میڈیکل سکولوں میں آ پ کو کس طرح کے طلبا سے سامنا ہو سکتا ہے؟

زرنین شاہzarnain shah

میڈیکل سٹوڈنٹس عام طلبا سے مختلف ہوتے ہیں۔ اگرچہ وہ سب سے زیادہ محنتی ہوتے ہیں لیکن ان کی یہی خاصیت ہی نہیں جو انہیں دوسرے طلبا سے ممتاز کرتی ہے بلکہ ان کے اندر بہت سی ایسی دوسری خوبیاں ہیں جو عام طلبا میں نہیں پائی جاتیں۔ ڈاکٹر بننے کےلیے چار سال کا طالب علمی کا دور گزارنے کے بعد مجھے یہ معلوم ہو چکا ہے کہ میڈیکل سکولوں کے طلبا کچھ عجیب اور مزاحیہ شخصیت رکھنے والے بچے ہوتے ہیں  اور یہی وجہ ہے جو آپ کو اس میدان میں کچھ تفریحات فراہم کرتی ہے۔ جو خصوصیات آپ میڈیکل سٹوڈنٹس میں دیکھ سکتے ہیں وہ دوسرے کسی شعبہ سے تعلق رکھنے والے لوگ اپنے اندر موجود نہیں پاتے۔ یہاں میں میڈیکل کے شعبہ کےطلبا کی کچھ اقسام کے بارے میں ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ ان کے بارے میں جاننے کے بعد یہ آپ پر ہے کہ آپ ان میں سے کتنوں کو پسند کرتے ہیں اور کتنوں کو ناپسند یا نفرت کرتے ہیں۔

بہت زیادہ پڑھاکو طلبا

ایسے طلبا ہر وقت مطالعہ کرتے ہیں اور کسی طرح کی تفریحات کا حصہ بننا پسند نہیں کرتے۔ انہیں کتاب کے ہر پیراگراف کی ہر سطر زبانی یاد ہوتی ہے۔ ان کا 4.0جی پی اے کے ساتھ مضبوط اور وفادار رشتہ ہوتا ہے۔ ان کے کوئی سوشل میڈیا اکاونٹ نہیں ہوتے اور وہ پارٹیوں میں جا کر اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہتے۔ ان کے مطابق ٹی وی دیکھنا اور اخبار پڑھنا بھی وقت کا ضیاع ہے۔ اسی وجہ سے ان کا جنرل نالج بہت کمزور ہوتا ہے۔ ان کی سانس، زبان اور یہاں تک کہ الٹی کا تعلق بھی میڈیسن سے ہوتا ہے۔ ان کے کوئی قریبی دوست نہیں ہوتے۔ وہ سب سے زیادہ نمبر لیتے ہیں لیکن ان کی شخصیت بالکل بھی دلچسپ نہیں ہوتی۔

مشکوک داخلے والے طلبا

یہ لوگ زیادہ پڑھاکو طلبا کے برعکس شخصیت کے مالک ہوتے ہیں۔ انہیں کلاس میں بیٹھنا اچھا نہیں لگتا اور ہم نصابی سرگرمیوں میں ان کی دلچسپی زیادہ ہوتی ہے۔ ان کے اندر میڈیکل نالج بہت کم ہوتا ہے۔ وہ عجیب و غریب سوالات پوچھتے ہیں جیسے 'یار یہ کلیجہ ہے یا پھیپھڑے؟' ان سوالوں سے لگتا ہے کہ وہ آخر میڈیکل سکول میں آئے ہی کیسے۔ وہ اکثر کہتے سنائی دیتے ہیں: پڑھنے پہ آوں تو ٹاپ کر کے دکھاوں لیکن چھوڑ یار'۔ ان لوگوں کے مستقبل کے مریضوں کی حالت پر ترس آتا ہے۔

رونے دھونے والے طلبا

یہ طلبا ہر وقت شکایت کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ مطالعہ کے بوجھ، امتحانات، کم نمبروں،  اور دوسرے معاملات کے بارے میں شکایت کر کے دوسرے لوگوں کی بھی پریشانی میں اضافہ کرتے ہیں۔ اگر رونا ایک نوکری ہوتی تو اس طرح کے طلبا کئی بلین کے مالک ہوتے۔

سلیبرٹی

ان لڑکیوں/لڑکوں  کو پاپا کی شہزادی/شہزادہ  قرار دیا جاتا ہے ۔ ان طلبا اور طالبات کو ان کے بہترین لباس، اچھے موبائل فون اور میک اپ کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ اسے یہ بات بہت بھاتی ہے کہ ہر آنٹی آج کل ڈاکٹر بہو کی تلاش میں ہوتی ہے۔ ان کی سوشل میڈیا  سیلفیاں  آپ کو چھچھورے پن کا شکار کر سکتی ہیں۔ یہ لڑکیاں ہر وقت مارک جیکب جیسے ہینڈ بیگ لیے پھرتی دکھائی دیتی ہیں اورگپ شپ کے لیے  نشاط لینن اور عاصم جوفہ ان کے پسندیدہ موضوع ہوتے ہیں ۔

 

 

ایک سے زیادہ خوبیاں رکھنے والے طلبا

یہ طلبا یونیورسٹی کے سب سے قابل طلبا ہوتے ہیں۔ یہ لوگ میڈیسن میں سب سے زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں لیکن یہ دوسرے شعبوں کے بارے میں بھی علم رکھنے کا شوق رکھتے ہیں۔ یہ سنگر بھی ہوتے ہیں، ڈانس بھی کرتے ہیں، مصنف بھی بنتےہیں، اور فوٹو گرافی کی مہارت بھی رکھتے ہیں۔ یہ لوگ بہت کول ہوتے ہیں۔

بچگانہ طبیعت کے مالک

یہ لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں پر ہنس پڑتے ہیں اور نہ صرف اپنے آپ کو بلکہ دوسروں کو بھی  پریشان کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر اناٹومی آف بریسٹ کے بارے میں سن کر ان کی ہنسی نکل آتی ہے۔ یورینری کیتھیٹرائیزیشن  کے نام سے یہ ہنسے بغیر نہیں رہ سکتے۔ ڈیجیٹل ریکٹل ایگزامینیشن جیسے الفاظ ان کا قہقہ نکالنے کے لیے کافی ہیں۔ وہ کئی بار احمقانہ سوال پوچھ لیتے ہیں جس سے انہیں اکثر پروفیسر حضرات ڈانٹ دیتے ہیں۔ انہیں بایو ایتھکس اور بیھیوئیر سائنس کی کلاس لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔

تقریبات کے منتظمین  (ایونٹ آرگنائزر )

یہ لوگ یا تو یونیورسٹی میں بہت اچھے نام سے یا بُرے نام سے مشہور ہوتے ہیں۔ ان کی فیس بک پوسٹس پر ہمیشہ ان کے تاریخی مواقع کی یاد دہانی کے پیغامات آتے رہتے ہیں۔ وہ ایسی تقریبات کے انعقاد میں خاص دلچسپی رکھتے ہیں۔ جب تقریب ختم ہوتی ہے تو وہ اپنے نیوز فیڈ پر پوری کہانی شئیر کرتے ہیں۔ ان کے ہر شعبہ کے ماہرین سے روابط ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کو دو گروپوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ پہلا گروپ فزیالوجیکل آرگنائزر کہلاتا ہے۔ یہ اچھے لوگ ہوتے ہیں۔ وہ اچھے مقاصد کے لیے تقریبات کا  انعقاد کرتے ہیں  اور اپنے سامعین کی توقعات کو پورا کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ دوسرا گروپ پیتھا لوجیکل آرگنائزرز کا ہے۔ ان لوگوں کو صرف پیسے کمانے کی فکر ہوتی ہے۔

حساس طلبا

یہ ایسے طلبا ہوتے ہیں جو آپریشن سے قبل مریض کے بیہوش ہونے سے قبل خود ہی بیہوش ہو کر گر جاتے ہیں۔ انہیں خون اور جسم میں پائے جانے والے دوسرے مواد کو دیکھ کر ہی خوف آتا ہے۔ ان کے ہاتھ کانپ رہے ہوتے ہیں ، آنکھیں آنسو بہا رہی ہوتی ہیں اور پریشانی کے عالم میں مبتلا رہتے ہیں۔

پر جوش طلبا

یہ طلبا میڈیسن کے شعبہ میں اس لیے آتے ہیں کہ انہیں میڈیسن سے جنون کی حد تک پیار ہوتا ہے۔ میڈیکل سکول کی ہر چیز ان کے لیے خوشگوار ہوتی ہے اور ان کے سوشل میڈیا اکاونٹس  اور سٹیٹس سے بھی ان کا میڈیسن سے عشق جھلک رہا ہوتا ہے۔ وہ ایسے جملے بولتے ہیں جیسا کہ: اوہ میرے خدا، میں نے آج ایک مریض کو ہاتھ لگایا' 'اب ہم وارڈ شروع کرنے والے ہیں، یاہو۔۔۔۔۔۔،

ایک جیسے طلبا

اگرچہ ایسے طلبا کی تعداد کم ہوتی ہے لیکن پھر بھی ایسے طلبا میڈیکل سکول میں نظر آ ہی جاتے ہیں۔ وہ باقاعدگی سے مطالعہ کرتے ہیں اس لیے ان پر امتحانات کا بوجھ نہیں ہوتا۔ ان لوگوں کے ساتھ رہنا اچھا محسوس ہوتا ہے۔ وہ اپنے مطالعہ اور غیر نصابی سرگرمیوں میں ایک توازن برقرار رکھتے ہیں اور ان کے بیچ کے تعلق کو بھی اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ ان کے بہت سے دوست ہوتے ہیں  اور یہ دوسروں کی مدد کے لیے ہر وقت تیار نظر آتے ہیں۔ ایسے ہی طلبا اکثر سب مضامیں میں اے پلس یا ڈسٹنکشن حاصل کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *