاخی کرکے کارکنوں کے دل توڑدیئے تھے ،،،اب باری عمران خان کا دل ٹوٹنے کی ہے تو وہ فرصت میں سوچیں کے آخر انہوں نے اس شہر کے لوگوں کے ساتھ ایسا فریب کا رشتہ کیوں قائم کیا تھا،،،؟؟

arifm30@gmail.com

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *